Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایمان کی علامت
محمد بن کعب القرظی (وفات108ھ) مشہور تابعی ہیں۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہےإِذَا أَرَادَ اللَّہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا زَہَّدَہُ فِی الدُّنْیَا، وَفَقَّہَہُ فِی الدِّینِ، وَبَصَّرَہُ عُیُوبَہُ، وَمَنْ أُوتِیہِنَّ أُوتِیَ خَیْرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ (الزھد لوکیع بن الجراح، اثر نمبر 2)۔ یعنی جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کو دنیا میں زہد عطا کرتا ہے، اور اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے، اور اس کے عیوب اس کو دکھا دیتا ہے۔ جس کو یہ چیزیں دی گئیں، اس کو دنیا اور آخرت کا خیر دے دیا گیا۔original + quote
اس قول میں مومن کی چند صفات بتائی گئی ہیں— زہد، فہم ِدین، خود احتسابی۔ یہ صفات الگ الگ صفات نہیں ہیں، یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ ان کے مجموعے کو ایک لفظ میں معرفت کہا جاسکتا ہے۔ جب انسان کو اللہ رب العالمین کی دریافت ہوتی ہے، تو وہ ایک عارف باللہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ معرفت اس کی پوری شخصیت کی کلیدبن جاتی ہے۔
مذکورہ تابعی کے قول میں زہد کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے وہی ہے، جس کو قرآن میںعدم رکون (ہود، 11:113) کہا گیا ہے،یعنی حالات کے اثر سے جھکاؤکا شکارنہ ہونا۔ یہاں مومن سے مراد وہ مومن ہے، جو اللہ کے مشن میں اپنے آپ کو لگا دیتا ہے۔ ہر مشن میں انسان کو ایک نازک قسم کا اجتماعی رول ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس اجتماعی رول میں ادنیٰ درجے کا ڈسٹریکشن (distraction) مومن کو اپنے رول سے دور کردیتا ہے۔ وہ امکان کے قریب پہنچ کر بھی امکان سے دور ہوجاتا ہے۔original + quote
آدمی کو امکان کے قریب پہنچانے والا اللہ رب العالمین ہے۔ لیکن اس امکان کو پہچاننا، ہمیشہ انسان کا اپنا کام ہوتا ہے۔ انسان اگرمعرفت کی پہچان میں ناکام ہوجائے، تو کوئی فرشتہ اس کی مدد کے لیے آنے والا نہیں۔ اس معاملے میں فرشتہ انسان کو ضمیر کے ذریعے سے اشارہ کرتا ہے۔ لیکن نجات کے معنی میں خود کو بچانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ ضروری ہے کہ انسان اس معاملے میں بہت زیادہ الرٹ رہے، تاکہ وہ اپنے آپ کو تباہی سے بچا سکے۔