Al-Risala April 2012

لیڈروں کا دہرا کردار

Al-Risala April 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2012
  2. عبادت اور استعانت
  3. محبت ایک دو طرفہ معاملہ
  4. قلب، عقل
  5. وحدتِ وجود
  6. عظمتِ خداوندی کی دریافت
  7. امت ِ وسَط: فضیلت یاذمّے داری
  8. مثبت جواب
  9. تاریخ کا سبق
  10. شاتمِ رسول کی سزا
  11. پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش
  12. مذاہب کے درمیان ہم آہنگی
  13. امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کاحل
  14. مسلمانوں کے لیے انتباہ
  15. امت ِ مسلمہ کا المیہ
  16. امن کی وادی
  17. یہ وعدہ خلافی کا معاملہ نہیں
  18. ٹکراؤ سے اعتراف ِ حقیقت تک
  19. دوسری غلطی نہیں
  20. امن اور ترقی
  21. غیر اصولی موقف نہیں
  22. لیڈروں کا دہرا کردار
  23. بحران کے وقت
  24. جسمانی معذوری کے باوجود
  25. ایک عام کمزوری
  26. کامیاب زندگی کا اصول
  27. ’انا‘ کی دیوار
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 215

لیڈروں کا دہرا کردار

اسامہ بن لادن کا عمومی تشخص یہ ہے کہ وہ مغرب کے سخت دشمن تھے اور جہاد کے نام پر مغرب کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے حامی تھے۔ 3 مئی 2011 کو پاکستان (ایبٹ آباد) میں وہ ہلاک ہوگئے۔ یہ ان کا کردار بحیثیت ایک لیڈر تھا۔ باپ کی حیثیت سے اُن کا کردار اِس سے بالکل مختلف تھا۔

اسامہ بن لادن کے برادرِ نسبتی (brother-in-law) زکریا (Zakaria al-Sadah) کا ایک انٹرویو ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں سنڈے ٹائمس (لندن) کے حوالے سے چھپا ہے۔ اِس انٹرویو میں انھوںنے بتایا کہ — اسامہ بن لادن نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں سے کہا تھا کہ تم لوگ یورپ اور امریکا جاؤ، وہاں اچھی تعلیم حاصل کرو، اور اچھی زندگی گزارو۔ تم کو تعلیم حاصل کرنا ہے، امن کے ساتھ رہنا ہے۔ تم وہ نہ کرو جو میں کررہا ہوں یا جو میں نے کیا:unverified

He told his own children and grand children, ‘Go to Europe and America and get a good education, and live a good life. You have to study, live in peace and don’t do what I am doing or what I have done’. (The Times of India, New Delhi, February 14, 2012, p. 20)other source

یہ صرف ایک شخص کی بات نہیں، یہی اِس معاملے میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم لیڈروں کا حال ہے۔ وہ دوسروں کو مغرب سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں، وہ قوم کے بچوں کو جہاد کے نام پر تشدد کے راستے پر ڈالتے ہیں، مگر خود اپنے بچوں کے لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ جدید تعلیم حاصل کریں اور مغربی ملکوں میں آباد ہو کر وہاں پر امن زندگی گزاریں۔ ایسے لیڈروں کو نصیحت کرنا بے کار ہے، کیوں کہ وہ خود اپنی روش کبھی نہیں بدلیں گے، البتہ جو لوگ نادانی میں اُن لیڈر وں کا ساتھ دیتے ہیں، اُن کو چاہئے کہ وہ ہوش مندی کا طریقہ اختیار کریں۔ وہ ایسے لیڈروں کی جذباتی باتوں کو ہر گز نہ سنیں۔ وہ خود اپنی عقل سے کام لیں اور اپنے لیے اوراپنی اولاد کے لئے پُرامن تعمیر کا طریقہ اختیار کریں۔