← back to sabr · Al-Risala January 2016

دردِ جنت

Al-Risala January 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - January 2016
  2. رول دریافت کیجیے
  3. قرآن فہمی
  4. دینِ مبین
  5. امت کا مشن
  6. انسان کا المیہ
  7. امانت کیا ہے
  8. تالیفِ قلب
  9. شباب کا زمانہ
  10. بڑا اجر
  11. شیطان اور فرشتہ کے درمیان
  12. زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
  13. والدین کی ذمہ داری
  14. رب العالمین کا عطیہ
  15. اتھاریٹی صرف ایک
  16. ذہنی سانچہ
  17. دنیا اور آخرت
  18. تاریخ کا سفر
  19. توسط اور اعتدال
  20. امت مسلمہ کی اصلاح
  21. تعلق باللہ
  22. تحریک اور دعاء
  23. خواص کی ذمہ داری
  24. با اصول زندگی کی قیمت
  25. گفتگو کا علمی انداز
  26. سپورٹنگ رول
  27. چمنستانِ معرفت
  28. اچانک زلزلہ
  29. پست ہمتی نہیں
  30. فکر کی تشکیل
  31. کوئی دشمن نہیں
  32. دردِ جنت
  33. اچانک پیشی
  34. سازش کیا ہے
  35. ذہین انسان کا مسئلہ
  36. اعترافِ حقیقت
  37. اعراض کی حکمت
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 240

دردِ جنت

ذوق دہلوی (وفات: 1854)ایک اردو شاعر تھے۔ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے ان کو خاقانِ ہند کا لقب دیا تھا۔ذوق دہلوی کا ایک شعر یہ ہے:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

دردِ دل ایک منفی صفت ہے۔ انسان جیسی اعلیٰ مخلوق کا مقصد حیات یقینی طور پر کوئی مثبت نشانہ ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے غور کیجیے تو انسان کا نشانہ صرف جنت ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا:

دردِ جنت کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ہر انسان پیدائشی طور پر ایک اعلیٰ زندگی کی تلا ش میں ہوتا ہے۔ مگر وہ اس اعلی زندگی کو پائے بغیر مرجاتا ہے۔ یہ اعلی زندگی، جنت کی زندگی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان طالب جنت کی حیثیت سے اس دنیا میں آتا ہے، لیکن وہ ساری کوشش کے باوجود جنت کو نہیں پاسکتا ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلی کو اگر صحرا (desert) میں ڈال دیا جائے تو وہ وہاں تڑپے گی۔ پھر اگر اس کو پانی میں ڈال دیا جائے تو اس کی تڑپ ختم ہوجائے گی۔ مچھلی اپنی فطرت کے اعتبار سے پانی کی طالب تھی۔ پھر جب اس کو پانی مل گیا تو وہ ایسی ہوگئی، جیسے اس کو سب کچھ مل گیا۔ اس دنیا کے خالق نے جس چیز کو مچھلی کے لیے مقدر کیا ہے، وہ مطلوب انسان کے لیے مقدر نہیں۔ یقینا انسان کے لیے بھی اس کا’’پانی‘‘ مقدر ہے۔ لیکن وہ مستحق انسان کے لیے موت کے بعد کے عرصۂ حیات میں ہے، نہ کہ موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں ۔

لوگوں کو جنت کا علم ہے، لیکن انھیں جنت کا شعوری ادراک نہیں۔ اگر ان کو جنت کا شعوری ادراک ہو تو جنت کے سوا کوئی اور چیز ان کو مطمئن نہ کرے۔