← back to sabr · Paiqhambar-e-Inqilab

پیغمبرانہ طریق کار

Paiqhambar-e-Inqilab — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (55 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. حصہ اول ادم سے مسیح تک
  3. نبوت محمدی کا ظہور
  4. مثالی کردار
  5. برتر اخلاقیات
  6. اسباق سیرت
  7. سنت رسول
  8. حصہ دوم پیغمبر انقلاب
  9. ایک تقابل
  10. نصرت خدا وندی
  11. دین توحید اور دین شرک
  12. اعلاء کلمۃ اللہ
  13. ایک نئی قوم برپا کرنا
  14. خیر امت
  15. غیرمتعلق مسائل سےتعرض نہ کرنا
  16. خدائی منصوبہ سے مطابقت
  17. حالات سے بلند ہو کر
  18. پیغمبرانہ طریق کار
  19. اندرونی طاقت
  20. خارجی نشانہ دعوت
  21. صبر و استقامت
  22. اللہ پر بھروسہ
  23. پیغمبر مکہ میں
  24. اغاز دعوت
  25. دعوت کی زبان
  26. عربوں کی صلاحیت
  27. دعوت کی ہمہ گیری
  28. دعوت کے مصالح
  29. دعوت کا رد عمل
  30. قبیلہ سے اخراج
  31. اہل یثرب کا اسلام
  32. ہجرت
  33. مہاجرین کی نصرت
  34. فتح اسلام
  35. فتح کے بعد
  36. ایک سوال اور اس کا جواب
  37. اپ کا معجزہ— قران
  38. اجتماعی انقلابات
  39. ادبی ارتقاء
  40. اصحاب رسول
  41. دین ان کے لیے محبوب چیز بن گیا تھا
  42. پیغمبر کو اغاز تاریخ میں پہچاننا
  43. قران کو دور نزاع میں اپنانا
  44. غیر قائم شدہ صداقت کے لیے مال لٹانا
  45. اپنا تاج دوسرے کےسر پر رکھنا
  46. اپنی محدودیت کو جاننا
  47. ذمہ داری کو اپنے اوپر لے لینا
  48. شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
  49. قانونی حد سے اگے بڑھ کر ساتھ دینا
  50. اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہنا
  51. پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جانا
  52. غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت
  53. درخت کی طرح اگے بڑھنا
  54. اظہار رسالت عہد حاضر میں
  55. ہیرووں کی نرسری

پیغمبر انہ طریق کار p. 142

اسلام کا آغاز 610ء میںہوا جب کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم( 570-632ء)پر پہلی وحی اتری۔ اس وقت آپ ساری دنیا میں تنہا مومن و مسلم تھے۔ 622ء میں آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اور وہاں پہلی اسلامی مملکت قائم کی۔ اس وقت یہ اسلامی مملکت ایک چھوٹے سے شہر کے صرف چند حصوں پر مشتمل تھی۔ کیونکہ مدینہ کا بیشتر حصّہ یہودیوں یا اب تک اسلام نہ لائے ہوئے عربوں کے قبضہ میں تھا۔ مگر اس کے گیارہ سال بعد جب پیغمبر اسلام کی وفات ہوئی تو اسلامی مملکت تقریباً دس لاکھ مربع میل (پورے عرب اور جنوبی فلسطین) پر پھیل چکی تھی۔ اس کے بعد سوبرس سے بھی کم عرصہ میں اسلام ایک طرف شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین اور دوسری طرف ایران کے راستے سے چین کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ مشرقی یورپ میں اسلام کی پیش قدمی کی آخری حد بوڈاپسٹ (ہنگری) تھی جہاں آج بھی دریائے ڈانوب(Danube River) کے کنارے ’’گل بابا‘‘ کا ترکی طرز کا مزار نشانی کا کام دے رہا ہے۔ فرانس کے بعض گر جاؤں کے مناروں میں ایسے پتھر لگے ہوئے ہیں جن پر عربی عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ آٹھویں صدی عیسوی کی یادگار ہے جب کہ فرانس کا جنوبی علاقہ خلیفہ دمشق کا یورپین صوبہ تھا۔ پیغمبر عربی کی امت نے شتر بانی کے مقام سے آغاز کر کے ہجرت کے صرف دو سو برس بعد یہ حیثیت حاصل کرلی تھی کہ وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ایران کے اصطخر، مصر کےرميسس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا فکری و تمدنی مرکز بغداد تھا۔ p. 142

یہ شان دار کا میابی ایک انتہائی سادہ پروگرام کے ذریعہ حاصل ہوئی جو قرآن کے لفظوں میں حسب ذیل تھا p. 142

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِر، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ، وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِر، وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (74:1-7)۔ یعنی، اے کپڑا اوڑھنے والے اٹھ، لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بول۔ اور اپنے اخلاق کو اچھا بنا۔ اور گندی باتوں کو چھوڑ دے اور ایسا نہ کر کہ احسان کرے اور بدلہ چاہے اور اپنے رب کے لیے صبر کر۔ p. 142original + quote

اس پروگرام کا خلاصہ کریں تو اس کے صرف تین نکات قرار پائیں گے p. 142

1۔ ذاتی اصلاح، اس طرح کہ خدا کی عبادت کی جائے، اپنے اخلاق کو درست کیا جائے اور ہر قسم کے برے کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔ p. 143

2۔ انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جائے کہ وہ ایک خدا کا بندہ ہے اور مرنے کے بعد اسے خدا کے سامنے حاضر ہوناہے۔ p. 143

3۔ اپنی اصلاح اور دوسروں کو آگاہی دینے کی اس جدو جہد میں جو مشکلات ومصائب پیش آئیں ان پر صبر کرتے ہوئے خدا کے فیصلہ کا انتظار کیا جائے۔ p. 143