← back to tawakkul · Tazkirul Quran (Urdu)

77. Al-Mursalaat

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔original + quote

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔original + quote

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔