← back to sabr · Al-Risala January 2016

اچانک زلزلہ

Al-Risala January 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - January 2016
  2. رول دریافت کیجیے
  3. قرآن فہمی
  4. دینِ مبین
  5. امت کا مشن
  6. انسان کا المیہ
  7. امانت کیا ہے
  8. تالیفِ قلب
  9. شباب کا زمانہ
  10. بڑا اجر
  11. شیطان اور فرشتہ کے درمیان
  12. زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
  13. والدین کی ذمہ داری
  14. رب العالمین کا عطیہ
  15. اتھاریٹی صرف ایک
  16. ذہنی سانچہ
  17. دنیا اور آخرت
  18. تاریخ کا سفر
  19. توسط اور اعتدال
  20. امت مسلمہ کی اصلاح
  21. تعلق باللہ
  22. تحریک اور دعاء
  23. خواص کی ذمہ داری
  24. با اصول زندگی کی قیمت
  25. گفتگو کا علمی انداز
  26. سپورٹنگ رول
  27. چمنستانِ معرفت
  28. اچانک زلزلہ
  29. پست ہمتی نہیں
  30. فکر کی تشکیل
  31. کوئی دشمن نہیں
  32. دردِ جنت
  33. اچانک پیشی
  34. سازش کیا ہے
  35. ذہین انسان کا مسئلہ
  36. اعترافِ حقیقت
  37. اعراض کی حکمت
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 240

اچانک زلزلہ

26اکتوبر2015 کو ایک زلزلہ آیا۔ اس کا مرکز ہندوکش پہاڑ تھا۔ اس زلزلے کے جھٹکے پاکستان، افغانستان، نیپال اور انڈیا میں محسوس کیے گیے۔ زلزلے کےجھٹکے محسوس کرتے ہی لوگ خوف زدہ ہوگیے اور اپنے گھروں اور اپنے دفتروں سے باہر نکل آئے۔ بعض مقامات پر جانی اور مالی نقصان بھی پیش آیا۔ زلزلہ انسان کے لیے ایک بھیانک تجربہ ہے۔ زلزلہ ہمیشہ بالکل اچانک آتا ہے۔ اس لیے اس کے مقابلے میں پیشگی طور پر احتیاطی تدبیر ممکن نہیں ہوتی۔

ہمیشہ سے انسان یہ سوچتا رہا ہے کہ وہ زلزلہ سے پیشگی طور پر آگاہ ہوجائے تاکہ اس سے بچنے کی تدبیر کی جاسکے۔ موجودہ سائنسی دور میں مزید اضافہ کے ساتھ اس معاملے کی تحقیق کی گئی۔ مگر ابھی تک اس معاملے میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ 1970کی دہائی میں سائنس داں یہ سمجھتے تھے کہ وہ زلزلے کی پیشگی علامت کو دریافت کرلیں گے۔ مگر تحقیق میں مسلسل ناکامی کے بعد 1990 کی دہائی میں یہ مان لیا گیا کہ زلزلہ کے آمد کی پیشگی خبر سائنسی طور پر جاننا ناممکن ہے، حتی کہ ایک سکنڈ پہلے بھی نہیں:

In the 1970s, scientists were optimistic that a practical method for predicting earthquakes would soon be found, but by the 1990s continuing failure led many to question whether it was even possible... many others now maintain that earthquake prediction is inherently impossible.

قرآن میں قیامت کو بڑازلزلہ (22:1) بتایا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قیامت کا زلزلہ بالکل اچانک (43:66) آئے گا۔اس کے مطابق،زمین پر آنے والے موجودہ زلزلے گویا چھوٹے زلزلے ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں قیامت ایک زلزلۂ عظیم ہے۔ زلزلۂ صغیر اس لیے آتا ہے کہ انسان بیدار ہوجائے، اور زلزلۂ عظیم کی پیشگی تیاری کرے۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ زلزلۂ عظیم اچانک آجائے جب کہ انسان نے اس کی کوئی تیاری نہ کی ہو۔original + quote