Place
Europe
Continent where France is located
Mentioned in 229 book passages
and 74 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/europe
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…of negative feelings, and develop a new mind-set that is based on the principle of ‘I win, and so do you’. If this happens, new doors to progress will open for the peoples of both countries and, of course, for the Kashmiris as well.
From 1947 till the present day, both India and Pakistan have seen each other as enemies. But if the change in psyche that I call for occurs, both will begin to see each other as friends. This will prove to be a major boost in enabling both of them to work for the welfare of their own people, while also paving the way for joint action in developing the region as a whole. This is the ‘win-win solution’ that we must work towards.
…God is the self-discovered realization of God. It is this self-discovered realization of God that is man’s actual test. Man must develop his thinking power until he becomes capable of discovering his Creator at the level of self-discovery.
Two Levels of Realization of God
There are two levels of the discovery of God. The first level is discovering the Creator at the level of commonsense. The second level is discovering the Creator at the level of science. For the last thousands of years, man has desired to…
…the world to another in search of food or following the change of seasons. First, they leave their actual locations and head to more appropriate places at a great distance. Then, after a certain period, they return to their former sites.
Many studies have been done on these birds. From this, it has been learned that their migratory journeys are not some purposeless flying about. Instead, they indicate a very high level of organization, as meaningful as any well-planned journey of human beings. Further, observation has revealed that these flights take place extremely accurately on well-designed flyways.
The phenomenon of these birds’ migratory journeys is truly remarkable. Human beings can go from one place to another, but this is only possible when they have obtained detailed information about the route and destination from some external…
…‘quantized,’ that is, they are not continuous but come in discrete but minute packets. It is hardly conceivable that gravitational waves are quantized too, but nobody has succeeded in establishing the equations, though many have tried.”
9. How do different parts of the brain link up? Professor Horace Barlow, Cambridge. “We are almost ignorant about how different parts of the brain communicate. For example, what goes on between the parts of the brain concerned with hearing and the rest when we recognize a familiar voice? You can draw an analogy with speech. Sound waves carry it, but it is far more meaningful than a baby’s babbling, which is carried by sound waves. In the brain, nervous impulses are the equivalent of soundwaves, but we have no idea how they become meaningful.”
10. How old is man? Dr. Donald C. Johanson, Museum of Natural History, Cleveland, Ohio. “Fossil discoveries in Europe, Africa and Asia are pushing human origins back in time. However, it is becoming increasingly clear that the scenario of…
…for this thesis. Abraham Cressy Morrison (d. 1951), who served as President of the New York Academy of Sciences, published a reply to this book, titled Man Does
Not Stand Alone, which proved Huxley’s claim to be
completely baseless.
Conclusion
The study of history tells us that there are two eras in the history of mankind regarding ideas—the pre-scientific era and the post-scientific era. In the pre-scientific age, people did not know the reality of things, so opinions about…
…the term. Gender inequality is a matter concerning gender difference and does not concern itself with gender inequality. The whole world is based on this difference, and the matter concerning men and women is not an exception to this rule.
There is nothing negative about this difference. Difference is a positive term. The difference between men and women can be compared to the two wheels of a cart. One wheel is not equal to the other. They are complementary to one another. God had made biological and psychological differences between a man and a woman. This difference is made so that they become good life partners of one another. Both are complementary to one another.
The concept of gender equality is unnatural. It creates unnecessary conflict between the two. However, the concept of gender differences produces the concept of being complementary to each other and supporting each other. It enables the…
…and with great care, unlike his fingernails, which can be cut and filed if necessary. The doctor’s instruction does not mean he degrades the eye vis-a-vis the nail. He is only pointing out the difference between the nail and the eye.
If all laws in Islam are based on this fundamental reality that men and women are of two different genders, it is because their distinctive differences are established biological facts. This being so, male and female spheres of activity cannot be the same, whether in family or social life. There must necessarily be differences in the kind of work they do and their places of work.
All scriptures have held the same concept of women without ever being doubted. In modern times, it has been challenged by the women’s liberation movement, which holds that men and women are alike in every respect and that both should be…
…جو ساتویں صدی عیسوی میں ظہور میں آیا ، اس کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ اس نے تاریخ انسانی میں پہلی بار مظاہر کائنات کے تقدس کو ختم کر دیا اور انسانیت کے لئے اُس مادی نعمت کے ظہور کی راہ ہموار کی جس کو جد ید سائنس کہا جاتا ہے ۔
تہذیب جدید کے مورخین کے سامنے ایک سوال یہ رہا ہے کہ فطرت کے خزانے اول دن سے زمین کے اوپر موجو تھے۔ انسان کے اندر ضروری ذہنی صلاحیت بھی قدیم ترین زمانہ سے پائی جاتی رہی ہے۔ پھر اس خزانہ کو انسانی تمدن کے لئے استعمال کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی ۔ انسان لاکھوں برس سے زمین کے اوپر آباد ہے۔ مگر زمین کے قدرتی خزانوں کو موجودہ شکل میں استعمال کرنے کی تاریخ صرف چند سو برس پیچھے تک جاتی ہے۔ مورخ آرنلڈ ٹائن بی (۱۹۷۵ - ۱۸۸۹) نے بجا طور پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ قدیم زمانہ کا انسان زمین کو دیوتا سمجھتا تھا۔ یہاں کی ہر چیز اس کے لئے خدا کا درجہ رکھتی تھی ۔ وہ ان کو دیکھتا تو ان کے بارے میں اس کے اندر تقدس اور پرستش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا ۔ نفسیاتی فضا میں زمینی ذرائع کو انسانی خدمت کے لئے استعمال کرنے کا جذ بہ نہیں ابھر سکتا تھا۔ ٹائن بی کے الفاظ میں یہ توحید (Monotheism) کا عقیدہ ہے جس نے کائنات کے تقدس کو ختم کیا اور ہر چیز کو ایک خدا کی مخلوق بتایا۔ اس طرح وہ نفسیاتی فضا پیدا ہوئی جس میں انسان اپنے سیارہ کو دیوتا سمجھنے کے بجائے اپنا خادم سمجھے اور اس پر تصرف کا عمل کر سکے ۔ (ریڈرز ڈائجسٹ مارچ ۱۹۷۴)
کائنات کو تسخیر و تدبر کا موضوع سمجھنے کا ذہن اولاً اسلام کے اثر سے عربوں میں پیدا ہوا۔ اس فکری انقلاب کا ایک دھارا وہ تھا جس کا مرکز سسلی اور اسپین بنا۔ ان ملکوں میں ، غلبہ توحید کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر سائنسی کھوچ اور زمینی خزانوں کو…
…حق حاصل کیا ہے نہ کہ کسی فوق الفطری عقیدہ کی بنیاد پر یہی وجہ ہے کہ تو حید کی دعوت میں ان کو اپنے سنگھاسن کے لئے کوئی راست نظریاتی خطرہ نظر نہیں آتا ، جبکہ نمرود کو اس قسم کے کسی عقیدہ کے پھیلنے میں اپنی سیاسی جڑ کٹتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔
قدیم زمانہ میں جب کوئی نبی اٹھتا تو اکثر ایسا ہوتا کہ پہلے ہی مرحلہ میں اقتدار وقت سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا اور غیر ضروری قسم کی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہو جائیں ۔ اس کی وجہ سیاسی اداروں کے ساتھ کے ساتھ فوق الطبیعی عقائدکی یہی وابستگی تھی۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ عوام کو یہ یقین دلاکر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں ، خدا ان کے اندر حلول کر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب توحید خالص کی آواز بلند ہوتی تو ان کو نظر آتا کہ وہ ان کے سیاسی استحقاق کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ یہ اعتقادی پیچیدگی ان کو دائی حق سے متصادم کر دیتی تھی ۔ اسلام نے ثابت کیا کہ ہر قسم کا فوق الفطری اقتدار صرف خدا کے لئے ہے اور یہ اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ اب سیاسی حکمرانی صرف سیاسی حکمرانی تھی ، وہ مسئلہ توحید سے کوئی براہ راست تعلق نہ رکھتی تھی ۔
اسلام کی اس فکر کی بنیاد پر عرب میں جو انقلاب آیا، وہ ایشیا اور افریقہ ہوتا ہوا بالآخر یورپ پہنچا۔ اٹھارویں صدی میں فرانس اور امریکہ کے جمہوری انقلابات اسی کی بازگشت تھے ۔ اس کے بعد تبدیلی کا یہ حمل آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب وہ وقت اپنی…
…زمانہ تھا ۔ ۱۶۱۲ میں ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس کے مطابق عیسائیت اور اس کی تبلیغ کو جاپان میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ دو سو برس تک اس فرمان پر انتہائی بے رحمی کے ساتھ عمل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ عیسائیت کو جاپان سے بالکل ختم کر دیا گیا۔
مگر اسی مدت میں ایک اور عمل جاری تھا۔ اسلام نے تاریخ انسانی کو جو دھکا دیا تھا، وہ یورپ میں داخل ہو کر اٹھار دیں صدی میں اپنی آخری سیاسی انتہا کو پہنچ گیا۔ فرد کی آزادی اور اظہار رائے مسلمہ انسانی حق قرار پائے ۔ یہ افکار جو اولاً فرانس میں مرتب ہوئے انھوں نے ساری دنیا پر اپنے اثرات ڈالنے شروع کئے ۔ یہاں تک کہ جا پان کو ۱۸۷۳ میں خلاف مسیحیت قانون کو منسوخ کرنا پڑا اور ہر ایک کے لئے اظہار رائے کی عمل آزادی تسلیم کرلی گئی۔
اس زمانی تبدیلی نے دین کی دعوت و تبلیغ کے تمام راستے کھول دیئے ہیں ۔ اب ساری دنیا میں دین خداوندی کا اعلان کیا جاسکتا ہے اور کہیں بھی داعی کی زبان قلم پر کئی پابندی لگانے والا نہیں ہوگا تاہم اس امکان کے دروازے اب بھی کھلے ہوئے ہیں کہ ہم…
…طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے : جب کا ہے، وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید سے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔
اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے ۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو تعریف تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لئے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں۔ بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے باوجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر یہ ہا ہو۔
مولانا سید سلیمان ندوی
…with speech. Sound waves carry it, but it is far more meaningful than a baby’s babbling, which is carried by sound waves. In the brain, nervous impulses are the equivalent of soundwaves, but we have no idea how they become meaningful.”
10. How old is man? Dr. Donald C. Johanson, Museum of Natural History, Cleveland, Ohio. “Fossil discoveries in Europe, Africa and Asia are pushing human origins back in time. However, it is becoming increasingly clear that the scenario of human evolution is much more complex. The probable time was three to ten million years ago. There appears to have been a great diversity of possible human ancestors, and we don’t know how they were related. [This is due partly to Johanson’s discoveries in Ethiopia and others of even older fossils made in Pakistan] (Excerpt of the article in Sunday Times, London, December 4, 1977, p. 13)
Commentary
A CLARIFICATION OF A MISUNDERSTANDING
An anthology of the Quran prepared by English orientalist Edward William Lane (1801-1876) was published in 1843. It carried a foreword by way of introduction to Islamic teaching, which, among other things, stated that “the fatal point in Islam is the degradation of woman.”
This ill-considered observation gained such currency that it was commonly repeated as an established fact. More than a century and a half has elapsed, but this conviction has only deepened. It has even been quoted as gospel truth by a…
…پر اس کام کی انجام دہی کا یہ فائدہ تھا کہ اسکو معجزاتی تائید کی قوت حاصل رہتی تھی۔ نبی جب اپنی مدعو قوم کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتا تو اس کے ساتھ وہ ایسے معجزات پیش کرنے پر قادر ہوتا جو اس کی دعو ت کی صداقت پر غیر معمولی بر ہان بن سکیں ۔
ختم نبوت کے بعد یہ صورت حال ہوگئی کہ دعوت کی ذمہ داری تو بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ باقی ہے۔ مگر دعوت کے حق میں معجزاتی تائید کا وعدہ باقی نہیں رہا۔ ایک حکومت جب کسی کو فارسٹ افسر مقرر کرتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کو ضروری اسلحہ بھی دیتی ہے تاکہ جنگل میں درندوں کے متوقع حملہ کے وقت وہ اپنا دفاع کر سکے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن تھا کہ وہ ہستی جو ساری رحمتوں کا خزانہ ہے وہ اس پہلو کو بھول جائے، وہ ہم کو ذمہ داری سونپ دے مگر ہماری ضرورتوں کا انتظام نہ کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ بعد کو آنے والے داعیوں کے لئے اللہ نے ایسا انتظام کیا جو پچھلے تمام انتظامات سے بھی زیادہ بڑا تھا۔ اللہ نے اس مقصد کے لئے خود انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا تا کہ دعوتی مشن کے حق میں وہ تائید ہم کو معمولی حالات میں مل جائے جس…
…وساوس کا مفہوم آجاتا ہے۔ جمال الدین افغانی نے اپنی آزاد طبعی کی بنا پر اسکو تسلیم نہیں کیا اور مخزومی پاشا سے کہا قل خاطرات ولا تبال بمن فسد لسانهم (تم کتاب کا نام خاطرات ہی رکھو اور ان کی پروا مت کرو جنھوں نے اپنی زبان کو بگاڑ رکھا ہے۔
اہل زبان اور غیر اہل زبان کا یہ فرق اتناحتمی ہے کہ تاریخ میں بمشکل ہی کچھ مثالیں اس کے خلاف تلاش کی جا سکتی ہیں۔ مرزا غالب (۱۸۶۹ - ۱۸۹۷) کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا۔ انھوں نے اپنے فارسی دیوان کے بارےمیں کہا :
فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ
…سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بادی ترقی کی تمام قسموں کا مالک بننے کے بعد بالاآخر جس احساس سے دو چار ہے وہ یہ کہ مادی ترقی خوس سے دور مارے وہ یہ ترقی سے دو ہے وہ یہ انسانی ترقی کا اصل زینہ نہیں حقیقی انسانی ترقی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔
امریکہ اس دوسری چیز کو نفسیات اور روحانیات کی دنیا میں تلاش کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس دنیا میں جس کی نشاندہی مذہب نے کی تھی مگر مادیات کے ابتدائی جنون میں لوگوں نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا۔
یہ بہترین وقت ہے کہ حاملین اسلام اٹھیں اور جدید دنیا کے سامنے خدا کے دین کی دعوت پہنچائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ نے صدیوں کے انقالابت کے بعد دین خدا کی حامل قوموں کے لئے میدان خالی کر دیا ہے ۔ وہ آج کی دنیا کی ذہنی قیادت حاصل کر سکتی ہیں…
چڑیوں کی یہ ہجرت اپنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض مہینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔
یہ بات کہ بعض چڑیاں اپنے سابقہ مقام پر واپس جانے کی خصوصی صلاحیت رکھتی ہیں، قدیم انسان کو بھی معلوم تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹیلی گرا ف کی ایجاد سے پہلے کبوتروں کو دور دراز مقام پر پیغامات بھیجنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
ہر سال ستمبر کے مہینہ میں کروروں مہاجر چڑیاں ہمالیہ کے اس پار سے ہندستان آتی ہیں تاکہ یہاں جاڑے کا موسم گزاریں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو وسط ایشیاء مغربی ایشیاء ایران مانستان، تبت ، روس ، سائبیریا، یورپ سے آتی ہیں تاکہ یہاں پنے لئے غذا اور…
…(weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔دو عالمی جنگ خصوصاً جاپان کی تباہی نے تمام دنیا کو اس سے روک دیا ہے کہ وہ اختلاف کا خاتمہ بذریعہ جنگ کریں
Weapons of Mass Destruction (WMD) do serve as a deterrent to a global conflict. The destructive capabilities of the WMD were on full display over Japan at the end of World War II, and no one wants to go through something like that again.
اختلاف بذریعہ جنگ کا دوراب ختم ہوگیا ہے، اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو "تلوار" کی بنیاد پر فیصلےکا بدل مل گیا ہے، اور وہ ہے ڈسنٹ(dissent)، یعنی اختلافِ رائے کو اعتدال کے دائرے میں رکھنا،اس کونفرت اور نزاع تک نہ پہنچنے دینا۔ انسان…
نینڈر تھل مین
نظریۂ ارتقا کے حامیوں نے بہت سے ’’قدیم انسان‘‘ دریافت کیے ہیں۔ مثلاً پلٹ ڈاؤن مین، نینڈر تھل مین (neanderthal man)، پیکنگ مین، جاوا مین وغیرہ۔ قدیم انسان کی یہ تمام صورتیں فاسل کی بنیاد پر بنائی گئی ہیں جو زمین میں کھدائی سے برآمد ہوئی ہیں۔ نظریۂ ارتقا زندگی کی مختلف قسموں کے لیے جس عمل کو فرض کرتا ہے اس کے مطابق درمیانی انواعِ حیات (intermediate species) کا وجود بھی لازماً ہونا چاہیے۔ مگر ایسی انواع ابھی تک گم شدہ کڑیوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈارون نے تسلیم کیا تھا کہ درمیانی انواعِ حیات کے نمونے ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ تاہم ڈارون کے بعد قدیم فاسلز کی بنیاد پر بہت سی عجیب وغریب انسانی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ اور یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی سلسلۂ حیات کی قدیم ارتقائی کڑیاں ہیں۔
انھیں میں سے ایک نینڈر تھل مین ہے جو جرمنی کی نینڈر نامی وادی کی طرف منسوب ہے۔ اس قسم کی ہڈیاں اور ڈھانچے 1856سے 1908تک ایشیا ، یورپ، شمالی افریقہ کے تقریباً 50 مقامات پر ملے۔پروفیسر بول (Marcellin Boule) نے ان ٹکڑوں کا مشاہدہ کرکے ان کی…
طوفان نوح
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے زمین پر بسایا۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کی آبادکاری ابتدائی دور میں دریائے دجلہ، اور دریائے فرات کے درمیان عراق کے اس علاقے میں ہوئی جس کو میسوپوٹامیہ کہا جاتاہے۔ یہ ایک زرخیز علاقہ تھا۔ یہاں توالد و تناسل کے ذریعہ انسان کی نسل بڑھتی رہی۔ اس علاقے میں انسان لمبے عرصے تک اپنی آزادانہ سرگرمیوں میں مشغول رہا۔ شروع میں لوگ آدم کی شریعت پر تھے۔ لیکن کئی نسل گزرنے کے بعد ان کے اندر جمود (stagnation) آگیا۔ ان کے اندر ضعیف الاعتقادی اور بدعملی پیدا ہوگئی۔ ان کی بیداری کے لیے پیغمبر نوح آئے۔ یہ گویا کہ پرامن تبلیغ کے ذریعہ ان کے اندر بیداری لانے کی کوشش تھی۔ لیکن لمبی مدت کی پرامن اصلاحی کوششوں کے باوجود ان کے اندر دوبارہ بیداری نہیں آئی۔
اب ان کے اندر نئی زندگی لانے کے لیے ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان (great flood) آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا، اور اس کشتی کو تیز…
صلیبی جنگیں
مسلم فتوحات کے بعد تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس عمل کے نتیجے میں مسلم اقوام کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ اسی عروج کا ایک حصہ یہ تھا کہ مسیحی عقیدہ کے مطابق ایشیا میں ان کے مقدس مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ یہ صورت حال مسیحی قوموں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر اس علاقے کو اپنے قبضہ میں لینے کے لیے حملہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور مسیحی قوموں کے درمیان دو سوسال کی وہ لڑائی چھڑ گئی، جس کو صلیبی جنگ (Crusades) کہا جاتا ہے۔ مگر تقریباً دو سو سال کی خونی جنگ کے باوجود یورپ کی مسیحی قوموں کو کامل شکست پیش آئی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں مسیحی قوموں کو اس جنگ میں ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کا سامنا کرنا پڑا۔
مسیحی قوموں کے لیے یہ شکست اتنی فیصلہ کن تھی کہ عملاً ان کے لیے یہ آپشن باقی نہ رہا کہ وہ اس صلیبی جنگ کو مزید جاری رکھ سکیں۔اس شکست نے یورپ کی مسیحی قوموں میں یہ سوچ بیدار کی کہ ان کے لیے مسلمانوں کے مقابلے میں جنگ کا آپشن باقی نہیں…
…کی تصویریں اور لاسلکی (wireless)کے پیغامات سفر کرتے ہیں۔ مگر کیا ایتھر کو کسی نے دیکھا ہے۔ وہ ایک ایسا لطیف عنصر ہے، جس کا کوئی وزن نہیں۔ وہ نہ جگہ گھیرتا ہے، اور نہ کسی خورد بین سے دیکھا جاسکتا ہے ،مگر سب لوگ اس کا وجود تسلیم کرتے ہیں ۔
جو شخص یہ کہتاہے کہ میں خدا کو اس وقت تک نہیں مانوں گا، جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں، وہ گویا اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ کائنات کی وسعتوں کو اس نے پار کرلیا ہے۔ جس کائنات کے بارے میں اب تک ہم یہ نہ جان سکے کہ وہ کتنی لمبی چوڑی ہے، ہم اس کے پیدا کرنے والے کا کس طرح احاطہ کرسکتے ہیں۔ سورج خدا کی ایک بہت چھوٹی سی مخلوق ہے، مگر کروروں میل دور ہو کر اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ ہم اس پر نظر ٹھہرائیں تو ہماری آنکھ کی روشنی زائل ہوجائے۔ پھر وہ خدا جو ساری قوتوں کا خزانہ ہے۔ جو نہ صرف سورج بلکہ اس سے بڑے بڑے بے شمار ستاروں کو بھی روشنی اور حرارت پہنچا رہا ہے۔ کیا وہ ایسا ہوگا کہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں۔
خدا کو ماننے کے لیے خدا کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس کو ہر جگہ اس کی حیرت انگیز کاریگری میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کااس قدر منظم ہو کر چلنا، اور اس کے مختلف عناصر میں باہم اس درجہ موافقت (harmony) ہونا، ایک خدا کی…
…اکابر اور بزرگوں پر آکر رک جاتا ہے۔ لوگ اپنے اکابر سے وہ عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں، جو عقیدت صرف ایک خدا سے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز سے برہم ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں اور اکابر پر تنقید کی جائے۔
رومن امپائر 117ءمیں شمالی برطانیہ سے لے کر بحر احمر اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مثل مشہور ہوگئی تھی :
All roads lead to Rome
…thinking)میں خلل پیدا کرنے والا تھا۔ روسو (1712-1778) نے کہا تھا کہ ڈیکارٹ (1596-1650) کے فلسفہ نے شاعری کو قتل کردیا ہے۔ جان لاک (1632-1704) نے صاف طورپر کہا کہ شاعری خوبصورت تصویروں کا مجموعہ ہے ،مگر وہ بنیادی طورپر گمراہ کن ہے۔
ملٹن آخری شاعر تھا جو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور سرٹامس براؤن (1682-1606) شاید آخری شخص تھا ،جس نے اس طرز کی نثر لکھی۔ ٹامس براؤن ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ مگر وہ قدیم طرز کی زبان استعمال کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خواہش کے باوجود رائل سوسائٹی کا فیلو نہ بنایا جاسکا۔ اس وقت کے اہلِ فکر ایک ایسی نثر وجود میں لانا چاہتے تھے جو فلسفۂ فطرت کے نئے میکانکی تصور سے ہم آہنگ ہو:
They were interested in the development of prose style in accordance with new mechanical concepts of natural philosophy. (p. 117)
…ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جس کو مشن کی توسیع عام کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ماڈرن ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے الرسالہ کی دعوت کو دعوہ ایکسپلوزن (Dawah Explosion) کے دور میں پہنچادیں۔
1979 میں ایران کا انقلاب اسی طرح پیش آیا۔ آیت اللہ خمینی اس زمانے میں یورپ میں تھے۔ وہاں سے وہ اپنی تقریروں کے کیسٹ ایران بھیجتے تھے۔ یہ کیسٹ پورے ایران میں سنے جانے لگیں۔ ایران کے اس انقلاب کو کیسٹ ریولیوشن کہا جاتا ہے:
A powerful and efficient network of opposition began to develop inside Iran, which smuggled cassette speeches by Khomeini, and used other means.
…کا غلبہ تھا۔ شرک کے عقیدہ کے تحت آدمی فطرت (Nature) کو پوجنے کی چیز سمجھے ہوئے تھا۔ پھر وہ اس کو تحقیق و تسخیر کی چیز کیسے سمجھتا۔ جب کہ فطرت کو تحقیق اور تسخیر کی چیز سمجھنے کے بعد ہی اس علم کا آغاز ہوتا ہے جس کو طبیعی سائنس کہتے ہیں۔
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین وآسمان کی نشانیوں (مظاہر فطرت) پر غور کرو۔ قرآن میں اس قسم کی سات سو آیتیں شمار کی گئی ہیں جن میں مظاہر فطرت پر غور کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔اگر بالواسطہ آیتوں کو بھی شامل کیا جائے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔ یہ معلوم انسانی تاریخ میں بالکل نئی آواز تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مظا\ہر فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہر فطرت پوجنے کی چیزہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہر فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے، اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت کیا جائے۔
اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کےاندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ اس نے اولاً عرب کے دل ودماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا۔ اس نے عرب کے بُت خانے ختم کردیئے۔ ایرانی اوررومی شہنشاہتیں اس زمانہ…
انسانی تاریخ کی ابتدا
قرآ ن اور بائبل کے مطابق آدم اور حوا کو پیدائش کے بعد سیارۂ ارض پر بسایا گیا۔ ان کی نسل دھیرے دھیرے دجلہ اور فرات کے درمیان اس مقام پر مرتکز ہوگئی، جس کو میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں سفر کی سہولتیں موجود نہ تھیں۔ اس لیے لمبے عرصے تک آدم کی نسل اسی علاقے میں آباد رہی۔ لیکن آبادی کا یہ اجتماع خالق کے نقشے کےمطابق نہ تھا۔ خالق کو مطلوب تھا کہ آدم کی نسل محدود رقبے سے نکلے، اورپورے کرۂ ارض پر پھیل جائے۔ اس مدت میں آدم کی نسل میں جمود آچکا تھا۔ ان کی نسلوں کے درمیان متفرق قسم کی برائیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اس وقت خدا نے ان کے درمیان پیغمبر نوح کو بھیجا تاکہ وہ ان کو صحیح رہنمائی دیں۔ مگر اپنے جمود میں وہ اتنے زیادہ کنڈیشنڈ ہوچکے تھے کہ کچھ افراد کے سوا ان کی اکثریت نے پیغمبر نوح کی بات کو اختیار نہیں کیا۔
اس لیے خدا نے یہ کیا کہ اس علاقہ میں ایک بڑا طوفان (great flood) آیا۔ اس مدت میں ان کے پیغمبر نوح نے ایک بڑی کشتی تیار کی۔ پیغمبر نوح نے اس ابتدائی انسانی نسل کے منتخب افراد کو اس کشتی پر سوار کیا۔ اس کے بعد یہ کشتی طوفان کے بہاؤ کے تحت…
بنو اسماعیل کا رول
وہ لوگ جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے، وہ انھیں بنی اسماعیل کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں ہر جگہ دنیا میں جبری بادشاہت کا نظام تھا۔ اس وقت عرب کی سرحد پر دو بڑی سلطنتیںتھیں- ایرانی سلطنت (Sasanid Empire)، رومی سلطنت (Byzantine Empire) ۔ یہ سلطنتیں جابر سلطنتیں تھیں۔ ان کی وجہ سے اس وقت کی دنیا میں آزادانہ سوچ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اس لیے ترقی کا عمل رکا ہوا تھا۔ اس زمانے کی ان سلطنتوں نے خود آغاز کرکے ٹکراؤ کی صورت پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں اصحابِ رسول سے ان کا ٹکراؤ ہوا، اور آخر کار مختلف احوال سے گزرتے ہوئےدونوں سلطنتوں کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد دنیا میں آزادیٔ فکر کا دور شروع ہوا۔اس واقعہ کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے، قدیم ٹیلے جھک گئے:
He stood, and measured the earth: he beheld, and drove asunder the nations, and the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills did bow (Habakkuk, 3:6)
…ہے، جب کہ سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ اس سائنٹفک ڈیٹا کے حصول کا واحد ذریعہ قوانین فطرت (laws of nature) کا علم ہے۔ قدیم زمانے میں انسان کو قوانین فطرت کا علم حاصل نہ تھا۔ اس لیے خالق کی سائنسی معرفت بھی انسان کے لیے ممکن نہ ہوسکی۔
خالق کی ایک سنت یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کو مینج کرتا ہے، یعنی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو منصوبۂ تخلیق کے مطابق مطلوب حالت تک پہنچاتا ہے۔ خالق اپنا یہ کام انسانی آزادی کو منسوخ کیے بغیر انجام دیتا ہے۔ یہ ایک بے حد پیچیدہ کام ہے، اور اس کو خالق کائنات ہی اپنی بر تر طاقت کے ذریعہ انجام دے سکتا ہے۔ ہمارا کام اس منصوبۂ خداوندی کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔
قرآن کے ذریعہ اللہ تعالی نے بار بار اہل ایمان کو یہ بتایا تھا کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ تم ان تسخیری قوانین کو دریافت کرو، تاکہ تم معرفت کے اس درجے تک پہنچ سکو، جس کو سائنسی معرفت کہا جاتا ہے۔ مگر اہل ایمان اس کام کو…
…کہ آپ پر نبیوں کی فہرست ختم ہوگئی، لیکن آپ کی پیغمبرانہ رہنمائی قیامت تک جاری رہے گی۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایک ایسا عمل (process) جاری ہو، جو پوری تاریخ انسانی کے لیے رہنمائی کا کام کرتا رہے۔
پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی تبلیغ کے تحت آپ کے اصحاب کی جماعت (ٹیم) بنی۔ پھر یہ مقدر کردیا گیا کہ اصحاب رسول کے بعد متبعین رسول ہر دور میں پیدا ہوں، اور وہ پیغمبر کی رہنمائی کو ہمیشہ تاریخ کے ہر دور میں جاری رکھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اہل ایمان کہا جاتا ہے۔
یہ کام بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا کام تھا۔ اہل ایمان شاید اس کام کو تنہا انجام نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کے ساتھ اہل تائید کا گروہ کھڑا کردیا۔ یہ گروہ ہر دور میں اپنا تائیدی رول ادا کرتا رہا ہے۔ لیکن بعد کے زمانہ میں تائید کا یہ…
…میںخداکے تخلیقی کارناموں پرنظرڈالتاہوں تومیری تمام ہستی کاہرذرہ میراہم نوابن جاتاہے ،مجھے بیحدسکون اورخوشی نصیب ہوتی ہے،مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزارگنازیادہ کیف ملتاہے،کہوعنایت اﷲ خاں!تمہاری سمجھ میںآیاکہ میں گرجے کیوں جاتاہوں۔‘‘
علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسرجیمزکی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کردیا َیں نے کہا’’جناب والا!میں آپ کی روح افروزتفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں،اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یادآگئی اگراجازت ہوتوپیش کروں ، فرمایا ’’ضرور‘‘ چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی:وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہَا وَغَرَابِیبُ سُودٌ۔ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذَلِکَ إِنَّمَا یَخْشَى اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ (35:27-28)۔
یہ آیت سنتے ہی پروفیسرجیمزبولے:’’کیاکہا،اﷲ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں ،حیرت انگیز،بہت عجیب، یہ بات جومجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ ومشاہدہ کے بعدمعلوم ہوئی،محمد کوکس نے بتائی،کیاقرآن میں واقعی یہ آیت موجودہے، اگرہے تومیری شہادت لکھ لوکہ قرآن…
History of the Conflict Between Religion and Science (1874)
قرون وسطی کے بعد یورپ میں انیسویں صدی میں جدید الحادی فکر کادور آیا۔ یہ دور کسی علمی تحقیق کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ تمام تر رد عمل (reaction) کے نتیجے میں پیش آیا۔ اِس زمانے میں علمی تحقیق کا معیار یہ قرار پایا کہ وہ تمام تر سیکولرانداز میں ہو، یعنی خدا کو حذف کرکے واقعات کی توجیہہ کرنا۔ اِس طرزِ فکر کے نتیجے میں وہ غیر مذہبی فلسفہ پیدا ہوا جس کو الحاد (atheism) کہاجاتا ہے۔
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ قدیم مشرکانہ دور میں یہ توجیہہ قیاسی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ موجودہ ملحدانہ دور میں یہ توجیہہ علمی تحقیق کے نام پر کی جانے لگی۔ اِس نئے دور میں مغربی دنیا…
نوآبادیاتی نظام
مغربی نو آبادیات (colonialism) کا زمانہ سولہویں صدی سے بیسویں صدی کے نصف اول تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ نوآبادیاتی نظام پہلے زمانے کی شہنشاہیت سے مختلف تھا۔ اصل یہ ہے کہ جدید صنعت کے ظہور کے بعد یورپ میں ماس پروڈکشن (mass production) کا زمانہ آیا۔ اب ضرورت ہوئی کہ اس فاضل پیداوار کے لیے بیرونی مارکیٹ حاصل کی جائے۔ اس طرح فاضل پیداوار کی کھپت کے لیے نوآبادیاتی نظام کا دور شروع ہوا۔ نوآبادیاتی نظام میں فوج کشی قدیم رواج کے زیر اثر آئی۔ ورنہ نوآبادیات کا فوج کشی سے براہ راست تعلق نہ تھا۔
نو آبادیاتی نظام کو فوج سے وابستہ کرنے کی بنا پر ایشیا اور افریقہ میںنو آبادیات کی زیر حکم ریاستوں میں اس کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوا۔بیسویں صدی کے آغاز میں یہ ظاہر ہوگیا کہ نوآبادیات اور سیاسی اقتدار دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب…
بڑوں کی صحبت
ایک نوجوان انڈیا میں پیدا ہوئے۔ انڈیا میں انھوں نے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم میں ان کو اعلیٰ درجے کی ڈگری ملی۔ پھر وہ یوروپ چلے گیے۔ اب وہ یوروپ کے ایک ترقی یافتہ شہر میں آرام و آسائش کی زندگی گزارہے ہیں۔ اس نوجوان کی بہن ابھی انڈیا میں رہتی ہے۔ بھائی سے ٹیلیفون پر بہن کی بات ہوئی۔ بہن نے بے تکلفی کے انداز میں کہا کہ تم انڈیا واپس آجاؤ۔ یہ سن کر بھائی نے جواب دیا— کیا میں پاگل ہوں۔
مذکورہ بھائی ابھی جوانی کی عمر میں ہیں۔ یورپ کے شہر میں وہ اچھی صحت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کو ابھی زندگی کے گہرے مسائل کا تجربہ نہیں۔ اگر وہ جانتے کہ ان کی جوانی اور صحت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی ایک دن بوڑھے…
…کمزور ہوگئیں۔ اس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کے ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل عمر فاروق کے زمانے میں ہوئی، جبکہ اہل ایمان سے دونوں بادشاہتوں کا فوجی ٹکراؤ ہوا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ کر عملا ختم ہوگئیں۔
اس طرح انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ دور ایک تاریخی عمل (historical process)کی صورت میں تھا۔ اس تاریخی عمل میں اہل اسلام اور سیکولر گروہوں نے مشترک طور پر کام کیا۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل تھا، جس کی تکمیل یوروپ کی نشا ۃ ثانیہ (Renaissance) کے زمانے میں انجام پائی۔
شرک کے دور کا خاتمہ، توہماتی دور (age of superstition) کا خاتمہ تھا۔ اسلام سے پہلے پوری تاریخ میں توہماتی فکر چھایا ہوا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار یہ توہماتی دور ختم ہوا۔ اور انسان کے درمیان عقلی تفکیر (rational thinking) آئی۔ جس…
…معنی تھا۔ خالق کے نزدیک یہ ایک ناقابل قبول حالت تھی۔ چناں چہ اللہ نے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اس فتنے کو بزور ختم کردیں۔ تاکہ خداکا منصوبہ اپنی اصل حالت پر قائم ہوجائے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ ہے جس کا حکم اس آیت میں موجود ہے۔
یہ عمل (operation) پیغمبر اسلام کے زمانے میں شروع ہوا، اور خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس کے بعد ایک انقلابی عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں دنیا سے مذکورہ فتنہ کی حالت ختم ہوگئی۔ اس لیے اب اس مقصد کے لیے جنگ کی ضرورت عملا باقی نہیں رہی۔
اس معاملے کی وضاحت صحابیٔ رسول عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73 ھ)کے ایک واقعے سے ہوتی ہے۔خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کی وفات سن 23 ھ میں ہوئی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مسلم دنیا میں سیاسی انارکی کی صورت پیدا ہوگئی۔ اس زمانے میں عبد اللہ بن زبیر(وفات: …
فطرت کا نظام
قرآن کی سورہ التوبہ میںایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایاگیا ہے- خالق کو یہ مطلوب ہےکہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طورپر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو- چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتاہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے-تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا…
…کا خاتمہ کیاگیا-یہ دنیا سے سیاسی اجارہ داری ختم کرنے کا آغاز تھا- اس کے بعد جب مسلمان زمین کے مختلف حصوں میں پھیلے تو انھوں نے مختلف مقامات پر قائم شدہ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو ختم کرکے ہمیشہ کے لیے سیاسی اجارہ داری کے دور کا خاتمہ کردیا-
تاہم مسلمان اس تاریخی عمل میں صرف بقدر نصف اپنا حصہ ادا کرسکے- سابقہ شاکلہ (previous mindset) کے تحت، مسلمانوں نے یہ کیا کہ خلافت کے نام سے دوبارہ خاندانی نظامِ حکومت (dynasty) کو قائم کردیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان مطلوب عمل میں صرف جزئی کردار ادا کرسکے-
کروسیڈس کا دور
فطرت کا نظام
قرآن کی سورہ التوبہ میںایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایاگیا ہے- خالق کو یہ مطلوب ہےکہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طورپر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو- چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتا ہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے- تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (Lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی…
…وقتی مقصد کے لیے نہ تھا- اُس کانشانہ یہ تھا کہ ایک تاریخی نظام کاخاتمہ کرکے دنیا میں دوسرے تاریخی نظام کو وجود میں لایا جائے- اِس قسم کا منصوبہ صرف ایک لمبے عمل (long-term process) کے ذریعے بروئے کار لایا جاسکتا تھا، چناں چہ ایسا ہی ہوا-
سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ ہوا کہ ملکِ عرب میں قبائلی حکمرانی کو ختم کیا گیا- اِس کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانے میں ایشیاا فریقہ کے درمیان قائم شدہ دو بڑی سلطنتوں — ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر — کا خاتمہ کیا گیا- یہ دونوں واقعات غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے پیش آئے-یہ تاریخ بشری کا ایک عظیم سیاسی انقلاب تھا جس کا ذکر بائبل میں اِن الفاظ میں آیا ہے — اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے:
He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)
دورِ آزادی
اسلام کا ظہور تاریخ میں ایک انقلاب کا ظہور تھا- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں کے ذریعے تاریخ انسانی میں پہلی بار آزادی کا دور آیا- اِس سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی سلطنت کا مستبدانہ نظام (despotism) قائم تھا- اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی تھیں کہ بظاہر اُن کو ختم کرنا ناممکن ہوگیا تھا- رسول اور اصحاب رسول کی قربانیوں سے تاریخ میں ایک ایسا طاقت ور پراسس جاری ہوا جس نے شخصی مطلق العنانی کے نظامِ حکومت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا-قرآن میں اِس انقلابی واقعے کی طرف اِن الفاظ میںاشارہ کیا گیا ہے: وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا(24:55) یعنی ایسا لازماً ہونا ہے کہ دنیا سے دورِ خوف کا خاتمہ ہو اور دورِ امن ابدی طورپر دنیا میں آجائے-
حضرت عمر فاروق نے ایک عظیم سلطنت کے حکمراں کی حیثیت سے اپنے عہد خلافت میں اِسی حقیقت کا اظہار کیا تھا، جب کہ انھوں نے ایک واقعے کے بعد مصر کے مسلم گورنر کو خطاب کرتےہوئے کہا: یا عمرو، متى استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا(سیرة عمر…
فہمِ قرآن— ایک مطالعہ
قرآن، خدا کی محفوظ کتاب ہے- قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا- قرآن میںاس کے نزول کا مقصد اِن الفاظ میں بتایا گیاہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا(25:1) یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نےاپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ جہان والوںکے لیے آگاہ کرنے والا ہو-
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے قدیم عرب میں اترا- اُس وقت وہ صرف امکانی طورپر نذیر ِ عالم تھا- کیوں کہ بطو ر واقعہ نذیر عالم بننے کے لیے عالمی کمیونکیشن (global communication) کے ذرائع درکار ہیں، جو اُس وقت موجود ہی نہ تھے- حقیقت یہ ہے کہ قرآن…
…ہوگیا- اِس عمل میں اُس وقت چرچ رکاوٹ بن گیا تو انھوں نے سخت جدوجہد کے بعد چرچ کے اختیارات پر حد بندی قائم کردی، پھر 1929 میں چرچ کو ویٹکن (روم) کے محدود رقبے میں گویا ہاؤس اریسٹ (house arrest) کردیا جس کا کُل رقبہ صرف 109 مربع ایکڑ ہے-
اِس دور میں یورپ کے جن لوگوں نے سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) یا سائنسی ریسرچ کے میدان میں کام کیا، وہ تقریباً سب کے سب مسیحی افراد تھے- اِس سائنسی عمل میں بریک تھرو (breakthrough) اُس وقت آیا، جب کہ 1609 میں اٹلی کے فلکیاتی عالِم گلیلیو (Galileo Galilei) نے ابتدائی دور بین تیار کی اور اس کے ذریعے خلا کا مشاہدہ کیا- اس مشاہدے نے سائنس دانوں کے سامنے عمل کا ایک ایسا میدان کھول دیا جو ناقابل قیاس حد تک وسیع تھا- اُس وقت یورپی ذہن نے یہ جانا کہ ہم عالمِ صغیر میں جی رہے تھے، جب کہ یہاں عالمِ کبیر ہمارا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے- اس کے بعد یورپ کے مسیحی اہلِ علم پوری طرح سائنسی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کردیا جس کو عام طور پر جدید تہذیب (modern civilization) کہاجاتا ہے-
قابلِ تقلید ماڈل
اسلام اور مسلمان
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا- ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کا مشن نہایت تیزی کے ساتھ پھیلا، یہاں تک کہ تقریباً 50 سال کے عرصے میں آپ کے ماننے والوں نے ایشیا اور افریقہ اور یورپ میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں- مسلمانوں کا یہ دبدبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا- اِس کے بعد وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140) کے فطری قانون کے تحت حالات بدلے- یورپ میں نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا- یورپی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر دنیا کے بیش تر حصے میں پھیل گئیں-یہ وہی دور تھا جس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاتا ہے- فطری طور پر یورپی قوموں کا مقابلہ براہِ راست مسلم سلطنتوں سے ہوا- اٹھارھویں صدی عیسوی کا آخری زمانہ اِس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے- یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ایک طرف، عثمانی سلطنت کو یورپی طاقت کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا- 1770 میں ترکوں کے مضبوط بحری بیڑے کو ایک لڑائی میں میڈی ٹیرینین سمندر میں تباہ کردیا گیا:
The Ottoman naval establishment was wiped out at the Battle of Çeşme (1770) by a Russian fleet. (EB. 13/784)
رسول اور اصحابِ رسول کی مثال
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی - اُس وقت سارا عرب اسلام کے ماتحت آچکا تھا- پیغمبر اسلام اِس عرب ریاست کے سربراہ تھے- آپ نے ایک با اختیار صدر مملکت کی حیثیت سے یہ اعلان کیا کہ:لا فضل لعربی على عجمی ، ولا لعجمی على عربی ، ولا لأحمر على أسود ، ولا لأسود على أحمر ، إلا بالتقوى (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24204) یعنی کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے- کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقوی کے-یہ تاریخ میں حصولِ جمہوریت کا پہلا باضابطہ اعلان تھا- اِس ریاستی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ نظریاتی اعتبار سے، اب غیر جمہوری دور کا خاتمہ ہوگیا اور جمہوری دور کا اصولی طورپر آغاز ہوگیا- اِس طرح تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا جو انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج بعد کی تاریخ میں جاری رہا-
اِسی اعلانِ جمہوریت کاایک عملی مظاہرہ وہ تھا جو اِس اعلان کے تقریباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا-اُس وقت حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مصر کا ملک مدینہ کی ریاست میں شامل ہوچکا تھا-اُس وقت مصر میں ایک واقعہ…
…طور پر دین کا ایک غلط ایڈیشن تیار کیا، لیکن اس کے بعد تاریخی عمل کے تحت ایسے حالات پیداہوئے جنھوںنے مذہب کے اِس غلط متبادل (wrong alternative) کو حجت (دلیل) کی سطح پر ختم کردیا- اِس طرح دین حق کی نظریاتی صداقت بدستور تاریخ میں قائم رہی-
تاریخ میں اِس نوعیت کی پہلی مثال مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) ہے جس کو مذہب کی زبان میں شرک کہاجاتا ہے- فطرت کی پرستش کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے مظاہر، سورج، چاند ستارے، وغیرہ میں خدائی صفات (divine attributes) کو فرض کرکے ان کی پرستش کرنا- مظاہر فطرت کی یہ پرستش قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک قائم رہی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اللہ تعالی نے تاریخ میں ایسا انقلابی عمل جاری کیا جس کے نتیجے میں آخر کار وہ دور آیا جس کو سائنسی دور کہاجاتا ہے- جدید سائنس کے ذریعے مظاہر فطرت کی موضوعی تحقیق (objective exploration) کی…
…surface) ہوتی ہیں- اِن دوسری چیزوں کو ہمیشہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو بصیرت (wisdom) رکھنے والے ہیں- اِس دنیا میں زیادہ بڑی کامیابی صرف اُن لوگوں کے لیے مقدر ہے جو انڈرکرنٹ چیزوں کو دیکھ سکیں اور اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں-
اِس کی ایک مثال جاپان ہے- دوسری عالمی جنگ میں جاپان محوری گروپ (Axis powers) کے ساتھ تھا- اُس زمانے میں جاپان ایک تشدد پسند قوم کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن جنگ کے دوران امریکا نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا- اس نے جاپان کے دو شہر ہیروشیما(Hiroshima) اور ناگاساکی (Nagasaki) پر اگست 1945 میں دو ایٹم بم گرائے- یہ جاپان کے لیے ایک ہلاکت خیز تجربہ تھا- اِس کے بعد جاپان بظاہر پوری طرح ایک تباہ شدہ ملک بن گیا-
اُس وقت جاپان کا سیاسی لیڈر ہیروہٹو(Hirohito) تھا- ہیرو ہٹو ایک مدبر آدمی تھا- اس نے اپنی بصیرت سے یہ جانا کہ سرفیس پر جو حالات ہیں، وہ بظاہر جاپان کے لیے ناموافق ہیں، لیکن انڈر کرنٹ جو صورتِ حال ہے، وہ جاپان کے لیے ایک موافق امکان کی…
…نے یہ نظریہ پھیلایا کہ کسی خاندان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے- اِس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ایک سیاسی اصول پورے یورپ میں ایک مسلّم اصول بن گیا- اِس اصول کو عام طورپر حکومتِ خود اختیاری (self-determination) کا اصول کہاجاتاہے:
The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence.
یہ سیاسی انقلاب یورپ میں پہلے فکری سطح پر آیا- اس کے بعد اس نے عملی صورت اختیار کی- اِس سیاسی انقلاب کا پہلا عملی اظہارفرانس میں ہوا-یہ فرنچ ریولوشن (French Revolution) تھا جو 1789 میں پیش آیا- اِس انقلاب کے بعد فرانس میں شخصی بادشاہت…
…کا کیس یہی تھا کہ انھوںنے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا- اِس طرح موجودہ زمانے میں آزاد مسلم ملکوں میں خود مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرتے رہتے ہیں- یہ بھی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے، وہ خود اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں-
یہی معاملہ غلط توجیہہ کا ہے- اسلام کے ابتدائی زمانے میں خوارج کا جو ظاہرہ پیدا ہوا، وہ اسلام کی غلط توجیہہ کا نتیجہ تھا- اِسی طرح موجودہ زمانے میں اسلام کی سیاسی تعبیر بھی قرآن وحدیث کی غلط توجیہہ کے نتیجے میں وجود میں آئی-
عام طو رپر مسلمان عصری ذہن کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- اس کا سبب وہی ہے جس کو الناس أعداء ما جہلوا کہاجاتا ہے، یعنی بے خبری کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا- عصری ذہن کے بارے میں عادلانہ رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت…
…ترکی میں ہوا- اتاترک کے زمانے میں حکومت کی کارروائی سے مذہب ظاہری سطح پر کسی درجے میں غیر موثر ہوگیا تھا، لیکن اتاترک کے بعد رفتہ رفتہ وہ پوری طرح زندہ ہوگیا-اب کمال ازم صرف کچھ کتابوں میں پایا جاتا ہے، خود ترکی میں اس کا کوئی وجود نہیں-
اصل یہ ہے کہ واقعات کی رپورٹنگ میں انسان کا مزاج ہمیشہ یک طرفہ رپورٹنگ کا رہاہے۔ لوگوں کی یہ قدیم عادت ہے کہ اگر کوئی اچھی بات ہو تو وہ اس کی رپورٹنگ نہیں کریں گے، لیکن اگر کوئی بظاہر بری بات ہو تو وہ اس کو فوراً رپورٹ کریں گے اور ہر جگہ مزید اضافے کے ساتھ اس کا چرچا ہونے لگے گا۔ یہی ترکی کے ساتھ ہوا۔ ترکی، کمال اتاترک کی روش سے زیادہ ، لوگوں کے اِس غلط مزاج کا شکار ہوا ہے۔ جدید ترکی جس بدنامی کا شکار ہوا ہے، وہ زیادہ تر لوگوں کے اِسی مزاج کا نتیجہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں، خود اتاترک کے فعل کا نتیجہ۔
مثال کے طور پر خلافت کے زمانے میں ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ اتاترک نے ایک قانون بنا کر ترکی زبان کے لئے رومن رسم الخط کو لازمی قرار دے دیا۔ یہ بات جس طرح بھیانک انداز میں رپورٹ کی گئی، حقیقت میں وہ اتنی بھیانک نہ تھی۔ اصل…
کمال ازم کی حقیقت
کمال اتاترک کی تحریک کو کمال ازم (Kemalism) کہاجاتا ہے- کمال ازم کی تحریک اینٹی اسلام تحریک نہ تھی- اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کمال ازم کی تحریک مخالفِ جمود (anti-stagnation) تحریک تھی- ترکی میں کمال اتاترک کا دور 1920 کے بعد شروع ہوتاہے- اس سے پہلے ترکی مکمل طور پر ذہنی جمود کا شکار ہوچکا تھا- یہ وقت تھا جب کہ ترکی کے پڑوسی علاقہ یورپ میں ماڈرن ایجوکیشن اور ماڈرن انڈسٹری آچکی تھی، مگر ترکی قدیم روایتی دور میں پڑا ہوا تھا- اِس صورتِ حال کے ردِ عمل کے طورپر ترکی کے بہت سے لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ ترکی کو ماڈرنائز کیا جائے- کمال اتاترک دراصل اِسی ذہن کے قائد کے طورپر ابھرے-
ترکی میں کمال اتاترک کو 1923 میں سیاسی اقتدار ملا- اِس کے بعد انھوں نے ملک میں ریڈیکل اصلاحات کیں- خاص طورپر تعلیم اور انڈسٹری میں ترکی کو یورپ کی ترقیاتی سطح پر لانے کی کوشش کی- اتاترک سے پہلے ترکی میں تعلیم کی شرح بمشکل 20 فی صد تھی،…
ترکی کی جدید تصویر
مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی (Philip K. Hitti) نے عرب کی تاریخ پر ایک کتاب لکھی ہے- یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مستند کتاب مانی جاتی ہے اور یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہے- اِس کتاب کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے- اصل انگریزی کتاب کا ٹائٹل یہ ہے:
History of the Arabs:
…نے بتایا کہ وہ مجھ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ بہت پہلے سے میری کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے انگریزی زبان میں چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ یہ کتاب 615 صفحات پر مشتمل ہے۔ اِس کتاب کو 5 مصنفین نے مشترک طورپر ایڈٹ کیا ہے۔ اِس کتاب کا نام یہ تھا:
Yearbook of Muslims in Europe, (Vol. 3, Brill, Leiden-2011)
پروفیسر احمد کتاب کے 5 ایڈیٹروں میں سے ایک ہیں۔ اُن کے بارے میں کتاب میں یہ الفاظ درج ہیں:
…کیا کہ انھوںنے ایک نیا دور پیدا کردیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہوگیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہوگیا۔
اِسی انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہوگیا۔ اِس پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصف اول میں عرب سے ہوا، اس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً اِس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality) کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دعوت وتبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ آفاق وانفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہوگیاکہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (4: 53)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور، یعنی ہجرت (622 ء) سے ایک سال پہلے ایک واقعہ پیش آیا، جس کو قرآن میں اسراکہاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں:سبحان الذی أسریٰ بعبدہ لیلاًً من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی الذی…
…گوٹن برگ (وفات: 1468 ) اِس میں کامیاب ہوگیا کہ وہ ایک قابلِ عمل طباعتی آلہ دریافت کرے۔ اِس دریافت کے بعد تاریخ میں ایک پرنٹنگ انقلاب (printing revolution) آیا جو تیزی سے ترقی کرتے ہوئے موجودہ اعلیٰ طباعتی مشین (printing press) تک پہنچا۔
لوح محفوظ کے الفاظ میں اِسی تاریخ کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ قرآن کا نزول 610 عیسوی میں شروع ہوا۔ اس کی تکیل تقریباً 23 سال میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے استثنائی طورپر یہ واقعہ پیش آیا کہ خداکے نزدیک، قرآن کا جو معیاری متن (standard version) تھا، وہ ادنی تغیر کے بغیر پہلے انسانی حافظے میں ریکارڈ ہوا، پھر ادنیٰ تغیر کے بغیر کتابت کے ذریعے اس کی جلدیں بنائی گئیں، پھر تاریخ میں ایک پراسس جاری ہوا جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں یہ ممکن ہوگیا کہ قرآن کا ایک نسخہ نہایت درست طورپر تیار کیا جائے اور پھر اس کی بلین اور بلین کاپیاں تیار کرلی جائیں۔ آج ہر گھر میں اور ہر مسجد میں اور ہر مدرسہ اور ہر لائبریری میں قرآن کے نہایت صحیح مطبوعہ نسخے موجود ہیں۔ اِس طرح خدا کی تقدیر اِس بات کی ضامن بن گئی کہ قرآن کسی بھی قسم کے تغیر اور تبدل کے بغیر ہر انسان کے لیے قابلِ دستیاب ہوجائے۔
ادخالِ کلمہ
…سے افریقہ کی طرف چلیں تو اس کی آخری سرحد پر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) ہوگا، جس کے دوسری طرف امریکا کا براعظم واقع ہے۔ اسی طرح اگر آپ عرب سے بحرِ ہند (Indian Ocean) کی طرف چلیں تو اس کے دوسری طرف آسٹریلیا کا براعظم دکھائی دے گا۔
عقبہ بن نافع (وفات: 683 ء) ایک تابعی تھے۔ وہ عرب سے ایک دستہ لے کر نکلے اور افریقہ میں اسلام کی اشاعت کرتے ہوئے اس کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں تاحدِ نظر اٹلانٹک سمندر (Atlantic Ocean) پھیلا ہوا تھا۔ وہ اُس وقت گھوڑے پر سوار تھے ۔انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر کے کنارے کھڑا کیا اور کہا: اللہم إنی لو أعلم وراء ہٰذا البحر بلداً لخُضتُہ إلیہ، حتی لا یُعبد أحد دونک (خدایا، اگر میں جانتا کہ اِس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے)۔
عقبہ بن نافع کا یہ واقعہ علامتی طورپر یہ بتاتا ہے کہ دورِ اول میں اسلام کی دعوتی توسیع زمین کے برّی حصے میں برابر ہوتی رہی، لیکن وہ سمندر پار کے ملکوں تک نہ پہنچ سکی، کیوں کہ سمندری سفر کے لیے اُس زمانے میں قابلِ اعتماد اسباب موجود نہ تھے۔…
لیڈروں کا دہرا کردار
اسامہ بن لادن کا عمومی تشخص یہ ہے کہ وہ مغرب کے سخت دشمن تھے اور جہاد کے نام پر مغرب کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے حامی تھے۔ 3 مئی 2011 کو پاکستان (ایبٹ آباد) میں وہ ہلاک ہوگئے۔ یہ ان کا کردار بحیثیت ایک لیڈر تھا۔ باپ کی حیثیت سے اُن کا کردار اِس سے بالکل مختلف تھا۔
اسامہ بن لادن کے برادرِ نسبتی (brother-in-law) زکریا (Zakaria al-Sadah) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں سنڈے ٹائمس (لندن) کے حوالے سے چھپا ہے۔ اِس انٹرویو میں انھوںنے بتایا کہ — اسامہ بن لادن نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں سے…
تجارت کا اصول
انڈیا کے ایک مسلم نوجوان کا واقعہ ہے۔ انھوں نے شہر میں ایک دکان کھولی۔ وہ وہاں بیٹھنے لگے۔ ایک دن اُن کے دادا اُن کی دکان پر آئے۔ اُس وقت مذکورہ نوجوان اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے ایک کتاب پڑھ رہے تھے۔ اُن کے دادا نے ان کے ہاتھ سے کتاب چھین لی اور کہا— یہ دکان ہے، یہ لائبریری نہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تجارت کا اصول کیا ہے اور تجارت میں کامیابی کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ جب آدمی تجارت کرے تو تجارت ہی کو وہ اپنا سب کچھ بنا لے، وہ تجارت کے سوا ہر دوسری چیز کو ثانوی (secondary) بنا دے۔ یورپ میں مقیم ایک…
تاریخِ بشری کے پانچ دور
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیداکیا اور اس کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سیارۂ ارض (planet earth) پر بسایا۔انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلسل پیغمبر بھیجے۔اِس سلسلۂ نبوت کے آخری پیغمبر محمد ﷺ تھے۔ اِس کے بعددعوت الی اللہ کی تاریخ مختلف اَدوار سے گزرتی رہی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس آخری دور کے خاتمہ کے بعد قیامت برپا ہوگی اور پھر تاریخ بشری کا وہ تکمیلی دور شروع ہوجائے گا جس کو جنت کا دور کہاگیا ہے۔ انسانی تاریخ کے یہ پانچ ادوار حسب ذیل ہیں:
1 - اعلان حق (proclamation of divine truth)
…عقیدہ اور سائنسی تحقیق کو ایک دوسرے سے الگ نہ کرسکے۔ چناں چہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اور ان کے سائنسی علماء کے درمیان مسلسل نزاعات پیش آتے رہے، جس کی وجہ سے یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اِس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:
تاریخ اسلام، از: اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد سوم
History of the Arabs, by Philip K Hitti
طوفان نوح
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے زمین پر بسایا۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کی آبادکاری ابتدائی دور میں دریائے دجلہ، اور دریائے فرات کے درمیان عراق کے اس علاقے میں ہوئی جس کو میسوپوٹامیہ کہا جاتاہے۔ یہ ایک زرخیز علاقہ تھا۔ یہاں توالد و تناسل کے ذریعہ انسان کی نسل بڑھتی رہی۔ اس علاقے میں انسان لمبے عرصے تک اپنی آزادانہ سرگرمیوں میں مشغول رہا۔ شروع میں لوگ آدم کی شریعت پر تھے۔ لیکن کئی نسل گزرنے کے بعد ان کے اندر جمود (stagnation) آگیا۔ ان کے اندر ضعیف الاعتقادی اور بدعملی پیدا ہوگئی۔ ان کی بیداری کے لیے پیغمبر نوح آئے۔ یہ گویا کہ پرامن تبلیغ کے ذریعہ ان کے اندر بیداری لانے کی کوشش تھی۔ لیکن لمبی مدت کی پرامن اصلاحی کوششوں کے باوجود ان کے اندر دوبارہ بیداری نہیں آئی۔
اب ان کے اندر نئی زندگی لانے کے لیے ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان (great flood) آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا، اور اس کشتی کو تیز…
صلیبی جنگیں
مسلم فتوحات کے بعد تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس عمل کے نتیجے میں مسلم اقوام کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ اسی عروج کا ایک حصہ یہ تھا کہ مسیحی عقیدہ کے مطابق ایشیا میں ان کے مقدس مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ یہ صورت حال مسیحی قوموں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر اس علاقے کو اپنے قبضہ میں لینے کے لیے حملہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور مسیحی قوموں کے درمیان دو سوسال کی وہ لڑائی چھڑ گئی، جس کو صلیبی جنگ (Crusades) کہا جاتا ہے۔ مگر تقریباً دو سو سال کی خونی جنگ کے باوجود یورپ کی مسیحی قوموں کو کامل شکست پیش آئی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں مسیحی قوموں کو اس جنگ میں ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کا سامنا کرنا پڑا۔
مسیحی قوموں کے لیے یہ شکست اتنی فیصلہ کن تھی کہ عملاً ان کے لیے یہ آپشن باقی نہ رہا کہ وہ اس صلیبی جنگ کو مزید جاری رکھ سکیں۔اس شکست نے یورپ کی مسیحی قوموں میں یہ سوچ بیدار کی کہ ان کے لیے مسلمانوں کے مقابلے میں جنگ کا آپشن باقی نہیں…
…ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء ً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہلِ مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ…
…ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء ً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہلِ مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ…
…اکابر اور بزرگوں پر آکر رک جاتا ہے۔ لوگ اپنے اکابر سے وہ عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں، جو عقیدت صرف ایک خدا سے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز سے برہم ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں اور اکابر پر تنقید کی جائے۔
رومن امپائر 117ءمیں شمالی برطانیہ سے لے کر بحر احمر اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مثل مشہور ہوگئی تھی :
All roads lead to Rome
…اکابر اور بزرگوں پر آکر رک جاتا ہے۔ لوگ اپنے اکابر سے وہ عقیدت وابستہ کر لیتے ہیں، جو عقیدت صرف ایک خدا سے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لوگ سب سے زیادہ جس چیز سے برہم ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں اور اکابر پر تنقید کی جائے۔
رومن امپائر 117ءمیں شمالی برطانیہ سے لے کر بحر احمر اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مثل مشہور ہوگئی تھی :
All roads lead to Rome
اسی طرح دفاعی جنگ کی تیاری کے لیے قرآن میں یہ حکم دیاگیا تھا کہ: اور اُن کے لیے جس قدر تم سے ہوسکے، تیار رکھو قوّت اور پَلے ہوئے گھوڑے کہ اِس سے تمھاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے دشمنوں پر (الأنفال: 60 )
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی مسلم حکومتیں دفاعی تیّاری کے لیے جدید ہتھیار کا سہارا لیتی ہیں، یہ بھی گویا کہ نسخ کی ایک صورت ہے۔ غور کیجیے تو اِس حکم کی اصل حقیقت دفاعی تیاری ہے۔ اِس دفاعی تیاری کی ظاہری شکل پہلے زمانے میں گھوڑا ہوتا تھا، اب اُس کی ظاہری شکل مشینی ہتھیار بن گیے ہیں۔
یہی معاملہ قتال (جنگ) کا بھی ہے۔ قرآن کی چند آیتوں میں دفاع کے لیے قتال کی اجازت دی گئی ہے۔ فقہا نے کہا ہے کہ اسلام میں قتال حَسن لِذاتہ نہیں ہے، بلکہ وہ حسن لِغیرہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قتال، نماز کی طرح مطلق طورپر مطلوب نہیں ہے بلکہ…
مراسلت نمبر— ۱۱
ماہ نامہ ’’جامِ نور‘‘ میں مولانا منظر الاسلام ازہری (اسلامک سنٹر آف ہائی پوائنٹ، امریکا)کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اِس کو پڑھ کر میں نے مضمون نگار کو ایک خط لکھا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
…میں جو مسلمان، تارکین وطن کی حیثیت سے رہتے ہیں، وہ یہی لوگ ہیں۔ یہ لوگ گویا کہ— مسلمس اِن ڈائسپورا (Muslims in Diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ لوگ امکانی طورپر خدا کے سفیر (ambassadors of God) ہیں۔ اور آپ یقینی طورپر اُن میں سے ایک ہیں۔
آپ اور آپ جیسے دوسرے مسلمان عورت اور مرد جو یورپ اور امریکا میں رہتے ہیں اُن کو اَصحابِ رسول کی یہی نسبت حاصل ہوگئی ہے۔ ان کا معاملہ اِس پہلو سے اصحابِ رسول جیسا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ آپ جیسے لوگوں سے دوبارہ یہ فرمارہے ہیں کہ اے میری امت کے لوگو! تم میری امت کے ’’آخرین‘‘ میں سے ہو۔ حالات نے تم کو جن غیر مسلم ملکوں میں پہنچایا ہے، وہاں کے لوگوں کو تم میرا پیغام پہنچا دو تاکہ اُن لوگوں کے سلسلے میں میری جو پیغمبرانہ ذمے داری ہے وہ تمہارے ذریعے ادا ہوجائے۔
یہ تفصیل میں نے اس لیے بیان کی تاکہ آپ پر یہ واضح کروں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کا فریضہ کیا ہے، اور خدا اور رسول کی طرف سے آپ کے اوپر کیا ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ذمّے داری ایک لفظ میں، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اُس…
…کے یہاں کسی بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لیے جس طرح مصاحب یا سفارشی کی ضرورت پڑتی ہے ایسا نہیں ہے۔ انسان اللہ پاک سے براہِ راست بلاکسی انسانی واسطہ کے قرب حاصل کرسکتا ہے۔ میں کہاں تک صحیح سمجھتا ہوں مطلع فرمائیں۔ (ایس۔ اے رضوی۔ حیدر آباد)
وسیلہ کے معنٰی عربی زبان میں تقرب کے ہوتے ہیں۔ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ خوف خدا اور دینی جد وجہد کے ذریعہ اللہ کی قربت تلاش کریں۔ آیت کے الفاظ اگر یہ ہوتے کہ و ابتغوا الوسیلۃ الیہ تو اس کا مطلب ہوتا کہ خدا کا تقرب تلاش کرو۔ لیکن آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ: وابتغوا الیہ الوسیلۃ، یعنی الیہ کا لفظ وسیلۃ سے پہلے لایا گیا ہے۔ اس سے یہاں حصر کا مفہوم پیدا ہوگیا یعنی خدا کی ہی قربت تلاش کرو۔
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں دوسروں کا تقرب تلاش کرنے کی نفی کی گئی ہے نہ یہ کہ دوسروں کو وسیلہ بنا کر خدا کی قربت حاصل کرو۔ خدا سے تقرب کے لیے دوسروں کو وسیلہ بنانا سراسر قرآن کی روح کے خلاف ہے۔ اس طرح کی کسی بات کا ثبوت خود نص قرآنی میں…
…ہو اتھا، جس طرح گاندھی اور نیلسن منڈیلا نے انڈیا اور سائوتھ افریقہ میں پرامن جدوجہد کا طریقہ اختیار کیا۔ مگر فلسطینیوں نے اپنی تحریک کے آغاز ہی میں غلط رخ اختیار کرلیا۔ ان کی اس غلط روی کے ذمہ دار خود عرب رہنماہیں ، نہ کہ کوئی دوسر افریق۔
لارڈنذیر احمد نے برطانیہ میں اپنی سرگرمیوں کی تفصیل بتائی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اس وقت جو کام کررہے ہیں، وہ صرف کمیونٹی ورک ہے ۔ مگر آپ کی صلاحیتوں کے اعتبار سے یہ آپ کے لیے ایک کمتر درجہ کاکام ہے۔ آپ اس سے زیادہ بڑا کام کر سکتے ہیں، اور وہ دعوہ ورک ہے۔ یورپ اور امریکا میں اس وقت سخت ضرورت ہے کہ مثبت انداز میں اسلام کی دعوت لوگوں تک پہنچائی جائے اور اسلام کا صحیح تعارف پیش کیا جائے۔ آپ یہ کام بہت اچھا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ میری اس تجویز پر سنجید گی کے ساتھ غور کریں گے ۔
سول کے بک اسٹال پر راقم الحروف کی انگریزی کتابیں موجود تھیں۔ وہ میری ترغیب کے بغیر خود سے بک اسٹال پر گئے، اور میری کتابوں کا ایک سٹ حاصل کیا۔
…ہے اور یہی پوری دنیا کے لیے ورلڈ آرڈر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن امت مسلمہ کے اندر پیدا ہونے والی بیداری کی لہر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ (نوائے وقت: ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ صفحہ ۲)
یہ انداز کلام بلا شبہہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں ہر طرح کے ناموافق واقعات پیش آئے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسو ل اور اصحاب رسول ایسے موقع پر مذکورہ قسم کے الفاظ بولیں۔ اس کے برعکس اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی ایساکوئی حادثہ گذرتا تو وہ داخلی احتساب کرتے۔ لفظی جوش دکھانے کے بجائے وہ اس فکر میں لگ جاتے کہ ہماری وہ کون سی داخلی کوتاہی تھی جس کی بنا پر ہمیں ایسی مصیبت سے دوچار ہونا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی شاعری اور خطابت صرف اس بات کی علامت ہے کہ ملّت زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ دور زوال میںیہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عملی قوتیں کم ہوجاتی ہیں۔ اُس وقت ایسے شعراء اور خطباء اُبھرتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بول کر اُنہیں…
…کافر یا کفار نہ تھے بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو کہ قومیں خود اپنے لیے استعمال کررہی تھیں۔ مثلاً ہنود، یہود، نصاریٰ، مجوس، بودھ (بوذا) وغیرہ۔ اسلامی اصول کے مطابق، کسی قوم کو اسی لفظ سے پکارا جائے گا جو لفظ اُس نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہو۔
قرآن میںبتایا گیا ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنے زمانہ کے غیر مومن لوگوں کو پکارا تو اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے کافرو، بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے پچاس بار یہ الفاظ آئے ہیں: یا قومی، یا قومِ (اے میری قوم)۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک پیغمبر کو اُس کے مخالفین نے پتھر مارا اور ان کے خون بہنے لگا، اُس وقت پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: رب اہد قومی فانہم لا یعلمون۔ (اے میرے رب، میری قوم کو ہدایت دے کیوں کہ وہ لوگ نہیں جانتے۔ اسی طرح قرآن میں پیغمبروں کے ہم زمانہ غیر مومنین کو اُن کی قوم کا نام دیا گیا ہے۔ مثلاً: قوم لوط، قوم صالح، قوم ہود، قوم نوح، وغیرہ۔
اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر وں کا نظریہ دو قومی نظریہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ یعنی جو قومیت پیغمبر کی تھی وہی قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی۔ پیغمبر اوراُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور…
…جب سمندری جہاز کا ایک کپتان وسیع سمندر میں داخل ہو کر اِس ساحل سے اُس ساحل تک اپنا جہاز لے جاتا ہے۔ یا ہوائی جہاز کا پائلٹ ایک براعظم سے اڑ کر دوسرے براعظم میں اترتا ہے تو اس عمل کے پیچھے سینکڑوں سال کے انسانی تجربات کا علم شامل ہوتا ہے۔
اگلے صفحہ پر ہم ایک نقشہ دے رہے ہیں۔ یہ نقشہ چڑیوں کے بین براعظمی سفر کو بتا رہا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ روس اور دوسرے یورپی علاقوں کی چڑیاں کس طرح سرد موسم میں اپنے علاقے سے نکل کر افریقہ اور ایشیا کے گرم علاقوں کی طرف جاتی ہیں۔ اس لمبے سفر میں انھیں تین سمندروں سے واسطہ پیش آتا ہے — انھیں کیسپین سمندر (Caspian Sea) اور بحراسود (Black Sea) اور بحر متوسط (Mediterranean Sea) کو پار کرنا پڑتا ہے۔ یہ چڑیاں ایسا نہیں کرتیں کہ بے خبری کے عالم میں بس اپنے مقام سے اڑ کر کسی طرف بھی روانہ ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہایت صحت کے ساتھ اس رخ کا تعین کرتی ہیں جو ان کے لیے موزوں ترین ہے۔ وہ نہایت صحت کے ساتھ عین وہ راستے اختیار کرتی ہیں جدھر سے جانے میں انھیں کم سے کم سمندر کے اوپر سے گزرنا پڑے۔ کیوں کہ خشکی پر بوقت ضرورت وہ نیچے اتر سکتی ہیں مگر سمندر میں اترنا ان کے لیے ممکن نہیں۔
اس نقشہ کو دائیں سے بائیں کی طرف دیکھیے۔ اس میں چڑیوں کا پہلا جھنڈ وہ ہے جو یورپ سے آتے ہوئے وہاں پہنچتا ہے جہاں ان کی راہ میں بحر کیسپین حائل ہے۔ یہاں وہ مڑ جاتی ہیں وہ بحرکیسپین کو کنارے چھوڑتے ہوئے ایک طرف قراقرم کی جانب سے اور دوسری…
مذہب کے دروازہ پر
ڈاکٹر فرڈہائل مشہور سائنس داں ہے۔ اس کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ’’ذہین کائنات‘‘ ڈھائی سو صفحہ کی اس کتاب میں مصنف نے دکھایا ہے کہ کائنات کا جدید سائنسی مطالعہ حیرت انگیز طور پر اس ذہن کی تردید کرتا ہے جو انیسویں صدی میں قائم کیا گیا تھا۔ پہلے یہ سمجھ لیا گیا تھاکہ کائنات محض بے شعور مادہ کی اندھی کارفرمائی ہے۔ مگر بیسویں صدی کے آخر میں سائنس کے مختلف شعبوں میں جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ کائنات محض ایک مادی کائنات نہیں ، وہ ایک ’’ذہین کائنات‘‘ ہے۔ یہاں اندھے مادی عمل کے بجائے ہر طرف ذہن کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔
ان تفصیلات کو قلم بند کرتے ہوئے مصنف نے ایک بڑی عبرت انگیز بات لکھی ہے۔ مصنف کا یہ پورا پیراگراف ہم انھیں کے لفظوں میں نقل کرتے ہیں
10۔ انسان کب سے زمین پر ہے
ڈاکٹر ڈونالڈ جانسن، میوزیم آف نیچرل ہسٹری، کلیولینڈ، اوہائو یورپ افریقہ اور ایشیا میں جو متحجرات(فاسل) برآمد ہوئے ہیں، وہ انسان کی ابتدا کو اور زیادہ پیچھے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بہرحال یہ بات دن بدن نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ ارتقاء کا معاملہ (سابقہ تصور کے خلاف) کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، وہ مدت جس کا تعین ایک مسئلہ ہے، وہ تین ملین سے لے کر دس ملین سال پیچھے تک ہے۔ انسان کے امکانی آباءو اجداد میں بظاہر بہت زیادہ فرق رہا ہے۔ اور ہم کو نہیں معلوم کہ ان کے درمیان باہمی رشتہ کیا تھا(اس کی وجہ جزئی طور پر ڈاکٹر جانسن کی حبش میں دریافتیں ہیں۔ نیز اس سے بھی زیادہ قدیم متحجرات پاکستان میں ملے ہیں)۔
’’حالی اب آئو پیرویٔ مغربی کریں‘‘
سرسید نے جب انگلستان سے واپس آ کر دسمبر1870ء میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انہوں نے پہلے پرچہ کے شروع میں لکھا
’’اس پرچہ کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سویلائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سویلائزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معززو مہذب قوم کہلائیں۔‘‘
…کر اٹلی اور فرانس جانا شروع ہوگئے۔ سائنسی تحقیقی کا کام مسلم دنیا سے نکل کر مغربی دنیا میں منتقل ہوگیا۔ ترکوں نے علم اور اہل علم کی جس طرح حوصلہ شکنی کی اس کی دردناک تفصیل محمد کرد علی شامی کی کتاب الحضارۃ العربیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مغربی دنیا(western world)میںان سائنسدانوںکی خوب پذیرائی ہوئی۔ صلیبی جنگوں (1095-1271ء) میں مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپی قوموں کو شکست اس لیے ہوئی تھی کہ مسلمان علم و فن میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان جنگوں میں ابتداء میں رومی فوجوں نے یونانی آگ(Greek Fire) استعمال کی جس سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔’’یونانی آگ‘‘ ایک قسم کی پچکاری تھی جس میں آتش گیر کمیائی مرکب بھر کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا۔ مسلم سائنس دانوں نے اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ایجاد کی۔ اس میں روغن نفط(معدنی تیل) استعمال ہوتا تھا۔ اس کی مار زیادہ دور تک تھی اور اس کا نقصان بھی یونانی آگ سے بہت بڑھا ہوا تھا۔
یورپ کے مسیحی قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی علمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے بیتاب تھے۔ اب جو مسلم دنیا کے اہل علم ان کے یہاں پہنچے تو انھوں نے ان کے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ یورپ میں علمی تحقیق کا وہ کام دگنی شدت کے ساتھ ہونے لگا…
…by English orientalist Edward William Lane (1801-1876) was published in 1843. It carried a foreword by way of introduction to Islamic teaching, which, among other things, stated that “the fatal point in Islam is the degradation of woman.”
This ill-considered observation gained such currency that it was commonly repeated as an established fact. More than a century and a half has elapsed, but this conviction has only deepened. It has even been quoted as gospel truth by a prominent person in one of the court cases.
Suppose a doctor tells his patient that his eye is a delicate organ of the body to be treated gently and with great care, unlike his fingernails, which can be cut and filed if necessary. The doctor’s instruction does not mean he degrades…
…کا عقیدہ ہے جس نے کائنات کے تقدس کو ختم کیا اور ہر چیز کو ایک خدا کی مخلوق بتایا۔ اس طرح وہ نفسیاتی فضا پیدا ہوئی جس میں انسان اپنے سیارہ کو دیوتا سمجھنے کے بجائے اپنا خادم سمجھے اور اس پر تصرف کا عمل کر سکے ۔ (ریڈرز ڈائجسٹ مارچ ۱۹۷۴)
کائنات کو تسخیر و تدبر کا موضوع سمجھنے کا ذہن اولاً اسلام کے اثر سے عربوں میں پیدا ہوا۔ اس فکری انقلاب کا ایک دھارا وہ تھا جس کا مرکز سسلی اور اسپین بنا۔ ان ملکوں میں ، غلبہ توحید کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر سائنسی کھوچ اور زمینی خزانوں کو استعمال کرنےکا ذہن ابھرا اور بالآخر ایک عظیم الشان تہذیب وجود میں آگئی۔ یہی عرب تہذیب تیرھویں صدی سے اٹلی کے راستہ یورپ پہنچنا شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے بالآخر سترھویں اور اٹھار دیں صدی کے انقلاب کا سبب بنی۔ جدید مورخین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا کا سبب اول (First Cause)نبی عربی کے پیروؤں کے وہ کارنامے تھے جو انھوں نے اسپین کی حکومت (711۔1492) کے زمانہ میں دکھائے ۔ بریفالٹ ( Briffault) نے لکھا ہے " اگر چہ یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہ اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن اثرات موجود نہ ہوں۔ لیکن یہ اثر کہیں بھی اتنا واضح اور اہم نہیں جتنا اس طاقت کے ظہور میں ہے جو دنیائے جدید کی مخصوص اور مستقل قوت اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یعنی سائنس اور سائنسی طرز فکری اس کے بعد اس کے الفاظ یہ ہیں:
It is highly probable that but for the arabs, modren industrial civilisation would never have arisen at all
…کے لئے ہے اور یہ اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ اب سیاسی حکمرانی صرف سیاسی حکمرانی تھی ، وہ مسئلہ توحید سے کوئی براہ راست تعلق نہ رکھتی تھی ۔
اسلام کی اس فکر کی بنیاد پر عرب میں جو انقلاب آیا، وہ ایشیا اور افریقہ ہوتا ہوا بالآخر یورپ پہنچا۔ اٹھارویں صدی میں فرانس اور امریکہ کے جمہوری انقلابات اسی کی بازگشت تھے ۔ اس کے بعد تبدیلی کا یہ حمل آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب وہ وقت اپنی کامل صورت میں آگیا کہ ایک داعی توحید کی دعوت لے کر اٹھے اور سیاسی اعتقاد یا ت کی پیچیدگی میں الجھے بغیر بندگان خدا کو حق سے آگاہ کرتا رہے ۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص عوام میں یہ بات مشہور کر کے اپنا طبی کا روبار چلا رہا ہو کہ وہ ایک جین ڈاکٹر کا شاگرد ہے جو روزانہ رات کو آکر اس کو فن طب کے رموز بتا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص یہ آواز بلند کرے کہ علم طب میڈیکل…
…دنیا کی رنگینیاں انتہائی بے حقیقت ہونے کے باوجود اپنے ظاہر میں اتنی پر کشش ہیں کہ انسان ان کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص دھوکا دینے والے ان مناظر سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل ! اے معاذ اللہ
بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھا پایا اس میں شک نہیں کہ دنیا کی رنگینیوں سے اپنے کو اوپر اٹھا لینا سخت مشکل کام ہے۔ تاہم کم تعداد میں ہی ایسے لوگ پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتے ہیں، مگر اس کے بعد'' اوپر اٹھنے'' کی ایک اور سطح ہے اور اس کے اعتبا رسے اگر دیکھا جائے تو کامیاب افراد کی تعداد کم یابی سے گزر کر نایابی تک پہنچ جائے گی۔ یہ ہے اپنے آپ کو مقید ( Conditioned Thinking ) سے باہر نکالنا ۔ ہر آدمی جن حالات میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے، اس کے لحاظ سے ماحول اور روایات کا ایک ہالہ اس کے گرد قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک فکری مدار اوربن جاتا ہے جس میں وہ گھومتا رہتا ہے ۔
اس غیر محسوس مدار سے باہر آکر سوچنا اور عمل طور پر آزادانہ رائے قائم کرنا اس قدر دشوار ہے کہ وہ لوگ بھی اس سے مستثنی نہیں جو آزادانہ فکر کے علم بردار بنے ہوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔
…پاتے۔ مخزومی پاشاہ سید جمال الدین افغانی کے ایک رفیق ہیں۔ انھوں نے موصوف کے بارہ میں عربی میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام رکھا : جمال الدين افغاني في البلاط السلطاني الجمال الدین افغانی شاہی مجلس میں سید جمال الدین افغانی نے سنا تو کہا :
ان هذا العنوان ليس لهذا المقال بطبيق، قل خاطرات ولا تزد
یہ نام اس کتاب کے موافق نہیں ۔ اس کا نام صرف ہے۔ "خاطرات ''رکھو اور اس پر کچھ اضافہ مت کرو۔
ایک انسانی کم زوری
لارڈ ریتھ (۱۹۷۱-۱۸۹۰) بی بی سی لندن کے'' فادر ''کہے جاتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے ۔ اور انھوں نے برطانی عوام کے اندر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
۵۲۵ صفحات پر مشتمل ان کی ذاتی ڈائری The Reith Diaries شائع ہوئی ہے ۔ ڈائری میں حیرت انگیز طور پر وہ ہٹلر (۱۹۴۵ - ۱۸۸۹) کے لئے شان دار کار کردگی (Magnificient Efficiency کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس خود اپنے ملک کے
…یہ ہے کہ یہ چڑیاں دور دراز مقام پر جا کر انڈے بچے کرتی ہیں اور ان کو وہاں چھوڑ کر چلی آتی ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر ٹھیک اسی راستہ سے سفر کرتے ہیں جس سے ان کے والدین نے سفر کیا تھا اور بغیر کسی رہبر کے دوبارہ اپنے اصل مسکن میں پہنچ جاتے ہیں۔
اس حیرت انگیز سفر میں ان کی اس حیرت انگیز سفر میں ان کی رہنمائی کون کرتا ہے؟ چڑیوں کی سائنس کے ماہرین (s Ornithalogist) اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔
ہندستان میں ۲۵۰۰ قسم کی چڑیاں پائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے تقریبا 500 قسمیں مہاجر (Migratory) ہیں یہ وہ رنگارنگ مسافر ہیں جو ہزاروں میل دور سے پہاڑوں اور سمندروں کو طے کر کے سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر…
…جھونکوں میں آپ کوشکرِ خداوندی کا پیغام پہنچ رہا ہو۔ درخت کی ہریالی اور زمین کی گردش آپ کے اندر شکر کا طوفان برپا کردے۔ حقیقی شکر کا مآخذ ذاتی آرام نہیں، بلکہ قدرت خدا وندی کی پھیلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ یہ بات قرآن کے ہر صفحے پر موجود ہے۔
ایک صاحب اقبال کے بہت پرستار تھے۔ میں نے کہا کہ اقبال کی شاعری غیر حقیقت پسندانہ جذباتیت پیدا کرتی ہے۔ جس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ مثلاً اقبال کا ایک شعر ہے:
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
…نے تسلیم کیا تھا کہ درمیانی انواعِ حیات کے نمونے ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ تاہم ڈارون کے بعد قدیم فاسلز کی بنیاد پر بہت سی عجیب وغریب انسانی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ اور یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی سلسلۂ حیات کی قدیم ارتقائی کڑیاں ہیں۔
انھیں میں سے ایک نینڈر تھل مین ہے جو جرمنی کی نینڈر نامی وادی کی طرف منسوب ہے۔ اس قسم کی ہڈیاں اور ڈھانچے 1856سے 1908تک ایشیا ، یورپ، شمالی افریقہ کے تقریباً 50 مقامات پر ملے۔پروفیسر بول (Marcellin Boule) نے ان ٹکڑوں کا مشاہدہ کرکے ان کی جو تعبیر کی، اس کو عام طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کو ابتدائی انسانی سلسلے کی ایک کڑی مان لیا گیا— گم شدہ کڑیوں میں سے ایک کڑی معلوم کرلی گئی۔
نینڈر تھل مین کی تصویریں کتابوں میں چھپنے لگیں۔ حتى کہ اس کے مجسمے بن گئے۔ مگر بعد کو علمائے حیاتیات نے جو تحقیقات کیں، اس نے بتایا کہ پروفیسر بول نے اندازہ کرنے میں کئی اہم غلطیاں کی تھیں۔ 1955میں ولیم اسٹرابس (جانسن ہاپکنس یونیورسٹی) اور…
…ہے۔ پیغمبر نوح کی کشتی، پیغمبر ابراہیم ،پیغمبر موسیٰ (علیہم السلام( اور فرعون کا واقعہ، وغیرہ۔ یہ تاریخی حقیقتیں بائبل میں بھی مذکورہیں۔ دورِ جدید میں جو نئے سائنسی علوم وجود میں آئے ہیں، ان میں سے ایک علم الآثار (Archaeology) بھی ہے۔
آرکیا لوجی ایک ڈسپلن ہے، جس کے ذریعےماڈرن سائنسی اصول کی روشنی میں قدیم انسانی تاریخ، ثقافت اورمحفوظ رہ جانے والی باقیات (remnants) وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ کتابت کے آغاز سے قبل قدیم حجری دور میں جو تہذیبیں دنیا میں موجود تھیں، ان کی تاریخ و ثقافت سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، یعنی آثارِ قدیمہ کی تلاش ۔
چنانچہ موجودہ زمانے میں جہاں دیگر علاقوں میں آثار قدیمہ پر سائنسی اصول کی روشنی میں کام ہوا ہے، وہیں ان علاقوں میں بھی کا م ہوا ہے، جو بائبل یا قرآن میں مذکور تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا کشتیٔ نوح کی ڈسکوری، حضرت ابراہیم کا مقام پیدائش…
…گئی ہے کہ دو نوںہاتھوں سے مصافحہ کرنا افضل ہے۔ تاہم ایک ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میںکوئی حرج نہیں۔ یہ ایک حنفی عالم کا مضمون ہے۔ دوسری طرف اہلِ حدیث علما یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا افضل ہے، اور ان کے پاس بھی حدیث موجود ہے۔
اس طرح کے امور میں افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑنا سراسر خلاف سنت ہے۔ جس معاملے میں بھی ایک سے زیادہ طریقہ حدیثوں میں موجود ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں توسع ہے۔ یعنی یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ ایسے تمام امور میں دونوں ثابت شدہ طریقوں کو درست قر ار دینا چاہیے، نہ کہ ایک کو افضل اور دوسرے کو غیر افضل ثابت کیا جائے۔
اسی لیے حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ میں یہ پسندنہیںکرتا ہوں کہ اصحابِ رسول اختلاف نہ کرتے۔ کیوں کہ اگر صرف ایک قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ وہ لوگ نمونہ تھے۔ ان کی اقتدا کی جاتی ہے، اگر کوئی آدمی ان میں سے کسی کے بھی قول کو…
…اس کے اپنے پاس ہے، نہ کہ اس چیز میں جو دوسروں کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کبھی خالی یا محروم نہیں ہوتا۔ اگر دعوت کے مواقع نہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو دعامیں مشغول کرلیتا ہے۔ اگر انسان اس کو نظر انداز کریں تو وہ خدا کو اپنا ولی بنا لیتا ہے۔
مومن خود ایک کامل وجود ہے۔ اس لیے اس کے واسطے نہ کبھی محرومی کا سوال پیداہوتا ہے، اور نہ کبھی بے کاری کا۔آپ کے مخالفین آپ کو لاؤڈ اسپیکر پر بولنے نہیں دے رہے ہیں تو آپ دل کے خاموش تاروں پر حق کا نغمہ چھیڑیے۔ آپ کو انسانوں میں اگر ایسے لوگ نہیں مل رہے ہیں، جو آپ کی بات پر دھیان دیں تو آپ خدا کے فرشتوں سے سرگوشی شروع کردیجیے۔ انسانی آبادیوں میں اگر آپ کو اپنے ہم نوا نہیں مل رہے ہیں تو آپ قبرستان کے سناٹے میں اپنا ہم نشین تلاش کرلیجیے۔
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی (1903-1979)کی ایک کتاب ہے جس کا نام تنقیحات ہے۔ یہ موصوف کے مضامین کا مجموعہ ہے، جو پہلی بار 1939میں شائع کیاگیاتھا۔ اس کتاب کے ایک مضمون کا عنوان ہے ’’لارڈ لوتھین کا خطبہ‘‘۔ لارڈ لوتھین(1882-1940) ایک انگریز تھے۔…
…ان کے اندر ضعیف الاعتقادی اور بدعملی پیدا ہوگئی۔ ان کی بیداری کے لیے پیغمبر نوح آئے۔ یہ گویا کہ پرامن تبلیغ کے ذریعہ ان کے اندر بیداری لانے کی کوشش تھی۔ لیکن لمبی مدت کی پرامن اصلاحی کوششوں کے باوجود ان کے اندر دوبارہ بیداری نہیں آئی۔
اب ان کے اندر نئی زندگی لانے کے لیے ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان (great flood) آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا، اور اس کشتی کو تیز طوفان میں ڈال دیا۔
قوم نوح کے یہ منتخب افراد ایک مدت تک کشتی میں تیرتے رہے۔ یہاں تک کہ کشتی تیرتے ہوئے جودی پہاڑ پر رکی۔ الجودی کوہستان ارارات کی اس چوٹی کا نام ہے جو جبل وام (Vam) کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔اس قرب وجوار میں کردوں کی زبان پر آج تک یہ روایت…
(Pears' Cyclopeadia, 1953-1954, p. 539)
صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا۔ مسلمانوں کی فتح ان کے لیےالٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کردیا۔
اس کے برعکس مسیحی یورپ کو اپنی ناکامی کا یہ فائدہ ملا کہ اس کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنی کمزوریوں کو معلوم کرکے ان کی تلافی کرے۔ چنانچہ اس کے اندر ایسے لوگ پیدا ہوئے، جنھوں نے زور وشور کے ساتھ یہ تبلیغ کی کہ مسلمانوں کی زبان عربی سیکھو،…
All roads lead to Rome
رومن امپائر کے عروج کے زمانے میں اس کے اندر بیشتر یوروپ، شرقِ اوسط اور افریقہ کے شمالی ساحلی ممالک شامل تھے۔ رومیوں نے جو سڑکیں، عمارتیں اور پل بنائے، وہ اتنے شاندار تھے کہ ان کے بنائے ہوئے بعض پل اسپین میںدو ہزار برس بعد بھی آج تک باقی ہیں۔ رومن لا آج بھی یورپ، امریکا کے قانون کی بنیاد ہے، وغیرہ۔
مگر رومن امپائر اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ختم ہوگئی۔ اب اس کا نشان یا تو پرانے کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔
شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے۔ تخیل میں کوئی خارجی چیز آدمی کی سوچ کی حد بندی کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ اسی لیے شاعر خیالی پرواز میں جو چاہتا ہے کہتا چلاجاتا ہے (أَلَمْ تَرَ أَنَّہُمْ فِی کُلِّ وَادٍ یَہِیمُونَ)الشعراء، 26:226۔
اس کے برعکس سائنس کی بنیاد فطرت پر ہے۔ فطرت (nature) ایک متعین حقیقت کا نام ہے۔ فطرت کی دنیا میں تمام واقعات انتہائی معلوم اور متعین اصولوں کی بنیاد پر ظہور میں آتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں کی زبان شاعر کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ شاعر کو لفظوں کے انتخاب میںاحتیاط کی ضرورت نہیں۔ اس کی فکری اڑان اس سے کچھ بھی کہلوا سکتی ہے۔ مگر سائنس داں انتہائی محتاط زبان استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتاہے کہ اس کی زبان میں فنی صحت اور ریاضیاتی قطعیت موجود ہو۔ جدید سائنس کا ظہور یورپ میں ہوا، اور وہیں اس کی ترقی ہوئی۔ پچھلے کئی سو سال کا زمانہ ایساہے جب کہ مغربی دنیا میں سائنس کو سب سے زیادہ غلبہ حاصل رہاہے۔ مغرب کی جدید تہذیب مکمل طورپر سائنس کے زیر اثر بنی ہے۔ اسی کے اثر سے مغرب کی زبانوں میں محتاط اسلوب اور حقیقت نگاری کا انداز پیدا ہوگیا ہے۔
سائنس داں جس شعبۂ علم میں کام کرتاہے، اس کے عین تقاضے کے طورپر وہ ایسا کرتاہے کہ اپنے خیالات کو محتاط زبان (guarded language) میں ظاہر کرتا ہے۔ جب مغربی انسان کے نزدیک سائنس کی اہمیت بڑھی، تو اسی کے ساتھ قدرتی طورپر یہ ہوا کہ زبان میں وہی…
…نہیں ہوں گے اور اندیشہ ہے کہ صرف بال کے بے ڈھنگے پن کی وجہ سے بچی کا داخلہ نہ ہوسکے ۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ ٹیسٹ کے لئے بچی کو لے جانے سے پہلے اس کو شہر کے "سیلون “ میں لے گئے اور وہاں بچی کے بال کو جد ید معیار کے مطابق درست کرایا۔
آدمی کا یہ حال ہے کہ جب تک اس کا ذاتی انٹرسٹ خطرہ میں نہ پڑے وہ غیرسنجیدہ باتیں کرتا ہے ، مگر ذاتی انٹرسٹ کے زد میں آتے ہی وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
10 مئی 1983
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رب قال يتلوا القرآن والقرآن یلعنه (بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں حالاں کہ قرآن ان پر لعنت کر رہا ہوتا ہے)
یہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو کتاب تلاوت تو بناتے ہیں مگر وہ اس کو اپنے لئے کتاب ہدایت نہیں بناتے۔ جو دوسروں کو زیر کرنے کے لئے تو قرآنی آیتوں کے حوالے دیتے ہیں مگر خود اپنے آپ کو قرآنی احکام کے آگے نہیں جھکاتے۔ جو قرآن کے نام پر اعزاز حاصل کرنے کے لئے تو دوڑتے ہیں مگر قرآن کی خاطر چھوٹا بننے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو قرآن کو دوسروں کے اوپر لیڈری حاصل کرنے کا ذریعہ تور بناتے ہیں مگر خود اپنے آپ کو قرآن کا پیرو بنانے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ جو انسانوں کے سامنے تو قرآن والا بننے کا کریڈٹ لیتے ہیں مگر فرشتوں کے سامنے قرآن والا بننے کی توفیق انھیں حاصل نہیں ہوتی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کو پڑھا ، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پایا۔
28 جولائی 1983
…کی ایرانی حکومت ۔ اس کے بعد ان ملکوں میں مغربی قوموں کا تدخل شروع ہوا۔ 1850 ء تک مذکورہ تینوں مسلم طاقیتں یورپ کے زیراقتدار آچکی تھیں ۔ اسی طرح انڈونیشیا ڈچ کے قبضہ میں، ملیشیا انگریز کے قبضہ میں، الجیریا وغیرہ فرانس کے قبضہ میں چلا گیا۔
اس کے بعد تمام مسلم دنیا میں ردعمل شروع ہوا۔ ہر جگہ لوگ کسی کی شکل میں بیرونی حکمرانوں کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ مگر یہ تمام لڑائیاں بس اس طرح پیش آئیں کہ مسلمان جس حال میں تھے اس حال میں وہ مغربی اقوام سے لڑنے لگے۔ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابل ذکر مثال نہیں ملتی کہ مسلم ذمہ داروں کا کوئی وفد یورپ جائے اور وہاں سنجید طور پر یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یورپی قوموں کی اس طاقت کا راز کیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں سے نکل کر ساری دنیا پر قابض ہوگئی ہیں۔
مسلمان محض جوش کے تحت لڑائی لڑتے رہے۔ انھوں نے اپنے ہوش کو استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ جدید تاریخ میں گا ندھی پہلے لیڈر ہیں جنھوں نے نو آبادیاتی طاقتوں کے مقابلہ میں ہوش کا ہتھیار استعمال کیا۔
…میں اس نے جانور خدا (animal deities) بنا رکھے تھے۔ دنیا کی تمام چیزیں معبود بنی ہوئی تھیں۔ اور انسان ان کا عبادت گزار۔ اس طرح انسان نے اپنی عظمت کھو دی تھی۔ اسلام کے ذریعہ تاریخ میں جو انقلاب آیا اس نے پہلی بار انسان کو اس کی عظمت عطا کی۔
شرک (بالفاظ دیگر مظاہر فطرت کی پرستش) کا رواج قدیم زمانہ میں سائنسی ترقیوں میں رکاوٹ بناہوا تھا۔ انسان فطرت کے مظاہر کو معبود سمجھ کر انھیں تقدس کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس لیے اس کے اندر یہ جذبہ ہی پیدا نہیں ہوتا تھاکہ وہ ان مظاہر کی تحقیق کرے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے استعما ل کرے۔ فطرت کے مظاہر جب پرستش کاموضوع بنے ہوئے ہوں تو اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع نہیں بن سکتے۔ یہ بنیادی سبب تھا جو طبیعی سائنس کا دور شروع ہونے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار اس سبب کو ختم کیا، اس لیے اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ طبیعی سائنس کا دور شروع ہوا ور بالآخر اس حد کو پہنچا جہاں ہم آج اس کو دیکھ رہے ہیں۔
آرنلڈ ٹوائن بی نے بجاطورپر لکھا ہے کہ یہ در اصل توحید(Monotheism) کا عقیدہ ہے جس نے جدید سائنس اور صنعتی دور کو پیدا کیا۔ کیوں کہ توحید کے انقلاب سے پہلے دنیا میں عملی طورپر شرک کا غلبہ تھا۔ شرک کے عقیدہ کے تحت آدمی فطرت (Nature) کو…
ڈیزرٹ تھراپی
آدم کی یہ نسل توالد و تناسل کے ذریعے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دوبارہ ان کے اندر جمود (stagnation) آیا۔ ان کے اندر فطرت کی پرستش (nature worship) کا کلچر پھیل گیا۔ خاص طور پر سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش۔ اس وقت پیغمبر ابراہیم ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک تبلیغ کی کوششیں جاری رکھی۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں قوم کے کچھ افراد نے اصلاح قبول کی۔ مگر قوم کی اکثریت بگاڑ کے راستے پر قائم رہی۔
اس وقت خدا کی ہدایت کے تحت پیغمبر ابراہیم نے اپنے کام کی نئی پلاننگ کی۔ انھو ں نے چند افراد کے ایک چھوٹے گروپ کو لے کر عراق سے ہجرت کی۔ یہ قافلہ 3 افراد پر مشتمل تھا، پیغمبر ابراہیم، ان کی بیوی ہاجرہ، اور ان کے بیٹے اسماعیل۔ یہ لوگ عراق سے…
…دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔
اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزارو ں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرلے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔ اگر آدمی کامل ایمانداری کی سطح پر جینے والا ہو تو یقینی طور پر کامن سنس اس کے لیے اپنے خالق کی دریافت کے لیے کافی ہوجائے گی۔
معرفت کی دوسری سطح ، سائنٹفک معرفت ہے۔ یعنی فطرت (nature) میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو جاننا، اور ان کی مدد سے اپنے خالق کی عقلی معرفت (rational realization)تک پہنچنا۔ سائنٹفک معرفت کے لیے ضروری تھا کہ آدمی کے پاس غور و فکر کے لیے سائنس…
…یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ایک اور روایت میںہے کہ رسول اللہ نے کہا کہ جب بھی کسی قوم کا عمل بگڑ جائے، تو وہ اپنی مسجدوں کو مزین کرنا شروع کردیتی ہے۔ (ما ساء عمل قوم قط، إلا زخرفوا مساجدہم)۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 741
یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے، اورہر ملک میںاس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آبادہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جارہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکہ اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر ٹکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیشان مسجدیں بنانے کو اسلام میںکیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میںاضافہ ہوجاتاہے۔
عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود ونمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میںنمود ونمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام…
…میں پکڑا گیا تھا۔ میں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم کار و بار ہے۔ کچھ لوگ فقیروں اور پاکٹ ماروں کو حج کے زمانہ میں مکہ مدینہ بھیجتے ہیں۔ وہ وہاں جاکر بھیک مانگتے ہیں اور پاکٹ ماری کرتے ہیں ۔ آجکل یہ ایک زبردست بونس بنا ہوا ہے۔
میں نے کہا کہ بمبئی میں بال ٹھاکرے اور سلمان رشدی کے خلاف بڑی بڑی مہمیں چلائی جاتی ہیں ۔ پھر اس قسم کے مجرمین کے خلاف کوئی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی ۔ انھوں نے کہاکہ علانیہ مہم چلا نا تو درکنار ،لوگ اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ سعودی حکام کو خط لکھ کر اس کی خبرکر دیں کیوں کہ وہ ڈرتے ہیں کہ جو لوگ اس قسم کا کاروبار کر رہے ہیں ، وہ ان کو جان سے مار ڈالیں گے۔
19 فروری 1990
17 جون 1990
پاکستان کے مشہور اردو اخبار نوائے وقت (9جون 1990) کے صفحہ اول کی ایک خبر یہ ہے : وزیر مملکت خزانہ مسٹر احسان الحق پراچہ نے 8 جون کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ دفاعی اخراجات ہمارے مجموعی غیر ترقیاتی اخراجات کا 80 فیصد ہوچکے ہیں۔ مزیدیہ کہ پاکستان نے جو بین اقوامی قرض لے رکھے ہیں ، ان قرضوں پر سود کی ادائگی کی رقم اس سے بھی زیادہ ہے ۔ اس طرح اب دفاع سے زیادہ رقم سود کی ادائگی پر خرچ ہورہی ہے۔"
یہ ہے پچاس برس بعد اس پاکستان کا انجام جس کو مفکر اسلام اقبال، قائداعظم جناح اور شیخ التفسیرشبیراحمد عثمانی اور اس طرح کے دوسرے لوگوں نے بنوایا تھا۔ 47 سے پہلے جب کہ میں عقل پختگی کے دور تک نہیں پہنچا تھا ، اس وقت بھی وجدانی طور پر میں…
…جنگ 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔ اس جنگ میں پچاس ملین سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ دوسرے نقصانات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ لیکن جنگ کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ جرمنی نے اپنے ملک کا ایک تہائی حصہ (ایسٹ جرمنی ) کھودیا تھا۔ دوسرے عظیم نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
جنگ کے خاتمے کے بعد جرمنی نے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ پہلی پلاننگ کے زمانے میں ہٹلر جرمنی کا رہنما تھا تو دوسری پلاننگ کے زمانے میں جرمنی نے اپنے مشہور اسٹیٹس مین (statesman) بسمارک (Otto von Bismarck [1815-1898] )کی فکرکو اپنا رہنما بنایا۔ بسمارک نے کہا تھا کہ سیاست ممکنات کا فن ہے:
Politics is the art of the possible. (St. Petersburgische Zeitung, Aug 11, 1867 [www.shmoop.com])
…ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ یہ گویا یہود کے لیے ڈائسپورا (diaspora) میں جانے کا زمانہ تھا۔ یہ یہود کے لیے عذاب یا غضب الٰہی کا معاملہ نہ تھا، یہ در اصل تنبیہ (warning)کا معاملہ تھا۔ یہ اس لیے تھا تاکہ یہود نصیحت پکڑیں اور اپنی اصلاح کریں۔
یہود کی زندگی میں یہ تنبیہی دور لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں یہود کے اندر مذہبی اصلاح تو نہیں آئی۔ کیوں کہ زوال کے دور میں انھوں نے جس قومی کلچر کو مذہب کےنام سے اختیار کر رکھا تھا۔ اسی کو وہ موسوی مذہب سمجھتےتھے۔ البتہ سیکولر معنی کے اعتبار سے ان کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی، اور انھوں نے امریکا و یورپ کے ملکوں میں سائنسی تعلیم حاصل کی، اور یہ جانا کہ دورِ جدید کیا ہے۔ یہاں تک کہ سیکولر معنوں میں وہ جدید معیار کے مطابق ایک ترقی یافتہ قوم بن گیے۔ یہود کی تاریخ کا یہ مثبت پہلو موجودہ اسرائیل میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان بھی اسی تنزل کے دور سے گزر رہے ہیں، اور دوبارہ ان پر اسی طرح اللہ کی طرف سے تنبیہات آ رہی ہیں، جس طرح یہود کے اوپر آئی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں جن چیز وںکو ’’اغیار کا ظلم‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے…
…آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتاہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے-تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر…
…وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا- موجودہ زمانے میں جس ظاہرہ کو عام طور پر مغربی تہذیب کہاجاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی عمل کی تکمیل کا دوسرا نام ہے- اِس لحاظ سے اس تہذیب کو زیادہ درست طورپر خدائی تہذیب (Divine Civilization) کہنا چاہئے۔
خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق انسان کو موجودہ زمین (planet earth) پر ابتلا (test) کے لیے پیدا کیا گیا ہے- اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- فرشتوں کی نگرانی میں یہ دیکھا جارہاہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کررہاہے، اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کررہا ہے- اِسی ریکارڈ کے مطابق ہر فرد کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا-مگر انسانوں کی اکثریت نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا- اس غلط استعمال کی سب سے زیادہ نامطلوب صورت یہ تھی کہ کچھ انسانوں نے پوری دنیا میںاجارہ داری (monopoly) کا نظام قائم کردیا— سیاسی اجارہ داری، اقتصادی اجارہ داری، مذہبی اجارہ داری، خاندانی اجارہ داری، وغیرہ- اجارہ داری کے اس نظام کی بنا پر انسانی آزادی کا وہ ماحول باقی نہ رہا جو مطلوب امتحان کے لئے ضروری تھا- اللہ تعالی نے یہ چاہا کہ اجارہ داری کے اس نظام کو ختم کرکے دنیا میں فطری آزادی کا ماحول واپس لایا جائے- قرآن کے ذریعہ یہی انقلاب مطلوب تھا، جس کو ایک لفظ میں ختمِ اجارہ داری (de-monopolization) کہاجاسکتا ہے-
سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ
…آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتا ہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے- تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (Lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر…
…اور اصحابِ رسول کو حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہاگیا تھا: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین، سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے، جو کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں قائم تھا- یہ نظامِ جبر خداکے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا، اِس لیے حکم دیاگیا کہ اس کو ختم کردو، خواہ اِس کے لیے تم کو جنگ کرنی پڑے، تاکہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور پیدا ہو اور انسان اللہ کے حکم پر چلنے کے لیے پوری طرح آزاد ہوجائے-
یہ ایک دور کو بدلنے کا حکم تھا، اور کسی دور کی تبدیلی اچانک نہیں ہوتی، بلکہ وہ لمبے تاریخی عمل (historical process) کے ذریعے ہوتی ہے- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے انسانی تاریخ میں یہ عمل جاری ہوا- مختلف حالات کے دوران وہ آگے بڑھتا…
…such currency that it was commonly repeated as an established fact. More than a century and a half has elapsed, but this conviction has only deepened. It has even been quoted as gospel truth by a prominent person in one of the court cases.
Suppose a doctor tells his patient that his eye is a delicate organ of the body to be treated gently and with great care, unlike his fingernails, which can be cut and filed if necessary. The doctor’s instruction does not mean he degrades the eye vis-a-vis the nail. He is only pointing out the difference between the nail and the eye.
If all laws in Islam are based on this fundamental reality that men and women are of two different genders, it is because their distinctive differences are established biological facts. This being so, male and female spheres of activity…
… ( Conditioned Thinking ) سے باہر نکالنا ۔ ہر آدمی جن حالات میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے، اس کے لحاظ سے ماحول اور روایات کا ایک ہالہ اس کے گرد قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک فکری مدار اوربن جاتا ہے جس میں وہ گھومتا رہتا ہے ۔
اس غیر محسوس مدار سے باہر آکر سوچنا اور عمل طور پر آزادانہ رائے قائم کرنا اس قدر دشوار ہے کہ وہ لوگ بھی اس سے مستثنی نہیں جو آزادانہ فکر کے علم بردار بنے ہوئے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ خلائی راکٹ جب اپنی گردش کے دوران زمین کے مدار سے نکل کر دوسرے سیارہ کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو خول کے نقطہ پر دھماکہ کے ساتھ زبر دست آو از پیدا ہوتی ہے ۔ یہی قانون شاید انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل…
کیسے کیسے مسائل !
مسجد میں کسی کو چھینک آجائے تو دوسرا شخص جو حالت نماز میں ہے ، اگر اس کی زبان سے يرحمك الله ( خدا تجھ پر رحم کرے) نکل جائے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ البتہ اگر وہ پرحمه الله (خدا اس پر رحم کرے کہے تو نماز باطل نہ ہوگی۔ یہ شافعیہ کا مسلک ہے۔
حنفیہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ مسجد میں کسی کو چھینک آئے تو مصلی خواہ يرحمك الله کہے یا يرحمه الله ہر حال میں اس کی نماز باطل ہو جائے گی البته اگر خود مصلی کو چھینک آئے اور وہ اپنے کو مخاطب کرتے ہوئے یہرحمنی اللہ مجھ پر اللہ رحم کرے ، یا یر…
۵۲۵ صفحات پر مشتمل ان کی ذاتی ڈائری The Reith Diaries شائع ہوئی ہے ۔ ڈائری میں حیرت انگیز طور پر وہ ہٹلر (۱۹۴۵ - ۱۸۸۹) کے لئے شان دار کار کردگی (Magnificient Efficiency کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس خود اپنے ملک کے
لارڈ ونسٹن چر چل ( ۔ ۱۸۷۴) کے لئے ان کے پاس مکار (Imposter) اور خبطی (Lunatic) کے الفاظ ہیں۔
اس فرق کی وجہ ہم کو خود ان کے اعتراف میں مل جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک انتہائی قسم کا خود پسند
بالنسبة إلى دين الله ولا بالنسبة إلى معاملات الناس
( آدمی بعض اوقات بڑا عالی ظرف اور عقلمند دکھائی دیتا ہے ۔ مگر اس کے دل میں امانت کا ایک ادنی جزو بھی نہیں ہوتا۔ نہ تو دین انہی کے اعتبار سے اور نہ لوگوں کے باہمی معاملات کے اعتبار سے۔
کوڑا بھی بیکار نہیں
…سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر سے لے کر مارچ کے آخر تک ہندستان کو اپنا مسکن بناتی ہیں۔ اپریل میں گرمیاں شروع ہوتے ہی یہ پر دار سیاح اپنے وطن کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ رن کچھ کا صحرا ان کا پسندیدہ مقام ہے۔
چڑیوں میں کچھ اقسام ایسی ہیں جو ایک ہی جگہ ہمیشہ رہتی ہیں، مگر ایسی اقسام بھی ہیں جو مقامی طور پر اس قسم کی ہجرتیں کرتی ہیں۔ مثلاً بعض چڑیاں خاص موسم میں میدانوں میں رہتی ہیں اور خاص موسم میں پہاڑوں پر چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس یہ ہجرتیں دو مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ غذا کی تلاش یا انڈے بچے کرنے کے لئے مناسب موسم ۔
چڑیوں کی یہ ہجرت اپنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض مہینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے۔
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میںتو دل ہوتا ہے سیپارہ
یہ شعر آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا کرتا ہے جس کو فارسی میں ’’پدرم سلطان بُود‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی آباواجداد کی گذشتہ عظمت پر فخر کرنا۔ حقیقت یہ تھی کہ سابق مسلم علماء کی کتابوں کے جو غیر مطبوعہ مسوَّدات یورپ کے کتب خانوں میں رکھے ہوئے…
…اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے یہاں اس قسم کے ذکر کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس زمانے میں مطلق اس کا رواج نہیں تھا کہ لوگ بیٹھ کر بلند آواز سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار کررہے ہوں۔
انھوں نے جواب دیا۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی روحانیت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ جو آپ کو دیکھتا تھا وہ ایمان کا اعلیٰ مقام حاصل کرلیتا تھا۔ مگر بعد کے دور میں جب یہ چیز باقی نہ رہی تو بزرگوں نے ذکر بالجہر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سے دل پر ضرب لگائی جاتی ہے اور دل کو پاک صاف کیا جاتا ہے۔
’’بزرگوں‘‘ کی طرف سے اس قسم کا جواب دیا جانا اور مریدوں کا نہایت وفاداری کے ساتھ اس کو محفوظ کرلینا ظاہر کرتا ہے کہ مسلم قوم میں دینی فکر کی سطح آج کتنی پست ہوچکی ہے۔ ذکر عبادت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ عبادت کے لیے یہ امر مسلم ہے کہ…
…زندگی لانے کے لیے ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان (great flood) آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا، اور اس کشتی کو تیز طوفان میں ڈال دیا۔
قوم نوح کے یہ منتخب افراد ایک مدت تک کشتی میں تیرتے رہے۔ یہاں تک کہ کشتی تیرتے ہوئے جودی پہاڑ پر رکی۔ الجودی کوہستان ارارات کی اس چوٹی کا نام ہے جو جبل وام (Vam) کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔اس قرب وجوار میں کردوں کی زبان پر آج تک یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کشتی نوح یہیں آکر رکی تھی(تفسیر ماجدی،سورہ ھود، حاشیہ 68)۔ اس طوفان کا حوالہ قرآن کی سورہ ھود (11:25-49) میں موجود ہے۔
کشتی کے ذریعہ حفاظت کا یہ مخصوص طریقہ کیوں اختیارکیا گیا۔ اس کا مقصد اولادِ آدم کو میسوپوٹامیہ سے منتشر (disperse) کرکے مختلف ملکوں میں پہنچانا تھا۔ چنانچہ یہ لوگ میسوپوٹامیہ سے کشتی پرسوار ہوکر نکلے اور دھیرے دھیرے ایشیا، یورپ اور…
…کہ ہم اس پر نظر ٹھہرائیں تو ہماری آنکھ کی روشنی زائل ہوجائے۔ پھر وہ خدا جو ساری قوتوں کا خزانہ ہے۔ جو نہ صرف سورج بلکہ اس سے بڑے بڑے بے شمار ستاروں کو بھی روشنی اور حرارت پہنچا رہا ہے۔ کیا وہ ایسا ہوگا کہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں۔
خدا کو ماننے کے لیے خدا کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس کو ہر جگہ اس کی حیرت انگیز کاریگری میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کااس قدر منظم ہو کر چلنا، اور اس کے مختلف عناصر میں باہم اس درجہ موافقت (harmony) ہونا، ایک خدا کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
ہندستان میں ریلوے کا ایک چھوٹا سا نظام ہے۔ 1955میں اس کے راستوں کی لمبائی مجموعی طورپر 34ہزار میل ہے، اور جس کے انتظام کے لیے اِس وقت تقریباً سوا نو لاکھ آدمی ملازم ہیں۔ مگر اتنے سارے آدمیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اس مختصر سی لائن پر جو…
…وہ مظا\ہر فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہر فطرت پوجنے کی چیزہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہر فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے، اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت کیا جائے۔
اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کےاندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ اس نے اولاً عرب کے دل ودماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا۔ اس نے عرب کے بُت خانے ختم کردیئے۔ ایرانی اوررومی شہنشاہتیں اس زمانہ میں شرک کی سب سے بڑی سرپرست تھیں، دونوں کو اسلام نے مغلوب کرلیا اور توحید کا غلبہ تقریباً پوری آباد دنیا میں قائم کردیا۔
اسلام کی اس نفع بخشی کو تمام منصف مزاج مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ یہاں ہم انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا ایک پیراگراف نقل کرتے ہیں:
سائنس کی شہادت
انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جرج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔
انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے…
…(solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 3197، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ…
سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ
یہ غیر فطری نظام اصلاً سیاسی اجارہ داری کے زور پر قائم تھا- اس لیے یہ مطلوب تھا کہ تاریخ میں ایک ایسا عمل جاری کیا جائے، جس کے نتیجہ میں سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ہوجائے، اور نتیجتاً دوسری تمام اجارہ داریاں بھی ختم ہوجائیں- تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے ذریعہ یہ عمل شروع ہوا- اس عمل کے دوران سب سے پہلے عرب میں قبائلی اجارہ داری (tribal monopoly) کا دور ختم کیا گیا- اس کے بعد اصحابِ رسول کے ذریعے ساسانی سلطنت اور رومی سلطنت کا خاتمہ کیاگیا-یہ دنیا سے سیاسی اجارہ داری ختم کرنے کا آغاز تھا- اس کے بعد جب مسلمان زمین کے مختلف حصوں میں پھیلے تو انھوں نے مختلف مقامات پر قائم شدہ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو ختم کرکے ہمیشہ کے لیے سیاسی اجارہ داری کے دور کا خاتمہ کردیا-
تاہم مسلمان اس تاریخی عمل میں صرف بقدر نصف اپنا حصہ ادا کرسکے- سابقہ شاکلہ (previous mindset) کے تحت، مسلمانوں نے یہ کیا کہ خلافت کے نام سے دوبارہ خاندانی نظامِ حکومت (dynasty) کو قائم کردیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان مطلوب عمل میں صرف…
…(Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری: 3197، صحیح مسلم: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ…
…دنیا میں قائم تھا- یہ نظامِ جبر خداکے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا، اِس لیے حکم دیاگیا کہ اس کو ختم کردو، خواہ اِس کے لیے تم کو جنگ کرنی پڑے، تاکہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور پیدا ہو اور انسان اللہ کے حکم پر چلنے کے لیے پوری طرح آزاد ہوجائے-
یہ ایک دور کو بدلنے کا حکم تھا، اور کسی دور کی تبدیلی اچانک نہیں ہوتی، بلکہ وہ لمبے تاریخی عمل (historical process) کے ذریعے ہوتی ہے- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے انسانی تاریخ میں یہ عمل جاری ہوا- مختلف حالات کے دوران وہ آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ یورپ کی نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا- سیاسی نظام میں سیکولرزم کااصول اِسی انقلاب کا نتیجہ ہے-
سیکولرزم کوئی اینٹی مذہب (anti-religion) نظریہ نہیں ہے- سیکولرازم کا مطلب صرف یہ ہے کہ سیاسی اقتدار، مذہب کے معاملے میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے- مصلحین کی مسلسل کوشش کے نتیجے میں آج سیکولرازم کا یہ سیاسی نظریہ…
…طور پر تمام انسانوں کو حاصل ہوں (55:10)- تاریخ انسانی کی ابتدا میں ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی- اس کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں شخصی حکمرانی کا نظام آگیا- یہ سیاسی کلچر طاقت کے زور پر قائم ہوا اور پھر پوری انسانی تاریخ میں پھیل گیا-
یہ سیاسی اجارہ داری (political monopoly) اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھی- اِس نظام نے انسانی آزادی کو بہت زیادہ محدود کردیا، جب کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان پوری طرح آزاد رہے- اِس نظام کے تحت یہ ہوا کہ ایک طبقے کو ہر اعتبار سے مراعاتی طبقہ (privileged class) کا درجہ مل گیا، جب کہ بیش تر لوگ اُس سے محروم رہے- اِس نظام نے اپنے تحفظ کے لیے مختلف قسم کی پابندیاں لوگوں پر عائد کردیں- انھیں میں سے ایک چیز وہ بھی تھی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے-
اِس سیاسی نظام کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کے پیدا کردہ تمام مواقع پر ایک محدود طبقے کی اجارہ داری قائم ہو اور بیش تر لوگ اِس سے محروم ہوجائیں کہ وہ آزادانہ طور پر وہ کام کرسکیں جو نظامِ تخلیق کے مطابق، اُن سے مطلوب ہے-ساتویں صدی عیسوی کے ربع…
…قرآن میں کثرت سے اِس طرح کے حوالے پائے جاتے ہیں- ضرورت تھی کہ اُن کےمتعلق تاریخی اور سائنسی معلومات دریافت کی جائیں، تاکہ قرآن کے یہ بیانات انسان کے لیے پوری طرح قابلِ فہم ہوجائیں- یہ کام بھی پہلی بار مغربی علوم کے ذریعے انجام پایا ہے-
6- قدیم زمانے میں مذہبی جبر عام تھا- اِس بنا پر دعوتِ حق کا کام معتدل انداز میں نہیں ہوسکتا تھا- یہ صورتِ حال ایک سیاسی سبب کی بنا پر تھی- قدیم زمانے کے حکمراں اپنا حقِ حکمرانی (mandate) مذہب کی بنیاد پر حاصل کرتے تھے، اِس لیے وہ اِس کو برداشت نہیں کرتے تھے کہ اُن کے علاقے میں سلطنت کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب پایا جائے- مذکورہ آیت میں اظہارِ دین کا ایک پہلو یہ تھا کہ حقِ حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے جدا کردیا جائے- دورِ اول میں جو اسلامی انقلاب آیا، اُس نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا- یورپ کی جمہوریت اِسی عمل کی تکمیل ہے- مغربی جمہوریت نے یہ کیا کہ حقِ حکمرانی کے معاملے کو مذہب سے الگ کرکے اس کو عوامی رائے سے وابستہ کردیا- اِس کے نتیجے کے طور پر دنیا میں پہلی بار مذہبی امن کا دور آگیا- اِس دور کی باقاعدہ تکمیل اقوامِ متحدہ کی صورت میں ہوئی- جس کے تحت مذہب کے معاملے میں تشدد کو بطور اصول ممنوع قرار دے دیا گیا- یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے گویا دورِ جدید میں حکمتِ حدیبیہ کی عالمی توسیع ہے جو اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے-
7- مغربی دنیا کے سیکولر اہلِ علم نے اسلام کا مطالعہ اپنے اصول کے مطابق، خالص موضوعی انداز میں کیا- اِس بنا پر وہ اسلام کے کئی ایسے پہلو کو دریافت کرسکے جو مسلم اہلِ علم سے اعتقادی مطالعے کی بنا پر مخفی تھے- مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ…
…ہیں- کیوں کہ اِسی صورتِ حال کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان کے بارے میں یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات کے درمیان اس نے کیسا رسپانس دیا- اُس نے حالات کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کیا یا منفی رد عمل میں اپنا وقت ضائع کردیا-
امتحانی صورتِ حال کے اِس نتیجے کا تعلق افراد سے ہے- ہر فرد الگ الگ حالتِ امتحان میں ہے- ہر فرد الگ الگ اپنا ریکارڈ تیار کررہا ہے- ہر فرد الگ الگ یہ بتا رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں-
اسلامی انقلاب کا مقصد
…سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے- حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار- پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا- پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہوگئے-
قرآن کی اِس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے- اِس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اِس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطور ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق، امتِ مسیح نے کام کیایا مستقبل میں کام کریں گے- یہ ماڈل آئڈیالوجی یا عقیدہ کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف طریقِ کار (method)کے اعتبار سے ہے- اِس اعتبار سے، امتِ مسیح (Christian community)کے یہاں جو ماڈل ملتا ہے، اس کی دو تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں- حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسیحی گروہ، تعداد کے اعتبار سے، سب سے بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا (صحیح مسلم، کتاب الفتن)- ایسا کیوں کر ہوگا، اس کا جواب بھی اِسی مثال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے-
اِس معاملے کی پہلی مثال وہ ہے جو خود حضرت مسیح کے زمانے میں پیش آئی-حضرت مسیح کا مقامِ عمل قدیم فلسطین تھا- فلسطین میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں پر سخت ظلم کیا گیا، مگر حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، اُن کے پیروؤں نے اپنے دشمنوں سے کوئی…
…ہے جس کو مذہب کی زبان میں شرک کہاجاتا ہے- فطرت کی پرستش کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے مظاہر، سورج، چاند ستارے، وغیرہ میں خدائی صفات (divine attributes) کو فرض کرکے ان کی پرستش کرنا- مظاہر فطرت کی یہ پرستش قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک قائم رہی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اللہ تعالی نے تاریخ میں ایسا انقلابی عمل جاری کیا جس کے نتیجے میں آخر کار وہ دور آیا جس کو سائنسی دور کہاجاتا ہے- جدید سائنس کے ذریعے مظاہر فطرت کی موضوعی تحقیق (objective exploration) کی گئی- اِس کے نتیجے میں علمی طورپر یہ ثابت ہوگیا کہ فطرت میں کوئی اُلوہیت (divinity)نہیںہے- اِس طرح انسان کے خود اپنی عقلی مسلّمہ پر یہ ثابت ہوگیا کہ فطرت صرف مخلوق ہے، اس کے اندر کوئی بھی الوہی صفت (divine attribute) نہیں- اِس طرح، خداکے دین کا دینِ حق ہونا بدستور ثابت شدہ بنا رہا-
قدیم تاریخ میں دین حق کا دوسرا غلط متبادل (false alternative) شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا- شخصیت پرستی کا سیاسی اظہار بادشاہت کے ادارہ کی صورت میں ہوا- بادشاہ کے متعلق مان لیا گیا کہ وہ دوسرے انسانوں کے مقابلےمیں،…
…ہوا تھا، لیکن مہاتما گاندھی نے شعوری یا غیر شعوری طورپر اِس حقیقت کو جانا کہ یہاں انڈر کرنٹ ایک اور صورتِ حال موجود ہے جو انڈیا کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت رکھتی ہے- شرط صرف یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کیا جائے-
یہ انڈر کرنٹ امکان کیا تھا، وہ یہ تھاکہ جس زمانے میں برطانیہ انڈیا پر حکومت کررہا تھا، اُسی زمانے میں یورپ کے ملکوں میں شاہی خاندان راج کررہے تھے— اِن یورپی ملکوں میں اِن حکومتوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر تحریکیں اٹھیں- بڑے بڑے یورپی دماغوں نے یہ نظریہ پھیلایا کہ کسی خاندان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے- اِس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ایک سیاسی اصول پورے یورپ میں ایک مسلّم اصول بن گیا- اِس اصول کو عام طورپر حکومتِ خود اختیاری (self-determination) کا اصول کہاجاتاہے:
The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence.
…1609 کا واقعہ ہے- اُس زمانے میں روایتی تصور یہ تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سو رج اس کے گرد گھومتا ہے- گلیلیو نے اپنے دور بینی مشاہدے میں جن حقیقتوں کو دریافت کیا، اُن سے یہ اخذ ہوتا تھا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے-
سترھویں صدی کے آغاز میں عام طورپر روایتی طرز فکر کا غلبہ تھا- اُس وقت گلیلیو کا یہ اعلان ایک دھماکہ خیز واقعہ ثابت ہوا-اُس وقت مسیحی چرچ یورپ میں روایتی طرز فکر کا نمائندہ تھا- مسیحی پوپ کو یورپ کا بے تاج بادشاہ (uncrowned king) سمجھا جاتا تھا- چناں چہ مسیحی چرچ اور سائنس دانوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ پیش آیا- اِس ٹکراؤ میں سائنس دانوں کو فتح ہوئی-
مسیحی چرچ کے اختیار کا دائرہ دن بدن سمٹنے لگا، یہاں تک کہ 1929 میں حکومتِ اٹلی اور مسیحی پوپ کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو لیٹران معاہدہ (Lateran Treaty) کہاجاتا ہے- اِس معاہدے کے مطابق، مسیحی چرچ اِس پر راضی ہوگیا کہ اس کا دائرہ اختیار…
…فتنہ پیدا ہوا تو بہت سے علما اٹھے جنھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کا بھرپور رد کیا- اس کے بعد یہ ہوا کہ بہت سے مسلمان جو ان فتنوں سے متاثر ہوئے تھے، انھوںنے ان سے توبہ کی اور وہ امت مسلمہ کی مین اسٹریم (mainstream) میں شامل ہوگئے-
تاریخ مزید بتاتی ہے کہ اِن موقعوں پر ایسا نہیں ہوا کہ ایک فتنہ دوبارہ ایک نئے فتنے کی شکل اختیار کرلے، یعنی جو لوگ ان فتنوں سے ذہنی طورپر متاثر ہوئے تھے، انھو ں نے اپنی اصلاح کر لی اور اربابِ فتنہ سے الگ ہوکر وہ اسلامی زندگی گزارنے لگے-
موجودہ زمانے میں بھی اِسی قسم کا ایک ’’فتنہ‘‘ پیش آیا- یہ مغربی تہذیب کا فتنہ تھا- یہ فتنہ ابتدائی طورپر یورپ کی نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں اپنے عروج پر پہنچ گیا- اُس وقت بہت سے عرب اور غیر عرب…
…رسم الخط (Armenian Script) میں لکھی جاتی تھی، جس کا نام یہ تھا — Orkon۔نویں صدی عیسوی تک یہی آرمینین رسم الخط ترکی میں رائج رہا۔ اس کے بعد اسلام کے فروغ اور عربوں کے اختلاط کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ترکی میں عربی رسم الخط رائج ہوگیا۔
اس کے بعد جب ترکی میں اسلام پھیلا اور عربوں کو غلبہ حاصل ہوا تو دھیرے دھیرے انٹریکشن کے نتیجے میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے ربع اول میں اتاترک نے ترکی زبان کے رومن رسم الخط میں لکھے جانے کا حکم جاری کیا۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا دوسرا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بھی اتفاقاً نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ جس طرح اِس سے پہلے عربوں کے اختلاط سے ترکی زبان میں عربی رسم الخط کا رواج ہوا تھا، اِسی طرح بعد کے زمانے میں یورپ کے اختلاط سے وہ ماحول پیداہوا جس کے زیر اثر اتاترک نے ترکی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں تبدیل کردیا۔ اِس پس منظر میں رسم الخط کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو وہ زیادہ سنگین نظر نہیں آئے گا۔
اِس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ ترکی کے رسم الخط کو بدلنا وقت کا ایک تقاضا بن چکا تھا۔ ترکی جزئی طورپر یورپ کا ایک حصہ ہے۔ یورپ کی تمام زبانیں رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری تھا کہ ترکی زبان بھی اپنے پڑوسی…
…کا حامل بن گیااور دوسری طرف آبنائے باسفورس کے اوپر برٹش انجینئروں کا بنایا ہوا جدید طرز کا پُل علامتی طورپر، یورپی ٹکنالوجی کی یاد دلاتا ہے۔ اِس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction) کا کام کررہا ہے۔
ترکی کا یہ مخصوص جغرافیہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ترکی کا مشن کیا ہے۔ وہ مشن ہے— مشرق سے ملی ہوئی خدائی ہدایت (divine guidance)کو اہلِ مغرب تک پہنچانا۔
اِس وقت دنیا میں تقریباً 60 مسلم ملک یا مسلم اکثریت کے علاقے ہیں، مگر اِن میں سے کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں مذکورہ حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ مطلوب حالات استثنائی طورپر صرف ترکی میں پائے جاتے ہیں۔ اِس لیے تقریباً یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے…
…کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہے- ترکی کے ادارے (institutions) ، ترکی کی انڈسٹری، ترکی کے شہر، ترقی کے اعتبار سے یورپ کے ملکوں سے پیچھے نہیں ہیں، حتی کہ جو ورک کلچر (work culture) یورپ میں پایا جاتا ہے، وہی ورک کلچر ترکی میں بھی موجود ہے-
یہ ایک واقعہ ہے کہ کمال اتاترک نے اپنے 18 سالہ دورِ اقتدار میں کئی غلطیاں کیں، مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہر مصلح غلطیاں کرتاہے، اِس میں کسی مصلح کا کوئی استثنا (exception) نہیں- دیکھنے کی اصل چیز بعد کا نتیجہ ہے، نہ کہ آپریشن کے زمانے کی بعض غلطیاں- آج ترکی کو ترقی کے اعتبار سے جو درجہ حاصل ہے، وہ بلاشبہہ کمال اتاترک کی ریڈیکل اصلاحات کا نتیجہ ہے- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اِس اعتبار سے، ترکی دوسرے مسلم ملکوں کے لیے ایک نمونہ ہے- دوسرے مسلم ملکوں کو چاہیے کہ وہ اتاترک آپریشن کے بعض منفی پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے مثبت پہلوؤں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ملکوں کو جدید معیار پر ترقی یافتہ بنائیں-
ترکی کی جدید تصویر
کانفرنس مجموعی طورپر دو دن تک جاری رہی، لیکن میں اور میرے ساتھی اس کے صرف پہلے سیشن (افتتاحی اجلاس) میں شریک رہے۔ کانفرنس ہال سے نکلنے کے بعد ہم لوگوں کو اوغور پلازا ہوٹل لے جایاگیا جہاں دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا۔
یہاں ہوٹل میں مختلف ملکوں کے کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اُن میں سے ایک مسٹر احمد (Ahmet Alibasic) تھے۔ وہ بوسنیا سے اِس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مجھ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ بہت پہلے سے میری کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے انگریزی زبان میں چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ یہ کتاب 615 صفحات پر مشتمل ہے۔ اِس کتاب کو 5 مصنفین نے مشترک طورپر ایڈٹ کیا ہے۔ اِس کتاب کا نام یہ تھا:
Yearbook of Muslims in Europe, (Vol. 3, Brill, Leiden-2011)
…صرف اِس لیے ہوتی ہے کہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ تاریخ کا ہر سفر ناموافق حالات میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا سفر انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے جاری ہے، نہ کہ انسانی آزادی کو منسوخ کرکے۔ انسانی تاریخ میں اسلام کے سفر کے تین مرحلے ہیں:
Land expansion — consolidation — overseas expansion
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں کیا۔ اِس کے بعد دینِ توحید کی ایک نئی تاریخ بنی۔ اِس تاریخ کا خلاصہ یہ تھا کہ — انسانی آزادی کو منسوخ کئے بغیر دینِ توحید کی تاریخ بنانا اور اس کو اس کی آخری…
…مغرب کے سخت دشمن تھے اور جہاد کے نام پر مغرب کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے حامی تھے۔ 3 مئی 2011 کو پاکستان (ایبٹ آباد) میں وہ ہلاک ہوگئے۔ یہ ان کا کردار بحیثیت ایک لیڈر تھا۔ باپ کی حیثیت سے اُن کا کردار اِس سے بالکل مختلف تھا۔
اسامہ بن لادن کے برادرِ نسبتی (brother-in-law) زکریا (Zakaria al-Sadah) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں سنڈے ٹائمس (لندن) کے حوالے سے چھپا ہے۔ اِس انٹرویو میں انھوںنے بتایا کہ — اسامہ بن لادن نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں سے کہا تھا کہ تم لوگ یورپ اور امریکا جاؤ، وہاں اچھی تعلیم حاصل کرو، اور اچھی زندگی گزارو۔ تم کو تعلیم حاصل کرنا ہے، امن کے ساتھ رہنا ہے۔ تم وہ نہ کرو جو میں کررہا ہوں یا جو میں نے کیا:
He told his own children and grand children, ‘Go to Europe and America and get a good education, and live a good life. You have to study, live in peace and don’t do what I am doing or what I have done’. (The Times of India, New Delhi,…
…بلبل شاہ اور شاہ ہمدان جیسے صوفیوں نے کشمیر میں جو کلچر رائج کیا، وہ مکمل طورپر امن کلچر تھا۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے تشدد سے بالکل ناواقف تھے۔ کشمیریوں کے اِس امن پسندانہ مزاج کو بتانے کے لیے ایک صوفی کا یہ شعر بالکل درست تھا:
ما قصۂ سکندر ودارا، نہ خواندہ ایم از ما بجز حکایتِ مہر وفا مپرس!
مگر انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اگر اس کو بھڑکایا جائے تو وہ بھڑک اٹھتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کشمیر میں یہی بھڑکانے کا کام کیا، مگر یہ وقتی تھا— واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیرکے لوگ اب اپنی اصل فطرت کی طرف واپس آرہے ہیں۔
…سے گزرتی رہی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس آخری دور کے خاتمہ کے بعد قیامت برپا ہوگی اور پھر تاریخ بشری کا وہ تکمیلی دور شروع ہوجائے گا جس کو جنت کا دور کہاگیا ہے۔ انسانی تاریخ کے یہ پانچ ادوار حسب ذیل ہیں:
1 - اعلان حق (proclamation of divine truth)
2 - اظہارِ دین (reprocessing of hisotry)
History of the Arabs, by Philip K Hitti
اِن نزاعات کی بنا پر مسلمان تبیین حق بالفاظِ دیگر علوم فطرت کے انکشاف کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اِس کام کی تکمیل نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد یورپ میں انجام پائی اور پھر وہ امریکا میں جاری رہی۔ اِس معاملے کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:
The Conflict between Science and the Religion, by J W Draper (1882)
…ان کے اندر ضعیف الاعتقادی اور بدعملی پیدا ہوگئی۔ ان کی بیداری کے لیے پیغمبر نوح آئے۔ یہ گویا کہ پرامن تبلیغ کے ذریعہ ان کے اندر بیداری لانے کی کوشش تھی۔ لیکن لمبی مدت کی پرامن اصلاحی کوششوں کے باوجود ان کے اندر دوبارہ بیداری نہیں آئی۔
اب ان کے اندر نئی زندگی لانے کے لیے ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ قوم نوح کے علاقے میں ایک عظیم طوفان (great flood) آیا۔ اس وقت اپنی قوم کے منتخب افراد کو پیغمبر نوح نے ایک کشتی میں بٹھایا، اور اس کشتی کو تیز طوفان میں ڈال دیا۔
قوم نوح کے یہ منتخب افراد ایک مدت تک کشتی میں تیرتے رہے۔ یہاں تک کہ کشتی تیرتے ہوئے جودی پہاڑ پر رکی۔ الجودی کوہستان ارارات کی اس چوٹی کا نام ہے جو جبل وام (Vam) کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔اس قرب وجوار میں کردوں کی زبان پر آج تک یہ روایت…
…کو سائنسی دور (scientific age) کہا جاتاہے ۔ سائنسی دور اگرچہ زیادہ تر مسیحی قوموں کی کوشش سے وجود میں آیا۔ لیکن پورے معنوں میں یہ موافق اسلام دور ہے۔ یہ امت کو اپنے دین کے لیے وہی تائید فراہم کرتا ہے ، جس کو اوپر حدیث میں بیان کیا گیاہے۔
انسانی تاریخ کے بعد کے زمانے میں پیش آنے والی اس شہادت اعظم کا ذکر خود قرآن میں بھی آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے الفاظ یہ ہیں:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر پوری طرح ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق اور انفس کی آیات (signs) کہا گیا ہے، وہ موجودہ کائنات میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، مگر قرآن میں ان کا ذکر اشارات کی زبان میں ہے۔ ان اشارات کو اکچول (actual) بنانے کا کام موجودہ زمانے میں انجام پایا…
(Pears' Cyclopeadia, 1953-1954, p. 539)
صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا۔ مسلمانوں کی فتح ان کے لیےالٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کردیا۔
اس کے برعکس مسیحی یورپ کو اپنی ناکامی کا یہ فائدہ ملا کہ اس کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنی کمزوریوں کو معلوم کرکے ان کی تلافی کرے۔ چنانچہ اس کے اندر ایسے لوگ پیدا ہوئے، جنھوں نے زور وشور کے ساتھ یہ تبلیغ کی کہ مسلمانوں کی زبان عربی سیکھو،…
All roads lead to Rome
رومن امپائر کے عروج کے زمانے میں اس کے اندر بیشتر یوروپ، شرقِ اوسط اور افریقہ کے شمالی ساحلی ممالک شامل تھے۔ رومیوں نے جو سڑکیں، عمارتیں اور پل بنائے، وہ اتنے شاندار تھے کہ ان کے بنائے ہوئے بعض پل اسپین میںدو ہزار برس بعد بھی آج تک باقی ہیں۔ رومن لا آج بھی یورپ، امریکا کے قانون کی بنیاد ہے، وغیرہ۔
مگر رومن امپائر اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ختم ہوگئی۔ اب اس کا نشان یا تو پرانے کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔
…رائے قائم کرلی گئی۔ اس لیے قبل سائنس دور کو توہماتی دور (age of superstition) کہاجاتا ہے۔ مذکورہ اعتراض دراصل اسی قدیم دور کی ایک یادگار ہے۔ یہ اعتراض دراصل توہماتی افکار کی کنڈیشننگ کے تحت پیدا ہوا، جو روایتی طورپر اب تک چلا جارہا ہے۔
قدیم توہماتی دور میں بہت سے ایسے خیالات رائج ہوگئے جو حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد تھے۔ سائنسی دور آنے کے بعد ان خیالات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ مثلاً شمسی نظام کے بارے میں قدیم جیوسنٹرک (geocentric) تھیوری ختم ہوگئی اور اس کی جگہ ہیلیو سنٹرک (heliocentric) تھیوری آگئی۔ اسی طرح ماڈرن کیمسٹری کے ظہور کے بعد قدیم آلکیمی ختم ہوگئی۔ اسی طرح ماڈرن ایسٹرانمی کے ظہور کے بعد قدیم اسٹرالوجی (astrology)کا خاتمہ ہوگیا، وغیرہ۔ مذکورہ اعتراض بھی اسی نوعیت کا ایک اعتراض ہے، اور اب یقینی طورپر اس کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔
گلیلیو سترھویںصدی عیسوی کا اٹیلین سائنٹسٹ تھا۔ اس نے قدیم ٹالمی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ زمین شمسی نظام کے سنٹر میں نہیں ہے، بلکہ زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد مسلسل گھوم رہا ہے۔ یہ نظریہ مسیحی چرچ کے عقیدہ کے خلاف تھا۔ اس…
(Pears' Cyclopeadia, 1953-1954, p. 539)
صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا۔ مسلمانوں کی فتح ان کے لیےالٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کردیا۔
اس کے برعکس مسیحی یورپ کو اپنی ناکامی کا یہ فائدہ ملا کہ اس کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنی کمزوریوں کو معلوم کرکے ان کی تلافی کرے۔ چنانچہ اس کے اندر ایسے لوگ پیدا ہوئے، جنھوں نے زور وشور کے ساتھ یہ تبلیغ کی کہ مسلمانوں کی زبان عربی سیکھو،…
There is always room at the top
یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اِس سے زیادہ درست اور اہم بات وہ ہے جو اِس قول کے برعکس ہے، اور وہ یہ کہ— پیچھے کی سیٹ پر ہمیشہ جگہ خالی رہتی ہے:
There is always room at the back seat.
…گئی ہے۔ فقہا نے کہا ہے کہ اسلام میں قتال حَسن لِذاتہ نہیں ہے، بلکہ وہ حسن لِغیرہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قتال، نماز کی طرح مطلق طورپر مطلوب نہیں ہے بلکہ اُس کی مطلوبیت اضافی ہے، یعنی ضرورت کے وقت قتال، اور جب ضرورت نہیں تو قتال بھی نہیں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسو ل اور اصحابِ رسول کو قتال کا جو حکم دیاگیا تھا، اُس کا مقصد ’فتنۃ‘کو ختم کرنا تھا۔ قرآن کی سورہ نمبر آٹھ میں ارشاد ہوا ہے: اوراُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ اور دین سب اللہ کا ہوجائے (الأنفال: 38 ) اِس آیت میں فتنہ سے مرادمذہبی جبر (religious persecution) ہے۔
قدیم بادشاہت کے نظام میں ہر جگہ یہ مذہبی جبر قائم تھا۔ بادشاہ لوگ اسٹیٹ کے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے اختیار کرنے کو اپنے خلاف بغاوت سمجھتے تھے، اِس لیے ایسے مذہب کو وہ ہمیشہ کچل دیتے تھے۔
ماہ نامہ ’’جامِ نور‘‘ میں مولانا منظر الاسلام ازہری (اسلامک سنٹر آف ہائی پوائنٹ، امریکا)کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اِس کو پڑھ کر میں نے مضمون نگار کو ایک خط لکھا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہ نامہ جامِ نور (دہلی) کے شمارہ جولائی ۲۰۰۶ء میں آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اِس کا عنوان یہ ہے: ’’یورپ و امریکا کے ممالک دار الدعوہ ہیں‘‘۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مختلف ممالک کی فقہی حیثیت کیا ہے۔ اِس سلسلے میں…
…کہ و ابتغوا الوسیلۃ الیہ تو اس کا مطلب ہوتا کہ خدا کا تقرب تلاش کرو۔ لیکن آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ: وابتغوا الیہ الوسیلۃ، یعنی الیہ کا لفظ وسیلۃ سے پہلے لایا گیا ہے۔ اس سے یہاں حصر کا مفہوم پیدا ہوگیا یعنی خدا کی ہی قربت تلاش کرو۔
حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں دوسروں کا تقرب تلاش کرنے کی نفی کی گئی ہے نہ یہ کہ دوسروں کو وسیلہ بنا کر خدا کی قربت حاصل کرو۔ خدا سے تقرب کے لیے دوسروں کو وسیلہ بنانا سراسر قرآن کی روح کے خلاف ہے۔ اس طرح کی کسی بات کا ثبوت خود نص قرآنی میں ہونا چاہیے۔ کوئی خارجی تمثیل اس طرح کی بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
قرآن میں ہے ’’ولکُلِّ قومٍ ہاد‘‘ مگر قرآن ہی کی رو سے صرف عرب ممالک میں پیغمبروں کی بعثت ثابت ہے، نہ ایشیا کے دوسرے ممالک اور نہ یورپی ممالک کا ذکر ہے، مثلاً:
۲۷ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ کے زمانہ میں مسلم دانشوروں نے بے شمار مضامین لکھے۔ ان مضامین کا خلاصہ یہ تھا کہ عراق میں ہونے والی ٹریجڈی کی ذمہ داری اُنہوں نے دو چیزوں پر ڈالی—مغربی قوموں کی سازش، اور مسلم حکمرانوں کی غیر جمہوری پالیسی۔ جہاں تک مغربی قوموں کی سازش کا تعلق ہے، وہ پہلے ہی نظر میں قابلِ رد ہے۔ قرآن میں مختلف الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اہلِ اسلام کے لیے اغیار کی سازش کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ اللہ اس قسم کی سازشوں کے خلاف اہل اسلام کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ خدا نے اپنے وعدہ کے باوجود ان سازشوں کو ناکام نہیں بنایا۔
اس معاملہ میں دوسری توجیہہ مسلم حکمرانوں کا غیر جمہوری رویہ بتایا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمراں اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان مسلم حکمرانوں نے اپنے ملکوں میں بیشتر اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو…
…میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار ، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ ۵۰ بار آئے ہیں—اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس معاملہ میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں یہ زمین دارالانسان ہے، نہ کہ دارالکفار۔
تمام مساجد میں اذان کے لئے لاؤڈاسپیکر کا استعمال ہوتا ہے۔ اذان کی آواز بعض وقت نہایت گراں محسوس ہوتی ہے۔ جب یہ گرانی افراد ملت کو ہے تو دیگر بندگان خدا کو کس قدر ہوگی۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (حکیم انور علی صدیقی، میرٹھ)
عرض یہ کہ لاؤڈاسپیکر کا تعلق فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ ضرورت سے ہے۔ بوقت ضرورت حسب حالات لاؤڈاسپیکر کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔ مگر جہاں لاؤڈاسپیکر کی ضرورت نہ ہو، نیزاُس سے کوئی غیرضروری مسئلہ پیدا ہوتا ہو تو لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے احتراز…
…اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے چند نام یہ ہیں: مولانا فیروز عادل قاسمی صاحب، حافظ و قاری اعجاز عادل صاحب، مفتی احتشام صاحب، خالد بھائی، حمزہ بھائی، انور خاں صاحب، مفتی اشرف علی قاسمی ، وغیرہ۔
ایک بار میں ایک صاحب کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کی کار میں اسٹیریو سسٹم لگا ہواتھا۔ وہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سے میوزک سنتے رہتے ہیں۔ میںنے ان سے کہا کہ اگر آپ ایک کسٹمر سے ایک بڑے سودے کے لئے سنجیدہ گفتگومیںمشغول ہوں اور عین اسی وقت کوئی شخص آپ کی میز پرایک ٹیپ ریکارڈر لا کر رکھ دے اور پوری آواز کے ساتھ اس پر میوزک بجانے لگے۔ ایسے وقت میں آپ کا احساس کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کو میںایک غیر مطلوب مداخلت (unwanted distraction) سمجھوں گا اور فوراً اس کو بند کردوں گا۔
میںنے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے جب آپ اپنا میوزک ریکارڈر بجاتے ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑی غیر مطلوب مداخلت ہوتی ہے۔ اس قسم کی چیز آپ کے اندر تفکیری عمل (thinking process) کو رخ سے بے رخ کردیتی ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے آپ کو اعلیٰ تفکیری عمل…
…میں ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھی کو وحی کیوَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (16:68)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں میں بعض ایسی نشانیاں ہیں جو وہی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان کا مطالعہ وحی الٰہی کے معاملہ کو انسان کے لیے قابلِ فہم بنا دیتا ہے۔
وحی کے عقیدہ کا مطلب خارجی ذریعہ علم سے رہنمائی کا آنا ہے۔ جانوروں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان اس قسم کا ذریعہ علم واضح طور پر موجود ہے۔ جانوروں میں ایسی صفات پائی جاتی ہیں جن کی توجیہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کی جا سکتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو اپنے باہر سے ہدایات مل رہی ہیں۔ انہیں صفات میں سے ایک صفت جانوروں کی مہاجرت (migration) کا معاملہ ہے۔ خاص طور پر مچھلیوں اور چڑیوں کی مہاجرت اپنے اندر ایسی نشانیاں رکھتی ہے جس کے بعد وحی و الہام کے معاملہ کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔
یہاں ہم مہاجر چڑیوں (migratory birds) کا حوالہ دیں گے۔ بہت سی چڑیاں ہیں جو خوراک کی تلاش میں یا موسم کی تبدیلی کی بنا پر ایسا کرتی ہیں کہ خاص خاص وقتوں میں اپنے اصل مقام سے ہجرت کر کے دوسرے موزوں تر مقامات پر جاتی ہیں اور پھر ایک خاص مدت…
…incredibly complicated in vertebrates. The idea that it was needed to detect small changes in the cell surface which might lead to cancer has been popular in the last ten years but there is a lot of data to suggest it is not good enough.’’
6: How can we measure evolution? John Maynard Smith, Professor of Biology, University of Sussex, thinks that the theory of evolution has a built-in problem. ‘‘The essential components of the theory of evolution are mutation (a change in a gene), selection (differential survival or fertility of different types) and migration. The theory tells us that each of these processes, at a level far too low to be measurable in most situations, can profoundly affect evolution. Thus, we have three processes which we believe to determine the course of evolution, and we have a mathematical theory which, tells us that these processes can produce their effects at levels we cannot usually hope to measure directly. It is as if we had a theory of electromagnetism but no means of measuring electric current or magnetic force.’’
7: How is the nervous system built? Francis Crick, Salk Institute, California. ‘‘Perhaps the most challenging problem in the whole of developmental biology is the construction of the nervous system of an animal. Many years ago, it was…
…ان کے ذہن میں’’زرق برق وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان‘‘ ہوتے تھے۔ ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچا سکے۔ سر سید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بجا طور پر’’اینگلو محمڈن کلچر‘‘ کا نام دیا ہے۔
کمال اتاترک(1881-1938ء) جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے، وہ اس معاملے میں سر سید سے بھی آگے تھے۔ ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال اتاترک کا مقصد کیا تھا، اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتاہے جو اس مہم کووہاں دیا گیا۔ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ’’غرب دوغرو‘‘ تھا، جس کے معنی ترکی زبان میں—’’ سمت مغرب میں سفر‘‘ کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے کے لیے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیے گئے گویا وہ ریاست سے بغاوت کے مجرم ہوں۔
اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے، اس کو مسلمانوں کے اندر رائج کرنے کی انہوں نے زیادہ کوشش…
…اسلام کا جھنڈا عثمانی ترکوں(1517-1922ء) نے سنبھالا۔ اس طرح سولھویں صدی عیسوی میں اسلام کی سیاسی نمائندگی کا مرکز عرب سے نکل کر ترکی کی طرف منتقل ہوگیا۔ یہاں سے تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا جس نے واقعات کے رخ کو بالکل دوسری طرف موڑ دیا۔
تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ ایک شخص جو کسی پہلو سے مفید خدمت انجام دیتا ہے، وہی کسی دوسرے پہلو سے بڑی مصیبت کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی ہے۔ اس کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے خلفاء راشدین کی فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد(عمر بن عبدالعزیز) کا اضافہ کیا۔ مگر مورخ اسی خلیفہ کے تذکرہ میں اس ہیبت ناک غلطی کو بھی لکھتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے انتہائی اہم فوجی سرداروں کو ختم کرا دیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اچانک ٹھپ ہو کر رہ گئی۔
یہی صورت عثمانی ترکوں کے ساتھ پیش آئی۔ ترکوں نے عین اس وقت اسلام کا جھنڈا سنبھال لیا جب کہ کمزور ہاتھوں میں پہنچ کر اس کے گرنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا۔ وہ کئی سو سال تک یورپ کی مسیحی طاقتوں کے مقابلہ میں اسلام کی دیوار بنے رہے۔ اس اعتبار…
21 فروری 1985
رومن امپائر 117ءمیں شمالی برطانیہ سے لے کر بحر احمر اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مثل مشہور ہوگئی تھی
All roads lead to Rome
کلیات کے بجائے جزئیات
اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کلیات اور دوسرے جزئیات۔ شریعت کے کلی احکام واضح نصوص پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شریعت کے اس پہلو پر تمام فقہاء یکساں طور پر متفق ہیں۔ مگر جزئیات کے شرع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس لیے شریعت کے اس حصے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ فجر کی نماز دو رکعت ، ظہرکی نماز چار رکعت اور مغرب کی نماز تین رکعت ہے۔ مگر نمازکے بعض جزئی مسائل مثلاً آمین ، رفع یدین اور قرأتِ فاتحہ خلف الامام کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جو مختلف فقہی مکاتب بنے ان کے الگ الگ ہونے کی بنیاد دراصل یہی اختلافی جزئیات تھیں۔ کلی نوعیت کے احکام میں الگ الگ فقہی مکتب بننے کاکوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ ان امور میں ایک فقیہ اور دوسرے فقیہ کی رائے میں…
مسلم دنیا سے مغربی دنیا کی طرف
ابتداء ً تقریباً ایک ہزار سال تک یہ عمل مسلم دنیا میں ہوتا رہا۔ مگر سولھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مسلمانوں کے آپس کے اختلاف کی وجہ سے ایک طرف بغداد کی عباسی خلافت ٹوٹ گئی اور دوسری طرف اسی باہمی اختلافات کے نتیجے میں اسپین کا مسلم اقتدار ختم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں کوئی ادارہ ان لوگوں کی سرپرستی کرنے والا نہ رہا جو علمی وفکری تحقیق کا کام کر رہے تھے۔ چنانچہ علماء اور مفکرین کی بڑی تعداد دھیرے دھیرے اٹلی اور فرانس کی طرف منتقل ہوگئی۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یورپ میں ان لوگوں کو بہت پذیرائی ملی۔ انقلابی عمل جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہو رہا تھا، وہ یورپ کی دنیا میں ہونے لگا۔ تاہم یورپ پہنچ کر اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی۔ مسلم دنیا میں یہ کام اسلام کے زیر اثر ہو رہا تھا، یورپ کو اسلام سے دلچسپی نہ تھی، اس نے اس کو اسلام سے جدا کرکے خالص علمی حیثیت سے فروغ دینا شروع کیا۔ اگرچہ مسلم علوم اور عربی زبان کی اس منتقلی کا اثر یورپ کے مسیحی عقائد پر بھی پڑا۔ حتیٰ کہ مارٹن لوتھر(1483-1546) براہ راست طور پر یورپ کے اوپر اسلامی اثرات کی پیداوار تھا۔ تاہم علمی و فکری تحریک کا ارتقاء یورپ میں آزاد سیکولر شعبہ کے طور پر ہوا، نہ کہ مذہب کے ایک ذیلی شعبہ کے طور پر، جدید مغرب کا سائنسی اور جمہوری انقلاب تمام تر اسلامی انقلاب کی دین ہے۔ البتہ مغرب نے اس کو مذہب سے جدا کرکے سیکولر شکل دے دی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید مغربی انقلاب، اسلامی انقلاب کی ایک دنیوی صورت ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایٹم بم آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی فوجی صورت ہے اور قومی ملکیت مارکسی نظریہ کی معاشی صورت۔
…نے يه كيا كه فطرت كا جو ظاهره اُن كو بڑا (great) نظر آيا، اس كو انھوں نے الٰه (god) كادرجه دے ديا۔ يهي چيز هے جس كي طرف قرآن ميں اِن الفاظ ميں اشاره كياگيا هے هٰذَا رَبِّيْ هٰذَآ اَكْبَرُ (6:78)۔ یعنی، یہ میرا رب ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔
موجوده زمانے ميں سائنس كا سب سے بڑا كارنامه يه هے كه اُس نے اِس قديم متھ(myth) كو توڑ ديا۔ سائنس نے اپنے تجربات كے ذريعے ثابت كيا كه جن چيزوں كو انسان نے خدا سمجھ ليا تھا، اُن كے اندر كوئي خدائيت (divinity)نهيں هے۔ تمام چيزيں صرف فطرت (nature)كے اجزا هيں۔ به الفاظ ديگر، كائنات كي تمام چيزيں صرف مخلوق هيں، وه كسي بھي درجے ميں خالق نهيں۔ مشركانه كلچر كے نظرياتي خاتمے كا آخري دن 20 جولائي 1969 تھا، جب كه امريكي ايسٹروناٹ نيل آرم اسٹرانگ (Neil Armstrong)چار روزه خلائي سفر طے كركے چاند تك پهنچا اور چاند كي سطح پر اس نے اپنا قدم ركھ ديا۔
الحادكا دور
تیسرا مرحلہ
اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ اِس انقلاب کو ایک لفظ میں، دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہاجاسکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف عرب میں، بلکہ عرب کے باہر دنیا کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ کیا جو انسانی فکر کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ انھوںنے فطرت (nature) کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اور اکتشافِ فطرت کا دروازہ کھولا، جس کے نتیجے میں آخر کار جدید سائنسی دور ظہور میں آیا۔
اصحابِ رسول کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وحیِ الٰہی (قرآن) کو ایک محفوظ کلام کی حیثیت دے دی جو کہ اِس سے پہلے کبھی کسی آسمانی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ امتِ محمدی کا یہ ایک اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ایک ہزار سال تک قرآن کو…
…رها هے، اِسى طرح موجوده زمانے ميں بھي۔ البته موجوده زمانے ميں ڈگرى كے اعتبار سے اس ميں اضافه هوگيا هے۔ اِسى طرح مغربى دنيا ميں شراب كا رواج بھى آزادى كے غلط استعمال سے تعلق ركھتا هے۔ خود فكر مغرب سے اس كا براهِ راست كوئى تعلق نهيں، وغيره۔
اِس سلسلے ميں دوسرا معامله غلط توجيه (misinterpretation) كا هے۔ موجوده زمانے ميں مغربى دنيا ميں كئى نظريات وجود ميں آئے۔ مثلاً ڈارون ازم (Darwinism)، فرائڈازم (Freudism) اور ماركس ازم (Marxism)، وغيره۔ يه نظريات بلا شبه اسلام كى تعليمات كے خلاف تھے، مگر يه نظريات فكر مغرب كا براهِ راست حصه نهيںهيں، بلكه وه زندگى كى غلط توجيهه سے وجود ميں آئے هيں۔ هم كو يقيناً دلائل كى بنياد پر اِن نظريات كى ترديد كرنا چاهيے، مگر يه درست نهيں كه هم اِن نظريات كے حوالے سے خود فكر مغرب كو غلط سمجھنے لگيں۔
اِس قسم كى برائى هر معاشرے ميں پائى جاتى هے، حتى كه خود مسلم معاشرے ميں بھي۔ اسلام كے ابتدائى زمانے ميں جن لوگوں نے حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت على كو شهيد كيا، ان كا كيس يهى تھا كه انھوں نے اپنى آزادى كا غلط استعمال كيا۔ اِس طرح…
…وقتى مقصد كے ليے نه تھا۔ اُس كانشانه يه تھا كه ايك تاريخى نظام كاخاتمه كركے دنيا ميں دوسرے تاريخى نظام كو وجود ميں لايا جائے۔ اِس قسم كا منصوبه صرف ايك لمبے عمل (long-term process) كے ذريعے بروئے كار لايا جاسكتا تھا، چنانچه ايسا هى هوا۔
سب سے پهلے پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كے زمانے ميں يه هوا كه ملكِ عرب ميں قبائلى حكمرانى كو ختم كيا گيا۔ اِس كے بعد خلافتِ راشده كے زمانے ميں ايشيا اور فريقه كے درميان قائم شده دو بڑى سلطنتوں —ساسانى ايمپائر اور بازنتينى ايمپائر— كا خاتمه كيا گيا۔ يه دونوں واقعات غير معمولى قربانيوں كے ذريعے پيش آئے۔يه تاريخ بشرى كا ايك عظيم سياسى انقلاب تھا جس كا ذكر بائبل ميں اِن الفاظ ميں آيا هے— اُس نے نگاه كى اور قوميں پراگنده هوگئيں۔ ازلى پهاڑ پاره پاره هوگئے۔ قديم ٹيلے جھك گئے
He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)
مغربى تهذيب كا مسئله
امت مسلمه كى تاريخ ميں بهت سے ايسے مسئلے پيش آئے جن كو فتنه كهاجاتا هے۔ مثلاً باطنيت كا فتنه، وحدتِ وجود كا فتنه، انكارِ حديث كا فتنه، قاديانيت كا فتنه ، وغيره۔ تاريخ بتاتى هے كه جب بھى ماضى ميں اِس قسم كا كوئى فتنه پيدا هوا تو بهت سے علما اٹھے جنھوں نے قرآن اور سنت كى روشنى ميں اس كا بھرپور رد كيا۔ اس كے بعد يه هوا كه بهت سے مسلمان جو ان فتنوں سے متاثر هوئے تھے، انھوں نے ان سے توبه كى اور وه امت مسلمه كى مين اسٹريم (mainstream) ميں شامل هوگئے۔تاريخ مزيد بتاتى هے كه اِن موقعوں پر ايسا نهيں هوا كه ايك فتنه دوباره ايك نئے فتنے كى شكل اختيار كرلے، يعنى جو لوگ ان فتنوں سے ذهنى طورپر متاثر هوئے تھے، انھو ں نے اپنى اصلاح كر لى اور اربابِ فتنه سے الگ هوكر وه اسلامى زندگى گزارنے لگے۔
موجوده زمانے ميں بھى اِسى قسم كا ايك ’’فتنه‘‘ پيش آيا۔ يه مغربى تهذيب كا فتنه تھا۔ يه فتنه ابتدائى طورپر يورپ كى نشاةِ ثانيه (Renaissance)كے بعد شروع هوا اور بيسويں صدى عيسوى ميں اپنے عروج پر پهنچ گيا۔ اُس وقت بهت سے عرب اور غير عرب…
…دور ميں انسانى سوچ كا مركز ومحور بادشاه بن گيا۔ اعلى انسانى جذبات بادشاه كے ساتھ وابسته کردیے گئے۔ عام طورپر يه مان لياگيا كه— جو بادشاه كا مذهب، وهى سب كا مذهب النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ(صحیح وضعیف تاریخ الطبری، جلد 1، صفحہ 106)۔
بادشاهت كے زمانے ميں سارى دنيا ميں زراعت كا دور قائم تھا۔ اُس زمانے ميں زراعت (agriculture) اقتصاديات كا واحد ذريعه تھي— زمين كا مالك هونے كى بنا پر بادشاه اقتصاديات كا واحد مالك بنا هوا تھا۔ بادشاه كو يه حيثيت تھى كه بادشاه دينے والا هے اور بادشاه چھيننے والا۔ اُس زمانے ميں بادشاه كو عملاً وه درجه ملا هوا تھا، جو درجه خدا كا هونا چاهيے۔ اِن حالات ميں يه تصور پيدا هوا كه بادشاه حاكم (ruler) هے اور دوسرے تمام لوگ محكوم (ruled) كى حيثيت ركھتے تھے۔ قديم زمانے كى اِس نفسيات كو ايك فارسى شاعر نے اِن الفاظ ميں بيان كيا تھا
شاهان چه عجب گر بنوازند گدا را
…كے نقصانات كى تلافى كردي، بلكه اس نے اتنى ترقى كى وه جديد دور ميں اقتصادى سپرپاور(economic superpower) بن گيا۔ يه معجزه اِس طرح پيش آيا كه جاپان نے سرفيس كے حالات كو نظر انداز كيا اور انڈر كرنٹ جو امكانات چھپے هوئے تھے، ان كو استعمال كيا۔
اِس معاملے كى دوسرى مثال وه هے جو انڈيا ميں پيش آئي۔ انڈيا ميں تقريباً 200 سال تك برٹش حكومت قائم رهي۔ 1857 ميں انڈيا ميں آزادى كى لڑائى شروع هوئي۔ يه لڑائى هتھياروں كے بل پر شروع كى گئى تھي۔ اِس جنگ ميں كچھ مسلم ليڈر اور كچھ هندو ليڈر شريك تھے۔ آزادى كى يه جنگ تقريباً 60 سال تك جارى رهي، مگر اس كا نتيجه تباهى كے سوا كسى اور صورت ميں نهيں نكلا۔آخر كار 1919 ميں مهاتما گاندھى سياست كے ميدان ميں آئے اور انھوں نے جنگ آزادى كى قيادت سنبھالي۔ اُس وقت انڈيا بظاهر ايك تباه شده ملك بنا هوا تھا، ليكن مهاتما گاندھى نے شعورى يا غير شعورى طورپر اِس حقيقت كو جانا كه يهاں انڈر كرنٹ ايك اور صورتِ حال موجود هے جو انڈيا كے ليے ايك موافق امكان كى حيثيت ركھتى هے۔ شرط صرف يه هے كه تشدد كا طريقه چھوڑ كر امن كا طريقه اختيار كيا جائے۔
يه انڈر كرنٹ امكان كيا تھا، وه يه تھاكه جس زمانے ميں برطانيه انڈيا پر حكومت كررها تھا، اُسى زمانے ميں يورپ كے ملكوں ميں شاهى خاندان راج كررهے تھے— اِن يورپى ملكوں ميں اِن حكومتوں كے خلاف بهت بڑے پيمانے پر تحريكيں اٹھيں۔ بڑے بڑے يورپى…
…مورش سلطنت كو موافق حالات ملے، چنانچہ انھوں نے علم كى ترقى ميں مزيد بهت زياده اضافه كيا۔ اُس دور كے ترقياتى نمونوں كو استنبول (تركي) كے ميوزيم (The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam) ميں ديكھا جاسكتا هے۔
مگر بعد كے دور ميں اندلس كى مسلم سلطنت ميں بگاڑ آگيا۔ اس كے حكمراں عيش وعشرت ميں پڑ گئے۔ آخر كار 700 سال سے زياده مدت كے بعد اُن پر دفع كا قانون نافذ هوا اور اسپين كے مسيحى حكمراں نے لڑ كر اُن كا خاتمه كرديا۔
اِسى دور ميں مغل حكمراںهندستان ميں داخل هوئے اور يهاں ايك طاقت ور مسلم سلطنت قائم كردي۔ مغل سلطنت كے زير سايه هندستان ميں كئى كام انجام پائے۔ مغل حكمرانوں كو دعوت وتبليغ سے كوئى دلچسپى نه تھي، ليكن اُن كے دبدبے كے تحت صوفيوں كو يه موقع ملا…
…کیا کہ انھوں نے ایک نیا دور پیدا کردیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہوگیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہوگیا۔
اِسی انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہوگیا۔ اِس پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصف اول میں عرب سے ہوا، اس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً اِس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality)کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دعوت وتبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ آفاق وانفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہوگیاکہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (41:53)۔
آیتِ اسرا
…محمد میں استبدالِ قوم (47:38)کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ استبدال (replacement) کا مطلب یہ تھا کہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے بجائے ایک اور قوم کو کھڑا کرنا۔ صلیبی جنگوں (Crusades) کے ذریعے استبدال کا یہی معاملہ پیش آیا۔
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں نے فلسطین کو مسیحیوں سے چھین لیااور اُس پر اپنا اقتدار قائم کرلیا۔ فلسطین مسیحی قوموں کے لیے ایک مقدس سرزمین (holy land) کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ مسیحی قومیں اِس قبضے کو کبھی قبول نہ کرسکیں۔ یہ نزاع باقی رہی، یہاںتک کہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے وہ شام اور فلسطین کے علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیں۔
صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ 1095 ء میں شروع ہوا۔ تقریباً 200 سال کے اندر دونوں قوموں کے درمیان وقفے وقفے سے 9 بار خوں ریز لڑائیاں ہوئیں، مگر یورپ کی مسیحی سلطنتوں کی متحدہ کوشش کے باوجود اُن کو زبردست ناکامی ہوئی۔ اِس کے بعد وہ اِس نتیجے پر…
…صرف متعصبانه طرز فكر هے۔ كسى بھى طريقے سے اگر متعصبانه طرز فكر كو ختم كرديا جائے تو دينِ حق اور انسان كے درميان حائل فكر ى ديوار اپنے آپ منهدم هوجائے گي۔ اس كے بعد انسان اِس قابل هوجائے گا كه وه حقيقت كو اس كى بے آميز صورت ميں ديكھ سكے۔
انگريزى تعليم يا سيكولر تعليم كے ذريعے يهى واقعه پيش آيا۔ اِس تعليم كے ذريعے بهت سے نوجوان اِس قابل هوگئے كه وه حقيقت كو دريافت كركے اس كو قبول كرليں۔ موجوده زمانے ميں اِس طرح كى مثاليں هر مقام پر ديكھى جاسكتى هيں— قديم زمانه قياسى استدلال كا زمانه تھا۔ موجوده زمانه سائنسى استدلال كا زمانه هے۔ آج كے انسان كے مائنڈ كو ايڈريس كرنے كے ليے سائنسى استدلال كى ضرورت هے۔ انگريزى تعليم نے اِسى دروازے كو كھولا تھا۔
صحيح طريقه يه هے كه جب بھى كوئى نئى صورتِ حال پيش آئے تو اگر چه وه بظاهر عُسر دكھائى ديتى هو تب بھى آپ اس كے اندر يُسر تلاش كريں۔ هر نئى صورتِ حال هميشه نئے مواقع كو لاتى هے۔ ايسى حالت ميں اصل كام صرف يه هے كه مواقع كو دريافت كركےان كو…
…سے كها كون الله كے واسطے ميرا مددگار هوتاهے۔ حواريوں نے كها هم هيں الله كے مددگار۔ پس بنى اسرائيل ميں سے كچھ لوگ ايمان لائے اور كچھ لوگوں نے انكار كيا۔ پھر هم نے ايمان لانے والوں كي، اُن كے دشمنوں كے مقابلے ميں، مدد كي، پس وه غالب هوگئے۔
قرآن كى اِس آيت ميں ايك بهت اهم بات كهى گئى هے۔ اِس آيت كا خطاب امتِ مسلمه سے هے، ليكن اِس ميں امتِ مسيح كے ايك نمونے كو بطور ماڈل پيش كيا گيا هے اور امتِ مسلمه سے يه كها گيا هے كه تم بھى اُسى ماڈل كے مطابق كام كرو جس كے مطابق، امتِ مسيح نے كام كيايا مستقبل ميں كام كريں گے۔ يه ماڈل آئڈيالوجى يا عقيده كے اعتبار سے نهيں هے، بلكه وه صرف طريقِ كار (method) كے اعتبار سے هے۔ اِس اعتبار سے، امتِ مسيح (Christian community) كے يهاں جو ماڈل ملتا هے، اس كى دو تاريخى مثاليں يهاں درج كى جاتى هيں۔ حديث ميں آيا هے كه بعد كے زمانے ميں مسيحى گروه، تعداد كے اعتبار سے، سب سے بڑا مذهبى گروه بن جائے گا (صحيح مسلم، حدیث نمبر 2898)۔ ايسا كيوں كر هوگا، اس كا جواب بھى اِسى مثال پر غور كرنے سے معلوم هوتا هے۔
اِس معاملے كى پهلى مثال وه هے جو خود حضرت مسيح كے زمانے ميں پيش آئي۔حضرت مسيح كا مقامِ عمل قديم فلسطين تھا۔ فلسطين ميں حضرت مسيح كے ابتدائى پيروؤں پر سخت ظلم كيا گيا، مگر حضرت مسيح كى تعليم كے مطابق، اُن كے پيروؤں نے اپنے دشمنوں سے كوئى…
…بول دیا تھا۔ سسلی دو صدیوں تک ان کے قبضہ میں رہا۔ اور اٹلی کے خلاف ایک فوجی اڈے کاکام کرتا رہا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی کے دوران میں مغربی اقوام مسلمانوں کی زمین پر صلیبی جنگ لڑتی رہیں۔ ان صلیبی لڑائیوں کی یا دآئندہ نسلوںمیں باقی رہی۔
زرتشت، بدھزم اور دوسرے کم ترقی یافتہ مذاہب کی کبھی اس طرح سے نفرت اور تحقیر نہیں کی گئی، جیسا کہ اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ وہ قرون وسطیٰ کے مغرب کے لیے کو ئی خطرہ نہیں تھے۔ اور نہ انھوں نے مقابل میں آنے کی کبھی کو شش کی۔ اس لیے یہ بنیادی طور پر خوف، دشمنی اور تعصب تھا جس نے اسلام کے بارے میں مغرب کے نقطۂ نظر کو متاثر کیا۔ اسلام کا عقیدہ ایک دشمن عقیدہ تھا۔ اس لیے وہ غلط نہ ہو جب بھی شبہ کی نظر سے دیکھا جانا لازمی تھا۔
پھر زبان کا روک بھی تھامسیحیت اور دنیائے اسلام کے درمیان سیاسی اور فوجی تصادم کے چھ سو سال تک یورپ قرآن کی باقاعدہ مطالعہ کی سہولت سے محروم رہا۔ اس پوری مدت میں لاطینی زبان کا کو ئی عالم یورپ میں ایسا نہیں ملتا جو عربی زبان پر بھی عبور…
…کے اوپر مکمل طور پر غالب رہے۔ آپ کے زمانہ کی دو طاقت ور ترین سلطنتیں (روم اور ایران) آپ سے ٹکرائیں مگر وہ خود پاش پاش ہو کر رہ گئیں۔ آپ کے ظہور کے بعد یہودی اور عیسائی ساری دنیا میں آپ کے دشمن ہو گئے، مگر آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔
صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کی مسیحی اقوام نے متحدہ طور پریہ کو شش کی کہ آپ کی تصویر کو بگاڑیں اور آپ کی تاریخ کو بالکل مسخ کر ڈالیں۔ مگر ہزار برس تک اپنی ساری طاقت خرچ کر نے کے باوجود ان کی کوششیں صد فی صد ناکام ہو گئیں۔ یہاں تک کہ سائنس کے زیر اثر خود علم انسانی میں وہ انقلاب آیا جس نے آپ کے معاندین کے تيار کردہ لٹریچر کو غیر حقیقی قرار دے کر رد کر دیا۔ خود مسیحی طبقہ کی بعد کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہو ئے جنھوں نے اپنی ابتدائی نسلوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ان میں ٹامس کارلائل (1795-1881ء)هےجس نے 1840ء میں ایک لکچر دیا تھاجس کا عنوان یہ تھا
"The Hero As Prophet Mahomet: Islam"
کتاب کا مضمون
سلمان رشدی کی کتاب کا نام (شیطانی آیات) ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ہے۔ یہ جھوٹی کہانی5 نبوی میں اس وقت گھڑی گئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،پر سورہ النجم نازل ہوئی (تفصیل ملاحظہ ہو فرضی کہانی)۔ کہانی کی ابتدائی مصنفین عین اسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے جس کا ارتکاب سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات لکھ کر کیا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان کے اوپر وہ سزا نافذ نہیں کی جس کا اعلان آج ایران کے شیعہ عالم اور ہندوستان کے سنی عالم مبینہ طور پر کر رہے ہیں۔ اگر اس جرم کی سزا لازمی طور پر وہی ہے جس کی موجودہ علماء وکالت کر رہے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو مکہ میں اس کا نفاذ کرنا چاہیے تھا ۔ مگر ثابت شدہ طور پر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ علماء کے اعلان کا ماخذ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، نہ کہ قرآن اور سنت ۔
سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک توہین آمیز نام محاونڈ(Mahound)کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاونڈ کا لفظ کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ’’مَ‘‘ انگریزی لفظ مائی(My)…
پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا
مسلم رہنماؤں کو یہ جاننا چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں ان کا اقدام کوئی سادہ اقدام نہیں ہے۔یہ پوری مغربی دنیا کے ’’مذہب‘‘ پر براہ راست حملہ ہے۔ مسٹر ایڈورڈ مارٹیمر (Edward Mortimer) نے بجا طور پر کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا مذہب اسلام ہے، اسی طرح ہمارا مذہب آزادی (Freedom)ہے۔ مسلمان اپنے مذہب کی توہین یا اس پر حملہ سے جس طرح بپھر اٹھتے ہیں، ہم کو بھی اسی طرح سخت تکلیف پہنچتی ہے جب کہ ہمارے مذہب (آزادی) پر حملہ کیا جائے۔ مسلمانوں کے نزدیک اگر رسول کی بے حرمتی کلمۂ کفر(Blasphemy)ہے تو ہمارے نزدیک آزادی کی بے حرمتی اتنی شدت سے کلمۂ کفر کی حیثیت رکھتی ہے(ٹائمس آف انڈیا، 28فروری1989)۔
یہی وجہ ہے کہ جس طرح مسلم دنیا سلمان رشدی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، اسی طرح مغربی دنیا سلمان رشدی کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنا کر اس کی حمایت پر کمربستہ ہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے سلمان رشدی کی حمایت کا سبب ’’ اسلامی دشمنی‘‘ نہیں ہے، جیسا کہ…
حکمت کی بات
کانگرس کے صدر نرسمہارائو (P. V. Narasimha Rao) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (یکم جون 1991) میں چھپا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستانی سماج مختلف قومیتوں کا مشترک سماج ہے، اور اس سماج کے ہر جزء کو آزادی اور برابری کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ہندوستان میں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ مل جل کر رہا جائے:
We have a plural society and all segments of the society should exist in freedom and equality. The only way to exist in India is to co-exist.
ایک شہادت
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984)میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو مقالہ ہے، اس کے آخر میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بہت کم بڑے لوگ اتنا زیادہ بدنام کیے گئے ہیں جتنا کہ محمد کو بدنام کیا گیا۔ قرون وسطی کے یورپ کے مسیحی علماء نے ان کو فریبی اور عیاش اور خونی انسان کے روپ میں پیش کیا۔ حتیٰ کہ آپ کے نام کا ایک بگڑا ہوا تلفظ مہاونڈ(نعوذ باللہ) شیطان کے ہم معنی بن گیا۔ محمد اور ان کے مذہب کی یہ تصویر اب بھی کسی قدر اپنا اثر رکھتی ہے۔ انگریز مصنف ٹامس کارلائل پہلا قابل ذکر مغربی شخص تھا جس نے 1840 میں بتاکید عوامی طور پر کہا کہ محمدیقینا سنجیدہ تھے کیونکہ یہ فرض کرنا بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک فریبی آدمی ایک عظیم مذہب کا بانی ہو سکتا ہے
Few great men have been so maligned as Muhammad. Christian scholars of medieval Europe painted him as an impostor, a lecher, and a man of blood. A corruption of his name,'Mahound' even came to signify the devil. This picture of Muhammad…
نفع بخشی کی طاقت
ہندوستان ٹائمس(20 جولائی1990ء) کے نمائندہ مقیم ماسکو مسٹر بھابنی سین گپتا نے سوویت یونین کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، اس کا عنوان ہے— ایک نیا روس ابھر رہا ہے:
A new USSR is emerging
…آج جب سمندري جهاز كا ايك كپتان وسيع سمندر ميں داخل هو كر اس ساحل سے اُس ساحل تك اپنا جهاز لے جاتاهے۔ يا هوائي جهاز كا پائلٹ ايك براعظم سے اڑ كر دوسرے براعظم ميں اترتا هے تو اس عمل كے پيچھے سيكڑوں سال كے انساني تجربات كا علم شامل هوتا هے۔
چڑياں اس طرح كا كوئي ذريعهٔ علم نهيں ركھتيں۔ وه اس قسم كے ذريعے معلومات سے مكمل طورپر كٹي هوئي هيں۔ چڑيوں كے اندر باهم تبادلهٔ خيال نهيں هوتا، جس طرح انسانوں كے اندر هوتاهے۔ اس بنا پر چڑيوں كے ليے يه ممكن نهيں كه ايك چڑيا دوسري چڑيا كے تجربات سے فائده اٹھا كر اپني معلومات كو بڑھائے۔ كوئي چڑيا اپني معلومات كو كتاب كي صورت ميں قلم بند نهيں كرتي كه دوسري چڑيا اس كو پڑھ كر اس سے رهنمائي حاصل كرے۔ اس قسم كي هر سهولت سے كامل محرومي كے باوجود يه چڑياں بالكل انسانوں كي مانند سفر كرتي هيں۔ وه اس درجهٔ صحت كے ساتھ ايك مقام سے دوسرے مقام تك جاتي هيں، جيسے كه ريڈيائي كنٹرول كے ذريعے كوئي راكٹ خلا ميں چلايا جارها هو۔
مهاجر چڑيوں كا مطالعه كرنے والے ايك محقق نے لكھاهے كه چڑيوں كي هجرت كي پروازيں متعين راستوں پر هوتي هيں۔ بعض اوقات لمبے فاصلوں پر حد درجه عمده تعين كے ساتھ
انسان كب سے زمين پر هے
ڈاكٹر ڈونالڈ جانسن(پیدائش 1943)، ميوزيم آف نيچرل هسٹري، كليولينڈ، اوهايو يورپ افريقه اور ايشيا ميں جو فوسلز (fossils) برآمد هوئے هيں، وه انسان كي ابتداكو اور زياده پيچھے كي طرف لے جارهے هيں۔ بهر حال يه بات دن بدن نماياں هوتي جارهي هے كه ارتقا كامعامله (سابقه تصور كے خلاف) كهيں زياده پيچيده هے۔ وه مدت جس كا تعين ايك مسئله هے، وه تين ملين سے لے كر دس ملين سال پيچھے تك هے۔ انسان كے امكاني آباواجداد ميں بہ ظاهر بهت زياده فرق رها هے، اور هم كو نهيں معلوم كه ان كے درميان باهمي رشته كيا تھا (اس كي وجه جزئي طورپر ڈاكٹر جانسن كي حبش ميں دريافتيں هيں۔ نيز اس سے بھي زياده قديم فوسلز پاكستان ميں ملے هيں)۔
How old is man? Dr Donald C. Johnson, Museum of Natural History, Cleveland, Ohio. "Fossil discoveries in Europe Africa and Asia are pushing human origins further back in time. However, it is becoming increasingly clear that the scenario…
…نظریاتی قدر رکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض چیزیں جماعتی کردار یا تحریکی اخلاقیات کے طور پر پیدا ہوتی ہیں، آدمی کی ذاتی زندگی خلق کی خدمت سے خالی ہو جاتی ہے۔ مگر ’’شعبۂ خدمت خلق‘‘ کے تحت اجتماعی پروگراموںمیں وہ دوسروں کے ساتھ متحرک نظر آتا ہے۔
2 ۔ بعض مرتبہ دین کے نام پر اٹھنے والی کسی تحریک کی غلطیوںکو سمجھنا لوگوں کے لیے اس لیے بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس سے دین کو کچھ فائدے ہو رہے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جس تحریک سے دین کو فائدہ پہنچے اس میں کوئی غلطی کس طرح ہو سکتی ہے۔ اس کا مفید ہونا خود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صحیح ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میںکوئی لازمی رشتہ نہیں ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی کوشش دین کے لیے کسی پہلو سے مفید ہو، مگر اس کوشش کی بنیاد درست نہ ہو۔ یورپ میں بعض عیسائیوں نے خدا کے اثبات پر نہایت اونچے درجے کے سائنسی دلائل فراہم کیے ہیں، جو اب تک کسی مسلمان عالم سے ممکن نہ ہو سکا۔مگر اس کے باوجود کوئی شخص نہیں کہہ سکتاکہ یہی وہ چیز ہے جو ایک انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے یا یہ کہ عیسائی خدا کے دین کے صحیح ترجمان ہیں۔
کسی تحریک میں مفید اور غیر مفید یا صحیح اور غلط دونوں پہلوؤں کا ہونا ایک عام مشاہدے کی چیز ہے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ حضرت حذیفہ کی طویل حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں
…ہے جو ذہنی سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے بغیر محض شعوری تصورات کی روشنی میں اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرنا ویسی ہی ایک غلطی ہے، جیسے کوئی شخص سمندر میں تیرتے ہوئے تو دۂ برف (Iceberg) کی جسامت کا اندازہ محض ظاہری مشاہدہ کی بنا پر کرنے لگے۔
ایک مثال سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے درمیان یورپ میں جو بڑے بڑے مفکر اور سائنس داں پیدا ہوئے اگر آپ ان کامطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی اکثریت کائنات کا ایک خدا مانتی ہے۔ ڈیکارٹ سے لے کر نیوٹن تک سب خدا کاوجود تسلیم کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ڈارون کی مشہور کتاب اصل الانواع (Origin of Species) جو انیسویں صدی کے وسط میں شائع ہوئی، اور جو مذہبی حلقوں میں سب سے زیادہ بحث و تنقید کا موضوع رہی ہے اس میں بھی کئی بار خالق (Creator) کا ذکر ملتا ہے۔ اس نے اپنی یہ کتاب ان الفاظ پر ختم کی ہے— ’’زندگی کے اس ارتقائی نقطہ ٴنظر میں کتنی عظمت ہے کہ خالق نے ایک یا چند اشیاء میں ابتداء ً روح پھونکی اور اس کے بعد مختلف فطری طاقتوں کے عمل سے بے شمار انواع حیات وجود میں آ گئیں‘‘ ۔
(The Origin of Species, pp. 528-529)
خاتمه
هسٹري آف تھاٹ كا مطالعه بتاتا هے كه افكار كے اعتبار سے انساني تاريخ كے دو دور هيں— قبل سائنس دور (pre-scientific era) ، اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور ميں لوگوں كو اشيا كي حقيقت معلوم نه تھي، اس ليے محض قياس آرائي كے تحت چيزوں كے بارے ميں رائے قائم كرلي گئي۔ اس ليے قبل سائنس دوركو توهماتي دور (age of superstition) كها جاتا هے۔ مذكوره اعتراض دراصل اسي قديم دور كي ايك يادگار هے۔ يه اعتراض دراصل توهماتي افكار كي كنڈيشننگ كے تحت پيداهوا، جو روايتي طورپر اب تك چلا جارها هے۔
قديم توهماتي دور ميں بهت سے ايسے خيالات رائج هوگئے، جو حقيقت كے اعتبار سے بےبنياد تھے۔ سائنسي دور آنے كے بعد ان خيالات كا خاتمه هوچكا هے۔مثلاً شمسي نظام كے بارے ميں قديم جيوسنٹرك (geocentric) تھيوري ختم هوگئي، اور اس كي جگه هيليو سنٹرك…
اسٹالن کی بیٹی
سویتلانا (Svetlana Alliluyeva) روسی ڈکٹیٹر اسٹالن کی بیٹی تھی۔ اس کی پیدائش 1926 کوہوئی، اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر 1966میں وہ ہندستان آئی تھی۔ پھر وہ یورپ چلی گئی، اور 2011 میں اس کی وفات ہوئی۔
اس نے عیسائیت کو اختیار کرلیا تھا۔ اپنے سچائی کے تلاش کا واقعہ لکھتے ہوئےوہ اپنی کتاب ’’صرف ایک سال‘‘ ( Only One Year) میں لکھتی ہے کہ میں ماسکو میں غیر مطمئن تھی ،اور اپنے قلب کی تسکین کے لیے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ چیز مجھے بائبل کے…
اختلاف کا مسئلہ
دور جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار اختلاف کو دور کرنے کا زمانہ ختم ہوچکاہے ، اور رائے کے اختلاف (dissent) کو رائے تک محدود رکھ کر نزاع (conflict) کو ختم کرنے کے دور کاآغاز ہوا ہے۔قدیم زمانے میں جب اختلاف پیدا ہوتا تھا تواس کا خاتمہ صرف تلوار کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔ قدیم عرب کا یہ محاورہ اسی حقیقت کی ترجمانی ہے— القَتْلُ اَنْفَی لِلْقَتْلِ (قتل، قتل کے لیے سب سےبڑاروک ہے)۔ مگر اب یہ فریم ورک (framework)بدل چکا ہے۔
موجودہ دور میں اختلاف کے خاتمہ کا سپورٹنگ اسٹرکچر (supporting structure) بدل گیا ہے۔ اب عمومی تباہی کے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔دو…
حکمت کی بات
کانگرس کے (سابق)صدر نرسمہاراؤ کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (یکم جون 1991) میں چھپا ہے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندستانی سماج مختلف قومیتوں کا مشترک سماج ہے، اور اس سماج کے ہر جزء کو آزادی اور برابری کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ہندوستان میں رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ مل جل کر رہا جائے
We have a plural society and all segments of the society should exist in freedom and equality. The only way to exist in India is to co-exist.
کلیات کے بجائے جزئیات
اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کلیات اور دوسرے جزئیات۔ شریعت کے کلی احکام واضح نصوص پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شریعت کے اس پہلو پر تمام فقہا یکساں طور پر متفق ہیں۔ مگر جزئیاتِ شریعت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس لیے شریعت کے اس حصے میں فقہا کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ فجر کی نماز دو رکعت ، ظہرکی نماز چار رکعت اور مغرب کی نماز تین رکعت ہے۔ مگر نمازکے بعض جزئی مسائل مثلاً آمین ، رفع یدین اور قرأتِ فاتحہ خلف الامام کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جو مختلف فقہی مکاتب بنے ان کے الگ الگ ہونے کی بنیاد دراصل یہی اختلافی جزئیات تھیں۔ کلی نوعیت کے احکام میں الگ الگ فقہی مکتب بننے کاکوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ ان امور میں ایک فقیہ اور دوسرے فقیہ کی رائے میں…
مشاہداتِ دنیا
ستمبر 1989ء کولیبیا کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔اس سفر میں میں نے لیبیا پہنچ کر اپنی گھڑی میں مقامی وقت کے مطابق تبدیلی نہیں کی تھی۔ جب مجھے وقت معلوم کرنا ہوتا تو میں ایسا کرتا کہ اپنی گھڑی میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق کر لیتاتھا۔ اس طرح مجھے مقامی وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے مقابلہ میں لیبیا کا وقت ساڑھے تین گھنٹہ پیچھے ہے۔ وقت کے آگے پیچھے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان نے اپنی سہولت کے لیے رات اور دن کی مدت کو 24 گھنٹے میں تقسیم کیا ہے۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ ہر ملک میں دوپہر کا وقت 12 بجے کا ہو گا۔ اب چونکہ زمین کی محوری گردش کی بنا پر ’’دوپہر‘‘ کا لمحہ ہر ملک میں الگ الگ وقت پر آتا ہے، ہر ملک کا وقت الگ الگ ہو گیا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں جس وقت دوپہر ہو گا، اس وقت لیبیا میں ابھی دوپہر کا وقت آنے میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹہ باقی ہوں گے۔ ہر ملک دوپہر کے وقت کو 12 بجے کا وقت مان کر اپنی گھڑی کا آغاز کرتا ہے، اس لیے ہر ملک کا وقت نسبتی طور پر الگ الگ ہو جاتا ہے۔
وقت کا یہ فرق قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’فرق‘‘ اس دنیا کی لازمی حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہمیں فرق کے باوجود مل کررہنا ہے۔ یہاں اختلاف کے باوجود اتحاد قائم کرنا ہے۔
…حکمراں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے وہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے کوئی جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ جب کہ بعض حالات میں کسی قوم کی نجات کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے ایک جرأت مندانہ فیصلہ لیا جائے۔
جیسا کہ معلوم ہے، اس وقت فرانس نے افریقہ کے کئی ملکوں مثلاً الجزائر ،وغیرہ پر قبضہ کر رکھا تھا اور ان کو فرانس کے صوبے(provinces) کہتا تھا۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسی فرانس کے لیے اتنی زیادہ مہلک ثابت ہوئی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاری ہونے والی ترقیاتی دوڑ میں وہ یورپ کا ایک ’’مرد بیمار‘‘ بن گیا۔ ڈیگال نے قومی جذبات سے الگ ہو کر اس مسئلہ پر غور کیا۔ اس کی سمجھ میں آیا کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ افریقہ کی فرانسیسی کالونیوں کو یک طرفہ طورپر آزاد کردیا جائے۔ یہ اقدام فرانس کے عوام کے جذبات کے سراسر خلاف تھا مگر یہی وہ غیرمقبول فیصلہ ہے جس نے فرانس کو جدید ترقیاتی دوڑ میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت دے دی۔
پاکستان کی موجودہ صورت حال بھی تقریباً یہی ہے۔ کشمیر کے سوال پر انڈیا کے خلاف پاکستان کی بلا اعلان جنگ(undeclared war) نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔دنیا اس کو ایک غیرمحفوظ ملک کے طورپر دیکھتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں…
معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول(valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جا رہے تھے عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقیدہ بھی ثابت ہو رہا تھا۔
اس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کا یہ اعلان دوبارہ تاریخ میں قائم ہوگیا کہ انسانی افکار میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی حقانیت کو رد نہ کر سکے گی۔ آئندہ آنے والا کوئی بھی انقلاب صرف دین خدا وندی کی تصدیق کرے گا۔ وہ کسی بھی حال میں اس کی تردید کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
3۔ تیسرا فکری انقلاب جس سے بعد کی تاریخ میں اسلام کا سابقہ پیش آیا وہ سیکولرزم ہے۔ یہ فکر یورپ کی نشأہ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سیکولرزم ایک ایسی تحریک تھی جو بعد کو آنے والی دنیا کے بجائے موجودہ مادی دنیا کو ساری اہمیت دیتی تھی
…کو حکومت خود اختیاری (self-determination) کہا جاتا ہے۔ یہ تصور اٹھارویں صدی کے فرنچ ریولیوشن کے دوران ظہور میں آچکا تھا۔ جس نے قوموں کو یہ حق دیا کہ وہ تشدد کا استعمال کیے بغیر محض دلیل کی پرامن طاقت سے قومی آزادی کی موثر جدوجہد کر سکیں۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد 1919ء میں بننے والی جمعیۃ اقوام (League of Nations) کے متعلق مسلمانوں کے رہنما علامہ اقبال صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ وہ کفن چوروں کی ایک انجمن ہے جو قبروں کی تقسیم کے لیے منظم کی گئی ہے
چیست جمعیت اقوام کفن دزدے چند بہرتقسیمِ قبور انجمنے ساختہ اند
…اور اوزاعی کی تقلید کرو۔ بلکہ تم وہاں سے لو جہاں سے انھوں نے لیا ہے یعنی قرآن و سنت سے (لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدْ مَالِكًا وَلَا الثَّوْرِيَّ وَلَا الْأَوْزَاعِيَّ، وَخُذْ مِنْ حَيْثُ أَخَذُوا) اعلام الموقعین ، جلد2،صفحہ139۔
شاہ ولی اللہ کے مذکورہ موقف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر نہ وہ مقامی تبدیلیوں سے پوری طرح باخبر تھے اورنہ عالمی تبدیلیوں سے۔ حتیٰ کہ ان کی کتابوں سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان علمی ترقیوں سے بخوبی طور پر واقف تھے جو ان کی پیدائش سے پہلے خود مسلم اسپین میں ہو چکی تھیں۔
مسلم اسپین کی ترقیاں اس بات کی علامت تھیں کہ اب دنیا ایک نئے دورمیں داخل ہو رہی ہے جب کہ ’’سیف‘‘ کے مقابلہ میں ’’علم‘‘ قوت کا نشان ہو گا۔ یہ ترقیاتی سفر پندرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے دائرہ سے نکل کر لاتینی یورپ کے دائرہ میں پہنچ گیا۔…
…فکری رہنمائی کی روشنی میں امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالادستی کو نظرانداز کیا اور اپنی ساری توجہ سائنسی تعلیم پر لگا دی۔ اس کا نتیجہ حیرت ناک طور پر جاپان کی موافقت میں نکلا — نصف صدی سے بھی کم مدت میں مفتوح نے فاتح کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔
انیسویں صدی کے علما اگر مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ اپنے لحاظ سے اسی قسم کا کام کرتے جو صلیبیوں اور جاپانیوں نے اپنے لحاظ سے کیا۔ وہ جہاد کا فتویٰ دینے کے بجائے علم کا فتویٰ دیتے۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے قوم کو علمی تیاریوں کی طرف متوجہ کرتے۔ وہ دین کے ضروری تحفظ کے ساتھ تمام مسلم قوموں کو علوم جدیدہ کے حصول میں لگا دیتے۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلتا اس کے بارے میں کسی فرضی قیاس کی ضرورت نہیں۔ اولاً یورپ اور پھر جاپان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس معاملہ میں واضح تاریخی مثال قائم کر دی ہے اور کوئی بھی صاحب نظر آدمی اس تاریخ کا مطالعہ کر کے اس معاملہ کو بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے۔
اجتہاد کے سلسلہ میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی مخصوص صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اگر کوئی ایسی عملی تجویز پیش کی جائے جو ایک طرف مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو اور دوسری طرف اسلام کے روح و مزاج سے بھی ہم آہنگ یا غیر متصادم ہو تو اسے ایک…
اورنگ زیب عالم گیر
میرا خیال ہے کہ یہ روایت سب سے پہلے قابل لحاظ درجہ میں اورنگ زیب عالم گیر(1618-1707) کے زمانہ میں ٹوٹی۔ اورنگ زیب اگرچہ شاہی خاندان میں پیدا ہوا۔ مگر وہ پورے معنوں میں ایک عالم تھا۔ اس کا باپ شاہ جہاں اس کے بجائے داراشکوہ کو اپنا ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔ اس طرح حالات اورنگ زیب کو اس طرف لے جا رہے تھے کہ وہ بادشاہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک عالم کا کردار ادا کرے۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے 1658ء میں اپنے باپ شاہ جہاں کو تخت سے معزول کرکے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اور اپنے بھائی دارا شکوہ کو 1659ء میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد تقریباً نصف صدی تک وہ مغل سلطنت کا مالک بنا رہا۔
’’تاج‘‘ سے محرومی کے باوجود اورنگ زیب کو بہت سے اعلیٰ وسائل حاصل تھے۔ اگر وہ بادشاہکا رول ادا کرنے کے بجائے عالم کا رول ادا کرنے پر راضی ہو جاتا تو وہ اتنا بڑا کام کر سکتا تھا کہ آئندہ کئی صدیوں تک آنے والے علما کے لیے وہ مشعل راہ کا کام…
…اورعملِ اسلامی کی ایسی روایت قائم کریں جو ان کے بعد صدیوں تک جاری رہ کر دورِ جدید کو ازسر نو اسلام کا دور بنا سکے۔ مگر وہ اپنا یہ تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔ وہ قائم الزمان بننے کے مقام پر تھے مگر وہ عملاً قائم الزمان نہ بن سکے۔
شاہ ولی اللہ کا زمانہ اٹھارویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس سے پہلے سترھویں صدی میں یورپ میں اس نئے دور کا بیج پڑ چکا تھا جو بالآخر پوری نوع انسانی کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والا تھا۔ وہ دورِ تقلید کو دورِ سائنس میں تبدیل کر دینے والا تھا۔ پچھلے زمانہ میں(بشمول دورِ شرک) کائناتی واقعات کی تشریح اعتقادی اصطلاح میں کی جاتی تھی۔ اب تاریخِ بشری میں پہلی بار ایک ایسا دور آ ر ہا تھا جب کہ کائناتی واقعات کی تشریح خالص اسباب مادی کی اصطلاحوں میں کی جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ شاکلۂ انسانی تبدیل ہو جائے۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے قریبی واقعات میں الجھ کر رہ گئے۔ وہ دور رس بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے، جو کہ دراصل قائم الزمان ہونے کا تقاضا تھا۔
قدیم زمانہ میں واقعات عالم کی تشریح اعتقادی اصطلاحوں میں کی جاتی تھی۔ یعنی جو کچھ ہو رہاہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ اسلام سے پہلے غلبۂ شرک کے زمانہ میں اس اعتقادی تشریح کے لیے کئی خداؤں کے حوالے دیے جاتے تھے۔ اسلام کے بعد غلبہ توحید کا…
دور جدید سے بے خبری
اس سے پہلے میں نے ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون’’دور جدید کو جاننے کی ضرورت‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ الجمعیۃ(24 نومبر 1967ء) میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ’’دنیا میں فکر و عمل کا جو انقلاب آیا ہے اس نے اسلام کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مگر یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ اگرچہ امت طویل مدت سے اس سنگین صورت حال سے دو چار ہے۔ مگر آج تک یہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی کہ فی الواقع جدید مسئلہ ہے کیا۔‘‘
ندوۃ العلما لکھنؤ نے 1894 میں ملک کے بڑے بڑے علما کی ایک کمیٹی مقرر کی جس کے ذمّہ یہ کام تھا کہ وہ اصلاح نصاب کے سلسلہ میں اپنی سفارشات پیش کرے۔ اس موقع پر مولانا شاہ محمد حسین صاحب نے جو یادداشت پیش کی، اس کا ایک پیرا گراف مطبوعہ روداد…
معرفت کا حصول
یہاں پہنچ کر جب ہم اپنے گردو پیش کی دنیا پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق کی طرف سے اپنی مخلوقات کے لیے مدد اور رہنمائی کا ایک مستقل عمل جاری ہے۔ جس کو جس چیز کی ضرورت ہے اس کو وہ چیز پہنچائی جا رہی ہے۔
ایک معمولی بھڑ(انجنا) کی مثال لیجیے۔ بھڑکا طریقہ ہے کہ وہ انڈے دینے سے پہلے زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک ٹڈے کو قابو میں کرکے اس کو گڑھے میں رکھ دیتی ہے۔ ایسا کرتے وقت وہ نہایت صحت کے ساتھ ٹڈے کے اس خاص عصبی مقام پر ڈنک مارتی ہے، جس…
عیسائیت
دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کی امیدوں کا مرکز مذہبی تعلیمات ہیں ان میں ایک تو عیسائیت کو ماننے والے ہیں جو بڑے زور شور کے ساتھ اپنے مذہب کو ان مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں عیسائی مصنفین کی اچھی خاصی تعداد نے اسی قسم کے مضامین لکھنے کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے۔ ان میں بعض چوٹی کے مفکرین بھی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے اجتماعی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ مثلاً سوئزر لینڈ سے ایک تحریک اٹھی ہے جس کا نام ہے اخلاقی اسلحہ بلندی(moral re-armament)۔ اس کے بانی ڈاکٹر فرینک بک مین ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا پرستی کے تحت اخلاقی قدروں کو رواج دیا جائے اور لوگوں کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی پیدا کی جائے۔ خاص طور پر ایمانداری، پاکیزگی، بے غرضی، باہمی خیر خواہی اور محبت کو پھیلایا جائے۔ اسی طرح امریکہ میں خاص اسی مقصد کے لیے ایک ادارہ (Research Centre in Creative Altruism)کے نام سے 1949ء سے قائم ہے جس کو ایک پبلک فنڈ سے پندرہ ہزار ڈالر سالانہ کی امداد ملتی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر سوروکن(Sorokin) ہیں۔1941ء میں انہوں نے پہلی بار اپنے تحقیق و مطالعہ کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سب سے اہم کام انسان کے اندرون یا اس کے نفس کی اصلاح ہے۔ جس پر تمام تر خود غرضی کا تسلط ہوگیا ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ اس کے برعکس، اس میں بے لوث محبت کے اس جذبے کو پیدا کیا جائے اور ابھارا جائے جو آفاقی ہو۔ فرد کی اصلاح کے بغیر جو انقلاب بھی لایا جائے گا وہ بالکل سطحی ہوگا اور ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ موجودہ حالات کا علاج تجویز کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب (Crisis of our Age)میں لکھتے ہیں
’’انسان کی پوری ذہنیت اور اس کے جملہ رحجانات میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا رخ ان اصولوں کی طرف ہو جس کو پہاڑی کے وعظ( { FR 2144 })میں پیش کیا گیا تھا۔ جب اس قسم کی تبدیلی ایک خاص حد تک ہو چکی ہوگی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس نہج پر…
مسیحیت اور اسلام کا فرق
سائنسی تحقیق کا کام جب مسلم اسپین سے نکل کر اٹلی اور فرانس اور برطانیہ میں پہنچا اور وہاں اس کے لیے کام ہونے لگا تو جلد ہی ایک تیسرا فریق اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ یہ مسیحی چرچ تھا۔ مسیحیت جب فلسطین اور شام سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو اس کا سابقہ ارسطو کے افکار سے پیش آیا۔ چرچ نے اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے خود اپنے علم کلام کو ارسطو کے منطقی نظام پر ڈھال لیا۔ حتیٰ کہ چند سو سال گزرنے کے بعد وہ ان کے یہاں مقدس بن گیا۔ بعد کو جب سائنسی تحقیقات نے بتایا کہ ارسطو کے افکار محض قیاسی اور بے بنیاد تھے، ان کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، تو چرچ نے محسوس کیا کہ اگر یہ نظریہ رائج ہوا تو اس کا عقائد کا نظام مشتبہ ہو جائے گا۔ اس نے اپنی غلطی کو ماننے کے بجائے طاقت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانہ میں مسیحی چرچ کو یورپ میں زبردست اقتدار حاصل تھا۔ چنانچہ اس نے بزور جدید سائنس کو دبانا شروع کیا۔ تاہم بھیانک مظالم کے باوجود چرچ کو اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔
پندرھویں صدی عیسوی سے پہلے کے زمانہ میں سائنس کا ارتقا مسلم دنیا میں ہوا۔ اس وقت اسپین اور دوسرے مسلم علاقے سائنسی تحقیقات کا مرکز تھے۔ اس زمانہ میں سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی ٹکرائو پیش نہیں آیا۔کیونکہ سچے مذہب اور سچے علم میں کوئی…
مسیحیت میں تبدیلی
مسیحیت جب شام اور فلسطین سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو وہاں یونانی نظریات کا غلبہ تھا۔ مسیحی علما نے یہاں تبلیغی مصلحت کی خاطر وہ عمل کیا جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبہ،9:30) کہا گیا ہے۔ انہوں نے مسیحیت کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اس کو مروجہ افکار کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس زمانہ میں زیوس(Zeus) یونانیوں کا سب سے بڑا دیوتا تھا جس کو خدا کا اکلوتا بیٹا سمجھتے تھے۔ اس کی نقل کرتے ہوئے وہ بھی حضرت مسیح کو خدا کا اکلوتا بیٹا کہنے لگے۔ اسی طرح اس زمانہ کے جغرافی اور طبیعی نظریات کو بھی انہوں نے کتاب مقدس کی تفسیر کے طور پر لے لیا اور اس کو اپنی مذہبی کتابوں میں اس طرح درج کر لیا جیسے کہ وہ بھی آسمان سے اترے ہوں۔
مسیحیوں کی خوش قسمتی سے اسی زمانہ میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مسیحیت قبول کرلی۔ وہ306ء سے لے کر337ء تک عظیم رومی سلطنت کا شہنشاہ رہا۔ اس نے اپنے شاہی اثرات کے تحت تمام یورپ میں مسیحیت پھیلا دی۔ یہ لوگ جنہوں نے مسیحیت قبول کی انہوں نے کسی…
مذہب اور زندگی کی علیحدگی
مسلمانوں کے زوال کے بعد جب یورپ میں جدید تحقیق کا کام شروع ہوا تو ’’مسیحی علوم ‘‘ کی غلطی واضح ہونے لگی۔ جدید علما نے جب فلکیات اور جغرافیہ اور طبیعیات سے متعلق اپنی تحقیقات شائع کیں تو مذہبی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مسیحی چرچ نے اولاً ان علما کی بےدینی کے فتوے دیے۔ جب اس سے لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہوئیں تو پوپ کے حکم خاص سے احتساب کی عدالت(Inquisition) قائم ہوئی۔ اندازہ ہے کہ تقریباً تین لاکھ آدمیوں کو مسیحی احتساب کی عدالت میں کھڑا ہونا پڑا۔ ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ تقریباً30 ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیاگیا۔ ان سزا یافتگان میں گلیلیو اور برونو (Brunoe) جیسے لوگ بھی شامل تھے۔
اس کے نتیجہ میں چرچ اور سائنس کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو بالآخر علم اور مذہب کی جنگ بن گئی۔ مفروضہ مقدس عقائد پر بے جا اصرار کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں یہ خیال عام ہوگیا کہ علم اور مذہب دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے…
…کرنے اور اس کو کنٹرول کرنے کا دروازہ بند کر دیا۔ قرآن نے لوگوں کو یہ ذہن دیا کہ نیچر (فطرت) خود انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی جانچ کرنے اور اس کو بھر پور طور پر اپنے فائدہ کے لیے استعمال کرے (الجاثیہ،45:13)۔
قرآن کی اس تعلیم نے بھی لوگوں کو گہرائی کے ساتھ متاثر کیا۔ چنانچہ تاریخ میں پہلی بار نیچر (فطرت) کو مسخر کرنے کا ذہن پیدا ہوا۔ لوگ نیچر کی تحقیق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ صدیوں کے عمل کے بعد وہ انقلاب ظہور میں آیا جس کو آج سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔
قرآن سے پہلے انسان اونچے نیچے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ قرآن نے نہایت طاقت کے ساتھ اعلان کیا کہ تمام انسان یکساں طور پر خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ تمام انسان خدا کی نظر میں ایک ہیں۔ انسانی برابری کے لیے قرآن کی اس آواز نے نہایت گہرائی کے…
…۔ ان میں الادریسی جیسا جغرافیہ داں پیدا ہوا جس نے سسلی کے بادشاہ راجر دوم کے لیے سب سے پہلا دنیا کا نقشہ بنایا، ان میں ایسے ماہرین صنعت پیدا ہوئے کہ انگلینڈ کے بادشاہ او فارکس نے اپنے یہاں سونے کا سکہ ڈھالنے کےلیے بغدا د سے سکہ گر بلائے ۔
انھوں نے فن جہاز رانی میں اتنی ترقی کی کہ ان کے یہاں احمد بن ماجد جیسا شخص پیدا ہوا جس نے واسکوڈی گاما کی بحری رہنمائی کی جو پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں یورپ اور ہندستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کرنے کے لیے نکلا تھا۔ ان کے یہاں ابو عبیدہ مسلم البلنسی جیسے زمینی علوم کے ماہر پیدا ہوئے جن کی تحقیقات کو پڑھ کر کولمبس کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کچھ اور بھی دنیائیں ہیں جن کو دریافت کرنا چاہیے ۔ چنانچہ اسی شعور اور حوصلہ کے تحت وہ یورپ کے ساحل سے روانہ ہوا اور آخر کار نئی دنیا (امریکہ ) کو دریافت کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک کائناتی دین اور ایک آفاقی نظریہ ہے اور اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ اس کی تائید کرتی ہے ۔ اسلام کی آفاقیت صرف نظریاتی چیز نہیں وہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے ۔
…یہ مزاج آجائے کہ وہ معاملات کو انصاف کی نظر سے دیکھیں۔ وہ اپنوں کے معاملہ میں نرمی کا جو طریقہ اختیار کرتے ہیں، وہی نرم طریقہ غیروں کے معاملہ میں بھی اختیار کریں تو کبھی کوئی جھگڑا نہ ہو۔ اس کے بعد تمام شر و فساد اپنےآپ ختم ہو جائے ۔
حال میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو تیس سال سے تجارت کرتے ہیں۔ اور آج کل جدہ میں ہیں۔ وہ اپنی تجارت میں نہایت کامیاب ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے زندگی کا بہت تجربہ اٹھایا ہے اور بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے ۔ یہ بتائیے کہ لوگوں کے درمیان کامیاب زندگی گزارنے کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس کا راز وہی ہے جس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے۔ یعنی ناموافق باتوں سے ٹکرانے کے بجائے ان کو نظر انداز کرنا۔ انھوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ٹکراؤ کے موقع پر یک طرفہ طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار رہتا ہوں ۔ اس لیے میرا راستہ کبھی کھوٹا نہیں ہوتا۔ میرے لیے کوئی رکاوٹ رکاوٹ ثابت نہیں ہوتی۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے بہت سے واقعات بتائے۔
مثلاً انھوں نے کہا کہ ایک شخص کسی بات پر مجھ سے بگڑ گیا۔ اگلے دن وہ میرے پاس آیا اور مجھ کو بری طرح گالیاں دینے لگا۔ اس نے مجھے زبر دست دھمکیاں دیں۔ میں خاموش سنتا رہا۔ اس کے بعد میں نے کہا تم کو جو کرنا ہو کر و۔ مگر جان لو کہ میرے پاس…
…نے کہا تھا کہ مولانا محمد علی جوہر نے ایک بار اپنے بیان میں کہا کہ جہاں تک پالٹکس کا تعلق ہے مہاتما گاندھی میرے لیڈر ہیں۔ مگر جہاں تک مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کا تعلق ہے میں ایک فاسق وفاجر مسلمان کو مہاتما گاندھی سے اچھا سمجھتا ہوں۔
میں نے کہا کہ آپ لوگ چوں کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک سمجھتے ہیں اس لیے آپ کو یہ چیز مسئلہ معلوم ہوتی ہے۔ مگر میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک نہیں سمجھتا۔ اس لیے یہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا کہ میری پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف بولے تو میں ضرور اس کا جواب دیتا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمانوں کے رویّے پر تنقید کرے تو میں کہہ دیتا ہوں کہ میں اسلام کا ایڈوکیٹ ہوں نہ کہ مسلمانوں کا۔آپ لوگ مسلمانوں کے طرزِ عمل کے بارے میں مسلمانوں سے دریافت کرسکتے ہیں۔
حبیب بھائی نے یہ سوال کیا کہ آپ امن(peace) کا جوپیغام دے رہے ہیں کیا ایسی کوئی آئڈیل سوسائٹی دنیا میں رہی ہے جہاں پوری طرح امن کا ماحول قائم ہوگیا ہو۔ اگر ایسی کوئی سوسائٹی ہو تو اس کے متعلق، ہم کو بتائیں۔
…وہ سب پُرامن سماج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً ہندستان، امریکا، اور یورپ کے اکثرممالک ۔ پریکٹکل پیمانے کے اعتبار سے یہ سارے ملک پُرامن ملک کہے جاسکتے ہیں۔ لیکن آئڈیل پیمانے سے ناپنے کی وجہ سے سارے لوگ اِن ملکوں کو غیر پُر امن ممالک کہتے ہیں۔
احمد بھائی نے سوال کیا کہ دعوہ ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے۔ میںنے کہا کہ دعوہ ورک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس کو سیاسی مسائل اور قومی مسائل کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طورپر قومی شکایتوں میں جیتے ہیں۔ وہ سیاسی محرومی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کی یہی نفسیات دعوہ ورک میںسب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اِس منفی نفسیات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ مسلمان دوسری قوموں کو ’’غیر قوم‘‘ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ ان کو اپنے حریف یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اِس بنا پرمسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا نہیںہوتا۔ حالاں کہ دوسری قوموں کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہی دعوہ ورک کا اصل سرمایہ ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، خود غیر مسلموں کی طرف سے دعوہ ورک کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیںہے۔ بظاہر اگر کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے تو وہ صرف اِس لیے ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان غیر مسلموں کے بارے میں معتدل نفسیات سے خالی ہوگیے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلمان اِنھیں غیر مسلم قوموں سے بزنس کے تعلقات رکھتے ہیں۔وہ انھیں کے دفتروں میں جاب کرتے ہیں۔ اِس طرح ایسا ہورہا ہے کہ غیرمسلموں کے پاس مادّی مفادکے جومواقع ہیں ان کو تو مسلمان خوب خوب حاصل کررہے ہیں…
…کا انجام بلا شبہہ جہنم کی آگ ہے۔ جو لوگ اِس بھیانک عمل میں مبتلا ہیں اور جو لوگ اُس کی کھلی مذمت نہیں کرتے، دونوں کو اِس سے ڈرنا چاہیے کہ وہ کہیں اِس خدائی وارننگ کا مصداق نہ بن جائیں لأملئن جہنّم منک وممّن تبعک منہم أجمعین (ص 85 )
دشمنی اور نفرت کے جذبات سے مغلوب ہوکر خود کش بم باری کرنا گویا کہ جان بوجھ کر جہنم کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے، خود کش بم باری کرنے والوں کے لیے بھی اور جو لوگ اِس پر کھلی نکیر نہ کریں، اُن کے لیے بھی۔
محدودیت میں جینا
…کو مشتعل کررکھا ہے۔ یہی اشتعال مذکورہ قسم کے واقعات کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ علماء کی دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ اِس قسم کے مسلمانوں کو کھلے طورپر کنڈم نہیں کرتے، وہ ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔ یہی وہ علماء ہیںجن کو حدیث میں علمائِ سوء کہا گیا ہے۔
انٹرویور کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں فرقہ وارانہ ذہنیت کی موجودگی میں ڈائلاگ کس طرح ممکن ہے۔ اِس کے جواب میں بتایاگیا کہ اختلافات فطری ہیں۔ اصل مسئلہ اختلاف کا ہونا نہیںہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے بارے میں رواداری (tolerance) کا ذہن لوگوں کے اندر موجود نہیں۔میںنے کہا کہ یورپ میں بھی اس طرح کے اختلافات ہیں، لیکن وہاں اختلافات سنگین مسئلہ نہیں بنتے، کیوں کہ وہاں ڈائلاگ کلچر ہے، جب کہ انڈیا میں ڈبیٹ کلچر(debate culture) ہے۔ میں اور میرے ساتھی یہ کوشش کررہے ہیں کہ انڈیا میں بھی لوگوں کے درمیان ڈائلاگ کلچر آجائے۔
انٹرویو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی کے افراد خود اپنی کمیونٹی کی غلطیوں کے خلاف بولیں، اور ہندو کمیونٹی کے افراد ہندو کمیونٹی کے غلطی پر تنقید کریں۔ مسلمان اگر ہندو کمیونٹی کے خلاف بولیں یا…
…سے آشوز(Austhwitz) کے ایک رسٹورنٹ میںسادہ رسپشن دیا گیا۔ اس میں معروف لنچ(lunch) کے بجائے لوگوں کو صرف جوس اور فروٹ (snack) دیاگیا تھا۔ ایسا انھوں نے رمضان کے احترام میں کیا تھا۔ یہ گویا ترکِ طعام کے بجائے تقلیلِ طعام کا ایک مظاہرہ تھا۔
میںنے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کے عروج وزوال میںبہت بڑا سبق ہے۔ ہٹلر کی کتاب میری جدوجہد (My Struggle) پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی حوصلے میں سرشار ہے۔ اس کو یقین ہے کہ وہ پورے یورپ میںنازی ازم (Nazism) کو غالب کردے گا۔ اِسی تصور کے تحت اس نے 1939 میں دوسری عالمی جنگ چھیڑ دی، لیکن اس کا انجام صرف یہ ہوا کہ جرمنی تباہ ہوگیا اور خود ہٹلر نے ایک بنکر (bunker) کے اندر خودکشی کرلی۔
یہی انجام اِس قسم کے دوسرے لوگوں کا بار بار ہوا ہے۔ مثلاً اسکندر اعظم، چنگیز خاں، نادر خاں، نپولین، اسٹالن، وغیرہ۔ جب کسی آدمی کو بڑی سیاسی طاقت مل جائے تو وہ شعوری یا غیرشعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں سب کچھ کرسکتا ہوں۔ اِس قسم کے…
World over, 1 in 4 persons is a Muslim
Washington: The global Muslim population stands at 1.57 billion, meaning that nearly 1 in 4 people in the world practice Islam, according to a report on Wednesday billed as the most comprehensive of its kind. The Pew Forum on Religion and Public Life report provides a precise number for a population whose size has long been subject to guesswork, with estimates ranging anywhere from 1 billion to 1.8 billion. The project, three years in the making, also presents a portrait of the Muslim world that might surprise some. For instance, Russia has more Muslims than Jordan and Libya combined. “This whole idea that Muslims are Arabs and Arabs are Muslims is really just obliterated by this report,” said Amaney Jamal, a professor of politics at Princeton University. The report also sought to pinpoint the world's Sunni-Shia breakdown, but difficulties arose because so few countries track sectarian affiliation. As a result, the Shia numbers are not as precise; the report estimates that Shias represent between 10% and 13% of the Muslim population.The report provides further evidence that while the heart of Islam might beat in the Middle East, its greatest numbers lie in Asia: More than 60% of the world’s Muslims live in Asia. About 20% live in the Middle East and North Africa, 15% live in Sub-Saharan Africa, 2.4% are in Europe and 0.3% in the Americas. Three-quarters of Muslims living as minorities are concentrated in five countries: India (161 million), Ethiopia (28 million), China (22 million), Russia (16 million) and Tanzania (13 million).
India's immense size is underscored by the fact that it boasts the third-largest Muslim population of any nation - yet Muslims account for just 13% of the population. AP (The Times of India, New Delhi, October 9, p. 21)
یاجوج اور ماجوج کا مصداق
یاجوج اور ماجوج سے کون لوگ مراد ہیں، اِس کے بارے میں اہلِ علم نے مختلف رائیں دی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اِس معاملے میں مولانا انور شاہ کشمیری (وفات 1934 ) کی رائے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے روس اور برطانیہ اور جرمنی کی قوموں کو اس کا مصداق ٹھیرایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے أما الکلام فی یأجوج ومأجوج، فاعلم أنہم من ذریۃ یافث باتفاق المؤرخین۔ ویقال لہم في أوربّا ’کاک میکاک‘ وفی مقدمۃ ابن خلدون ’غوغ ماغوغ‘ وللبریطانیۃ إقرار بأنہم من ذریۃ مأجوج، وکذالک ألمانیا أیضا منہم، وأما الروس فہم من ذریۃ یأجوج (فیض الباري علی صحیح البخاري، جلد4، صفحہ 23)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یاجوج اور ماجوج سے مراد وہ مغربی قومیں (western nations) ہیں جو یورپ میںآباد ہوئیں۔
یاجوج اور ماجوج کے بارے میں جو دستیاب معلومات (available data)ہیں، وہ سب سے زیادہ یورپی قوموں پر صادق آتی ہیں۔ یہ معلومات زیادہ تر تمثیل کی زبان میں ہیں، اِس لیے لوگوں کو ان کا مفہوم سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ اگر اِس حقیقت کو ملحوظ رکھا…
…کے ذریعے توحید پر مبنی انقلاب واقع ہوا، اور فطرت پرستی کی جگہ خدا پرستی کا رواج دنیا میں قائم ہوا، اس کے بعد فطرت کا تقدس (holiness) ٹوٹ گیا۔ اب فطرت(nature) عبادت کے بجائے تسخیر کا موضوع بن گئی۔ یہی جدید مادّی تہذیب کا نقطۂ آغاز تھا۔
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تاریخِ توحید میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ توحید کا عقیدہ فکری مرحلے سے گزر کر انقلاب کے مرحلے میں پہنچ گیا۔ہجرتِ نبوی کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوا، اور کعبہ کو بتوں سے پاک کردیاگیا۔ اِس کے جلد ہی بعد پورے عرب میں توحید کا دبدبہ قائم ہوگیا، اور پھر بہت کم مدت میں تقریباً پوری دنیا میں یہ واقعہ پیش آیا کہ فطرت پرستی یا تو ختم ہوگئی، یا وہ غیر موثر ہو کر گوشہ گیر ہونے پر مجبور ہوگئی۔
اس انقلاب کا اصل پہلو اُس کا مذہبی پہلو تھا۔ وہ اہلِ اسلام کے ذریعے دنیا میں قائم ہوا۔ اِس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو اُس کا سیکولر پہلو کہا جاسکتا ہے۔ اِس دوسرے پہلو کی اشاعت زیادہ تر یورپ میں ہوئی۔ اہلِ یورپ نے اس کو اپنی خصوصی تحقیق کا…
…جس زمانے کا ذکر ہے، اُس سے مراد مہدی کا زمانہ ہے۔ اِسی طرح سنن الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی میں اِس روایت کے تحت یہ الفاظ درج ہیں قالوا یرید بہ زمن خروج المہدیّ(6/56) یعنی علماء نے کہا ہے کہ اِس زمانے سے مراد مہدی کے خروج کا زمانہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ مہدی کا زمانہ فتنۂ دہیماء کا زمانہ ہوگا۔ اُس زمانے میں افکار کی کثرت کے نتیجے میں حقائق مشتبہ ہوجائیں گے۔ تمام لوگ فکری کنفیوژن میں جینے لگیں گے۔ ایسی حالت میں مہدی کے ظہور کے باوجود لوگوں کے لیے مہدی پر یقین کرنا مشکل ہوجائے گا۔ لوگ دیکھیں گے کہ مہدی جو بات کہہ رہا ہے، وہ پوری طرح مبنی برحق ہے۔ لیکن مہدی عام انسان جیسا ایک انسان ہوگا، اِس بنا پر لوگوں کے لیے شبہہ کا ایک عنصر باقی رہے گا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید رؤیائِ صادقہ (سچے خواب) کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق، جن لوگوں کے اندر سچی تلاش کا جذبہ ہوگا، اُن کو مہدی کی نسبت سے تائیدی خواب دکھائے جائیں گے۔ یہ خواب گویا کہ مہدی کے حق میں تائید…
… سے لیاگیا۔ اِس واقعے کی طرف اشارہ ایک حدیثِ رسول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا إنّ اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب إنّ اللہ یؤید الدین بالرجل الفاجر)
اِس حدیثِ رسول میں ’’فاجر‘‘ سے مراد غیر اہلِ ایمان (non-believers) ہیں۔ غالباً یہی غیر اہلِ ایمان تھے جن کو قرآن اور حدیث میں یاجوج اور ماجوج کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ غیر اہلِ ایمان وہ مغربی قومیں ہیں جو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد ابھریں۔ مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کروسیڈس (Crusades) کی طویل جنگ میں مغربی قوموں کی ہار کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ کروسیڈس کی طویل جنگ چودھویں صدی عیسوی میں ختم ہوئی۔ اور اِسی چودھویں صدی میں مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز ہوا۔
کروسیڈس کی طویل جنگ میں ایک طرف مسلم حکومتیں تھیں اور دوسری طرف تقریباً پورا مسیحی یورپ اِس طویل جنگ میں مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ یہ شکست اُن کے لیے ایک عظیم شاک (super shock) کے ہم معنی تھی۔ اِس کے بعد…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، اس کے چار بڑے مرحلے ہیں— اظہارِ دین، حفاظتِ وحی، تبیینِ حق، ادخالِ کلمہ۔ یہ چاروں مرحلے قیاسی نہیں، بلکہ وہ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔
1 - پہلا مرحلہ وہ ہے جس کو قرآن میں اظہاردین (48: 28)یا استیصالِ فتنہ (8: 39) کہاگیا ہے۔ اِس سے مراد ہے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ اور کامل معنوںمیں مذہبی آزادی (religious freedom) کے دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اِس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔
2 - دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اِس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون (15: 9)اِس آیت میں ’’الذکر‘‘سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے…
…تعلیم پانے والے افراد کے سابق شاکلہ کو توڑ کر اُن کو اِس قابل بنایا کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور تعصبات (prejudices) سے خالی ہو کر چیزوں کو ایز اِٹ اِز (as it is) دیکھ سکیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہی کام جدید سیکولر تہذیب نے بھی انجام دیا۔
اِس طرح جدید سیکولر اداروں میں تعلیم پاکر جو افراد تیا رہوئے، وہ گویا کہ بیسویں صدی کے ’’بنو اسماعیل‘‘ تھے۔ یہ لوگ اپنی تربیت کے تحت، غیر متعصبانہ ذہن رکھتے تھے۔ وہ اِس قابل تھے کہ اُن کے سامنے بے آمیز حق پیش کیا جائے تو وہ اُس کے بارے میں آزادانہ طورپر سوچیں اور اس کو قبول کرلیں۔ اِس طرح یہ جدید نسل اُن لوگوں کے لیے ایک موافق نسل بن گئی جن کو موجودہ زمانے میں اخوانِ رسول کا رول ادا کرنا تھا۔ یہ ایک مشترک تائیدی عمل کا واقعہ ہے جو دونوں گروہوں کے لیے خصوصی خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔
مسلم دورِ اقتدار
…لیے استعمال کریں۔موجودہ زمانے میں دعوت حق کے لیے تمام رکاوٹیں کلی طور پر ختم ہوچکی ہیں۔ اب اگر کسی داعی کے لیے رکاوٹ پیدا ہو تو وہ یقینی طورپر اس کی اپنی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ ہوگی، وہ ہرگز حالات کے تحت پیش آنے والی رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔
3 - قرآن کی سورہ حم السجدہ میں مستقبل کے اعتبار سے، ایک پیشین گوئی اِن الفاظ میں آئی ہے سنریہم اٰیاتنا فی الاٰفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (41: 53) یعنی عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ امر پوری طرح ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں دراصل اُس عمل کا ذکر ہے جو صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد شروع ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں وہ علمی واقعہ پیش آیا جس کو تاریخ میں اسپریچول کروسیڈس (spiritual crusades) کہاجاتا ہے۔اس اسپریچول کروسیڈ کے بعد یورپ…
نینڈر تھل مین
نظريهٔ ارتقا كے حاميوں نے بهت سے ’’قديم انسان‘‘ دريافت كيے هيں۔ مثلاً پلٹ ڈاؤن مين، نينڈر تھل مين (neanderthal man)، پيكنگ مين، جاوا مين وغيره۔ قديم انسان كي يه تمام صورتيں فاسل كي بنياد پر بنائي گئي هيں جو زمين ميں كھدائي سے برآمد هوئي هيں۔ نظريهٔ ارتقا زندگي كي مختلف قسموں كے ليے جس عمل كو فرض كرتا هے اس كے مطابق درمياني انواعِ حيات (intermediate species) كا وجود بھي لازماً هونا چاهيے۔ مگر ايسي انواع ابھي تك گم شده كڑيوں كي حيثيت ركھتي هيں۔ ڈارون نے تسليم كيا تھا كه درمياني انواعِ حيات كے نمونے همارے پاس موجود نهيں هيں۔ تاهم ڈارون كے بعد قديم فاسلز كي بنياد پر بهت سي عجيب وغريب انساني شكليں بنائي گئي هيں۔ اور يه فرض كيا جاتا هے كه يه انساني سلسلهٔ حيات كي قديم ارتقائي كڑياں هيں۔
انھيں ميں سے ايك نينڈر تھل مين هے جو جرمني كي نينڈر نامي وادي كي طرف منسوب هے۔ اس قسم كي هڈياں اور ڈھانچے 1856سے 1908تك ايشيا ، يورپ، شمالي افريقه كے تقريباً 50 مقامات پر ملے۔پروفيسر بول (Marcellin Boule) نے ان ٹكڑوں كا مشاهده كركے ان كي…
…تھی ۔ اگرچہ ان میں سے ہر ایک اس پکچر کو دیکھے ہوئے تھا مگر وہ اس کی کہانی اور اس کے مکالمے اس طرح ایک دوسرے کو سنا رہے تھے جیسے وہ کوئی نئی بات کہہ رہے ہوں۔ پکچر کے ساتھ ان کی بڑھی ہوئی دلچسپی نے ان کے لئے تکرار کا تصور حذف کر دیا تھا۔
جب کسی کے سامنے کوئی بات کہی جائے اور وہ اس کو "تکرار" کہہ کر بے لطف ہونے لگے تو سمجھ لیجئے کہ یہ بات اس کی زندگی میں دل چسپی بن کر داخل نہیں ہوئی ہے ۔ اگر وہ اس کے لئے حقیقی دل چسپی کی چیز ہوتی تو اس کی ہر تکرار اس کو نیا لطف دیتی نہ یہ کہ وہ اس کو بے لطف بنادے۔
5 مارچ 1983
8 مئی 1983
ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا : المنكرون لعذاب القبر ونعيه وشبهتھم والرد عليهم (دقبرکےعذاب اوراسکی نعمت کے منکرین اور ان کا شبہہ اور ان کی تر دید)
اس میں بتایا گیا تھا کہ ملاحدہ اور زنادقہ عذاب قبر اور نعیم قبر کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے قبروں کو کھول کر دیکھا تو ان میں نہ عذاب تھا اور نعمت ۔ ان کہنا ہے کہ ایسی تمام حدیثیں غلط ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں…
…جب کہ تاریخ یورپ کا یہ واقعہ ہوا ۔ مسلمانوں نے پسماندہ اسپین کو علم وفن کا مرکز بنا دیا تھا ۔ مگر عیسائیوں کے مجنونانہ تعصب کی وجہ سے مسلمانوں کو اسپین سے نکلنا پڑا اور نہ صرف اسپین بلکہ سارے یورپ میں ترقی کی رفتار سیکڑوں سال پیچھے ہوگئی ۔
فرانس کے محاذ پرعرانوں کی ناکامی نے دنیا کی ترقی کو صدیوں کے لئے روک دیا مسلمانوں کی نا اتفاقی کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرینک (Franks) کے بادشاہ چارلس مارٹل Charles Martel) نے تورس Tours) ) کے مقام پر 732ء میں مسلمانوں کو شکست دی۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی یورپ کی طرف پیش قدمی رک گئی۔
اسلام اسپین کے راستہ سے سائنسی ترقی کا پیغام لے کر یورپ میں داخل ہو رہا تھا۔ مگر جب فرانس کی سرحد پر مسلمانوں کی شکست کے بعد یورپ عیسائیت کے حوالے ہو گیا تو سائنسی کھوج کرنے والوں کو بھیانک رکاوٹوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اطالوی عالم برونو…
برٹرینڈ رسل( Bertrand Russell) نے کہا ہے کہ خوشی کو پانے کی ناگریز شرط یہ ہے کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں ، ان میں سے کچھ چیزوں کے بغیر آپ رہنے پر راضی ہو جائیں ۔
To be without some of the things you want is an indispensable part of happiness.
یہ وہی بات ہے جس کو مذہب میں قناعت کہا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں خوشی اور ذہنی سکون کو پانے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی پائی ہوئی چیز پر راضی ہو جائے اور جو چیز اس کو نہیں ملی ، اس کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔
…قریش پابند ہو گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی کی حمایت نہ کریں گے ۔ صلح حدیبیہ کے فورا بعد آپ نے خیبر کی طرف اقدام کیا اور قریش اپنے معاہدہ کی بنا پر غیر جانب دار اور ناطرف دار رہے۔ اس طرح یہ مہم بآسانی کامیاب ہوگئی۔
دوسرا اس سے زیادہ بڑا فائدہ دعوتی تھا۔ جنگ کے حالات ختم ہونے کے بعد دعوت کا کام بہت بڑھ گیا۔ اس میں یہ تھا کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد ہمسایہ بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حکمرانوں کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا۔ آپ نے جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط روانہ کئے ان میں رومی حکمراں ہرقل ، ایرانی حکمران کسریٰ، پرویز اور حبشی حکمراں نجاشی تھا۔ اس طرح آپ کی دعوت بیک وقت تینوں آباد…
…1935 میں میوزیم کے طور پر اس کے دروازے کھولے گئے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق استانبول میں 25 قدیم گرجے ہیں جو مسجد میں تبدیل کر دئے گئے ہیں۔ ایا صوفیا کی عمارت چونکہ بہت بڑی اور تاریخی تھی ، اس لئے اس کی زیادہ شہرت ہوئی۔
اتا ترک نے اگرچہ ترکی میں اقتدار پانے کے بعد بے شمار حماقتیں کیں ۔ مگر ایا صوفیا کے بارہ میں اس کا حکم میرے نزدیک درست تھا۔ دوسروں کے عبادت خانہ کو مسجد میں تبدیل کرنا صرف اس وقت درست ہے جب کہ اس کو خرید لیا جائے یا ان سے اس کی اجازت لی جائے۔ اس کے بعد دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی عمارت کو کسی پبلک مقصد کے لئے استعمال کیا جائے ، جیسا کہ اتا ترک نے کیا۔
23 نومبر 1984
…میرا گمان یہ ہے کہ دجال دراصل دور پریس کے لیڈر ہیں ۔ موجودہ زمانہ کے لیڈر متفقہ طور پر تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اور یہ لیڈر یقینی طور پر ان چیزوں کی بدولت ظہور میں آئے ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔
پہلے زمانہ میں شہرت پسند اور جاہ طلب انسانوں کے لئے اپنے شوق کی ایک حد ہوتی تھی۔ آج اشاعت کے جدید ذرائع نے اس کولا محدود حد تک وسیع کر دیا ہے۔ اس لئے اس قسم کے لوگوں کا شوق بھی اتنا ہی طور پر بڑھ گیا ہے۔ یہی حال مسلم لیڈروں کا بھی ہے ، خواہ وہ بے ریش لیڈر ہوں یا باریش لیڈر ۔
موجودہ زمانہ کے تمام لیڈرشہرت کے لیڈر ہیں۔ یعنی وہ مشہور ہوگئے اس لئے وہ لیڈر بن گئے۔ لیڈری کے اس سستے ذریعے نے موجودہ زمانہ کے لیڈر پیدا کئے ہیں، اور یہی وہ لیڈر ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل پیدا کئے ہیں۔
ان اسباب کے نتیجہ میں تمام مسلمانوں کے ذہن پر سیاسی طرز فکر غالب آگیا ہے ۔ پوری مسلم قوم (Power conscious) ہوگئی۔ مسلمانوں کے اس سیاسی مزاج نے ان کو حقیقی اسلام سےدور کر دیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام میں مبتلا ہیں۔
ذہن کے بگاڑ کا مسئلہ سینکڑوں سال سے چلا آرہا ہے۔ تصوف کی تحریک غالبا یہی تھی کہ مسلمانوں کو دوبارہ سیاسی اسلام سے نکال کر ربانی اسلام کی طرف لایا جائے ۔ صوفیاء کا یہ مقصد درست تھا مگر اس کے لئے انھوں نے غلط طریق کار اختیار کیا۔ ربانیت حاصل کرنے کا اصل طریقہ تفکر ہے۔ مگر اس کو انھوں نے اوراو پرقائم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں تبلیغی جماعت بھی اسی قسم کی اصلاحی کوشش کے طور پر اٹھی۔ مگر اس نے بھی یہ غلطی کی کہ فضائل کوربانی بیداری کا یہ بنایا۔ حالاں کہ ربانی بیداری کا صحیح ذریعہ ذہنی معرفت ہے۔
اب پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی مزاج کو ختم کیا جائے۔ اور اس کی جگہ ربانی مزاج پیدا کیا جائے۔ جب تک یہ ذہنی اصلاح نہ ہومسلمانوں میں کوئی حقیقی اسلامی بیداری نہیں آسکتی۔
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 74 distinct lectures.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God.
جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اِس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے:
Turkey is like a geographical bridge between East and West.
…کرنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، خواہ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا ہو۔ کیوں کہ سفر بہر حال سفر ہے۔ جہاز بدلنے کی صورت میں مسافر کو ایک قسم کی راحت مل جاتی ہے۔ ایرپورٹ پر چڑھنے اترنے اور نقل و حرکت کی وجہ سے سفر کی اکتاہٹ بڑی حدتک کم ہوجاتی ہے۔
استانبول پہنچے تو دوبارہ وہی دیکھا ہوا منظر سامنے تھا۔ استانبول یورپ کا ایک شہر ہے مگر یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ شہروں کے مقابلہ میں ابھی وہ بہت پیچھے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی ابھی تک یورپین یونین کا ممبر نہ بنایا جاسکا۔
مسلمان عام طورپراس کو تعصب کا ایک معاملہ سمجھتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ ترکی کو یورپی یونین کے ساتھ ملانے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی غریب شخص ایک امیر شخص سے کہے کہ آؤ ہم اور تم اپنے دسترخوان کو ملالیں اور مشترک طورپر ایک ساتھ…
…کا رواج ہوا تھا، اِسی طرح بعد کے زمانے میں یورپ کے اختلاط سے وہ ماحول پیداہوا جس کے زیر اثر اتاترک نے ترکی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں تبدیل کردیا۔ اِس پس منظر میں رسم الخط کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو وہ زیادہ سنگین نظر نہیں آئے گا۔
اِس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ ترکی کے رسم الخط کو بدلنا وقت کا ایک تقاضا بن چکا تھا۔ ترکی جزئی طورپر یورپ کا ایک حصہ ہے۔ یورپ کی تمام زبانیں رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری تھا کہ ترکی زبان بھی اپنے پڑوسی ملکوں کے رسم الخط میں لکھی جائے۔
بیسویں صدی کے ربع اول میں جب ترکی زبان کا رسم الخط بدلا گیا تو بظاہر وہ ایک ریڈیکل واقعہ نظر آتا تھا، لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ ایک دور اندیشی کا فیصلہ تھا۔ جلد ہی بعد دنیا میں کمپیوٹر کا دور آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، کمپیوٹر کی…
…ہے- میں اپنے آپ کو اِس کا اہل نہیں پاتا- اِس لیے میں اِس کام کے لیے معذرت خواہ ہوں-اسپین میں جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا، اُن میں سے ایک مقامی اخبار کا آفس تھا- یہاں سے اسپینش زبان میں ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتاہے- اس کا نام یہ ہے:
Islam Hoy (Islam Today)
یہاں اخبار کے ایڈیٹر سے بھی ملاقات ہوئی- اِس اخبار کے کئی ایڈیشن دیکھے- معلوم ہوا کہ یہ سب مسلم قومی ذہن کی نمائندگی کررہے ہیں- اِسی طرح یہاںمدرسہ ایڈیشن (Madrasa Edition) کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ ہے- اس کے انچارج مذکورہ اسپینی نوجوان…
اِس ادارے کے تحت، دوحہ (قطر) میں ساتویں سالانہ انٹرنیشنل کانفرنس 20-21 اکتوبر 2009 کو ہوئی۔ اس کانفرنس کا متعین موضوع یہ تھا
التضامن الإنسانی(Human Solidarity)
اِس کانفرنس میں شرکت کے لیے دوحہ انٹرنیشنل سنٹر کے صدر الدکتور ابراہیم صالح النعیمی کے دستخط سے ایک دعوت نامہ مورخہ 14 جولائی 2009 ملا۔ اِس کے مطابق، د وحہ کا سفر ہوا۔ میرے ساتھ مددگار کے طورپر میرے دو اور ساتھی اِس سفرمیں شریک تھے۔
…ترسیل قرآن (نیویارک، امریکا) کی طرف سے بڑے پیمانے پر غیرمسلموں کو صدر اسلامی مرکز کا انگریزی ترجمہ قرآن دیاگیا۔ اِس موقع پر برطانیہ کے حسب ذیل تین اداروں میں پرافٹ آف پیس، تذکیر القرآن (انگریزی) اور قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوایاگیا:
آکسفورڈ سنٹر آف اسلامک اسٹڈیز (Oxford Centre of Islamic Studies) ۔
مارک فیلڈ سنٹر، لیسٹر (Markfield Centre, Leicester) ۔
…وقد فَعَلَ (تفسير القرطبي، جلد 8، صفحہ 122) یعنی، اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ و ہ جزیرِہ عرب میں دین کو غالب کرے گا اور اس نے ایسا کر دیا۔ اظہار دین کا یہ عمل جزیرہ عرب سے مخصوص ہے، جو اس طرح ہو گیا کہ وہاں کوئی کافر باقی نہیں رہا۔
وَقِيلَمَخْصُوصٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَقَدْ حَصَلَ ذَلِكَ مَا أَبْقَى فِيهَا أَحَدًا مِنَ الْكُفَّارِ ( البحر المحيط في التفسير ،جلد5 ، صفحہ406)
اظہار دین کا طریقہ بنی اسماعیل کے معاملہ میں یہ اختیار کیا گیا کہ نبی نے اپنے منکرین کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑ دی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ یا تو ایمان لائیں ورنہ قتل کیے جائیں گے۔ صحیح حدیث میں آیا ہے
3. Xenophobia and Philoxenia: Welcoming the Stranger
4. Has Europe’s Time come? (H. C. Akamas Hall)
5. The Culture of the Mediterranean
اِس معاملے کی ایک مثال سورج گرہن (solar eclipse) اور چاند گرہن (lunar eclipse) کا خلائی ظاہرہہے۔ گرہن کیا ہے۔ گرہن دو سماوی اجرام کے درمیان کسی تیسرے کُرہ کے گزرنے سے پیدا ہونے والے اندھیرے کا نام ہے۔
Eclipse: The obscuring of the reflected light from one celestial body by the passage of another between it.
اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اوّل کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب وغریب قسم کی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہ معاملہ اُس وقت توہّمات (superstitions) کے پردے میں ڈھکا ہوا تھا۔ اصحابِ رسول نے…
My Country, right or wrong میرا ملک چاہے حق پر ہو یا ناحق پر
Germany above all جرمنی سب سے اوپر
Italy is religion اٹلی مذہب ہے