Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ضمیمہ p. 197
مولانا مودودی کے خط مورخہ 21 مارچ 1963ء سے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ اب وہ میرا جواب نہیں دیں گے ۔ کیوں کہ اپنے اس خط میں انھوں نے صاف طور پر لکھ دیا تھا p. 198
’’ میں آپ سے اس سلسلے میں مستقل معذرت چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ مزید مراسلت میں اپنا اور میرا وقت ضائع نہیں فرمائیں گے ‘‘ ۔ p. 198
اس لیے اب میرے لیے آخری چارہ کار یہی تھا کہ اپنی تحریر کتابی شکل میں مرتب کر کے اسے اشاعت کے لیے دے دوں ۔ مگر اسی کے ساتھ میں نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ اپنے غمگین احساسات مولانا تک پہنچا دوں۔چنانچہ میں نے مولانا کے نام اپنا خط مورخہ20 اپریل لکھ کر روانہ کر دیا ۔ میں سمجھتا تھا کہ اس خط کا جواب دے کر مولانا ا پنا وقت ’’ ضائع ‘‘ کرنا پسند نہیں فرمائیں گے ۔ مگر دو مہینے بعد 21 جون کی ڈاک سے مولانا مودودی کا ایک خط ملاجس میں ایک مزید بات کا انکشاف تھا۔ چوں کہ اس وقت تک پلیٹیں جمائی جا چکی تھیں۔ { FR 8661 }اس لیے یہ خط اصل ترتیب میں شامل نہ ہو سکا ۔ مگر اس خط کے بغیر یہ کہانی مکمل نہیں ہو سکتی اس لیے اس کو الگ ضمیمہ کے تحت نقل کیا جاتا ہے ۔ p. 198
لاہور، 12 جون 1963ء p. 198
محترمی ومکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ p. 199
آپ کا عنایت نامہ میرے سفر حج کے زمانے میں آیا تھا ۔ جواب میری غیر موجودگی کی وجہ سے بر وقت نہ دیا جا سکا۔ p. 199
میں طبعاً بحث ونزاع سے دلچسپی نہیں رکھتا اور ہمیشہ اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ آپ کے مضمون ’’ تعبیر کی غلطی ‘‘ کو دیکھ کر میں نے محسوس کیا تھا کہ مجھ سے آپ کا اختلاف محض علمی حد تک نہیں رہا ہے بلکہ آپ کے اندر میرے خلاف ایک ضد اور کد کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے ۔ میری سیدھی باتوں میں سے بھی آپ نے ٹیڑھ نکالنے میں کسر اٹھا نہیں رکھی ہے ۔ اور مجھ پر جگہ جگہ سخت چوٹیں بھیکی ہیں۔ ان کے علاوہ میں نے ایک سخت ادعا کی کیفیت بھی آپ کے اس تحریر میں محسوس کی، اور یہ اندازہ ہوا کہ آپ بجز ’’ اعتراف خطا ‘‘ کے اور کسی چیز پر مطمئن نہیں ہو سکتے ، کیوں کہ آپ یہ قطعی رائے قائم کر چکے ہیں کہ جو کچھ آپ نے خود سمجھا ہے وہ بالکل صحیح ہے ۔ اور اب لازماً میرا ہی فہم غلط ہے ، لہٰذا میرے لیے کوئی راہ اس کے سوا باقی نہیں ہے کہ آپ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر لوں ۔ یہ ساری باتیں آپ کے اس مضمون میں اس قدر واضح طور پر موجود تھیں کہ کوئی بلید الذہن آدمی بھی ان کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔ اسی وجہ سے میں نے آپ کے ساتھ بحث کرنے سے اپنی معذوری کا اظہار کر دیا تھا ۔ کیوں کہ اس صورت حال میں اگر کوئی شخص آپ کو سمجھا بھی سکتا ہے تو وہ میرے سوا کوئی اور ہی ہونا چاہیے ۔ میرا آپ سے بحث کرنا نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ p. 199
اس کے بعد جب آپ نے بار بار اصرار کیا تو بادل نا خواستہ میں اس پر راضی ہو گیا تھا کہ آپ کے چھیڑے ہوئے اصل سوالات کا جواب دوں ۔ لیکن اس دوران میں بعض ایسے اصحاب نے جو ہندستان میں آپ سے بحث کر چکے ہیں ، مجھے مشورہ دیاکہ میں اس بحث میں اپنا وقت صرف نہ کروںاس سلسلے میں انھوں نے اپنے جو تجربات بیان کیے ان کا ذکر کرنا تو میں مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ اس سے خواہ مخواہ ایک نئی بحث کا دروازہ کھلتا ہے ۔ بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ان کے بیانات سے مجھے اپنے پچھلے موقف کے صحیح ہونے کا اطمینان حاصل ہو گیا ۔ آپ اس کو میری طرف سے اپنے اوپر ایک ظلم قرار دینا چاہیں تو آپ کو اس کا اختیار ہے ، مگر میرا احساس دیانتاً یہی ہے کہ آپ کو سمجھانے کی کوشش کرنے کے لیے سب سے زیادہ غیر موزوں شخص اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ میں ہی ہوں ۔ اس احساس کی بنا پر جب میں اپنی معذوری کا اظہار کر رہا ہوں تو آپ کا مجھ پر بڑا کرم ہو گا کہ میری اس معذرت کو قبول فرما لیں ۔ p. 199
میرا مخلصانہ مشورہ اب بھی یہی ہے کہ اگر آپ نے دین کے غائر اور وسیع مطالعہ سے اس کا ایک تصور حاصل کیا ہے تو مثبت طور پر اسے پیش کیجیے اور اس کی طرف دعوت دیجیے ۔ آخر یہ کیا ضروری ہے کہ آپ اپنی دعوت کا آغاز کسی دوسرے شخص کی تردید وتغلیط ہی سے کریں ۔ تاہم اگر آپ اسی طرح اپنی دعوت کا آغاز ضروری سمجھتے ہیں تو مجھے آپ کو اس سے روکنے کا حق نہیں پہنچتا ۔ میرے کرم فرماؤں کی فہرست پہلے ہی خاصی طویل ہے ۔ اس میں آپ کا اضافہ ہو جانے سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا ۔ p. 200
خاکسار p. 200
ابو الا علیٰ p. 200
اس خط کے ساتھ مولانا مودودی سے میری مراجعت کا وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے جس کا آغاز پچھلے سال حج کے موقع پر شمس پیر زادہ صاحب کی معرفت وعدۂ جواب سے ہوا تھا ۔ اور خاتمہ دوسرے سال حج سے واپسی کے بعد انکار جواب پر ہوا ہے ۔ مولانا نے زبانی اور تحریری وعدوں کے باوجود اپنے افکار کے بارے میں میری تنقیدوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔ اس کے جو اسباب اس درمیان میں انھوں نے اپنے خطوط میں بتائے ہیں وہ حسب ذیل ہیں p. 200
1۔ آپ کی تحریر میں بڑے مفصل اعتراضات کیے گئے ہیں اور میرے لیے اپنی موجودہ مصروفیتوں کے ساتھ اسے پڑھنا اور پھر اس کا مفصل جواب دینا سخت مشکل ہے ۔ p. 201
2۔ آپ کا مطالعہ آپ کو بالکل ہی اس سمت کے خلاف سمت میں لے گیا ہے جس سمت میں میرا آج تک کا مطالعہ مجھے لے گیا ہے ۔ اس لیے اب یہ بات فضول ہے کہ میں اور آپ کسی بحث میں الجھیں ۔ p. 201
3۔ آپ کا مطالعہ ناقص ہے اور اس پر غضب یہ ہے کہ آپ اپنے کو ایک بہت اونچے مقام پر فائز سمجھ رہے ہیں ۔ اب میری مشکل یہ ہے کہ علم کی کمی کے ساتھ جو شخص اس طرح کے زعم میں مبتلا ہو اس سے مخاطب ہونے کی مجھے عادت نہیں ۔ p. 201opposing view
4۔ آپ اس مقام سے گزر چکے ہیں جہاں آپ کو سمجھانے کی کوشش مفید ہو سکتی تھی ، اس لیے آپ کا جواب تو نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر آپ نے اپنی کتاب شائع کی تو خلق خدا کو آپ کی پیدا کردو وہ غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے آپ کے دلائل کا رد کیا جائے گا۔ p. 201
5۔ آپ کی تحریر مناظر انہ قسم کی ہے اس لیے آپ کو مجھ سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ میں آپ کے ساتھ سوال وجواب میں الجھ کر آپ سے مناظرہ بازی کروں گا۔ p. 201
6۔ اگر آپ اپنے مقام بلند سے نیچے اتریں اور یہ بھی محسوس کریں کہ جس آدمی پر آپ نے گرفت کی ہے وہ طفل مکتب نہیں ہے تب یہ ممکن ہے کہ آپ سے گفتگو کی جائے ۔ p. 202
7۔ آپ اتنے بلند اور بعید مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ اب آپ سے گفتگو غیر ممکن والا حاصل ہے ۔ سر دست میرے سامنے اپنی محدود قوت وفراغت کا بہتر مصرف موجود ہے اس لیے آپ سے تحریری مناظرے میں الجھنا میں اپنے لیے ممکن اور موزوں نہیں سمجھتا۔ p. 202
9۔ ہندستان کے بعض اصحاب جن سے آپ کی بحث ہو چکی ہے ، انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اس بحث میں اپنا وقت صرف نہ کروں ۔ p. 202opposing view
10۔ اگر آپ اپنی کتاب شائع کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے شائع کریں ۔ میرے کرم فرماؤں کی فہرست پہلے ہی خاصی طویل ہے ۔ اس میں آپ کا اضافہ ہو جانے سے کوئی بڑا فرق نہ پڑے گا ۔ p. 202
میری باتوں کا جواب نہ دینے کے یہ وجوہ کس حد تک قابل لحاظ ہیں ، اس کا فیصلہ ناظرین خود فرما سکتے ہیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں بہر حال یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مذکورہ بالا اسباب میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے کہ اس کی بنا پر مولانا میرے سوالات کا جواب دینے سے مکمل انکار کر دیتے — ظاہر ہے کہ کوئی اعتراض اگر ’’ مفصل ‘‘ ہے تو اپنی معذوری کی بنا پر آدمی یہ تو کر سکتا ہے کہ وہ اس کا مختصر جواب دے ۔ مگر کسی اعتراض کا مفصل ہونا اس بات کی کافی وجہ نہیں ہے کہ وہ جواب دینے کے لیے مانع بن جائے ۔ اسی طرح کوئی فکر اگر آپ کی فکر سے بالکل مختلف ہو تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس کی مکمل تردید کریں ۔ نہ یہ کہ آپ اس کا جواب دینے ہی سے انکار کر دیں۔ اسی طرح اگر مجیب کے نزدیک سائل کا مطالعہ ناقص ہے یا اس کا احساس یہ ہے کہ سائل اپنے آپ کو اونچے مقام پر فائز سمجھنے کے وہم میں مبتلا ہو گیا ہے ، تو یہ بھی مجیب کا محض ایک دعویٰ ہے اور دعوے کے اظہار سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی دلیل کو پیش کرے ۔ اسی طرح جواب دینے سے پہلے یہ فیصلہ کر لینا کہ سائل اس مقام سے گزر چکا ہے جہاں اس کو سمجھانے کی کوشش مفید ہو سکتی تھی ، اپنے بارے میں مخصوص ذریعہ علم کا حامل ہونے کا اعلان تو ضرور ہے ، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سائل کے سوال کو ناقابل جواب قرار دینے میں بھی وہ حق بجانب ہے ۔ اسی طرح یہ بات کہ سائل جس سے سوال کر رہا ہے اس کی عظمت کا وہ قائل نہیں ہے ، یہ بھی مجیب کا صرف اپنا ایک وجدان ہے اور وجدان کے اظہار سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اصل مسئلہ کے بارے میں اپنے علم کا اظہار کرے ۔ پھر آخر میں وعدہ کے باوجود محض اس بنا پر جواب دینے سے انکار کر دینا کہ ہندستان کے ’’بعض اصحاب ‘‘ جو مجھ سے اس مسئلہ پر بحث کر چکے ہیں انھوں نے مشورہ دیا کہ مولانا مودودی اس کام میں اپنا وقت صر ف نہ کریں ، یہ بھی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ اگر کسی نے مولانا کی خیر خواہی میں ان کو ایسا خط لکھ دیا تھا تو میری خیر خواہی کے اعتبار سے مولانا کا فرض تھا کہ وہ مجھ سے پوچھتے کہ تمہارے بارے میں مجھے اس قسم کی خبریں پہنچی ہیں ۔ اس وقت میں انھیں بتاتا کہ جن حضرات نے مجھ سے اس مسئلہ پر بحث کی ہے ان کی ’’ بحث ‘‘ کی حقیقت کیا ہے ۔ بہر حال اب وہ اس بحث کی پوری روداد اس خط وکتابت میں دیکھ سکتے ہیں جو اس کتاب کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے ۔ اس سے وہ خود اندازہ کر لیں گے کہ بحث کرنے والوں نے اصل مسئلہ پر بحث کرنے کے بجائے صرف غیر متعلق مسائل چھیڑے ہیں ۔ اور افسوس کہ انھوں نے خود مولانا مودودی کو بھی اسی قسم کی غیر علمی اور غیر منطقی روش میں مبتلا کر دیا۔ p. 203unverified
پھر ان سب سے بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میرے چھیڑے ہوئے مسائل پر مجھ سے خط وکتابت کرنے کو مولانا مودودی نے ’’ تحریری مناظرہ بازی ‘‘ قرار دیاہے ۔ یہ میرے نزدیک ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص معقول الفاظ کے ساتھ اپنا ایک مطالبہ لے کر کسی کے یہاں جائے ۔ اور وہ اس کے اصل مطالبہ پر گفتگو کرنے کے بجائے اس کو محض ایک گالی دے کر اسے لوٹا دے ۔ میں نے مولانا کو لکھا تھا کہ میرا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی تشریح دین کے مطابق اسلامی مشن کا جو تصور سامنے آتا ہے ، وہ مجھے واقعی طور پر قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس سلسلے میں جن آیات واحادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ، ان پر گفتگو کر کے بتایا کہ کیوں کر میرے نزدیک یہ آیات واحادیث اس مخصوص تصور کا ماخذنہیں بنتیں— کیامناظرہ بازی اسی کا نام ہے ۔ اگر یہ مناظرہ بازی ہے تو پھر تنقید کی وہ کون سی قسم ہے جس کو مناظرہ بازی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ p. 203
مجھے حیرت ہے کہ مولانا میرے بارے میں اس قسم کی غیر متعلق باتیں ثابت کرنے کی تو پیہم کوشش کرتے رہے ۔ مگر وہ اصل مسئلہ جس کے لیے میں نے ان سے رجوع کیا تھا ، اس کے بارے میں مکمل طور پر خاموش رہے ۔ انھوں نے میری دوسری غلطیاں اور کمزوریاں ثابت کرنے کی کوشش تو بہت کی ، حتی کہ اس معاملہ میں سنی سنائی باتوں پر اعتماد کرنے میں بھی انھوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ مگر جس مسئلہ میں میرے خیالات تحریری طور پر ان کے سامنے موجود تھے اور جس کے متعلق میں اصلاً ان کا جواب معلوم کرنا چاہتا تھا ، ان کے بارے میں ایک لفظ ارشاد نہیں فرمایا۔ میری جس حیثیت کے بارے میں خود میری اپنی پیش کردہ معلومات کی بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھے کہ میرے بارے میں ایک فیصلہ دے سکیں ، اس کے متعلق تو میرے اصرار و الحاح کے باوجود انھوں نے سرے سے کوئی گفتگو نہیں کی ۔ البتہ میری دوسری حیثیت جس کے بارے میں ان کے پاس بے دلیل قیاس اور بالواسطہ روایت کے سوا کچھ نہیں تھا ، ان کے متعلق پوری قطعیت کے ساتھ اپنی رائے کا اعلان کر دیا — اپنی اس غیر منطقی روش کی کوئی دل فریب لفظی توجیہ کر کے ممکن ہے وہ سادہ لوح عوام کے سامنے بری الذمہ ہو جائیں ۔ مگر مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کے روز وہ خدا کے سامنے کس طرح بری الذمہ ہو سکیں گے ۔ p. 203
نوعیت مسئلہ p. 203
اسلام کی تشریح وتوجیہ کے لیے جو علوم پیدا ہوئے ہیں ، ان میں سے ایک علم وہ ہے جس کو حکمت دین یا اسرار شریعت کہا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب دینی تعلیمات کی حکمتوں کو جاننا اور اس کے اندر چھپی ہوئی مصلحتوں کو معلوم کرنا ہے ۔ مثلاً جب آپ حج کے فرائض وارکان کا تعین کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ حج کیسے کیسے کرنا چاہیے تو یہ فقہ ہوتی ہے ۔ مگر جب آپ حج کے فائدے بتائیں اور یہ کہیں کہ p. 204
’’ حج خدا پرستی کے محور پر اہل ایمان کی ایک عالمگیر برادری بناتا ہے ‘‘۔ p. 204
تو اسی کا نام حکمت دین ہے ۔ p. 204
جس طرح دوسرے تمام علوم کا آغاز دور اول سے ہوا اور بعد کو ان میں فنی تفصیلات پیدا ہوئیں اسی طرح حکمت دین بھی شروع سے امت کے افراد کا موضوع بحث رہا ہے ۔ اس سلسلے میں بہت کافی معلومات ہمارے وسیع لٹریچر کے اندر بکھری ہوئی ہیں ۔ لیکن اس موضوع پر مستقل تصنیفات بہت کم ہیں ۔ دیگر اسلامی علوم کا حال تو یہ ہے کہ ایک ایک فن پر درجنوں بلکہ سینکڑوں مستقل تصنیفات کا نام لیا جا سکتا ہے مگر حکمت دین پر مستقل کتابیں چند ہی لکھی گئی ہیں ، جن میں سب سے زیادہ نمایاں اور مشہور شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجۃ اللہ البالغہ ہے ۔ p. 204
یہ بات حکمت دین کے ایک پہلو کے بارے میں ہے ۔ دوسرے اعتبار سے دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ اس موضوع پر مستقل کام اور بھی کم ہوا ہے ۔ حکمت دین کا ایک مطلب یہ ہے کہ مختلف اجزائے دین کے الگ الگ مصالح معلوم کیے جائیں ۔ مثلاً نماز کی حکمت ، روزے کی حکمت ، جہاد کی حکمت وغیرہ ۔ حکمت دین کے موضوع پر اب تک جو کام ہوا ہے ، وہ زیادہ تر اسی پہلو سے متعلق ہے ۔ اس میں دین کے مختلف پہلوؤں کو علیٰحدہ علیٰحدہ عنوانات کے تحت لے کر ان کی منفرد حکمتوں کو بیان کر دیا گیا ہے ۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام اجزائے دین کی مجموعی حکمت معلوم کی جائے ، دین کے مختلف پہلوؤں کو باہم مربوط کر کے پیش کیا جائے ۔ دین کی ایسی تشریح کی جائے جس میں وہ مجموعی حکمت نظر آئے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے اس کے مختلف اجزاء کو یک جا کیا ہے ۔ p. 205
مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی کے کام کی بہترین تعبیر میرے نزدیک یہی ہے کہ انھوں نے حکمت دین کے اس دوسرے پہلو پر کام کرنے کی کوشش کی اور اپنی حد تک ایک ایسی تشریح بھی ڈھونڈ نکالی جس میں دین ایک ہم آہنگ کل (inter-related whole) کی شکل میں نظر آنے لگا ۔ مولانا مودودی کا کام اپنے خارجی استعمال کے لحاظ سے اسلام کی دعوت ہے اور اپنی علمی نوعیت کے اعتبار سے دین کی حکیمانہ توجیہ ہے ۔ فی الحقیقت ان کے کام کی یہی دوسری خصوصیت ہے جس نے موجودہ دور کے بہت سے لوگوں کے لیے ان کے خیالات میں کشش پیدا کر دی اور انھوں نے لپک کر اسے قبول کر لیا۔ p. 205
مگر آپ جانتے ہیں کہ ہرمجموعہ لازماً حقیقت نہیں ہوتا۔ متفرق اجزاء کا کسی با معنی مجموعہ میں مرتب ہو جانا، بے شک اس بات کا ایک قرینہ ہے کہ یہ اجزاء اسی کلی حقیقت کے متفرق حصے تھے ۔ مگر عین اسی کے ساتھ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ جو ترتیب قائم کی گئی ہے ، وہ حقیقی نہ ہو۔ اجزاء بجائے خود تو سب کے سب حقیقی ہوں ، مگر جس مجموعی شکل میں انھیں اکٹھا کیا گیا ہے ، وہ ایک شخص کی محض قوت تخئیل کا کرشمہ ہو۔ p. 205
اگر کسی علاقہ میں قدیم جانوروں کی پتھرائی ہوئی ہڈیاں (fossil bones) برآمد ہوں تو یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ اس ڈھیرسے کچھ ہڈیوں کو لیں اور ایک مخصوص جاندار کی شکل میں انھیں جوڑ کر کھڑا کر دیں ۔ اس طرح بظاہر ایک مجموعی ترتیب واقع ہو گئی ۔ جن لوگوں نے حیاتیاتی ارتقاء کے نظریہ کا مطالعہ کیا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ اسی قسم کی فرضی ترتیبوں سے دھوکا کھا کر بہت سے ارتقاء پسند علما نے اس نظریہ کو مفروضہ کے مقام سے اٹھا کر حقیقت کا درجہ دے دیا ہے ۔ مگر بار بار کے تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس طرح کی تشکیل وترتیب لازماً حقیقت نہیں ہوتی ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی قوت واہمہ سے کام لے کر مختلف غیر متعلق ٹکڑوں کو ایک مخصوص شکل میں جوڑ دیتا ہے ۔ مگر اس شکل کا واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ یعنی اجزا ء کسی اور ہئیت وصورت کے ہوتے ہیں اور ان کو جوڑ کر کوئی اور ہئیت وصورت بنا لی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر پلٹ ڈاون مین (Piltdown Man) جس کے متعلق تقریباً آدھی صدی تک دنیا کے سائنس داں اس ’’یقین ‘‘ میں مبتلا رہے کہ یہ ماقبل تاریخ کا سب سے قدیم انسانی ڈھانچہ ہے جس کا ہمیں علم ہوا ہے ۔ مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ محض ایک جعلی ڈھانچہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ p. 205
زیرِ بحث فکر کی غلطی یہ ہے کہ اس نے دین کی جو تصویر بنائی، اس میں اجزاء تو سب وہی استعمال کیے جو کسی نہ کسی اعتبار سے دین کے اجزاء تھے ۔ مگر جس کلی تصور کے تحت انھیں ایک مجموعہ میں ترتیب دیا گیا وہ تصور صحیح نہ تھا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی مکان کو توڑ کر اسی کی اینٹ اور گارے سے دوسری وضع کا مکان بنا ڈالا جائے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کی تصویر ، اجزاء کے اعتبار سے دینی ہونے کے باوجود ، اپنی مجموعی ہئیت میں دین کے مطابق نہیں رہی ۔ بظاہر پورے دین کا حامل ہونے کے باوجود وہ اپنی مخصوص ترتیب میں پورے دین سے ٹکرا گئی۔ p. 205
اس تعبیر نے دین کے مختلف اجزاء کے درمیان جو حکمت جامع تلاش کی اور جس کے تحت تمام دینی تعلیمات واحکام کو مربوط کرنے کی کوشش کی وہ ’’ نظام ‘‘ کا تصور تھا ۔ یعنی اسلام ، زندگی کا ایک مکمل اور مفصل نظام ہے اور اسی لحاظ سے اس کے تمام اجزا ء باہم ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں ۔ اس فکر کے ایک مبلغ کے الفاظ میں — ’’ اسلام ایک نظام حیات ہے جو زندگی کے سارے انفرادی واجتماعی اور ما بعدالطبیعی مسائل کو ایک وحدت میں پروتا اور سب کو عقل وفطرت کے مطابق حل کرتا ہے ‘‘۔ p. 206original + quote
دین کا ایک نظام ہونا بذات خود غلط نہیں ہے ۔ مگر جب نظام کے تصور کو یہ حیثیت دی جائے کہ یہی وہ سبب جامع ہے جو اس کے متفرق اجزاء کو ایک کل میں سموتا ہے ، تو یقیناً وہ غلط ہو جاتا ہے او ر یہی اس فکر کی اصل غلطی ہے ۔ یہ فکر دین کا مطالعہ اس حیثیت سے کرتی ہے کہ وہ زندگی کا ایک ’’ نظام ‘‘ ہے ۔ اس کے نزدیک وہ مجموعی تخیل جس کے تحت پورے دین کو سمجھا جا سکتا ہے ، وہ اس کا نظام ہونا ہے ۔ حالانکہ دین کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا عنوان ہے ۔ دین محض ایک قانونی نظام نہیں ہے جیسے دوسرے نظام ہوا کرتے ہیں ۔بلکہ وہ خدا سے نفسیاتی تعلق کا ایک ظہور ہے ۔ عمل میں آنے کے بعد بیشک دین میں وہ ساری چیزیں شامل ہو جاتی ہیں جن کے مجموعے کو ’’ نظام حیات ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ مگر دین کا نظام ہونا حقیقت دین کا ایک مظہر ہے ۔ یہ اس کی اضافی حیثیت ہے، نہ کہ اس کی اصل حیثیت ۔ p. 206
دین کا مطالعہ نظام کے عنوان کے تحت کرنے میں اسی قسم کی غلطی کی گئی ہے جو غلطی ان لوگوں نے کی جنھوں نے ’’ انسان ‘‘ کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ نظریہ قائم کیا کہ p. 206
Man is a social animal p. 206
یعنی انسان ایک تمدنی حیوان ہے ۔ بے شک عملی تفصیل میں آنے کے بعد انسان ایک اعتبار سے تمدنی حیوان یا سماجی مخلوق بن جاتا ہے ۔ مگر تمدنی اور سماجی حیثیت انسان کی اصل حیثیت نہیں ہے ، وہ اس کی اصل حیثیت کا ایک مظہر ہے ۔ انسان کی اصل حیثیت اس کا ذی روح اور ذی ارادہ ہونا ہے اور بقیہ تمام حیثیتیں خواہ وہ تمدنی حیثیت ہو یا کوئی اور حیثیت ، اسی اصل سے مختلف نسبتوں کے تحت نکلتی ہیں ۔ p. 207
یہ کہنا کہ ’’ انسان ایک تمدنی ہستی ہے ‘‘ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ انسان کی مختلف حیثیتوں کو جس جامع تخیل کے تحت ہم سمجھ سکتے ہیں ، وہ اس کا متمدن ہونا ہے ۔ اس تشریح کے بالکل قدرتی نتیجے کے طور پر انسان کی تمام حیثیتیں اس کی تمدنی حیثیت سے متفرع ہوں گی اور اسی کا جزء قرار پائیں گی۔ اس تشریح کا مطلب یہ ہو گا کہ انسان کی دوسری تمام حیثیتیں اس کے ساتھ اس لیے شامل ہیں کہ اس کی تمدنی حیثیت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں ۔ مثلاً انسان کا تمدنی ہستی ہونا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک جسم اور روح کی صورت میں ہو، اس لیے انسان جسم اور روح رکھتا ہے ۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان کی ایک سیاست ہو ، اس لیے وہ اپنا ایک سیاسی ڈھانچہ رکھتا ہے ۔ اس کا تقاضا ہے کہ وہ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کی توجیہ کرے، اس لیے اس کا ایک فلسفہ وجود میں آیا ہے ، وغیرہ ۔ p. 207
اس تشریح میں بظاہر انسان کی پوری زندگی آگئی ۔ اور اس لحاظ سے یہ انسان کی مکمل تشریح معلوم ہوتی ہے ۔ مگر غور کیجیے تو اس میں متعدد غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ p. 207
1۔ اول یہ کہ اس تشریح کے مطابق انسان کی اصل حیثیت اس کی تمدنی حیثیت قرار پاتی ہے اور بقیہ چیزوں کو اسی اصل کے واسطہ سے اس کے اندر جگہ ملتی ہے ۔ جب کہ انسان کی اصل حیثیت اس کا ذی روح ہونا ہے ۔ اور دوسری تمام حیثیتیں اسی روح کے مظاہر ہیں یا اس کے تقاضے اور نتیجے ۔ p. 207original + quote
2۔ دوسری بات یہ کہ نسبت بدل جانے کی وجہ سے انسانیت کا مطلوب بدل گیا ۔ اب وہ چیزیں مطلوب اصلی قرار پائیں جو تمدن کی نسبت سے مطلوب ہوں ۔ جب کہ حقیقۃ ً مطلوب اصلی اس چیز کو بننا چاہیے جو اس کے روحانی وجود کی نسبت سے مطلوب ہو۔ p. 208
3۔ یہی نہیں بلکہ عملی اعتبار سے دیکھیے تو اس میں سب کچھ غائب ہو گیا۔ انسان کی ساری سرگرمیوں اور اس کے تمام مظاہر کا اصل منبع اس کی روح ہے ۔ اس لیے انسانی زندگی میں کوئی نتیجہ اسی وقت نکل سکتا ہے جب کہ اس کی جڑیں اس کی روح کے اندر پیوست ہوں۔؛ جس تصور نے انسان کے کسی خارجی مظہر کو اس کا اصل وجود سمجھ کر وہاں اپنا بیج بویا ہو، اس سے کسی بھی قسم کے حاصل کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ p. 208
یہی تمام خرابیاں اسلام کی مذکورہ بالا تشریح میں بھی پیدا ہو گئیں۔ ’’ نظام ‘‘ کے تصور کو دین کی حکمتِ جامع قرار دینے کی وجہ سے یہی حیثیت اسلام کی وہ مرکزی حیثیت قرار پائی جس سے اس کی دوسری حیثیات کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس جامع توجیہ میں دین کے تمام اجزاء موجود ہونے کے باوجود سب کے سب ، اپنے صحیح مقام سے ہٹ گئے ۔ p. 208
اب دین کی ساری چیزیں بس نظام کے اجزاء ہونے کی حیثیت سے مطلوب قرار پائیں — عقائد وایمانیات اس لحاظ سے اس کا جزء بنے کہ وہ اس نظام حیات کی ’’فکری بنیادیں ‘‘ ہیں ۔ عبادات اس لحاظ سے اس کا جزء نظر آئے کہ وہ اس نظام کے کارکن یا مطلوب افراد تیار کرنے کے لیے ’’ ٹریننگ کورس ‘‘ ہیں ۔ باہمی سلوک سے متعلق تعلیمات اس لحاظ سے اس کا جزء معلوم ہوئے کہ وہ اس نظام سے وابستہ اشخاص کا ’’ اخلاقی ضابطہ ‘‘ ہیں ۔ حدود و قوانین اس لحاظ سے اس کا جزء ثابت ہوئے کہ وہ اس نظام کی ’’ تمدنی بنیاد ‘‘ ہیں ۔ خلافت وامارت اس لحاظ سے اس کا جزء دکھائی دیے کہ اس کے ذریعہ سے یہ نظام ایک قاہر انہ ادارہ کی صورت اختیار کرتا ہے اور اپنے آپ کو بزور نافذ کرتا ہے ، وغیرہ ۔ p. 208
اس تشریح کا بالکل قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب اصلی بدل گیا ۔ اس تعبیر کے خانے میں آکر دین بحیثیت ’’نظام ‘‘تو بہت ابھر آیا ، مگر اس کا تعبدی پہلو کمزور پڑ گیا۔ دین کی داخلی حیثیت دب گئی اور دین کی خارجی حیثیت اس کے اوپر چھا گئی ۔ جس طرح ’’ انسان ‘‘کی مندرجہ بالا تشریح میں سماجی حالات کی تبدیلی اصل انسانی کام قرار پاتی ہے، نہ کہ اس کے ذہن اور روح کی تبدیلی ۔ اسی طرح دین کی اس تشریح میں دینی جدوجہد کا نشانہ انقلابِ نظام قرار پایا۔ حالانکہ دنیا میں بندۂ مومن کا نشانہ یا اس کے عمل کا آخری مقصود اپنے رب سے وہ قلبی اور روحانی تعلق پیدا کرنا ہے جس کو قرآن میں ذکر وشکر ، خشیت وتضرع ، خشوع وخضوع ، اخبات وانابت وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ p. 209unverified
پھر فطرت اور واقعہ میں عدم مطابقت پیدا ہو جانے کا نتیجہ یہ ہو اکہ یہ نظریہ اپنے پہلے ہی تجربہ میں شدید ناکام ہو گیا ۔ دین کے ’’ مکمل تصور ‘‘ نے صرف ’’ ناقص ‘‘ قسم کے دیندار پیدا کیے۔ بیج کو اس کی اصل جگہ پر نہ بونے کی وجہ سے درخت کا کوئی حصہ بھی صحیح شکل میں پیدا نہیں ہوا۔ خدا اور بندے کا تعلق جو ایک نہایت اعلیٰ اور لطیف تعلق ہے ، اس تعبیر کے خانے میں آکر وہ ایک قسم کا سیاسی تعلق بن کر رہ گیا۔ p. 209
یہی وجہ ہے کہ یہ نظریہ نہ تو قرآن کی آیات پر چسپاں ہوتا ہے اور نہ صلحائے امت کی زندگیاں اس کے ’’ معیار ‘‘ پر پوری اترتی ہیں ۔ دین کا وہ مخصوص نقشہ جو اس فکر کے نزدیک دین کا صحیح ترین نقشہ ہے ، اس کے حق میں سارے قرآن میں کوئی بھی صریح آیت موجود نہیں۔ اس نقشہ کے مطابق بات یہ بنتی ہے کہ دین انسانی زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور اس پورے نظام کو بروئے کار لانے کے لیے جدوجہد کرنا وہ انسانی مشن ہے جو اہل ایمان کے سپرد ہوا ہے ۔ لیکن کتاب الٰہی میں کوئی ایک فقرہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے اس نقطہ ٴنظر کو واقعی طور پر اخذکیا جا سکتا ہو ۔ اس سلسلے میں جو آیتیں پیش کی جاتی ہیں ، ان کے بارے میں تفصیلی تجزیہ آگے آرہا ہے ۔ p. 209
یہ اس استدلال کی نظریاتی خامی ہوئی۔ اسی طرح عملی اعتبار سے دیکھیے تو امت کی ساری تاریخ میں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آتا جس نے ا س ڈھنگ پر ’’ جامع انقلابی تحریک ‘‘ چلائی ہو۔ دنیا کے بے شمار علاقوں میں مسلمان پھیلے اور ہر جگہ انھوں نے دعوت دین کا کام کیا ، جن میں بہت سے مقامات پر بعد کو اسلام کی حکومتیں بھی قائم ہوئیں ۔ مگر کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ انھوں نے ’’ اسلامی انقلاب ‘‘ برپا کرنے یا ’’ حکومت الہٰیہ ‘‘ قائم کرنے کی دعوت کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا ہو ۔ اس سلسلے میں اگر کسی نے کوئی نظیر پیش کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ محض تاریخ سازی ہے، نہ کہ تاریخ نگاری ۔ اب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ان تمام لوگوں کی دعوت ادھوری تھی یا ان کو پورے دین کا شعور نہیں تھا ، تو ایسی ہر تاویل محض اپنی غلطی کا اعتراف ہو گی ۔ کیوں کہ اسلام کی پوری دعوتی تاریخ کو ناقص ماننے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم ایک شخص کے خیالات کو ناقص مان لیں ۔ p. 209
اس فکر کا یہ خلا جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے ، اتنا واضح ہے کہ کوئی بھی غیر جانبدار شخص ، جسے قرآن وسنت سے براہ راست آشنا ہونے کا موقع ملا ہو وہ اسلام کے منصوص نقشہ کے ساتھ اس فکر کی بے گانگی کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حتی کہ خود اس کے اپنے حلقہ کے اہل علم کو بھی انھیں لوگوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جو اس فکر سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں ۔ مولانامودودی کے بارے میں تو میں نہیں کہہ سکتا، مگر ہندستان میں جو لوگ اس فکر کے وارث ہوئے ہیں ، ان کے متعلق بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کے متعلق اپنے اندر بےاطمینانی محسوس کرتے ہیں ۔ تقسیم کے بعد جب جماعت اسلامی ہند کی باگ ڈور ان حضرات کے ہاتھ میں آئی ، اسی وقت سے ان کا یہ احساس مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ لٹریچر پر نظر ثانی ، دستور میں نصب العین کے فقرے کی تبدیلی ، پالیسی میں داخلی پہلو کو سب سے زیادہ جگہ دینا ، وغیرہ ، وہ واقعات ہیں جو میرے اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں ۔ p. 209
لیکن میرا اندازہ ہے کہ ہندستان کی جماعت اسلامی کے یہ رہنما موجودہ فکر میں اختلال کو محسوس کرنے کے باوجود اس کا واضح اور متعین شعور نہیں رکھتے ۔ وہ ابھی تک اس کا تجزیہ نہیں کر سکے ۔ اس لیے وہ اب تک اس کے حل کی صحیح تدبیر بھی سوچ نہیں سکے ہیں ۔ ان کے احساس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس فکر کے مجموعی نقشہ میں یہ جو بات ہوئی ہے کہ اسلام کا روحانی پہلو دب گیا ہے اور اس کا سیاسی پہلو ابھر آیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک اتفاقی واقعہ ہے جو خارجی حالات کے سبب سے پیش آگیا ۔ یعنی اس فکر کے علم بردار نے جس مخصوص زمانے میں اپنے خیالات پیش کرنے شروع کیے ، وہ چونکہ سیاسی ہنگاموں کا زمانہ تھا ، ملک میں سیاسی تحریکیں زور وشور سے چل رہی تھیں ، اس لیے اس کی تحریروں میں سیاست کا غلبہ ہو گیا ۔ اب اس کا حل ان کے نزدیک یہ ہے کہ تقریر وتحریر میں دبے ہوئے پہلو کو ابھارا جائے ۔ دین کا متوازن تصور پیش کیا جائے تاکہ سیاست وحکومت کے ساتھ دین کے دوسرے پہلوؤں کو بھی ان کی جگہ حاصل ہو ۔ p. 210
یہ بات اوپر سے لے کر نیچے تک جماعت کے مختلف اصحاب نے خود میری تنقید کے جواب میں کہی ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کی یہ توجیہ مولانا مودودی کے لٹریچر کو جو حیثیت دیتی ہے وہ کسی طرح اس پر منطبق نہیں ہوتی ۔ تاہم اگر آپ کا اصرار ہے تو آپ مولانا مودودی سے لکھوا کر منگوا دیجیے کہ انھوں نے اپنی تحریروں میں دین کا جو تصور دینے کی کوشش کی ہے وہ ان کے نزدیک علی الا طلاق دین کی تشریح نہیں ہے بلکہ محض وقتی حالات کے پیش نظر انھوں نے کچھ چیزوں پر زور دیا ہے ۔ مگر ان میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں مولانا مودودی کی طرف سے اس قسم کی تصدیق فراہم کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی باتیں آدمی محض مخاطب کے جواب کے طور پر کہہ دیتا ہے حالانکہ فی الواقع اس پر اس کا یقین نہیں ہوتا۔ p. 210
حقیقت یہ ہے کہ یہ صورت حال کا نہایت ناقص اندازہ ہے ۔ یہ لوگ ایک ایسے فکر کو جو درحقیقت دین کی ایک تعبیر ہے ، محض حالات کا وقتی تاثر سمجھتے ہیں ۔ اس لیے اس کے حل کے لیے بھی وقتی نوعیت کی تدبیریں سوچ رہے ہیں ۔ وہ کلی بگاڑ کو جز ئی ترمیم کے ذریعہ درست کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ٹکروں کے کھیل (jigsaw puzzle)کا کوئی سٹ جو گھوڑے کے لیے بنایا گیا ہو، اس کا کوئی بچہ اونٹ سمجھ کر غلط شکل میں ترتیب دے دے ۔ اب کوئی صاحب کہیں کہ اس تصور میں بس گردن ذرا سی لمبی ہو گئی ہے ۔ اگر اس کی گردن چھوٹی کر دی جائے تو وہ گھوڑا بن جائے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی تدبیر نہیں ہے ۔ کیوں کہ ٹکڑوں کے ایک ڈھیر کا گھوڑا یا اونٹ ہونا ، اس کی مجموعی حکمت سے تعلق رکھتا ہے ۔ اگر کوئی شخص غلطی سے گھوڑے کے ٹکڑوں کو اونٹ کے ٹکڑے سمجھ لے اور اپنے اس ذہن کے مطابق ایک ڈھانچہ بنا ڈالے ، تو اس ڈھانچہ میں صرف اتنی سی غلطی نہیں ہو گی کہ اس کی گردن لمبی ہو کر اونٹ کی مانند ہو گئی ہے ، بلکہ اسی مناسبت سے اس کا پورا وجود بنانے کی کوشش کی گئی ہو گی ۔ اس لیے محض گردن چھوٹی کر دینے سے تصویر حقیقت کے مطابق نہیں ہو سکتی ۔ بلکہ اس کے پورے ڈھانچہ کو توڑ کر ازسر نو واقعہ کے مطابق بنانا ہو گا۔ اس کے ہر ہر جزء کو دوبارہ اپنے صحیح مقام پر رکھنا ہو گا۔ p. 210
دین کا صحیح تصور جس کے تحت اس کے مختلف اجزاء کو ہم زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور جو کسی خلا کے بغیر پوری اسلامی تاریخ کو ایک تسلسل میں جوڑ دیتا ہے ، وہ یہ ہے کہ دین کی اصل حقیقت خدا سے خوف ومحبت اور ولایت وتوکل کا تعلق پیدا کرنا ہے ۔ا س تعلق کا لازمی مظہر وہ چیز ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں ’’ عبادت ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ پھر جب آدمی خدا کو اپنا معبود ومطلوب بنا لیتا ہے اور اس کا پرستار بن جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاملات میں خدا کی پسند کا لحاظ اور اس کے احکام کی اطاعت کرنے لگتا ہے ، وہ اپنے اختیار کو خدا کے اختیار کے تابع کر دیتا ہے ۔ پھر خدا کا عابد ومطیع ہو جانا لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس بہترین کام میں لگانا چاہے جو خدا کا کام ہے اور جس کے متعلق خدا چاہتا ہے کہ اس دنیا میں اسے انجام دیا جائے ۔ اس لحاظ سے تبلیغ حق اور نصرت دین کے سارے پہلو اس کی زندگی میں شامل ہو تے چلے جاتے ہیں ۔ p. 210
دین اصلاً خدا کا حکم ہے اور اسی حیثیت سے ہمیں اس کے احکام پر عمل کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اسی کا مکلف قرار دیا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ دین کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے ۔ وہ صرف خارج سے ملا ہوا ایک قانونی حکم نہیں ہے بلکہ وہ خود انسان کی اندرونی طلب کا جواب ہے ۔ وہ انسانی فطرت کا ظہور ہے ۔ اور ہمارا دین کا مطالعہ اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب کہ ہم اس دوسرے پہلو کو بھی اپنے سامنے رکھیں ۔ p. 211
گویا دین کی حکمتِ جامع تعلق باللہ ہے اور دوسری تمام چیزیں اسی اندرونی حقیت کے مظہر یا اس کے تقاضے کی حیثیت سے اس کے ساتھ جڑتی ہیں، نہ کہ نظام ، جس کو زیرِ بحث فکر نے حکمت جامع قرار دیا ہے اور اسی نسبت سے دین کے تمام فکری اور عملی پہلوؤں کو اس سے مربوط کرتی ہے ۔ p. 211
گویا دینی تعلیمات کے مختلف اجزاء کسی یکساں نوعیت کی ’’ فہرست ‘‘ کانام نہیں ہیں۔ جیسا کہ تصورِ نظام تقاضا کرتا ہے ۔بلکہ دین کی ایک حقیقت ہے اور بقیہ چیزیں اس کے وہ پہلو ہیں جو مختلف نسبتوں کے تحت اس میں پیدا ہوتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں دین کے کچھ اجزاء با عتبار حقیقت مطلوب ہیں اور کچھ با عتبار اضافت ۔ حقیقی تقاضے سے مراد ہے داخلی اور حسیاتی طور پر خدا کو پا لینا اور بالکل اس کا عابد وپرستا ر بن جانا۔ اضافی تقاضے سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو خارجی زندگی کے لیے دیے گئے ہیں اور مختلف حالات ومعاملات سے متعلق ہونے کی صورت میں ، ان کے بارے میں اہل ایمان کے رویہ کو ظاہر کرتے ہیں ۔ حقیقی تقاضا ، ہر شخص سے ، ہر حال میں لازماً مطلوب ہوتا ہے ۔ زمانے یا حالات سے اس کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ یہی وہ اصل اور اولین چیز ہے جس کو اس دنیا میں حاصل کر لینا انسان کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ اس کے برعکس، اضافی تقاضے حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں اور دائرہ اختیار کے لحاظ سے اس کی ’’ تکلیف ‘‘ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ۔ اگر اضافت موجود ہو تو اس وقت وہ بھی لازماً اسی طرح مطلوب ہو گا جیسے حقیقی تقاضا ۔ اور اگر اضافت نہ پائی جا رہی ہو تو اس حکم کی حد تک ، اہل ایمان کی کوئی ذمہ داری نہ ہو گی ۔ گویا حقیقت اور اضافت کا یہ فرق دونوں قسم کے احکام کے محض نوعی فرق کو ظاہر کرتا ہے ۔ یعنی یہ فرق صرف اس اعتبار سے ہے کہ کون سا حکم کب مطلوب ہے ۔ مطلوب ومفروض ہونے کے بعد ، ادائیگی کے پہلو سے ، ان کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ p. 211
فکر کا یہ فرق جو میں نے اوپر بتایا ، اسی سے مشن کے تصور میں فرق پیدا ہوتا ہے ۔ جو چیز کسی مجموعہ کی وجہ جامع ہو ، اس کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ وجود میں آجائے تو گویا ساری چیزیں وجود میں آگئیں اور اگر وہ پیدا نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر کوئی چیز بھی پیدا نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے جو ذہن جس چیز کو سبب جامع قرار دے ، قدرتی طور پر وہ اسی کو بروئے کار لانے پر سب سے زیادہ زور دے گا ۔ کیوں کہ اس کا احسا س یہ ہو گا کہ اسی کے وجود میں آنے پر بقیہ تمام چیزوں کا وجود میں آنا منحصرہے ۔ زیرِ بحث فکر میں ہم جو یہ بات دیکھتے ہیں کہ وہ نظام برپا کرنے پر سب سے زیادہ زور دیتی ہے ، وہ اسی مخصوص ذہنیت کا نتیجہ ہے اس کے مقابلے میں اسلام کی تاریخ میں یہ جو بات نظر آتی ہے کہ داعیان امت ہمیشہ خدا اور آخرت کی حقیقتوں کو ذہنوں میں بٹھانے پر سب سے زیادہ توجہ صرف کرتے رہے ، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اپنے تصو ر دین کے مطابق وہ سمجھتے تھے کہ اسی کے پیدا ہونے پر ساری دینی حقیقتوں کے پیدا ہونے کا انحصار ہے ۔ p. 211