Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غیر قائم شدہ صداقت کے لیے مال لٹانا p. 280
ابن ابی حاتم نے ایک صحابی کا واقعہ ان الفاظ میں نقل کیاہے p. 280
عن عبد اللہ بن مسعود لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ الْأَنْصَارِيُّيَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ لَيُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ؟ قَالَنَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ قَالَأَرِنِي يَدَك يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَفَنَاوَلَهُ يَدَهُ. قَالَفَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي، وَلَهُ حَائِطٌ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ، وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا. قَالَفَجَاءَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَنَادَاهَا يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ. قَالَتْلَبَّيْك، قَالَاخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 2430)۔وفي رواية أَنَّهَا قَالَتْ لَهُرَبِحَ بَيْعُك يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ. وَنَقَلَتْ مِنْهُ مَتَاعَهَا وَصِبْيَانَهَا وَإِنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قالكَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحه48)۔ p. 281unverified
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قرآن میںیہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو حضرت ابود حداح انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے خدا کے رسول، کیا اللہ واقعی ہم سے قرض چاہتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں اے ابودحداح۔ انہوں نے کہا اے خدا کے رسول، اپنا ہاتھ لائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا۔ ابو دحداح نے کہا کہ میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ ان کا ایک کھجوروں کا باغ تھا جس میں چھ سودرخت تھے۔ اس وقت ان کی بیوی ام دحداح اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں تھیں۔ وہ باغ میں واپس آئے اور آوازدی کہ اے ام دحداح۔ انہوں نے کہا ہاں۔ ابو د حداح نے کہا باغ سے نکلو، کیونکہ اس کو میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ بیوی نے کہا اے ابو د حداح آپ کی تجارت کا میاب رہی۔ اور اس کے بعد اپنے سامان اور اپنے بچوں کو لے کر باغ سے نکل آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو د حداح کے لیے جنت میں کتنے ہی شاداب اور پھل دار درخت ہیں۔ p. 281hadith
یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جس دین پر ایمان لائے تھے اس دین کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لیے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ یہاںدوبارہ ذہن میںرکھ لیجیے کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے کا ہے۔ آج کوئی شخص دین کے نا م پر اس قسم کا انفاق کرے تو عین ممکن ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے درمیان مقبولیت کی صورت میں اس کو بہت جلد اپنے انفاق سے زیادہ بڑی چیز مل جائے۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت دین کی راہ میں اپنا مال لٹانا ماحول میں دیوانگی کا خطاب پانے کا ذریعہ تھا۔ وہ اونچے میناروں پر نمایاں ہونے کے بجائے بنیاد کی زمین میں دفن ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت ایسا اقدام ایک ایسی تحریک کے خانہ میں لکھا جانے والا تھا جس کی صداقت ابھی مشتبہ تھی جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ یہ ایک غیر مسلمہ مدمیں اپنا اثاثہ پیش کرنا تھا، جب کہ آج کا آدمی ایک مسلمہ مد میں اپنا اثاثہ پیش کرتا ہے۔ p. 282