Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Ek misaal

Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (90 chapters)
  1. Itteba-e-sirat,Itteba-e-subul
  2. Usul aur Furu
  3. Jad aur shakhen
  4. Aafaaqui haqeeqat
  5. Ek Misaal
  6. Dawat ke bajaye tahaffuz
  7. Dakhil ke bajaye kharij
  8. Tabdili-e-insan ke bajaye tabdili-e-hukumat
  9. Kulliyyaat ke bajaye juziyyaat
  10. Sabab ke bajaye marz
  11. Raah-e-Amal
  12. Paighambar-e-Islam ki hidaayat
  13. Siyaasi bigaad
  14. Imaam Hasan ka namoona
  15. Imaam Husain ka namoona
  16. Do Amali namooney
  17. Tareekh-e-ummat
  18. Numainda groh
  19. Ek aham sabaq
  20. Islam ki taaqat
  21. Ek jayeza
  22. Hukmrano parasar
  23. Siyasi bid,at
  24. Ijmaaye ummat
  25. Nakhis istedlaal
  26. Namoone ka masala
  27. Maujuda zamane ka tajriba
  28. Nakami ka eateraaf
  29. Nowabadiyati zamana
  30. Maidane amal ka masala
  31. Japan ki misaal
  32. Fauj se ziyada taqatwar
  33. Roos ki misaal
  34. Hindustani musalmano ki jadid tarikh
  35. Ek shakhs do misaal
  36. Islaah ki taraf
  37. Asl kami
  38. Islam akkisvin sadi me
  39. Japan ki misaal
  40. Khudaye wahid ki talaash
  41. Aazaadaana tahqeeq ka natija
  42. Mazahib ka tazaad
  43. Paighambarana rahnumaai
  44. A,alaa kamiyabi ka raaz
  45. Sirat-e-mustaqeem
  46. Imani hausla
  47. Fitrat se mutabaqat
  48. Inquilabi zavi-e-nazar
  49. Nafs-e-ammaara,Nafs-e-lavvaama
  50. Burai ke badl-e-bhalai
  51. T,ameer-o-istehkaam
  52. Khulasa-e-kalaam
  53. Sabr ek abadi hukm
  54. Da,wat ka daur
  55. Khilafat ka daur
  56. Mulukiyat ka daur
  57. Da,wat ki ahmiyat
  58. Qurbaniyan be natija rahin
  59. Farz-e-mansabi se ghaflat
  60. Yahud ki misaal
  61. Da,wat shaah kaleed
  62. Aakhri baat
  63. Ana lakum nasihun ameen
  64. Ehsaas-e-nush ka fuqdaan
  65. Saifullah ka paighaam
  66. Muta ka sabaq
  67. Da,wat ka maidaan
  68. Sabab apne andar
  69. Ek misaal
  70. Mauood na ke maqsood
  71. Chalis saala intezaar
  72. Ibtedayi amal
  73. Wakhfaye ta'meer
  74. Islami dawat
  75. Islam kya hai
  76. Jannat kya hai
  77. Islami dawat
  78. Mo'minana zindagi
  79. Islami inqelab
  80. Paighambar ka kaam
  81. Muslim dunya se maghribi dunya ki taraf
  82. Jadid inquilaab ki islami ahmiyat
  83. Maghrib ka ghalba muslim dunya par
  84. Siyasi inquilaab ki nauiyat
  85. Muslim dunya me siyasi radd-e-amal
  86. Maujuda zamane ki islami tahriken
  87. Karne ka kaam
  88. Da,wat aur amal
  89. Asl rukavat
  90. Cover text

ایک مثال: اورابی پاشا، 1839 تا 1911، مصر کے ایک سیاسی لیڈر تھے۔ ان کا نعرہ تھا "مصر للمصريين"، مصر مصریوں کے لیے۔ ان کے زمانے میں مصر میں خدیو اسماعیل پاشا کی حکومت تھی۔ انہوں نے خدیو کو غدار قرار دیا۔

ان کو یہ شکایت تھی کہ خدیو اسماعیل پاشا مغربی طاقتوں کا ایجنٹ ہے۔ چنانچہ انہوں نے خدیو اسماعیل پاشا کے خلاف بغاوت کر دی۔ یہ 1881 کا واقعہ ہے، مگر ان کی بغاوت مکمل طور پر ناکام رہی۔ خدیو اسماعیل پاشا نے اپنے بچاؤ کے لیے برطانیہ سے مدد مانگی۔

برطانیہ نے فوراً ان کی پکار پر لبیک کہا۔ چنانچہ برطانوی فوجوں کی مدد سے بغاوت کچل دی گئی اور اورابی پاشا کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید یہ ہوا کہ 1882 میں مصر پر برطانیہ کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس بغاوت میں اورابی پاشا کا جن لوگوں نے ساتھ دیا، ان میں فوجی لوگوں کے علاوہ مشہور دینی مصلح شیخ محمد عبدہ 1849 تا 1905 اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔

تاہم شیخ محمد عبدہ اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کے باوجود بغاوت کامیاب نہ ہو سکی۔ اسلام کو مصر کا تخت دلانے کی کوشش میں انگریز مصر کے تخت پر قابض ہو گئے۔ شیخ محمد عبدہ اسلام کے علمبردار تھے۔ دوسری طرف انگریز غیر اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، مگر اس کے مقابلے میں اسلام کے علمبردار مکمل طور پر ناکام رہے اور غیر اسلام کے علمبرداروں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔

یہ ایک واضح مثال تھی کہ محض اسلام کے نام پر جھنڈا لے کر اٹھنا، مقابلے کی اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ کامیابی کے لیے حقیقی حالات کی مساعدت بھی ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی مصر میں، ٹھیک یہی ناکام کہانی دوبارہ 1952 میں دہرائی گئی۔ 1881 کے اسلامی جہاد کا نشانہ خدیو اسماعیل پاشا تھا، اور 1952 کے اسلامی جہاد کا نشانہ شاہ فاروق الاول تھا۔

پہلے جہاد کے قائد اورابی پاشا تھے اور ان کے ساتھ مفتی محمد عبدہ اور ان کی جماعت شریک تھی۔ دوسرے جہاد کے قائد جمال عبدالناصر تھے اور سید قطب اور ان کی جماعت حامی انقلاب بن کر ان کے ساتھ شریک ہو گئی۔ مگر جو انجام پہلے جہاد کا ہوا تھا، عین وہی انجام دوسرے جہاد کا بھی ہوا۔ مگر جو انجام پہلے جہاد کا ہوا تھا، عین وہی انجام دوسرے جہاد کا بھی ہوا تھا۔

ان دونوں کوششوں میں ظاہری اعتبار سے بعض فرق تھے، مگر جہاں تک اسلامی مجاہدین کا تعلق ہے، دونوں مواقع پر ان کا بالکل یکساں انجام ہوا۔ غیر اسلامی عناصر دونوں بار غیر اسلامی عناصر دونوں بار غالب رہے، اور مسلم مجاہدین دونوں بار مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو کر رہ گئے۔ یہی کہانی زیادہ بری شکل میں پاکستان میں دہرائی گئی ہے۔ پاکستان میں سابق صدر جنرل محمد ایوب خان کو اسلام کی راہ میں اصل رکاوٹ سمجھ لیا گیا۔

سید ابو الاعلی مودودی اور ان کے اسلام پسند ساتھی تنہا اپنی طاقت سے اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دوسری طاقتوں کو ساتھ لے کر ایوب خان کو تخت سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی۔ اس مہم کو وہ اتنا ضروری اس مہم کو وہ اتنا زیادہ ضروری سمجھتے تھے کہ ایوب خان کے مقابلے میں انہوں نے ایک خاتون کو صدر کی حیثیت سے کھڑا کیا۔ حالانکہ حدیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ کوئی خاتون حکمران کسی ملک یا قوم کی فلاح کی طرف نہیں لے جا سکتی۔

صحیح البخاری حدیث نمبر 4425۔ مگر جب یہ مہم کامیاب ہوئی تو صدر ایوب کی جگہ دوسرے اسلام دشمن افراد ملک کے حکمران بن چکے تھے۔ یہی مہم دوبارہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف شروع کی گئی۔ اسلام پسندوں اور غیر اسلام پسندوں کی متحدہ کوشش سے مصر مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

مگر اس کے باوجود غیر اسلام کو پھانسی پر چڑھانا ممکن نہ ہو سکا۔ وہ بھٹو کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان میں پوری طرح زندہ ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن ایک بل سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ کہ مومن ایک بل سے دوبار دو بار ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

المومن لا یلدہ من جحر مرتین۔ صحیح البخاری حدیث نمبر 6133۔ اس لحاظ سے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ مسلم رہنما ایک ہی غلطی کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ مثالیں حیرت انگیز طور پر بتاتی ہیں کہ وہ ایک ہی سیاسی بل سے بار بار ڈسے جا رہے ہیں۔

وہ ایک ہی ناکام سیاسی تجربے کو بار بار دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ خدا کے دین کی یہ کیسی عجیب عملی تفسیر ہے جس کو موجودہ زمانے کے مسلم رہنما دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اگر وہ کرنا نہیں جانتے تو کیا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کچھ نہ کریں؟ اگر انہیں بولنا نہیں آتا تو کیا انہیں یہ بھی نہیں آتا کہ وہ اپنی زبانوں کو بند رکھیں؟

اہ وہ لوگ جنہیں کرنا نہیں آتا پھر بھی وہ کرتے ہیں۔ جنہیں بولنا نہیں آتا پھر بھی وہ بولتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ جو مواقع کار ابھی باقی ہیں وہ سبھی باقی نہ رہیں۔ یہاں تک کہ نہ کسی کے لیے کرنے کا کچھ موقع ہو اور نہ کچھ بولنے کا۔

کتاب راہ عمل مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 152۔