Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر وتقویٰ p. 186
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جو ڑا جو ڑاپید اکی ہے (51:49)۔ یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے وہ دوچیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہااس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی ۔ p. 186original + quote
اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلا تار ہے تو اس سے تالی نہیں بجے گی ۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسراہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسراہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکارہے گا۔ p. 187original + quote
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرررسانی کامعاملہ بھی یہی ہے ۔ مخالف کی ضرررسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ فریقِ ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے۔ فریقِ ثانی اگر ’’ دوسراہاتھ ‘‘ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہلِ اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہلِ اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں ،اللہ نے ان سب کااحاطہ کر رکھا ہے۔ p. 187original + quote
اس آیت کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ دشمن کی سازش صرف 50فی صد کی حدتک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریقِ ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ 50فی صدحصہ پورا کردے۔ صبر وتقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے منصوبہ کایہ بقیہ نصف حصہ دشمن کو حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہو گا تو اس کی مخالفانہ تدبیر لازمی طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔ p. 187
اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملہ کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ p. 187