Shukr All cross-references →
Person
Allah

God, the Lord of all worlds

Mentioned in 45 book passages and 149 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…come to be accepted that achieving such perfection within human systems is not possible. On the other hand, in the material world established by God, this concept of flawless order has existed with remarkable accuracy throughout history.

When this contrast is evaluated through the formula as mentioned earlier, it becomes evident—based on human experience itself—that the Owner of this universe is a higher being, namely Allah, the Lord of all worlds. The difference between human society and the realm of the exact sciences serves as definitive proof of God’s existence. This is the truth articulated in the Quran in these words:

“He created seven heavens, one above the other in layers. You will not find any flaw in the creation of the Gracious One. Then look once again: can you see any flaw? Then look again and again. Your gaze will come back to you confused and…

شاک ٹریٹمنٹ

سفک دماء یا فساد فی الارض کا واقعہ کون کرتا ہے۔ یہ انسان کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کے اندر مزید ایک برعکس صفت موجود ہوتی ہے، اور وہ ہے ضمیر کی صفت۔ اس کو دوسرے الفاظ میں محاسبہ خویش کی صفت کہا جاسکتا ہے۔ انسان کے ساتھ لازماً ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ جب وہ کسی وجہ سے ایک انتہائی اقدام کربیٹھتا ہے، اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کی بنا پر اس کا اقدام باعتبار نتیجہ معکوس (counter productive)اقدام ثابت ہوتا ہے تو اس کے اندر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اپنی فطرت کی بنا پر اپنے عمل کی ری پلاننگ کرتا ہے۔ انسان کے اندر یہ عمل ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کو کوئی بڑا شاک (shock) لگے۔ اس قسم کے بڑے شاک کے لیے کوئی بڑا واقعہ چاہیے۔ سفک دماء یا فساد فی الارض انسان کی شخصیت میں اسی قسم کا شاک پیدا کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو قرآن میں سفکِ دماء یا فساد فی الارض کہا گیا ہے، وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورت حال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا…

شاک ٹریٹمنٹ

سفک دماء یا فساد فی الارض کا واقعہ کون کرتا ہے۔ یہ انسان کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کے اندر مزید ایک برعکس صفت موجود ہوتی ہے، اور وہ ہے ضمیر کی صفت۔ اس کو دوسرے الفاظ میں محاسبہ خویش کی صفت کہا جاسکتا ہے۔ انسان کے ساتھ لازماً ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ جب وہ کسی وجہ سے ایک انتہائی اقدام کربیٹھتا ہے، اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کی بنا پر اس کا اقدام باعتبار نتیجہ معکوس (counter productive)اقدام ثابت ہوتا ہے تو اس کے اندر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اپنی فطرت کی بنا پر اپنے عمل کی ری پلاننگ کرتا ہے۔ انسان کے اندر یہ عمل ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کو کوئی بڑا شاک (shock) لگے۔ اس قسم کے بڑے شاک کے لیے کوئی بڑا واقعہ چاہیے۔ سفک دماء یا فساد فی الارض انسان کی شخصیت میں اسی قسم کا شاک پیدا کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو قرآن میں سفکِ دماء یا فساد فی الارض کہا گیا ہے، وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورت حال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا…

Al-Risala February 2020 m1_backfill original + quote

ایمان کی علامت

محمد بن کعب القرظی (وفات108ھ) مشہور تابعی ہیں۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہےإِذَا أَرَادَ اللَّہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا زَہَّدَہُ فِی الدُّنْیَا، وَفَقَّہَہُ فِی الدِّینِ، وَبَصَّرَہُ عُیُوبَہُ، وَمَنْ أُوتِیہِنَّ أُوتِیَ خَیْرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ (الزھد لوکیع بن الجراح، اثر نمبر 2)۔ یعنی جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کو دنیا میں زہد عطا کرتا ہے، اور اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے، اور اس کے عیوب اس کو دکھا دیتا ہے۔ جس کو یہ چیزیں دی گئیں، اس کو دنیا اور آخرت کا خیر دے دیا گیا۔

اس قول میں مومن کی چند صفات بتائی گئی ہیں— زہد، فہم ِدین، خود احتسابی۔ یہ صفات الگ الگ صفات نہیں ہیں، یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ ان کے مجموعے کو ایک لفظ میں معرفت کہا جاسکتا ہے۔ جب انسان کو اللہ رب العالمین کی دریافت ہوتی ہے، تو…

…compartments, some with wooden beams, which were believed to house animals, he said. The group of archaeologists ruled out an established human settlement on the grounds that one had never been found above 3,500 metres in the vicinity.

قربِ قیامت کی نشانیوں میں غالباً یہ سب سے زیادہ واضح نشانی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے لکڑی کے ذریعے کشتی بنا رہا ہے۔ قدیم زمانے کی کشتیوں میں سے اب کوئی بھی کشتی دنیا میں محفوظ نہیں، کیوں کہ لکڑی کچھ دنوں کے بعد فطری طورپر بوسیدہ ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔ کشتیوں کی تاریخ میں حضرت نوح کی کشتی ایک استثنا (exception) ہے۔ اِس استثنا کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو تھا۔ صرف اللہ کو معلوم تھا کہ یہ کشتی طوفان میں بہتی ہوئی پہاڑ کے اوپر پہنچ جائے گی، پھر فطری عمل کے تحت وہ بر ف کے ذخائر (گلیشئر) کے نیچے دب جائے گی اور اِس طرح وہ محفوظ رہے گی۔ یہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بیسویں صدی کے آخر میں گلوبل وارمنگ کا معاملہ پیش آئے گا اور پہاڑ کے اوپر برف پگھلنا شروع ہوجائے گی، یہاں تک کہ کشتی نوح صاف دکھائی دینے لگے گی۔ اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا سامنے آجانا اِس بات کی علامت ہے کہ جس طرح پانچ ہزار سال پہلے ایک بڑے طوفان کے ذریعے اُس وقت کی آبادی ختم ہوگئی تھی، اسی طرح اب ایک اور زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے جس میں تمام انسان ختم ہوجائیں گے اور صرف وہ لوگ بچیں گے جن کو اللہ اپنی جنت میںآباد کرنے کے لیے منتخب کرے۔

عید الفطر کا دن

رمضان اور روزہ اور عید الفطر کے بارے میں حضرت انس بن مالک سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے۔ اُس روایت کا ایک حصہ یہ ہے:

’’… فإذا کان یومُ عیدِہم، یعنی یومَ فِطرہم، باہیٰ بہم ملائکتَہ، فقال: ملائکتی، ماجزائُ أجیرٍ وفّیٰ عملَہ۔ قالوا: ربّنا، جزائُہ أن یُوفّیٰ أجرُہ۔ قال: ملائکتی، عبیدی وإمائی قضَوا فریضتی علیہم، ثمّ خرجوا یعُجُّون إلی الدّعاء، وعزّتی…

Al-Risala May 2007 m1_backfill

…ذکرِ کثیر کی تصغیر ہے۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ روزمرہ کے واقعات اور مشاہدات پر غور کرکے اُن کو روحانی تجربے میںکنورٹ کرنا۔ یہ کنورژن مومن کا رزق ہے۔ اور اِس رزق کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: ورزق ربِّک خیر وأبقیٰ (طٰہٰ: 131)

اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاصر اہلِ ایمان کی روحانی تربیت کے لیے آپ کا طریقہ کیا تھا۔ وہ طریقہ توسم پر مبنی ہوتا تھا، یعنی آس پاس کے واقعات اور مشاہدات کو تربیتی غذا میں کنورٹ کرنا۔ اور اِس طرح لوگوں کو اِس قابل بنانا کہ وہ توسم کے ذریعے اپنی مسلسل روحانی تربیت کرتے رہیں۔

اِس تربیتی اسلوب کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجیے: فإذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیراً لعلکم تفلحون (الجمعہ:10 )یعنی اور جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور خدا کا رزق…

۱۔کیا آپ اپنے صحیح مشن کی طرف بغیر مولانا مودودی، ڈاکٹر اقبال اور علّامہ یوسف القرضاوی کو بُرا بھلا کہے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

۲۔ کیا دین اسلام کو صرف آپ ہی نے ٹھیک ٹھیک سمجھا ہے، باقی علماء گمراہ ہیں۔

۳۔ کسی جماعت کو کریڈٹ یا discredit دینے کا حق کس کو ہے۔ ایک شخص کو، عوام کو یا کسی ایجنسی کو۔

دار الاسلام، دار الحرب

دار الاسلام اور دار الحرب کی اصطلاح زمانہ نبوت کے ڈیڑھ سو سال بعد عباسی دور میں بنی۔ یہ الفاظ قرآن اور حدیث میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ دونوں اصطلاحیں مبتدعانہ اصطلاحیں تھیں۔ ان کو قرآنی اصطلاح یا مسنون اصطلاح نہیں کہا جاسکتا۔

فقہاء کے نزدیک دار الاسلام سے مراد وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ دار الحرب سے مراد وہ ملک ہے جو مسلمانوں کے لیے معاند ملک کی حیثیت رکھتا ہو، جس سے مسلمان امکانی طورپر جنگ (potentially at war) کی حالت…

…اپنے عمل کی ری پلاننگ کرتا ہے۔ انسان کے اندر یہ عمل ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کو کوئی بڑا شاک (shock) لگے۔ اس قسم کے بڑے شاک کے لیے کوئی بڑا واقعہ چاہیے۔ سفک دماء یا فساد فی الارض انسان کی شخصیت میں اسی قسم کا شاک پیدا کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو قرآن میں سفکِ دماء یا فساد فی الارض کہا گیا ہے، وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورت حال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیت کو بیدار کردیتی ہے۔ وہ انسان کے اندر یہ محرک (incentive) جگاتی ہے کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے کوشش کرکے کامیابی حاصل کرے۔

فرشتوں نے انسان کے بارے میں سفک دماء اورفساد کا اندیشہ ظاہر کیا تھا، اللہ تعالی نے سفک دماء اور فساد کےمقابلے میں مثبت پہلو کا حوالہ دیا، اور فرشتوں کو مظاہرے کی صورت میں بتایا کہ انسان کی یہ صفت اس کے اندر نئی سوچ پیدا کرے گی، اور وہ ایسے…

…سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا۔جیسا کہ آپ نے بھی لکھا۔ قرآن کے مطابق تمام پیغمبر ہمارے لیے اسوہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ فرق سمجھ میں نہیں آیا۔ وضاحت فرمائیں۔ (عبد العزیز ایڈوکیٹ، کپواڑہ، کشمیر)

حضرت ابراہیم کی بت شکنی کا واقعہ دور دعوت کا نہیں ہے ، بلکہ وہ اتمام حجت کے بعد کا ہے۔ اتمام حجت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب قوم میں کوئی ایمان لانے والا نہیں۔ جب کسی قوم کے بارے میں یہ نوبت آجائے تو وہاں حالات کے اعتبار سے مختلف صورتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ انتہائی صورت حال میں کبھی اللہ ان کے خلاف سرزنش کے طور پر کوئی کارروائی کرسکتاہے، یا پیغمبر کوئی صورت بطور آخری حجت کے اختیار کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑنے کی صورت میں کیا۔

کسی قوم میں جب دعوت کے امکانات موجود ہوں تو وہاں بت شکنی جیسی انتہائی تدبیر کے بارے میں سوچنا بھی شریعت دعوت میں امر ممنوع ہے۔ آپ جس زمانے میں ہیں، ہر جگہ دعوت کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کے اپنے علاقے میں بھی اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں…

…ہےجس کا ذکر قرآن (المنافقون1 :)میں موجود ہے۔ اسی طرح جبریل فرشتہ نے ظاہر ہو کر براہ راست طور پر کہا تھا:یا محمد أبشر! فإنک نبی ہذہ الأمة (سیرۃ ابن کثیر، بیروت، 1976، 1/407)۔ یعنی اے محمد ، بشارت ہو، کیوں کہ تم بلاشبہ اس امت کے نبی ہو۔

مگر کسی غیر نبی کو دین کے معاملے میں اس طرح دعوی کی زبان بولنا جائز نہیں۔ کوئی اور شخص نہیں کہہ سکتا کہ میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں، میں مجدد ہوں، وغیرہ۔ حتی کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ کہے کہ میری توبہ، توبہ نصوح ہے، میرا حج، حج مبرور ہے، میں ایک نجات یافتہ انسان ہوں، وغیرہ۔اس قسم کے کلام کا حق صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ کوئی شخص اس قسم کی بات کہے تو وہ بلاشبہ ایک ایسی بات ہوگی، جس کا حق اللہ نے کسی کو نہیں دیا۔

دین کے بارے میں اس طرح کا کلام صرف اللہ عالم الغیب کے لیے سزاوار ہے، اور یہ واقعہ دنیا میں بھی ہونے والا نہیں، یہ صرف آخرت میںہوگا ، جب کہ اللہ رب العالمین اپنے علم کے مطابق، ہر عورت اور مرد کے لیےیہ اعلان کرے گا کہ اس کا درجہ دین میں کیا…

…نہیں۔ مگر عام حالات میں پانی کی اِس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔

اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid)پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدارمیں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہوگئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھاکر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اِسی کے ساتھ شکر ِخداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہوجاتا ہے۔

اللہ، انسان کا منعمِ حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندران نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہوجاتا…

Al-Risala September 2019 m1_backfill original + quote

…یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب سے آگے ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت ایک بے حد پرامید آیت ہے۔ اسی طرح حدیث بھی ایک بہت پر امید حدیث ہے۔ دونوں میں جو مشترک بات ہے، وہ یہ ہے کہ اس امید کی بنیاد رحمت ہے۔ اللہ رب العالمین کی صفات میں ایک صفت اس کا رحیم و کریم ہونا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی یہ صفت بندے کے لیے بلاشبہ سب سے زیادہ پر امید صفت ہے۔ اللہ رب العالمین کا رحیم و کریم ہونا، اس کے بندوںکو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ایسے الفاظ میں اپنے رب کو پکاریں، جو اللہ کی رحمت کو انووک کرنے والا ہو۔ اگر بندہ ایسی دعا کرے تو وہ گویا اسم اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اور جو آدمی اسم اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارے تو اللہ رب العالمین اس کی پکار کو ضرور قبول فرماتا ہے۔

…نہیں جانتا۔ یعنی کل کیا ہوگا، اس سے انسان بے خبر ہوتا ہے۔ انسان آج کے علم کے تحت ایک کام کرتا ہے، لیکن کل کیا ہونے والا ہے، اس سے انسان مکمل طو رپر بے خبر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ آئندہ آنے والے نقصان سے خود کو بچالے۔

اس کے مقابلے میں اللہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ علام الغیوب ہے۔ انسان اور خدا کے درمیان اس فرق سے ایک تقابل کا اصول ملتا ہے۔انسان کا کوئی کام خالی از نقص (free from defect) نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اللہ رب العالمین کی تخلیق کے جو نمونے ہمارے سامنے ہیں، وہ کامل معنوں میں نقص سے خالی ہیں۔ انسان کی کوئی بھی انڈسٹری نقص (defect) سے پاک نہیں ہوتی، لیکن اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا، شمسی نظام (solar system) مکمل طو رپر زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ (zero defect management) کا نمونہ ہے۔ یہ فرق خالق کے وجود کا ایک یقینی ثبوت ہے۔

اس لیے بیسویں صدی میں ترقی یافتہ ملکوں نے بہت زیادہ کوشش کی کہ وہ اپنی انڈسٹری میں زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم کریں، جیسا کہ وہ فطرت (nature) کی دنیا میں عملاً قائم ہیں۔ مگر اس معاملے میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی، اور آخر میں یہ مان لیا…

Al-Risala June 2018 m1_backfill

…کی نعمت کو دریافت کرے گا۔ وہ ہر چیز میں اپنے جنتی گھر کی جھلک دیکھے گا۔ یہ احساس دھیرے دھیرے اتنا شدید بن جائے گا کہ اس کو محسوس ہوگا جیسے کہ اللہ نے اس کو اسی دنیا میں پیشگی طور پر وہ گھر دے دیا ہے جو جنت کی دنیا میں اس کو ملنے والا ہے۔

اس کا یہ بڑھا ہوا احساس اس کو اس قابل بنادے گا کہ وہ ایسی دعائیں کرے جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والی ہوں، جو اس کے لیے اسم اعظم کی دعا بن جائے۔ مثلاً شکر کے گہرے احساس کے ساتھ اس کی زبان سے نکلے گا کہ خدایا تو نے اسی دنیا میں مجھ کو ایک جنتی گھر دے دیا ۔ اب کیا تو ایسا کرے گا کہ آخرت میں مجھ سے میرا جنتی گھر واپس لے لے۔ کیا تیرے رحیم و کریم ہونے کی صفت یہ چیز گوارا کرے گی کہ ایک چیز مجھ کو دےدے ، اور پھر اس کو مجھ سے واپس لےلے۔

Al-Risala April 2018 m1_backfill

…: إن رحمتی غلبت غضبی (مسند احمد، حدیث نمبر8127)۔ یعنی جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب سے آگے ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت ایک بے حد پرامید آیت ہے۔ اسی طرح حدیث بھی ایک بہت پرامید حدیث ہے۔ دونوں میں جو مشترک بات ہے، وہ یہ ہے کہ اس امید کی بنیاد رحمت ہے۔ اللہ رب العالمین کی صفات میں ایک صفت اس کا رحیم و کریم ہونا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی یہ صفت بندے کے لیے بلاشبہ سب سے زیادہ پر امید صفت ہے۔ اللہ رب العالمین کا رحیم وکریم ہونا، اس کے بندوںکو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ایسے الفاظ میں اپنے رب کو پکاریں، جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں۔ اگر بندہ ایسی دعا کرے تو وہ گویا اسم اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اور جو آدمی اسم اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارے تو اللہ رب العالمین اس کی پکار کو ضرور قبول فرماتا ہے۔

…زمانے میں اس حکم کی حیثیت ایک موقوف حکم کی ہے، لیکن اگر کسی وقت حالات کا تقاضا ہو کہ رمی (تیراندازنی)کے طریقے کو دوبارہ اختیار کیا جائے، تو اس طریقے کو اختیارکیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ کسی حکم کا موقوف ہونا،ہمیشہ مشروط معنی میں ہوتا ہے۔

کسی حکم کو منسوخ قرار دینے کا اختیار صرف شارع کو ہے، یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کو ۔ اس کےبرعکس، جہاں تک موقوف قرار دینے کا معاملہ ہے، یہ ایک اجتہادی فعل ہے۔ امت کے علماء کو یہ حق ہے کہ وہ قانونِ ضرورت (law of necessity)کے تحت کسی حکم کو وقتی طور پر موقوف قرار دے دیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اصحاب رسول کے زمانے میں اہل فتنہ سے قتال کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ حکم چوں کہ شریعت کے متن میں موجود ہے، اس لیے کوئی شخص اس کو منسوخ نہیں قرار دے سکتا، البتہ ضرورت شرعیہ کے تحت بطور اجتہاد اس حکم کو موقوف قرار دیا جاسکتا ہے۔

Al-Risala December 2017 m1_backfill original + quote

…کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی تخلیق ایک منصوبہ بند انداز میں ہوئی۔ دنیا کے آغاز سے لے کر اب تک جو باتیں پیش آرہی ہیں، وہ سب اس منصوبہ بند تخلیق کی تائید کرتی ہیں۔ اس کے سوا اس ظاہرے کی کوئی اور توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔

اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کے اعتبار سے دنیا کا انجام کیا ہے۔ قرآن اس واقعہ کو جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ابتلا (الملک 2:)کے لیے پیدا کیا۔ یعنی ایک تربیتی کورس سے گزار کر ایسے لوگوں کو جاننا جوقابل انتخاب ہوں۔ آخر میں اللہ رب العالمین ایسے لوگوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر ان کو منتخب کرے گا، اور ان کو آخرت کی ابدی جنت میں داخل کرے گا۔ جنت میں داخلہ کسی اور بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ صرف اس بنیاد پر ہوگا کہ آدمی نےاپنی آزادی کا غلط استعمال کیا یا صحیح استعمال کیا۔ اس نے اپنے قول و عمل سے اپنے اندر جو شخصیت تعمیر کی، وہ جنت میں رہنے کے قابل ہے، یا اس میں رہنے کے قابل نہیں ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے لیے پرابلم پرسن بنے، یا وہ لوگوں کے درمیان پر امن طور پر رہے۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:یدخل الجنة أقوام، أفئدتہم مثل أفئدة الطیر(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2840) ۔ یعنی جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں ۔

…کہ وہ کہے کہ میری توبہ، توبہ نصوح ہے، میرا حج، حج مبرور ہے، میں ایک نجات یافتہ انسان ہوں، وغیرہ۔اس قسم کے کلام کا حق صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ کوئی شخص اس قسم کی بات کہے تو وہ بلاشبہ ایک ایسی بات ہوگی، جس کا حق اللہ نے کسی کو نہیں دیا۔

دین کے بارے میں اس طرح کا کلام صرف اللہ عالم الغیب کے لیے سزاوار ہے، اور یہ واقعہ دنیا میں بھی ہونے والا نہیں، یہ صرف آخرت میںہوگا ، جب کہ اللہ رب العالمین اپنے علم کے مطابق، ہر عورت اور مرد کے لیےیہ اعلان کرے گا کہ اس کا درجہ دین میں کیا تھا، اور آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانے والا ہے۔

اس طرح کے دینی معاملے میں خواب یا کشف کا بھی ہرگزکوئی اعتبار نہیں۔ اگر کوئی شخص اس قسم کاکوئی خواب دیکھے یا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے اس نوعیت کا کوئی خواب نظر آئے تو وہ بھی خواب دیکھنے والے کا ایک شخصی معاملہ ہوگا، ایسا خواب ہرگز دوسرو…

Al-Risala June 2016 m1_backfill

…اگر یہ یاد اللہ کے نام کے ساتھ ہو تووہ براہِ راست ذکر ہے۔ اور اگر نام کے بغیر اللہ کو یاد کیا جائے تو وہ بالواسطہ ذکر۔ اِسی طرح، وہ عالم اور وہ طالبِ علم خدا کے نزدیک مطلوب عالم اور طالبِ علم ہیں جو اپنے علم کو ذکر ِ الٰہی کا ذریعہ بنائیں۔

دنیا یا دنیا کی چیزوں کا خالق بھی اللہ ہے۔ اِس لیے دنیا فی نفسہ ملعون نہیں ہوسکتی۔ یہ دراصل دنیا کا استعمال ہے جو اس کو ملعون یا غیر ملعون بناتا ہے۔ جو شخص دنیا کو پاکر خدا کو بھول جائے، اس کے لیے دنیا ملعون کا درجہ رکھتی ہے۔ اور جس شخص کے لیے دنیا کو پانا یادِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے، اُس کے لیے دنیا رحمت اور سعادت کی چیز ثابت ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش (test) کے لیے بنائی گئی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں آزمائشی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ پرچے اِس لیے ہیں، تاکہ ناکام ہونے والوں اور کامیاب ہونے والوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔

Al-Risala july 2015 m1_backfill

اس روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دعا اور ذکر کے کچھ کلمات رٹ لے، اور ہر موقع پر ان کو زبان سے دہراتا رہے۔ یہ سنت رسول نہیں ہے۔ سنت رسول کے مطابق ذکر اور دعاایک تکراری عمل نہیں ہے، بلکہ وہ ایک تخلیقی (creative) عمل ہے۔

دسمبر 2014 میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، اس کی وجہ سےمجھ کو تقریبا دس دن بستر پر رہنا پڑا۔ اس مدت میں میں اپنی نمازوں کے لئے وضو نہ کر سکا، بلکہ تیمم کر کے نماز ادا کرتا رہا۔اس معاملے پر غور کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میری یہ نمازیں شاید ناقص نمازیں ہیں، میرا دل بھر آیا۔ اس وقت مجھے ایک عربی مقولہ یاد آیا: العذر عند کرام الناس مقبول (عذر کریم لوگوں کے لئے قابل قبول ہوتا ہے)۔ میں نے کہا کہ یا اللہ، تیرے کریم بندوں کے لئے جو عذر قابل قبول ہوتا ہے، وہ یقینا تیرے لئے مزید اضافہ کے ساتھ قابل قبول ہوگا۔ اس وقت یہ جملہ میری زبان سے نکلا: العذر عند اللہ الکریم مقبول۔ یہ سوچ کر مجھے اللہ کی رحمت یاد آئی، میرا دل اطمینان سے بھر گیا، یہی ہے ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرنا۔ہر موقع پر اللہ کو یادکرنا یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ ہر واقعہ اس کے لیے ایک ایسا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference ) بن جائے، جس کے ذریعے وہ اپنے رب کو یاد کرے۔

Al-Risala May 2014 m1_backfill

…پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کا مسئلہ ان کی خواہش کے مطابق حل نہیں ہوا تو وہ مایوسی میں مبتلا ہوجاتے ہیں- دعا بلاشبہہ ایک اعلی عبادت ہے، مگر جہاں تک دعا کی قبولیت کا سوال ہے، اس کا انحصار اللہ کی مرضی پر ہے، نہ کہ بندے کی خواہش پر-

اصل یہ ہے کہ دنیا کی جو مادی چیزیں ہیں، وہ سب کی سب امتحان کے پرچے (test papers) ہیں- کسی انسان کو کن امتحانی پرچوں کے ساتھ آزماناہے، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے کیا جاتا ہے، نہ کہ انسان کی خواہش کی بنیاد پر- کوئی طالب علم اگر یہ چاہے کہ اس کے امتحان کا پرچہ اس کی مرضی کے مطابق اس کو دیا جائے تو ایسا ہونا ممکن نہیں، کیوں کہ امتحانی پرچے کے معاملے میں سارا فیصلہ تعلیمی ادارے کے ذمے داروں کی طرف سے کیا جاتا ہے، طالب علم کی خواہش کی بنیاد پر اس کا فیصلہ نہیں ہوتا-

ایسی حالت میں دعا کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی دعائیں تو خوب کرے، لیکن دعا کی قبولیت کے معاملے کو وہ تمام تر اللہ کے اوپر ڈال دے- اگر کسی آدمی کی دعا بظاہر قبول نہیں ہورہی ہے تو اس کو یقین کرنا چاہیے کہ یہی اللہ کی مرضی ہے- اللہ زیادہ…

Al-Risala September 2020 m1_backfill original + quote

…اپنے عمل کی ری پلاننگ کرتا ہے۔ انسان کے اندر یہ عمل ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کو کوئی بڑا شاک (shock) لگے۔ اس قسم کے بڑے شاک کے لیے کوئی بڑا واقعہ چاہیے۔ سفک دماء یا فساد فی الارض انسان کی شخصیت میں اسی قسم کا شاک پیدا کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو قرآن میں سفکِ دماء یا فساد فی الارض کہا گیا ہے، وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے ساتھ جب غیر مطلوب صورت حال پیش آتی ہے تو وہ انسان کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیت کو بیدار کردیتی ہے۔ وہ انسان کے اندر یہ محرک (incentive) جگاتی ہے کہ وہ دوبارہ نئے سرے سے کوشش کرکے کامیابی حاصل کرے۔

فرشتوں نے انسان کے بارے میں سفک دماء اورفساد کا اندیشہ ظاہر کیا تھا، اللہ تعالی نے سفک دماء اور فساد کےمقابلے میں مثبت پہلو کا حوالہ دیا، اور فرشتوں کو مظاہرے کی صورت میں بتایا کہ انسان کی یہ صفت اس کے اندر نئی سوچ پیدا کرے گی، اور وہ ایسے…

…مغرب تمھارے دشمن ہیں۔اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیلنج تھا، جو شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو ان الفاظ میں دیاتھا: وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی تو بیشتر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔

چنانچہ مغرب سے دشمنی کی بنا پرمسلمان اس اہم چیز سے دور ہوگئے، جس کو سائنٹفک ڈیٹا کہا جاتا ہے۔ یعنی ہمارے علما نے اہل مغرب سے دشمنی کی بنا پر ان کی زبان اور ان کے ذریعے دریافت شدہ سائنس کو نہیں پڑھا، اس بنا پر وہ جدید سائنسی دریافت سے بے خبر ہوگئے۔اس طرح مسلمان ان تمام کائناتی نشانیوں سےدور ہوگئے، جو اللہ رب العالمین کے وجود کا علمی ثبوت فراہم کرنے والے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ وہ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے نہ بن سکے۔وہ لوگ اگرچہ اللہ کے منکر تو نہیں بنے، لیکن اللہ ان کی زندگی کا ایک رسمی ضمیمہ بن کر رہ گیا۔

Al-Risala July 2020 m1_backfill

ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا اقترب الزمان لم تکد رؤیا المؤمن تکذب (صحیح البخاری، کتاب التعبیر) یعنی جب قیامت قریب آجائے گی ، تو اُس وقت جو مومن ہوگا، وہ سچا خواب دیکھنے لگے گا۔

اِس حدیث رسول پرغور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اِس کا تعلق اُس شخص سے ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ چوں کہ اِس شخص کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا کہ جبریل آکر اس کو بتائیں کہ تمھیں آنے والے شخص ہو، اور نہ معاصرین پر یہ فرض ہوگا کہ وہ اعلان کے ساتھ اس کا اقرار کریں۔ آنے والے شخص کی واحد پہچان اس کااستثنائی رول ہوگا۔ اِسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی رحمت سے اُس کے لیے ایک اضافی مدد (additional support) کا انتظام کرے گا۔ یہ انتظام سچے خواب کی صورت میں ہوگا۔ آنے والے کے معاصرین کثرت سے ایسے خواب دیکھیں گے جو اُس کو یقین دلائیں گے کہ آنے والا شخص وہی ہے جس کو انھوں نے خواب میں دیکھا۔

Al-Risala May 2020 m1_backfill original + quote

…حاضرینِ مجلس کے اندر ۔لوگ اللہ کے بارے میں صرف یہ جانتے ہیں کہ زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جائے۔ مگر اس قسم کا قول ہرگز کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ آپ کے اندر اللہ کا زندہ یقین ہو۔ اس کے بعد ہی آپ کے اندر موت کا زندہ یقین پایا جاسکتا ہے۔

آپ لوگوں سے ملیے،اور لوگوں کے پاس بیٹھ کر یا ان کی باتیں سن کر اندازہ کیجیے۔ آپ کو بہت جلد یہ حقیقت دریافت ہوگی کہ اللہ پر وہ یقین لوگوں کے دلوں میں موجود نہیں، جو قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ(8:2)۔یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں ۔ اسی طرح آیۃ الکرسی کو زبانی یاد کرنے اور اس کو جاننے والے بہت ہیں، لیکن اس کے اِس لرزہ خیز الفاظ کو زندہ حقیقت کے طور پر دریافت کرنے والا شاید کوئی نہیںکہ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے:

His throne extends over the heavens and the earth.

Al-Risala April 2010 m1_backfill

…علاج کیا ہے۔ میں نے اِس کا متعین سبب پوچھا۔ انھوںنے کہا کہ مثال کے طورپر میرے گھر میں ٹی وی چلتا ہے۔ میں ایک عالم آدمی ہوں اور ٹی وی کو برا سمجھتا ہوں۔ میں اُن کو منع کرتاہوں، لیکن گھر والے میری بات نہیںسنتے۔ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔

میں نے کہا کہ اِس طرح کی صورتِ حال میں اسلام کا فارمولا یہ ہے— اگر تم دوسروں کو نہ بچا سکو، تو تم اپنے آپ کو بچاؤ۔ اِسی کا نام صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں، صبر زندگی کی ایک عظیم حکمت ہے۔ اجتماعی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ اپنے مزاج کے خلاف ماحول میں رہنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر تم پُر امن طورپر دوسروں کی اصلاح کرسکو تو تم دوسروں کی اصلاح کرو۔ اور اگرایسا کرنا تمھارے لیے ممکن نہ ہو تو تم خوداپنے آپ کو اُس برائی سے بچاؤ۔ اِسی کا نام صبر ہے۔

منفی احساس میں مبتلا ہونا کوئی سادہ بات نہیں، یہ نفسیاتی خود کشی کے ہم معنیٰ ہے۔ ایسے موقع پر دوسروں کے خلاف تشدد کرنا جتنا برا ہے، اتنا ہی برا یہ بھی ہے کہ آدمی منفی احساس میں مبتلا رہے۔ پہلا طریقہ اگر دوسروں کے خلاف ظلم ہے، تو دوسرا…

Al-Risala December 2004 m1_backfill original + quote

…تعلق رکھتے تھے مگر وکالت کے کام کو وہ زیادہ تر انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت انجام دیتے تھے۔ موکل کا استحصال تو درکنار وہ موکل سے واجبی فیس کا تقاضہ بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کے سامنے فیس سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ اپنے موکل کی پوری قانونی مدد کریں۔

اسی طرح موصوف ہومیوپیتھی کے ایک اچھے ڈاکٹر تھے۔ وہ اپنے خالی اوقات میں لوگوں کو دوائیں دیتے تھے۔ یہ کام بھی وہ کسی معاوضہ کے بغیر صرف انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت کرتے تھے۔ مجھ سے کئی لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عزیز احمد خاںکے علاج سے وہ پوری طرح شفایاب ہوگئے، جب کہ لمبے علاج کے بعد وہ اپنی صحت کے بارے میں مایوس ہوچکے تھے۔

ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ کو مطالعہ اور تحریر سے بھی دلچسپی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کچھ کتابیں تیار کیں اور ان کو شائع کیا۔ ان کی ایک کتاب کا نام یہ ہے: اللہ کی عظمت اور قرآن کا نظریۂ علم و سائنس۔

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔

آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔ آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔ جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔

آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔

ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔ کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔

ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن،…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہوسکتی ہیں۔

اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے آبائی مذہب سے وابستگی ان کی نجات کے لیے بالکل کافی تھی۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے دین کے نام پر ایسی پابندیاں اپنے اوپر ڈال لیں جو خدا نے ان کے اوپر نہ ڈالی تھیں۔ مثال کے طور پر قربانی کی ادائیگی کے وہ جزئی مسائل جن کا حکم ان کے نبیوں نے ان کو نہیں دیا تھا بلکہ ان کے علماء نے اپنی فقہی موشگافیوں سے بطور خود ان کو گھڑلیا۔ قرآن ان کے لیے ایک نعمت بن کرآیا۔ اس نے ان کے لیے دین خداوندی کی ’’تجدید‘‘ کی۔ قرآن نے ان کو اندھیرے سے نکالا، يعني وہ ایسے راستے پر چلتے رہیں جس کے متعلق وہ اس خوش فہمی میں ہوں کہ وہ جنت کی طرف جارہا ہے، حالاں کہ وہ ان کو خدا کے غضب کی طرف لے جارہا ہو۔قرآن نے ایک طرف ان کی کھوئی ہوئی تعلیمات کو ان کی اصلی صورت میں پیش کیا۔ دوسری طرف قرآن نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو جن غیرضروری دینی پابندیوں میں مبتلا کرلیا تھا اس سے انھیں آزاد کردیا۔ اب جو لوگ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں وہ بدستور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ او رجن کو اللہ کی رضا کی تلاش ہو وہ حق کی سیدھی راہ کو پالیں گے۔وہ اللہ کی توفیق سے اپنے آپ کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا اپنی کامل صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ دلیل کی زبان میں ہوتا ہے۔ اور دلیل انھیں لوگوں کے ذہن کا جزء بنتی ہے جو اس کے لیے اپنے ذہن کو کھلا رکھیں۔ خدا کو چھوڑ کر انسانوں نے جو خدا بنائے ہیں ان میں سے ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ نہ کوئی چیز بطور خود پیدا کرسکتے ہیں اور نہ کسی چیز کو بطور خود مٹا سکتے ہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ جو ہستیاں پیدائش اور موت پر قادر نہ ہوں وہ خدا کس طرح ہوسکتی ہیں۔

اہلِ کتاب نے اپنے دین میں دو قسم کی غلطیاں کیں۔ ایک یہ کہ کچھ تعلیمات کو تاویل یا تحریف کے ذریعہ دین سے خارج کردیا۔ مثلاً انھوں نے اپنی کتاب میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اب ان کو اپنی نجات کے لیے کسی اور پیغمبر کو ماننے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے…

…تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔

خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔ قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔

یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد دین کی اصلی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور وہی ایک کتاب، زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ، تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچہ میں متشکل ہوتی ہے اس میں مختلف…

…کہ کب حکم ہو اور وہ ا س میں پھونک مار دیں۔ صور کا پھونکا جانا ایسا ہی ہے جیسے امتحان کا وقت ختم ہوجانے کا گھنٹہ بجنا۔ اس کے فوراً بعد دنیا کا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد انجام کا مرحلہ شروع ہوگا، جب کہ آج ہم عمل کے مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ آخرت کی طرف سے اس طرح بے فکررہتے ہیں گویا کہ آخرت کوئی بہت دور کی چیز ہے۔ ان میں سے جو لوگ زیادہ غیر سنجیدہ ہیں و ہ بعض اوقات آخرت کا مذاق بھی اڑانے لگتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اپنی اسی غفلت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ قیامت انھیں اس طرح دفعۃً پکڑ لے گی کہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ حدیث میں ہے کہ اسرافیل صور اپنے منھ میں ليے ہوئے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب حکم ہو اور وہ ا س میں پھونک مار دیں۔ صور کا پھونکا جانا ایسا ہی ہے جیسے امتحان کا وقت ختم ہوجانے کا گھنٹہ بجنا۔ اس کے فوراً بعد دنیا کا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد انجام کا مرحلہ شروع ہوگا، جب کہ آج ہم عمل کے مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ آخرت کی طرف سے اس طرح بے فکررہتے ہیں گویا کہ آخرت کوئی بہت دور کی چیز ہے۔ ان میں سے جو لوگ زیادہ غیر سنجیدہ ہیں و ہ بعض اوقات آخرت کا مذاق بھی اڑانے لگتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اپنی اسی غفلت میں پڑے رہیں…

…آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔

ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔

ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی…

…بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

ایک آدمی کسی شخص کے بارے میں بدگمان ہوجائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملہ میں چوکنا رہے۔ وہ بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہوجائے تو آپ اس سے مل کر گفتگو کرسکتے ہیں۔ مگر یہ سخت غیر اخلاقی فعل ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی آدمی سے اس قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے تو وہ اپنی غلطی پر ڈھيٹ نہیں ہوگا۔ اس کا خوف خدا اس کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہہ کرے گا، وہ اپنی روش کو چھوڑ کر اللہ سے معافی کا طالب بن جائے گا۔

انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ کوئی سفید ہے اور کوئی کالا۔ کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے۔ کوئی ایک جغرافیہ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرے جغرافیہ سے۔ یہ تمام فرق صرف تعارف کے لیے ہیں، نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اکثر…

Paiqhambar-e-Inqilab (p. 27) m1_backfill original + quote

…میں ہے۔ یہ اپنے عجز کےمقابلہ میں خدا کی کبر یائی کی دریافت تھی۔ یہ خدا کے اثبات کے مقابلہ میں اپنی نفی کا پتہ لگاناتھا۔ یہ اس راز کومعلوم کرنا تھا کہ اس دنیا میں بندۂ مومن کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں، یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔

سچائی کی دریافت کے بعد، پیغمبر اسلام کے لیے، زندگی کے معنی کیا تھے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہاں صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے۔ آپ نے ایک بار فرمایا

أَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعخَشْيَةِ اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي…

…النبیين تھے۔ آپ کے بعد پھر کوئی نبی یا رسول آنے والا نہ تھا، اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم کو کامل طور پر محفوظ رہے۔کیوں کہ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم کے غیرمحفوظ ہوجانے کی صورت میں دوسرے نبی کاآنا ضروری ہوجاتا۔

خاتم النبیين صرف سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے نہ تھے، اسی کے ساتھ آپ مخالفین حق کے لیے اس موقع کو بھی ختم کردینے والے تھے کہ وہ پیغمبر کی سیرت اور اس کی تعلیمات کو بگاڑنے یا مٹانے میں کامیاب ہوسکیں ۔ ختم نبوت لازمی طور پر حفاظت نبوت کا مقتضی ہے، اور اس کا اہتمام اللہ تعالی کی طرف سے پوری طرح کردیا گیا ہے۔

اب پیغمبر کی آمد کا سلسلہ بلاشبہ ختم ہو چکا ہے۔ مگر خود ختم نبوت ہی کے طفیل میں مومنانِ نبوت کو ایک عظیم الشان خدائی مدد ابدی طور پر حاصل ہے۔ وہ یہ کہ اگر وہ پیغمبر خدا کی سچی اور بے آمیز دعوت کولے کر اٹھیں تو مخالفین کی بڑی سے بڑی…

Deen-e-Insaniayat (p. 22) m1_backfill unverified

دربار الٰہی میں

قرآن میں پہلے انسان (آدم) کی پیدائش کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے:اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام۔ پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علیم و حکیم ہے۔ اللہ نے کہا کہ اے آدم، ان کو بتاؤ ان لوگوں کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام (اور فرشتوں کا اشکال ختم ہو گیا) تو اللہ نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں ا ور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں ( 2:30-33)

فرشتوں کا یہ قول اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر بظاہر ایک اعتراض تھا۔ مگر اللہ نے اس پر زجر و توبیخ نہیں کی۔ بلکہ انھیں اصل منصوبہ کی تفصیل بتائی۔ اس کے بعد ان کا اشکال اپنے آپ ختم ہو گیا۔ اور شبہ کی جگہ یقین واپس آ گیا۔

…معلوم ہونے لگیں گی۔ کیونکہ وہ جانیں گے کہ لوگوں کے درجہ اور مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

ایک عورت یا مرد کو کسی کے خلاف بدگمانی ہو جائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اس کی خوبیوں سے زیادہ اس کے نقائص تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے، یہ طریقہ انتہائی حد تک ایمان اور تقویٰ کے خلاف ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر معاشرتی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک اس معاملہ میں چوکنا رہے، وہ کسی بھی حال میں بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔

…لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ (9:33)۔ یعنی، وہی ہے ( یعنی اللہ ) جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ، تاکہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے۔ خواہ یہ کام مشرکوں کو کتنا ہی نا گوار ہو۔

اس آیت میں اَلھُدیٰ سے مراد دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ ہے ۔ انفرادی برتاؤ ، خاندانی نظام ، سوسائٹی کی ترکیب ، معاشی معاملات ، ملکی انتظام ،سیاسی حکمت عملی، بین الاقوامی تعلقات ، غرض زندگی کے تمام پہلوؤں میں انسان کی زندگی کے لیے صحیح رویہ کیا ہونا چاہیے، یہ چیز اللہ نے اپنے رسول کو بتا کر بھیجا ہے ۔

دوسری چیز جو اللہ کا رسول لے کر آیا ہے وہ دین حق ہے ۔ دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔ کِیش اور مذہب کے لیے جو دین کا لفظ استعمال ہوتا ہے یہ اس کا اصل معنی موضوع لہٗ نہیں ہے بلکہ اس کو دین اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں بھی انسان خیال و عمل کے ایک…

Deen-e-Insaniayat (p. 348) m1_backfill original + quote

دلیل نبوت

قرآن میں پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسالَتَهُ (6:124) اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے۔ یعنی پیغمبر کو بھیجنے کے لیے وہ مناسب شخص اور مناسب وقت اور مناسب جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس نے اپنے پیغمبر کو مبعوث کیا ہے۔

اس آیت میں جعل سے مراد وضع(placement) ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بنائے کعبہ کے وقت یہ دعا کی تھی کہ یااللہ، تو اسماعیل کی نسل میں ایک نبی پیدا کر(2:129)۔ اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکہ میں پیدا ہوئے گہرا مطالعہ…

اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جنت میں آزادی حاصل تھی، مگر اِس کے ساتھ وہاں ایک پابندی بھی شامل تھی، یہ کہ وہ نفس کی ترغیب (temptation) کے تحت کوئی کام نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق، با اصول زندگی گزارے۔

انسان اِس طریقے پر قائم نہ رہ سکا، اِس لیے ایک عرصے کے بعد اس کو جنت سے نکال دیاگیا۔ یہ انسان کی تاریخ کا پہلا اخراج (first expulsion) تھا۔

اِس کے بعدانسان کو موجودہ زمین پر بسایا گیا ۔ یہاں بھی انسان کے لیے وہی شرط تھی۔ چناں چہ آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ میرے پیغمبر تمھارے پاس آئیںگے۔ تم اِن پیغمبروں کی پیروی کرنا۔ جو لوگ اِن پیغمبروں کی پیروی کریں گے، ان کو…

Al-Risala April 2017 m1_backfill

…کم ہوتا ہے۔ جب کہ اللہ رب العالمین کا دخل ننانوے فیصد سے بھی زیادہ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے لیے اللہ سے دعا کرنا بہت زیادہ اہم ہے۔ جس انسان کو یہ حقیقت دریافت ہوگئی، اور وہ اس پر قائم ہوگیا، وہ بلاشبہ اللہ کی رحمتوں کے سائے میں آجائے گا۔

اس دنیا میں انسان کے لیے پہلی رحمت کی چیز ایمان ہے۔ یعنی حقیقت حیات کی دریافت۔ اس کے بعد جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، وہ عافیت ہے۔ عافیت سے مراد وہی چیز ہے جس کو عام طور پر اچھی صحت (good health) کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک کمزور مخلوق ہے۔ صحت و عافیت میں معمولی خلل انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ جس انسان کو صحت و عافیت حاصل نہ ہو وہ کوئی بھی کام صحیح شکل میں نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے بہت زیادہ دعا کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو درست طور پر ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔مگر یاد کیے ہوئے عربی الفاظ کو دہرانے کا نام دعا نہیں ہے، سچی دعا وہ ہے جو معرفت کی دعا ہو۔ جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، نہ کہ لفظی تکرار کے طور پر۔ایسی دعا بلاشبہ اللہ تک پہنچتی ہے، اور وہ اللہ کے یہاں قبولیت کا درجہ پاتی ہے۔

رسول سے تعلق

Diary 1989-1990 m1_backfill

30 اپریل 1990

مجھے اچھی طرح یا دنہیں کہ میں نے کب سے باقاعدہ روزہ رکھنا شروع کیا۔ مگر یقینی ہے کہ جب سے روزہ رکھناشروع کیا ، اس کے بعد پھرکبھی نہیں چھوڑا ۔ مجھے شرم آتی ہے کہ رزق کامالک یہ ہے کہے کہ تم میرا کھانا اور پانی چھوڑ دو ، پھر بھی میں خدا کا دیا ہوا کھانا اور پانی استعمال کرتا ہوں۔

میں کم ازکم پچاس سال سے اس طرح مسلسل روزہ رکھ رہا ہوں ۔ مگر روزہ کی ایک لطیف حقیقت پہلی بار 50 سال بعد موجودہ رمضان (1410ھ) میں میری سمجھ میں آئی ۔ 25 رمضان کو شام کا وقت تھا۔ بھوک پیاس کی شدت سے جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ میں عصر کی نماز کے…

In the lectures

Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 149 distinct lectures.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے۔ اذان اور نماز دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار۔ گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں…

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے- اذان اور نماز دونوں ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار- گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں سب…

خدا کی قدرت

اللہ اکبر

مولانا وحید الدین خاں

اللہ اکبر

نماز اسلام کی بنیادی عبادت ہے۔ نماز میں بار بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے امر واقعہ کا اعلان ہے۔ یہ کوئی کلمۂ فخر نہیں، بلکہ یہ کلمۂ واقعہ ہے۔ انسان پیدا…

معرفت و روحانیت

اللہ اکبر

الربانیہ

…یہ استدلال درست نہیں۔ کائنات میں مادّی اجزا کے اعتبار سے ضرور وحدت ہے، لیکن اِن مادی اجزا کی ترکیب سے جو چیز بنی، اس کے اندر غیر معمولی ڈزائن (design) موجود ہے، اور ڈزائن صرف ایک ذہن کی تخلیق ہوتی ہے، نہ کہ کسی بے فارم اسپرٹ کی تخلیق۔

کائنات میں خدا

کی گواہی

ان شاء اللہ

اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ آدمی جب کسی کام کے بارے میں اپنے ارادہ کا اظہار کرے تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) بھی ضرور کہے۔ مثلاً ایک شخص دہلی سے بمبئی جانے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح نہ کہے کہ کل میں بمبئی…

اللہ کی مدد

قرآن میں ایک خدائی قانون کو ان الفاظ میںبیان کیا گیاہے: وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ إِنَّ اللَّہَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ (22:40)۔ یعنی اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔ بیشک اللہ زبردست ہے، زور والا ہے۔ قرآن کی یہ…

…كام بن جاتا هے۔ ايسي حالت ميں جو آدمي اپنے مانوس دائره سے نكل كر ايك اور نيكي كو دريافت كرے اور اس كو اپني زندگي ميں شامل كرے اس نے گويا حق كے راستے ميں دوهری منزليں طے كيں۔ يهي وجه هے كه ايسے آدمي كے لیے دوهرا انعام مقرر كيا گيا ہے۔

اللہ کی مدد

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہےيَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (47:7)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے…