Tabeer Ki Ghalati

قرآن سے بے تعلقی

Tabeer Ki Ghalati — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (43 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. آغاز
  3. دیباچہ طبع ثانی
  4. تمہید
  5. معذرت
  6. گفتگو اور خط و کتابت
  7. پہلا مرحلہ
  8. دوسرا مرحلہ
  9. تیسرا مرحلہ
  10. خط و کتابت مولانا صدرالدین اصلاحی
  11. شبہات
  12. دین کا صحیح تصور
  13. خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
  14. خط و کتابت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی
  15. خط و کتابت مولانا ابو الاعلیٰ مودودی
  16. ضمیمہ
  17. تصورِ دین
  18. اجتماعی تقاضا
  19. اسلامی مشن کی تعبیر
  20. ایک شبہ
  21. حدیث سے استدلال
  22. فقہ سے استدلال
  23. غلط تعبیر کے نتائج
  24. نقطۂ نظر میں فرق
  25. غیرشعوری عمل
  26. قرآن سے بے تعلقی
  27. دین کو اپنے ذہنی سانچے میں ڈھالنا
  28. نشانے کی تبدیلی
  29. مخاطبین پر اثر
  30. سیاسی انتہا پسندی
  31. غلبۂ دین کی غلط تشریح
  32. نظریاتی دینداری
  33. اصل کام کے بجائے د وسرے کام
  34. نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
  35. عبادت کے تقاضے
  36. اطاعت
  37. شہادت حق
  38. نصرت دین
  39. تقابل
  40. نماز کی مثال
  41. کرنے کا کام
  42. قبول حق کی رکاوٹیں
  43. آخری بات

قرآن سے بے تعلقی p. 355

جو لوگ دین کی کسی غلط تعبیر سے متاثر ہوں، ان کو خدا کی کتاب سے اتنی دلچسپی نہیں ہو سکتی جتنی اس مخصوص تشریح سے ہو گی جس کو انہوں نے حق سمجھ کر قبول کیا ہے، وجہ بالکل ظاہر ہے۔ قرآن میں دین کی تشریح اپنے تصور دین کے مطابق ہے، نہ کہ کسی اور تصور کے مطابق ۔ جب کوئی شخص دوسرا تصور لے کر قرآن کو پڑھتا ہے تو اس میں اسے اپنے جذبات کی تسکین نہیںملتی۔ قرآن میں اس کو دین ٹھیک اس شکل میں نظر نہیں آتا جس شکل میں وہ اپنے ذہن کے اندر اسے محسوس کرتا ہے، اس بنا پر اس کے اندر کچھ اس قسم کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کو قرآن میں اشمئزاز کہا گیا ہے (الزمر، 39:45)۔ { FR 8665 } اس کے برعکس، اپنی پسندیدہ تشریح کے تحت پیدا شدہ لٹریچر سے اسے بہت زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہاں اس کے جذبات کو پوری طرح تسکین ملتی ہے۔ وہاں دین اسے عین اس تصور کے مطابق نظر آتا ہے، جو اس نے اپنے ذہن میں قائم کر رکھا ہے۔ آپ کو ایسے افراد ملیں گے جن کو سیرۃ النبی اور اسوۂ صحابہ جیسی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں تو وہ ان کو ختم کیے بغیر واپس کر دیں گے۔ اس کے برعکس، عبدالحلیم شرر کے ’’اسلامی ناولوں‘‘ کو وہ اس طرح پڑھتے ہیں کہ جب تک ختم نہیں کر لیتے انھیں چین نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلامی تاریخ کو جس رنگین صورت میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ خالص تاریخی کتابوںمیں نہیں ملتی۔ ان کو اسلام کی واقعی تاریخ سےزیادہ اپنے مخصوص ذوق سے دلچسپی ہے۔ اس لیے وہ تاریخ سے زیادہ تاریخی ناول پسند کرتے ہیں۔ p. 355original + quote