← back to sabr · Al-Risala January 2016

اچانک پیشی

Al-Risala January 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - January 2016
  2. رول دریافت کیجیے
  3. قرآن فہمی
  4. دینِ مبین
  5. امت کا مشن
  6. انسان کا المیہ
  7. امانت کیا ہے
  8. تالیفِ قلب
  9. شباب کا زمانہ
  10. بڑا اجر
  11. شیطان اور فرشتہ کے درمیان
  12. زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
  13. والدین کی ذمہ داری
  14. رب العالمین کا عطیہ
  15. اتھاریٹی صرف ایک
  16. ذہنی سانچہ
  17. دنیا اور آخرت
  18. تاریخ کا سفر
  19. توسط اور اعتدال
  20. امت مسلمہ کی اصلاح
  21. تعلق باللہ
  22. تحریک اور دعاء
  23. خواص کی ذمہ داری
  24. با اصول زندگی کی قیمت
  25. گفتگو کا علمی انداز
  26. سپورٹنگ رول
  27. چمنستانِ معرفت
  28. اچانک زلزلہ
  29. پست ہمتی نہیں
  30. فکر کی تشکیل
  31. کوئی دشمن نہیں
  32. دردِ جنت
  33. اچانک پیشی
  34. سازش کیا ہے
  35. ذہین انسان کا مسئلہ
  36. اعترافِ حقیقت
  37. اعراض کی حکمت
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 240

اچانک پیشی

موت لازما ہر انسان پر آتی ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بیمار ہوتا ہے، وہ حادثے کا شکار ہوتا ہے، وہ خرابیٔ صحت کی بنا پر بیڈ ریڈن (bedridden) ہوجاتا ہے۔اور آخر میں پھر مر جاتا ہے۔ مگر کچھ موتیں ایسی ہیں جو اچانک آتی ہیں۔ جیسے انڈیا کے مشہور سائنسداں ڈاکٹر عبدالکلام جو 27 جولائی 2015 کو اچانک شیلانگ میں وفات پاگیے۔ اس وقت وہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر اپنا لکچر دے رہے تھے۔ آخری جملہ وہ مکمل نہیں کر پائے تھے کہ ان کا خاتمہ ہو گیا۔

اچانک موت کا مطلب اچانک پیشی ہے۔اچانک موت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے اچانک مالک یوم الدین کی عدالت میں حاضر کردیا جائے۔ ایک ایسے مقام پر جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے :ما منکم من أحد إلا وسیکلّمہ اللہ یوم القیامة، لیس بین اللہ وبینہ ترجمان (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6539)۔ یعنی تم میں سے ہر ایک سے ضرور اللہ کلام کرے گا، اس طرح کہ اللہ اور انسان کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔original + quote

ہر آدمی پر لازما موت کا لمحہ آنے والا ہے۔ خواہ وہ لمحہ اچانک آئے یا تاخیر کے ساتھ آئے۔ یہ تصور انسان کو ہلا دینے والا ہے کہ وہ بے اختیار و مددگار حالت میں ایک دن اپنے آپ کو اس طرح پائے گا کہ ایک طرف وہ ہے اور دوسری طرف اللہ رب العالمین۔ اس پیشی کے بارے میں عمر بن خطاب نے فرمایا: تجہّزوا للعرض الأکبر (الزھد والرقائق لابن المبارک:306) یعنی بڑی پیشی کے لیے تیاری کرو۔original + quote

بڑی پیشی کے لیے تیاری یہ ہے کہ آدمی اس سوچ کے ساتھ جئے کہ اس کو کوئی ایسی بات نہیں کرنا ہے جو اللہ رب العالمین کی عدالت میں قبول ہونے والی نہ ہو۔ وہ اپنے قول اور اپنے عمل کا اس اعتبار سے نگراں بن جائے ۔وہ اپنا محاسبہ آپ کرنے لگے۔ وہ شام کو سوئے تو اسی احساس کے ساتھ سوئے ، اور صبح کو جاگے تو اسی احساس کے ساتھ جاگے۔