Shukr All cross-references →
Qur'an 3:120
Qur'an 3:120

إِن تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡ وَإِن تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٞ يَفۡرَحُواْ بِهَاۖ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔاۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ

If good touches you, it distresses them; but if harm strikes you, they rejoice at it. And if you are patient and fear Allah, their plot will not harm you at all. Indeed, Allah is encompassing of what they do

Explained in 19 book passages and 19 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…The Quran wants to put an end to this kind of negative mentality. In the chapter Al-‘Imran (The Family of Imran), the Quran gives us a very important piece of guidance on this subject. The translation of the relevant verse is as follows:

Whenever something good happens to you, it grieves them; but when evil befalls you, they rejoice. If you persevere and fear God, their conspiracies will never harm you in the least: God encompasses all that they do. (3:120)

This Quranic verse reveals a law of nature. It is a universal law and it is applicable everywhere and at all times. Everyone can follow this advice and solve the problem of conspiracy.

Al-Risala March 2022 A original + quote

سازش بے اثر

سورہ آل عمران میں بتا یاگیا ہے کہ سازش کا سب سے زیادہ موثر توڑ کیا ہے۔ وہ ہے — صبر اور تقویٰ۔ صبر اور تقویٰ بظاہر کوئی مادی طاقت نہیں ، مگر صبر وتقویٰ کے ذریعہ سازش کا کامیاب دفاع کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہےوَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا إِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ (3:120)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچائے گی ۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں خدا اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش کی موجود گی نہیںہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سازش کے فطری توڑ کے لیے صبر اور تقویٰ موجود نہ ہو۔ موجودہ دنیا کو چیلنج اورمسابقت کے اصول پربنایا گیا…

Al-Risala October 2020 A original + quote

…اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو تھا۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا۔ مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکاکر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہوگا، جو 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں پیش آیا۔

اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ دوسروں کی انا (ego) کو نہ بھڑکائیں۔ جس انسان کا ایگو بھڑکایا نہ گیا ہو وہ اپنے ضمیر کے تابع ہوتاہے ،اور جس انسان کا ایگو بھڑکا دیا جائے، وہ اپنے نفس امارہ (یوسف، 12:53)کے تابع بن جاتا ہے، اور جو انسان اپنی نفس امارہ کے تابع بن جائے،وہ گویا ایک حیوان ہے، اگرچہ بہ ظاہر وہ ایک انسان دکھائی دیتا ہو۔مذکورہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے، جس میں یہ کہا گیاہے کہ: اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو توان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔

اس آیت کے مطابق، اس دنیامیں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہل ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو ان کے لیے خداکی ضمانت ہے کہ ان کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش یقینی طورپر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔…

Al-Risala June 2020 A original + quote

…بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے، جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اختیار سے وہی کرنا ہے، جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کوخود اختیاری سے اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔

اس کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہاجاسکتا ہے۔ خود اختیار کردہ اخلاقیات کے ساتھ زندگی گزارنا کیا ہے۔ مثلاً قرآن میں زندگی کا ایک اصول ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔ یعنی اگر تم صبرکرو اور تقوی کی روش اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہوتو تمہارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لیے نقصان دہ (harmful) نہیں بنے گی۔

اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دیناہے ۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہے۔ امتحان کا یہ نظام کسی انسانی گروہ کی جانب مقرر کردہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق براہ راست طور پر خالقِ کائنات سے ہے۔کسی اورکے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ…

Al-Risala October 2019 A original + quote

…یہ ہیں: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ(5:105)۔ یعنی اے ایمان والو، تمھارے او پر اپنی ذمہ داری ہے ۔ کسی کی گمراہی تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گی اگر تم ہدایت پر ہو۔

قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہی بات ایک اور آیت میں اس انداز میں آئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچا ئے گی ۔ دونوں آیتوں کے مطالعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں آدمی خود اپنے انجام کو بھگتتا ہے۔ آدمی کا رویہ اگر صابرانہ رویہ ہو، تو وہ لوگوں کی سازش سے یقیناً محفوظ رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کا رویہ بے صبری کا رویہ ہو تو وہ لوگوں کی سازش کا شکار ہوتا رہے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے، وہ خود اپنی اصلاح کی کوشش کرتا رہے۔ ایسا آدمی یقینی طور پر دوسروں کے شر سے محفوظ رہے گا۔

انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ اپنے معاملات کو ہمیشہ خوبصورت انداز میں تاویل کرلیتا ہے۔ اپنے غلط کام کو بھی صحیح شکل میں ڈھال لیتا ہے۔ آدمی کا مزاج ہے کہ وہ اپنے چھوٹے سے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، اور دوسرے کا کام کتنا ہی بڑا ہو، وہ اس…

Al-Risala October 2019 A original + quote

کنڈیشنڈ سوچ

ایک اندازِ فکر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں عام ہے، وہ یہ کہ کسی بھی مسئلے میں اپنے شاکلہ (الاسراء، 17:84) کے تحت سوچنا۔ مگر یہ طریقہ مکمل طور پر ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اہل ایمان کے لیے سوچنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کسی متعین مسئلہ کے بارے میں قرآن کا حکم کیا ہے۔ مثال کے طور پر جب مسلمانوں پر کوئی مصیبتیں آتی ہیں، تو وہ اس کا الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔ مگر اسلامی روش یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس معاملے میں قرآن کیا کہتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں قرآن کی دو متعلق آیتیں نقل کی جاتی ہیں: وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (42:30)۔ یعنی اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کردیتا ہے۔ دوسری آیت یہ ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120) ۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

دنیا کی زندگی مومن اور غیر مومن ہر ایک کے لیے ایک چیلنج اور مسابقت کا معاملہ ہے۔ خواہ کوئی مومن ہو یا غیر مومن دونوں کو طرح طرح کے حالات کے درمیان اپنا راستہ بنانا پڑتا ہے۔ اس بنا پر انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی بالکل مختلف…

Al-Risala January 2019 A original + quote

میں نے کہا کہ اگر آپ قرآن کے اِس تبصرے کو درست سمجھتے ہیں تو آپ کو یقیناً الرسالہ کے انداز ہی کو صحیح انداز سمجھنا چاہیے۔ الرسالہ کا انداز خالص قرآنی انداز ہے، نہ کہ غیر معتدل انداز۔

میں نے کہا کہ قرآن میں واضح طورپر یہ آیت موجود ہے: وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو (مخالفین) کی کوئی بھی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ اِس آیت سے واضح طورپر یہ ثابت ہوتاہے کہ اہلِ ایمان کے لیےاصل مسئلہ سازش کا ہونا نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقوی کا نہ ہونا ہے۔ اگر کسی گروہ کے اندر صبر اور تقوی کی صفت موجود ہے تویہ صبر اور تقوی ان کے لیے ہر سازش کے خلاف ایک چیک بن جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی مسلم گروہ کسی مخالف گروہ کی سازش کا نشانہ بنے تو قرآن کے مطابق، لازماً یہ یقین کرنا چاہیے کہ صبر اور تقوی کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ سازش کی موجودگی نقصان کا سبب نہیں، بلکہ صبر اور تقوی کی عدم موجودگی نقصان کا اصل سبب ہے۔ اس لیے تمام لکھنے اور بولنے والوں کو صبر اور تقوی کی اسپرٹ جگانے پر مصروف ہونا چاہیے، نہ یہ کہ وہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف بے فائدہ طورپر احتجاج اور شکایت کی مہم میں لگ جائیں۔ صبر اور تقوی کامیابی کی واحد ضمانت ہے، جب کہ احتجاج اور شکایت کا طریقہ اپنانا،کامیابی کی اِس واحد خدائی ضمانت سے اپنے آپ کو محروم کرلینا ہے۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی حکیمانہ بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایسے معاملات میں اگر دونوں فریقوں کو نصیحت کی جائے تو نصیحت غیر موثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ نصیحت کے لیے ہمیشہ یک طرفہ کلام موثر ہوتا ہے، تاکہ سامع کی ساری توجہ صرف قابلِ اصلاح…

Al-Risala June 2018 A original + quote

…بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (5:105)۔ یعنی اے ایمان والو، تمھارے او پر صرف اپنی ذمے داری ہے ۔ کسی کی گمراہی تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گی اگر تم ہدایت پر ہو۔ تم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو بتادے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔

قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہی بات ایک اور آیت میں اس انداز میں آئی ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا إِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ (3:120)۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچا ئے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اللہ اس پر حاوی ہے ۔ دونوں آیتوں کے مطالعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں آدمی خود اپنے انجام کو بھگتتا ہے۔ آدمی کا رویہ اگر صابرانہ رویہ ہو تو وہ لوگوں کی سازشوں سے خود فطرت کے قانون کے مطابق اس سے محفوظ رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کا رویہ بے صبری کا رویہ ہو تو وہ لوگوں کی سازش کا شکار ہوتا رہے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے، وہ خود اپنی اصلاح کی کوشش کرتا رہے۔ ایسا آدمی یقینی طور پر دوسروں کے شر سے محفوظ رہے گا۔

دوسروں کے شر سےمحفوظ رہنے کا ایک اٹل اصول ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنی طرف سے اشتعال انگیز کارروائی کرکے فریق ثانی کو جوابی کارروائی (retaliation) کا موقع نہ دیں۔ اس معاملے میں یہی سب سے بڑا اصول ہے۔ اس اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا…

Al-Risala September 2016 A original + quote

…ان کو سننا اور پڑھنا میرے جیسے انسان کے لیے ایک سزا کے برابر ہے۔ اس لیے کہ قرآن و حدیث کے مطالعہ کے مطابق ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ باتیں کسی سازشی قوم کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ خود مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے کی بے دانشی کو ثابت کرتی ہیں۔

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہیں:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔ قرآن کی یہ آیت مسلمانوں کو خطاب کررہی ہے۔ اور یہ بتاتی ہے کہ دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، بلکہ خود اپنی کمزوری تم کو نقصان پہنچائے گی۔ ایسی حالت میں اغیار کی سازش کا نظریہ صرف اس بات کاثبوت ہے کہ لکھنے اور بولنے والا شخص قرآن سے مکمل طور پر بے خبر ہے۔ قرآن کے مطابق، اللہ نے ابلیس اور اس کی قوم کو پوری چھوٹ دی ہے کہ وہ انسان کے خلاف جو کچھ کرنا چاہے، آزادی کے ساتھ کرے۔ مثلاً ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ان میں سے جس پر تیرا بس چلے، تو اپنی آواز سے ان کا قدم اکھاڑ دے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا اور ان کے مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدہ کر۔ اور شیطان کا وعدہ ایک دھوکہ کے سوا اور کچھ نہیں۔بے شک جو عباد اللہ ہیں ان پر تیراسلطان نہیں چلے گا اور تیرا رب کار سازی کے لئے کافی ہے (17:64-65)۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، مسلمانوں کے لیے اصل کام دوسروں کے خلاف شکایت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو عباد اللہ بنانا ہے۔ مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے لوگ ہیں، ان سب کو یہ چاہیے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ عبادا للہ کی شرطیں…

Al-Risala September 2016 A original + quote

سازش بے اثر

عام طور پر لوگ سازش کے خلاف شکایت کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سازش کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ اس کے خلاف احتجاج(protest) کیا جائے، اس کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے۔مگر قرآن میں سازش کے مسئلے کا جو حل بتایا گیا ہے، وہ اس قسم کا رد عمل (reaction) نہیں ہے، بلکہ وہ صرف پرامن تدبیر ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی مخالفانہ تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

کید (evil scheme)کیا ہے۔ وہ دراصل کسی انسان یا قوم کا اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرنا ہے۔ آزادی انسان کو خالق کی طرف سے دی گئی ہے۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال کرتا ہے۔ اگر کوئی…

Al-Risala January 2016 A original + quote

…اپنا منصوبہ نہیں بنائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کی آزادی دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں دوسرے انسان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلے کو چیلنج سمجھے۔ اور دوسرے سے لڑائی یا نفرت کیے بغیر اپنے لیے ترقی کا راستہ نکالے۔

یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ ۔ (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اورتقویٰ کا طریقہ اختیار کرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچا ئے گی۔ اس آیت میں جو رہنمائی دی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر تم کو دوسروں کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو سازش بتاکر احتجاج (protest) نہ کرو۔ بلکہ صورتِ حال کا بے لاگ مطالعہ کرکے مثبت بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ زندگی کے مواقع جس طرح ایک شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ دوسرے شخص کے لیے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ اس لیے کرنے کا اصل کام مواقع کو استعمال کرنا ہے ، نہ کہ دوسرے کے خلاف چیخ و پکار کرنا۔

کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف چیخ و پکار کرنا، باعتبار نتیجہ صرف اپنی تباہی میں اضافہ کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔اس دنیا میں کامیابی کا راز صرف ایک ہےاور وہ ہے— حالات کے مطابق درست منصوبہ بندی۔

Al-Risala July 2014 A original + quote

تعمیر ِخویش کاطریقہ

قرآن کی سورہ آل عمران میں ایک اصول اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: إن تصبروا وتتّقوا لایضرّکم کیدہم شیئاً (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔

قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دنیا میں سازش کا ہونا، اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہوناہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو، اُن کے لیے دوسروں کی سازش اور…

Al-Risala December 2012 A original + quote

عام طور پر کہا جاتا کہ میں تشدد کا حامی نہیں، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا تو بہت ضروری ہے- براہِ کرم اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور)

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إن تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیئا (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی-

گویا کہ سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقوی کی روش اس کا توڑ ہے-قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اِس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی…

Al-Risala August 2012 A original + quote

…چیلنج کی نسبت سے مسلمانوں کا یہ رویہ یقینی طورپر درست نہ تھا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان متفقہ طورپر ایک ہی بات کہتے ہیں۔ وہ یہ کہ وہ موجودہ صورتِ حال کو مغربی قوموں کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد بات ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان اگر صبر اور تقویٰ کی روش اختیار کریں، تو دوسروں کی سازش انھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی(3: 120) ۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوا کہ اِس دنیا میں کسی گروہ کے خلاف سازش (conspiracy) اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود اُس گروہ کے اندر صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ باقی نہ رہے۔

یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے ایک لمبی دعا کی۔ اِس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے یقین دہانی کرتے ہوئے اپنے پیغمبر سے فرمایا: یا محمد، إنی أعطیت لأمتک أن لا…

Al-Risala August 2012 A original + quote

…انسان کی تقدیر بتائی گئی ہے، یعنی وہ قوانینِ فطرت جو انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے ہیں، فرد کی تقدیر بھی اور قوم کی تقدیر بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ قرآن کے اِن ابدی قوانینِ تقدیر کو معلوم کرے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔

مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیئاً (3: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیا رکرو تو دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قانونِ حیات کے مطابق، انسان کی طاقت کا سرچشمہ صبر اور تقویٰ ہے۔ کسی فرد یا قوم کا اصل مسئلہ سازشِ غیر کی موجودگی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اپنے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود نہیں۔

اِس قانونِ فطرت کے مطابق، اگر کوئی قوم یہ پائے کہ دوسرے لوگ اس کے خلاف سازش کررہے ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے، نہ کہ اپنے آپ سے باہر۔ اِس طرح کی صورتِ حال میں کسی مفروضہ حریف کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک…

Al-Risala October 2020 A original + quote

…اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو تھا۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا۔ مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکاکر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہوگا، جو 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں پیش آیا۔

اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ دوسروں کی انا (ego) کو نہ بھڑکائیں۔ جس انسان کا ایگو بھڑکایا نہ گیا ہو وہ اپنے ضمیر کے تابع ہوتاہے ،اور جس انسان کا ایگو بھڑکا دیا جائے، وہ اپنے نفس امارہ (یوسف، 12:53)کے تابع بن جاتا ہے، اور جو انسان اپنی نفس امارہ کے تابع بن جائے،وہ گویا ایک حیوان ہے، اگرچہ بہ ظاہر وہ ایک انسان دکھائی دیتا ہو۔مذکورہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے، جس میں یہ کہا گیاہے کہ: اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو توان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔

اس آیت کے مطابق، اس دنیامیں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہل ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو ان کے لیے خداکی ضمانت ہے کہ ان کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش یقینی طورپر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔…

Al-Risala June 2020 A original + quote

…بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے، جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اختیار سے وہی کرنا ہے، جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کوخود اختیاری سے اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔

اس کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہاجاسکتا ہے۔ خود اختیار کردہ اخلاقیات کے ساتھ زندگی گزارنا کیا ہے۔ مثلاً قرآن میں زندگی کا ایک اصول ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔ یعنی اگر تم صبرکرو اور تقوی کی روش اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہوتو تمہارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لیے نقصان دہ (harmful) نہیں بنے گی۔

اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دیناہے ۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہے۔ امتحان کا یہ نظام کسی انسانی گروہ کی جانب مقرر کردہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق براہ راست طور پر خالقِ کائنات سے ہے۔کسی اورکے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ…

Al-Risala October 2020 A original + quote

…اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو تھا۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا۔ مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکاکر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہوگا، جو 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں پیش آیا۔

اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ دوسروں کی انا (ego) کو نہ بھڑکائیں۔ جس انسان کا ایگو بھڑکایا نہ گیا ہو وہ اپنے ضمیر کے تابع ہوتاہے ،اور جس انسان کا ایگو بھڑکا دیا جائے، وہ اپنے نفس امارہ (یوسف، 12:53)کے تابع بن جاتا ہے، اور جو انسان اپنی نفس امارہ کے تابع بن جائے،وہ گویا ایک حیوان ہے، اگرچہ بہ ظاہر وہ ایک انسان دکھائی دیتا ہو۔مذکورہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے، جس میں یہ کہا گیاہے کہ: اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو توان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔

اس آیت کے مطابق، اس دنیامیں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہل ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو ان کے لیے خداکی ضمانت ہے کہ ان کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش یقینی طورپر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔…

Al-Risala June 2020 A original + quote

…بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے، جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اختیار سے وہی کرنا ہے، جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کوخود اختیاری سے اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔

اس کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہاجاسکتا ہے۔ خود اختیار کردہ اخلاقیات کے ساتھ زندگی گزارنا کیا ہے۔ مثلاً قرآن میں زندگی کا ایک اصول ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔ یعنی اگر تم صبرکرو اور تقوی کی روش اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہوتو تمہارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لیے نقصان دہ (harmful) نہیں بنے گی۔

اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دیناہے ۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہے۔ امتحان کا یہ نظام کسی انسانی گروہ کی جانب مقرر کردہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق براہ راست طور پر خالقِ کائنات سے ہے۔کسی اورکے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ…

In the lectures

Cited at 1316s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1738s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1761s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1829s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1859s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1889s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1971s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2041s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2156s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2750s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3292s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3595s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3621s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3626s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3652s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3678s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3709s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3738s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5131s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Tameer-e-Shakhsiyat (p. 227) original + quote

قرآن کی ہدایت

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ ان سب کا احاطہ کیے ہوئے ہےوَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120) ۔

ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ صبر اور تقوی کے ذریعہ شرپسندوں کے شرسے اور فاجروں کی سازش سے اپنے آپ کو بچائیں يُرْشِدُهُمْ تَعَالَى إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ شَرِّ الْأَشْرَارِ…

semantic Tameer-e-Shakhsiyat (p. 223) original + quote

…بیٹھے ۔ فریق ثانی اگر’’ دوسرا ہاتھ‘‘ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہل اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہل اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ 

وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی،اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو توان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں،اللہ نے ان سب کااحاطہ کر رکھا ہے۔

اس آیت کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ— دشمن کی سازش صرف50 فی صد حد تک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ50 فی صد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ دشمن کو…

…کچھ نہیں ملے گا۔ اس کے برعکس، جو انسان ذہنی بیداری کے ساتھ جیتا ہو، وہ آزمائش میں اعتدال پر قائم رہے گا،ناخوشگوار تجربہ کے باوجود وہ اپنی مثبت سوچ (positive thinking) کو باقی رکھے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس نے آزمائش سے خیر کی غذا حاصل کی۔

آزمائش بظاہر کسی نہ کسی مصیبت کی شکل میں آتی ہے۔جو لوگ مصیبت سے گھبرا اٹھیں، ان کو آزمائش سے شکایت اور مایوسی کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا، لیکن جو لوگ آزمائش کو اللہ کے منصوبے کا جزء سمجھیں، وہ آزمائش کا استقبال مثبت ذہن کے ساتھ کریں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آزمائش، ان کے اجر میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔

اللہ کے یہاں انعامات کی کمی نہیں۔ لیکن کسی کو اللہ کا بڑا انعام ہمیشہ اس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ اس کے لیے بڑا استحقاق پیدا کرے۔ بڑے استحقاق کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت سوچ پر قائم رکھے۔ کوئی بھی…

…کچھ نہیں ملے گا۔ اس کے برعکس، جو انسان ذہنی بیداری کے ساتھ جیتا ہو، وہ آزمائش میں اعتدال پر قائم رہے گا،ناخوشگوار تجربہ کے باوجود وہ اپنی مثبت سوچ (positive thinking) کو باقی رکھے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس نے آزمائش سے خیر کی غذا حاصل کی۔

آزمائش بظاہر کسی نہ کسی مصیبت کی شکل میں آتی ہے۔جو لوگ مصیبت سے گھبرا اٹھیں، ان کو آزمائش سے شکایت اور مایوسی کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا، لیکن جو لوگ آزمائش کو اللہ کے منصوبے کا جزء سمجھیں، وہ آزمائش کا استقبال مثبت ذہن کے ساتھ کریں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آزمائش، ان کے اجر میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔

اللہ کے یہاں انعامات کی کمی نہیں۔ لیکن کسی کو اللہ کا بڑا انعام ہمیشہ اس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ اس کے لیے بڑا استحقاق پیدا کرے۔ بڑے استحقاق کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت سوچ پر قائم رکھے۔ کوئی بھی…

…alludes to a universal law of nature. In one sense, the Quran is a statement of the Laws of Nature. Those who obey these Laws of Nature are successful, while those who try to follow their own whims or desires will be doomed to failure.

Everyone is full of desires. If you simply follow your desires, you will certainly deviate from the right path laid down by God. Those, on the other hand, who control their desires, making every effort to know God’s laws as demonstrated in Nature and literally stated in the Quran, have adopted the right path and, sooner or later, they will reach their destination. There are boundaries in every field of life. One should be very serious about this, and should give due respect to these boundaries.

For example, the individual may enjoy his freedom but he should not choose to be an anarchist. He should always follow the peaceful path and never opt for violence He should promote the culture of love in society and not the culture of…

…“Endure with patience; truly, your patience is possible only with the help of God.” (16:127) When a man is patient his patience is concerning other human beings, but in reality, it is synonymous with conforming to God’s creation plan.

God has created the system of the world in such a way that everyone has been granted freedom. Everyone has an open environment of competition. Consequently, complaints are made against each other; one person experiences loss from the other. To endure an unpleasant experience in such a situation is to be content with God’s creation plan. Because of the importance of patience, God has described it thus: “And for the sake of your Lord, be patient.” (74:7) The Quran declares that the patient one will be rewarded beyond measure. (39:10)

…form of worship when a person faced with differences and conflict prevents himself from being consumed by feelings of enmity and revenge. Only by doing so is he able to adhere to the way of justice, even when differences seem overwhelming.

Differences are no evil. What is evil is a person not dealing with differences in an appropriate way, such as would ensure his passing the divine test. Going in fear of God despite there being differences is a great Islamic act. Not going in fear of God at the time of differences is grievously un-Islamic.

semantic Al-Risala October 2019 original + quote

…اب ہارنے والی پارٹی کو یہ کرنا ہوگا کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلے۔ وہ غیریت کے بجائےاپنا پن کا طریقہ اختیار کرے، وہ نفرت کے بجائے انسانوں سے محبت کرنا سیکھے۔ وہ دوسرے کی شکایت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والی کمیونٹی بنے۔

وہ قرآن کی ان آیات کی حکمت کو سمجھے، اور ان کو دل سے اپنی زندگی میں اپنائے:(ترجمہ) اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (41:34-36)

semantic Tameer-e-Shakhsiyat (p. 187) original + quote

…پرانی مثل میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلا تار ہے تو اس سے تالی نہیں بجے گی ۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسراہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسراہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکارہے گا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرررسانی کامعاملہ بھی یہی ہے ۔ مخالف کی ضرررسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ فریقِ ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے۔ فریقِ ثانی اگر ’’ دوسراہاتھ ‘‘ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہلِ اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہلِ اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں ،اللہ نے ان سب کااحاطہ کر رکھا ہے۔

اس آیت کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ دشمن کی سازش صرف 50فی صد کی حدتک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریقِ ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ 50فی صدحصہ پورا کردے۔ صبر وتقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے…

semantic Al-Risala March 2016 original + quote

…اِس رضامندی کے باعث، اللہ نے اُن پر یہ خصوصی فضل کیا کہ اُن پر اپنی وہ خاص رحمت نازل فرمائی جو اُنھیں قلبی اعتبار سے اُس پر مطمئن کردے اور جس فیصلے پر وہ بظاہر ناگواری کے ساتھ راضی ہوئے تھے، اُس کو اُن کے لیے ایک خوش گوار تجربہ بنادے۔

زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آتی ہے۔ مثلاً کسی عزیز کی موت، کوئی مالی نقصان، کسی کی طرف سے بے عزتی کا معاملہ، وغیرہ۔ اِس طرح کامعاملہ آدمی کے لیے ہمیشہ صدمہ (shock) کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اگر آدمی اللہ کے حکم (البقرة 155:) کی بنا پر صبر کرلے اور رد عمل کا اظہار نہ کرے تو اپنے اِس عمل کی بنا پر وہ اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ یہ کہ جس چیز کو اُس نے ابتداء ً اپنی طبیعت پر جبر کرکے اختیار کیا تھا، اس کو اس کے لیے ایک خوش گوار واقعہ بنا دیا جائے۔

یہی مطلب ہے ’’ایمان پر ایمان کے اضافہ‘‘ کا، یعنی صبر کے معاملہ کو اطمینان کا معاملہ بنادینا۔ مومن کے دل میں پیدا ہونے والی اِسی کیفیت کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ’ازدیادِ ایمان‘ کہاگیا ہے۔