← back to tawakkul · Tazkirul Quran (Urdu)

58. Al-Mujaadila

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

اسلام سے پہلے عرب میں رواج تھا کہ کوئی مرد اگر اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ أنتِ عليَّ كظَهْر أمِّي (تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام ہوجاتی۔ اس کو ظہار کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے ایک مسلمان اوس بن صامت انصاری نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کو ایک بار یہی لفظ کہہ دیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور واقعہ بتایا۔ آپ نے قدیم رواج کے اعتبار سے فرما دیا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تم اس پر حرام ہوگئی ہو۔ خولہ کو پریشانی ہوئی کہ میرا گھر اور میرے بچے برباد ہوجائیں گے۔ وہ فریاد و زاری کرنے لگیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور بتایا گیا کہ ظہار کے بارے میں اسلامی حکم کیا ہے۔unverified

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی لوگ ملیں جو فی الواقع سنجیدہ مقصد کے تحت آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ غیر ضروری قسم کے لوگ چھانٹ دئے جائیں جو اپنی بے فائدہ باتوں سے صرف وقت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس ليے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا ارادہ کرو تو پہلے اللہ کے نام پر کچھ صدقہ کرو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہوتو کوئی دوسری نیکی کرو۔ یہ حکم اگر چہ اصلاً رسول کے ليے مطلوب تھا۔ مگر رسول کے بعد بھی امت کے رہنماؤں کے حق میں وہ حالات کے اعتبار سے درجہ بدرجہ مطلوب ہوگا۔original + quote

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی لوگ ملیں جو فی الواقع سنجیدہ مقصد کے تحت آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ غیر ضروری قسم کے لوگ چھانٹ دئے جائیں جو اپنی بے فائدہ باتوں سے صرف وقت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس ليے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا ارادہ کرو تو پہلے اللہ کے نام پر کچھ صدقہ کرو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہوتو کوئی دوسری نیکی کرو۔ یہ حکم اگر چہ اصلاً رسول کے ليے مطلوب تھا۔ مگر رسول کے بعد بھی امت کے رہنماؤں کے حق میں وہ حالات کے اعتبار سے درجہ بدرجہ مطلوب ہوگا۔

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔ قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔original + quote

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

اس دنیا میں کامیابی حزبُ اللہ کے ليے ہے۔ حزب اللہ ( اللہ کی جماعت) کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان سب سے بڑی حقیقت کے طور پر راسخ ہوگیاہو۔ جن کو اللہ سے اتنی گہری نسبت حاصل ہو کہ ان کو اللہ کی طرف سے روحانی فیض پہنچنے لگے۔ پھر یہ کہ خدائی حقیقتوں سے ان کی وابستگی اتنی گہری ہو کہ اسی کی بنیاد پر ان کی دوستیاں اور دشمنیاں قائم ہوں۔ وہ سب سے زیادہ ان لوگوں سے قریب ہوں جو خدائی صداقت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اور جو لوگ خدائی صداقت سے دور ہیں وہ بھی ان سے دور ہو جائیں ، خواه وہ ان کے اپنے عزیز اور رشتہ دار کیوں نہ ہوں۔

اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔ قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔original + quote

اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔ قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔original + quote

حق کی مخالفت کرنا خدا کی مخالفت کرنا ہے۔ اور خدا کی مخالفت کرنا اس ہستی کی مخالفت کرنا ہے جس سے مخالفت کرکے آدمی خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ خدا سے آدمی نہ اپنی کسی چیز کو چھپا سکتا اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔

حق کی مخالفت کرنا خدا کی مخالفت کرنا ہے۔ اور خدا کی مخالفت کرنا اس ہستی کی مخالفت کرنا ہے جس سے مخالفت کرکے آدمی خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ خدا سے آدمی نہ اپنی کسی چیز کو چھپا سکتا اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔

کائنات اپنے انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ ہر آن کسی بالاتر طاقت کی نگرانی میں ہے۔ کائنات میں نگرانی کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی مسلسل طور پر اپنے خالق کی نگرانی میں ہے۔ ایسی حالت میں حق کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانا صرف ایسے اندھے لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی صفتوں کو نہ براہ راست طور پر ملفوظ قرآن میں پڑھ سکیں اور نہ بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کائنات میں۔ بعض یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آتے تو وہ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے کے بجائے السام علیکم (آپ پر موت آئے) کہتے۔ یہ ہمیشہ سے سطحی انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔ سطحی لوگ ایک سچے انسان کو بے قدر کرکے اپنے ذہن میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری پھیلی ہوئی خدائی عین اس وقت بھی اس سچے انسان کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے جب کہ اپنے محدود ذہن کے مطابق وہ اس کی تحقیر و تردید کے لیے اپنا آخری لفظ استعمال کرچکے ہوں۔original + quote

کائنات اپنے انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ ہر آن کسی بالاتر طاقت کی نگرانی میں ہے۔ کائنات میں نگرانی کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی مسلسل طور پر اپنے خالق کی نگرانی میں ہے۔ ایسی حالت میں حق کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانا صرف ایسے اندھے لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی صفتوں کو نہ براہ راست طور پر ملفوظ قرآن میں پڑھ سکیں اور نہ بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کائنات میں۔ بعض یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آتے تو وہ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے کے بجائے السام علیکم (آپ پر موت آئے) کہتے۔ یہ ہمیشہ سے سطحی انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔ سطحی لوگ ایک سچے انسان کو بے قدر کرکے اپنے ذہن میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری پھیلی ہوئی خدائی عین اس وقت بھی اس سچے انسان کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے جب کہ اپنے محدود ذہن کے مطابق وہ اس کی تحقیر و تردید کے لیے اپنا آخری لفظ استعمال کرچکے ہوں۔original + quote

مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔