← back to tawakkul · Khatun-e-Islam

Tajribe ki zaban me

Khatun-e-Islam — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (152 chapters)
  1. Dibaacha
  2. Ek Jaayeza
  3. Chand misalein
  4. Ek amali zarurat
  5. Aurat ke barey mey tavahhumaat
  6. Tajarrud ka mua'mla
  7. Fitrat ka nizaam
  8. Qanun-e-tawazun
  9. Inhiraaf ka noqsaan
  10. Mard aur aurat ka masala
  11. Mard aur aurat ka farq
  12. Bunyadi farq
  13. Aurat ki bebasi
  14. Aids ki la'nat
  15. Aurat muaasharey me
  16. Aurat ka darja islam me
  17. Aurat jadeed tehzeeb me
  18. Ghair fitri musawat
  19. Uryaniyat ka masala
  20. Be khaidi ke nataej
  21. Kamsin mujrimeen
  22. Maghribi Aurat
  23. Fitrat ka faisla
  24. Fitrat se jung
  25. Chand misalein
  26. Shadi na karna ghalati
  27. Achchi bivi bano
  28. Nakami ka eateraaf
  29. Sirf masayel paida huye
  30. Lazzatiyat ka anjaam
  31. Khudkushi karli
  32. Mujh se door raho
  33. Shohrat bojh bangai
  34. Maidaan-e-amal se mahrumi
  35. Japan ki misaal
  36. Tahzeeb-e-jadeed ke nataaij
  37. Ulti taraf safar
  38. Mayusi ka shikaar
  39. Dardnaak anjaam
  40. Masnui masayel
  41. Munakahat na ke Musafahat
  42. Ghair fitri musawat ka natija
  43. Jadid aurat ki mazlumi
  44. Ek hadees
  45. Paakbazi ki ahmiyat
  46. Masnui aulaad ka masala
  47. Ghalati ka ea'teraaf
  48. Maghribi shadiyon ka anjaam
  49. Aabaadi ka masala
  50. Sarparasti se mahroom
  51. Khatun singer ki maut ke ba'd
  52. Fitrat se dur hokar
  53. Be qaidi ka tajriba
  54. Khatun leader ka eateraaf
  55. Do misalein
  56. Na qabil-e-etemaad kirdaar
  57. Ek misaal
  58. Ujrati viladat
  59. Taraqqi ke bajaye tanazzul
  60. Quran o Hadees
  61. Ahadees
  62. Mo'mina ki sifaat
  63. Taqseem e kar ka usool
  64. Ek ayat
  65. Khawateen e Islam ki misaal
  66. Aurat Ka Ehteram
  67. Ahadees
  68. Jadeed tahqeeqaat
  69. Chief justice ka remark
  70. Khulasa
  71. Khat-o-kitabat
  72. Aurat ka darjah
  73. Ahed e Zindagi
  74. Aurat mard se zyada qabil e ehteram
  75. Har haal me Khair
  76. Izhar e khayal ki azadi
  77. Ghar sambhalna kamtar darje ka kaam nahi
  78. Mu'ashire ki ta'mir me aurat ki ehmiyat
  79. Aurat ki hakimiyat
  80. Aurat ki gawahi
  81. Izafi khususiyat na ke fazilat
  82. Nadaani ka kalima
  83. Khawateen-e-Islam
  84. Do khawateen
  85. Behtareen rafeeq-e-hayaat
  86. Kaamil aazaadi
  87. Taqseem-e-kaar
  88. Ilm aur khatun
  89. Islami hausla
  90. Jannat ke liye Sabr
  91. Maidaan-e-amal me
  92. Aurat ka maqaam
  93. Aurat har maidan me
  94. Khuda ki madad
  95. Ghar ke bahar
  96. Aurat ka maqam
  97. Tajribe ki zaban me
  98. Zaujain ke huquq
  99. Shareek-e-hayaat
  100. Aurat ke muqabal-e-me mard ki haisiyat
  101. Deen-e-fitrat
  102. Maher
  103. Nafqa
  104. Husn-e-suluk
  105. Aurat ki zimmedariyan
  106. Ita'at
  107. Raaz ki hifazat
  108. Ghar ka intezaam
  109. Behtareen aurat
  110. Zaher se ziyada batin ko dekhna
  111. Mutawazin ta'leem
  112. Nikaah va Talaaq
  113. Talaaq ka hukm
  114. Talaaq ki do suratein
  115. Ek waqia
  116. Mataa'ka matlab
  117. Mizaj e shari'at
  118. Talaq ke bad
  119. Tahzeeb-e-Jadeed ka masala
  120. Hindustan ka tajriba
  121. Jahez ke bare mein
  122. Fatima ka jahez
  123. Cgand zaroori saman
  124. Asal atiyya
  125. Sunnat e rasool nahi
  126. Maher ka mas'ala
  127. Maher e mu'ajjal
  128. Mahr-e-moajjal
  129. Fuqaha ki raye
  130. Ziyaada maher nahi
  131. Ghair afzal tareeqa
  132. Sahaba ki shaadi
  133. Ghalat riwaaj
  134. Pard-e-ka hukm
  135. Izafa-e-mutarjim
  136. Tajribaati tasdeeq
  137. Kamiyab izdiwaji zindagi
  138. Do misalein
  139. Yaqeeni hall
  140. Ghair mushtarak nizaam
  141. Zahni masaayel
  142. Ta'adud e azwaj
  143. Ta'daad ki na barabari
  144. Aurat ki razamandi
  145. Masal-e-ka hall na ke hukm
  146. Ghair qanuni taaddud-e-azwaaj
  147. Islami tareeqa
  148. Khulasa e kalam
  149. Harf-e-aakhir
  150. Asl masala bashuoor banana
  151. Tareekhsaaz kaarnaama
  152. Me'yaar ki ghalati

تجربے کی زبان میں: اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں پچھلے صفحات میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ راقم الحروف کے لیے محض ایک نظری بات نہیں، اور نہ وہ صرف ایک تاریخی بات ہے جس کو میں نے قدیم اوراق میں پڑھ لیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے: حقیقت یہ ہے کہ ان تعلیمات کو میں نے نہ صرف خران و حدیث میں اور اسلام کی تاریخ میں پڑھا ہے، بلکہ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے واقعہ بنتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ میرا یہ تجربہ، قدرتی طور پر، میرے اپنے گھر کی خواتین سے تعلق رکھتا ہے؛ اسلامی حدود کی بنا پر ایک مسلمان اپنے گھر کی خواتین ہی سے پوری طرح باخبر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں اپنے گھر کے تجربے کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کی حدود میں رہ کر عورتیں وہ سب کچھ کر سکتی ہیں جن کی زندگی کی تعمیر کے لیے ضرورت ہے، یا کبھی ضرورت ہو سکتی ہے۔

ان تجربات کو میں زیادہ تفصیل کے ساتھ، ان شاء اللہ، اپنی سوانح عمری میں لکھوں گا؛ البتہ ایک تجربہ یہاں تحریر کرتا ہوں جو میری والدہ مرحومہ سے متعلق ہے۔ میری والدہ کا نام زیب النساء بنت خدا بخش تھا، وہ اعظم گڑھ کے ایک دیہات یعنی سنجر پور میں 19ویں صدی کے آخر میں پیدا ہوئیں، اور 18 اکتوبر 1985 کو دہلی میں انتقال فرمایا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً 100 سال تھی۔ والدہ کی تعلیم بس اتنی ہی ہوئی تھی کہ وہ قرآن کی تلاوت کر سکتی تھیں اور معمولی اردو کی کتاب اٹک اٹک کر پڑھ لیتی تھیں، تاہم وہ پوری طرح ایک مذہبی خاتون تھیں، نماز روزے کی سختی سے پابند تھیں، حج بھی نہایت ذوق و شوق سے کیا تھا۔

ان کو میں نے کبھی جھوٹ بولتے یا اور کوئی غیر اخلاقی فعل کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ساری عمر وہ مکمل طور پر پردہ دار رہیں، وہ پورے معنوں میں ایک بااصول اور ایک باکردار خاتون تھیں۔ میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کا انتقال 30 دسمبر 1929 کو ہوا۔ وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔

ایک روز وہ حسبِ معمول قریب کے گاؤں یعنی نوادا اپنی چھاؤنی پر گئے ہوئے تھے، وہاں ان پر فالج کا دورہ پڑا۔ بے ہوشی کی حالت میں چارپائی پر لٹا کر گھر لائے گئے۔ اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے، بے ہوشی کی حالت ہی میں اگلے دن ان کا انتقال ہو گیا۔ والدہ اچانک بیوہ ہو گئیں۔

اس وقت ہم لوگ پانچ بھائی بہن تھے۔ بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کی عمر تقریباً 8 سال تھی، میری عمر 5 سال، اور چھوٹے بھائی عبدالمحیط خاں کی عمر صرف 1 سال۔ اسی طرح دونوں بہنیں بھی چھوٹی عمر میں تھیں۔ بہنوں کا انتقال والدہ کی زندگی ہی میں ہو گیا۔

ہم تینوں بھائی خدا کے فضل سے تا دمِ تحریر زندہ ہیں۔ اس وقت والد کا انتقال ہمارے لیے ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص تاڑ سے اچانک زمین پر گر پڑے۔ اس کی وجہ تمام تر مصنوعی تھی، نہ کہ حقیقی۔ مخصوص اسباب کے تحت جو دورِ زراعت میں اکثر مشترک خاندانوں میں پیش آتے رہے ہیں۔

والد کے انتقال کے بعد ہمارے گھر کا ماحول ہمارے لیے غیر موافق ہو گیا۔ بعض رشتہ داروں کے زیرِ اثر ایسا ہوا کہ گھر کے اکثر افراد کا سلوک ہمارے ساتھ وہ نہ رہا جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ صورتحال اتنی بڑھی کہ ہم گھر کے اندر اجنبی بن گئے۔ حتیٰ کہ زمیندار ہوتے ہوئے، کم از کم وقتی طور پر، ہمارا یہ حال ہوا جیسے کہ ہم بے زمین ہوں، جیسے کہ گھر کی چیزوں میں ہمارا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔

ہم لوگ اپنے ماحول میں بے سرو سامان بھی ہو گئے اور اسی کے ساتھ حقیر بھی۔ ہمارا آبائی مکان بہت بڑا تھا، مگر والد کے انتقال کے بعد ہم نے اپنے آپ کو ایک ایسے گھر میں پایا جو گھوڑے کے اصطبل کے لیے بنایا گیا تھا، اور اب کھنڈر ہو جانے کی وجہ سے اصطبل کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا تھا۔ مزید یہ کہ گھر میں نہ کھانے کے لیے سامان تھا اور نہ ضروری چیزوں کی خریداری کے لیے پیسہ۔ اس حالت میں لوگ والدہ کو طرح طرح کے مشورے دینے لگے۔

کسی نے کہا کہ آپ دوسرا نکاح کر لیں، کسی نے کہا کہ میکے چلی جائیں، کسی نے کہا کہ مقدمے کے ذریعے اپنی جائیداد حاصل کریں۔ مگر والدہ نے اس قسم کے تمام مشوروں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ایک بہادر اسلامی خاتون کی طرح انہوں نے حالات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں ان کا سارا انحصار صرف دو چیزوں پر تھا: اللہ سے دعا، اور اپنے دست و بازو کی محنت۔

والدہ کے میکے میں بہت بڑی زمینداری تھی۔ مزید یہ کہ ہمارے نانا مرحوم نے اپنی موت سے پہلے تقریباً 20 ایکڑ زمین والدہ کے نام لکھ دی تھی، مگر والدہ نے اس معاملے میں مکمل استغنا کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اپنے میکے سے نہ کبھی زمین کا مطالبہ کیا، اور نہ اپنی حالت بیان کر کے ان سے مدد کی درخواست کی۔ وہ توکل علی اللہ کا زندہ نمونہ بن گئیں۔

میں نے دیکھا ہے کہ وہ صبح اندھیرے بستر سے اٹھ جاتیں اور فجر کی نماز پڑھ کر سارے دن مسلسل کام کرتی رہتیں۔ رات کو دیر سے عشاء کی نماز پڑھ کر سوتیں۔ وہ کیا کام تھا جس میں وہ اپنے گھر کے اندر سارے دن مصروف رہتی تھیں؟ انہوں نے یہ کیا کہ گھر کے اندر مرغیاں پال لیں۔

اسی کے ساتھ ان کے یہاں بہت سی بکریاں پلی ہوئی تھیں۔ یہ ان کا مستقل کاروبار تھا۔ والدہ کے اسی ذوق کی وجہ سے مجھے پیغمبروں کی اس سنت پر عمل کرنے کا موقع ملا کہ میں نے اپنے بچپن میں بکریاں چرائیں۔ اپنے سب بھائیوں میں صرف مجھ کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔

اسی کے ساتھ والدہ نے سلائی کا کام بھی شروع کر دیا۔ اس زمانے میں سلائی کی مشین عام نہیں ہوئی تھی، چنانچہ گاؤں کے لوگوں کے کپڑے وہ ہاتھ سے سیتی تھیں۔ اس سلائی کی کوئی اجرت مقرر نہ تھی۔ وہ رضاکارانہ طور پر لوگوں کے کپڑے سیتی تھیں، اور لوگ بھی رضاکارانہ طور پر غلہ وغیرہ ہمارے یہاں پہنچا دیا کرتے تھے۔

بعد کو والدہ نے بھینس بھی پال لی۔ اسی کے ساتھ وسیع کھلے ہوئے صحن میں وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور پپیتے وغیرہ بو دیتی تھیں، جس سے کافی فصل نکلتی تھی۔ والدہ مرحومہ کی اس زندگی سے متاثر ہو کر ایک بار یہ شعر میری زبان پر آ گیا تھا: "مرغی، بکری، سبزی، پھل، ہے مومن کی معاش کا حل۔ " اس زمانے میں ایک عورت نے والدہ کی حالت کو دیکھ کر کہا تھا: "آپ کو بلی کے بچوں کی رکھوالی ملی ہے۔

" یہ تبصرہ لفظ بہ لفظ درست تھا۔ ہم لوگ اس زمانے میں واقعتاً بلی کے بچوں کی مانند تھے۔ والدہ نے اگر غیر معمولی قربانی کے ذریعے ہماری پرورش نہ کی ہوتی تو شاید ہم لوگوں کا وہی انجام ہوتا جو بلی کے چھوٹے بچوں کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنی ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے ہوں۔ ہم لوگوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے سلسلے میں والدہ نے برسہا برس تک جو کچھ کیا، اور جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا، ان کو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ وہ خود ایک مستقل کتاب ہے۔

اس وقت ہماری جو معاشی حالت تھی، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک بار مجھے غلیل بنانے کا شوق ہوا۔ غلیل کا ربر اس وقت ایک پیسے میں ملتا تھا، مگر ہمارے گھر میں ایک پیسہ موجود نہ تھا جس کے ذریعے میں ربر خرید سکوں۔ ایک صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے مجھے ایک پیسہ دیا، اور میں نے دکان جا کر غلیل کا ربر خریدا۔ یہ میرا حال اس وقت تھا جب کہ میں علاقے کے سب سے بڑے زمیندار خاندان کا ایک فرد تھا۔

والد مرحوم کے انتقال کے بعد ہم معاشی اعتبار سے صفر کے درجے میں پہنچا دیے گئے تھے۔ ایسی حالت میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ والدہ کو کیا کچھ مشقت اٹھانی پڑی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے عورت ہوتے ہوئے مرد والا کام کیا۔ گھر میں رہ کر باہر کی دنیا پر اثر انداز ہوئیں۔

حالات نے انہیں اپنا معمول بنانے کا فیصلہ کر رکھا تھا، مگر انہوں نے خود حالات کو اپنا معمول بنا لیا۔ انہوں نے اسلام کے حدود میں رہ کر وہ سب کچھ کیا جس کو کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر خواتین کو اسلام کی حدود سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ والدہ نے جو کچھ کیا وہ اسلامی جذبے کے تحت کیا۔ وہ ہمیشہ انسانوں کے بجائے خدا کی طرف دیکھتی تھیں، اور دنیا کے اعتبار سے سوچنے کے بجائے آخرت کے اعتبار سے سوچتی تھیں۔

تاہم انہوں نے جو کچھ کیا وہ سادہ طور پر محض روایتی دینی ذہن کے تحت تھا۔ وہ کوئی صاحب علم خاتون نہ تھیں کہ اپنے عمل کے فلسفیانہ پہلوؤں پر غور کر سکیں۔ مگر آج جب میں اپنی 60 برس کی عمر کو پہنچ کر سوچتا ہوں تو مجھے ان کا عمل انتہائی عظیم نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے مقابلے میں مجھے یہ بات بالکل ہیچ معلوم ہوتی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتیں اور پھر کسی دفتر کی شاندار کرسی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔

والدہ نے اپنی مذکورہ قربانی سے نہ صرف بچپن میں ہماری پرورش کی، بلکہ ان کے اسلامی مزاج نے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ہمیں اس سے بھی زیادہ بڑا عطیہ دے سکیں۔ یعنی خدا کی دنیا میں کامیابی اور ترقی کا راز وہ راز تھا مثبت طرز فکر اور حقیقت پسندی کا مزاج جو ہم تینوں بھائیوں کو مشترک طور پر ملا۔ ہمیں یہ عطیہ دینے والی تنہا ہماری والدہ تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ والد کے انتقال کے بعد ہمارے رشتے کے ایک ماموں یعنی شیخ عبدالغفور برابر ہمارے یہاں آنے لگے۔

وہ زبردست مقدمہ باز آدمی تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ والدہ اپنے میکے کی 20 ایکڑ زمین کے لیے عدالت میں مقدمہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ صرف دعوے کے کاغذ پر دستخط کر دیجئے، باقی سب کام میں خود کروں گا، اور یہ ساری زمین آپ کو مل جائے گی۔ غالباً وہ برسوں تک ہمارے یہاں آتے رہے، مگر والدہ کسی قیمت پر مقدمہ کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئیں۔

دوسری طرف ہم لوگوں کی اپنی آبائی جائیداد کا معاملہ تھا، جس سے محرومی ہر عام زندہ اشتعال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوئی تھی، اور یہ دعوت دیتی تھی کہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے لڑو۔ بعد کو بعض لوگوں کے کہنے سے ہمیں کچھ زمینیں دی گئیں، مگر وہ عملاً نہ دینے کے برابر تھا۔ کیونکہ جتنی بیکار اور بنجر زمینیں تھیں، وہ چھانٹ کر ہمارے حوالے کر دی گئیں۔ یہ صورتحال فریق ثانی کے خلاف لامتناہی لڑائی چھیڑنے کے لیے بالکل کافی تھی۔

مگر والدہ نے یہاں بھی صبر کے سوا کسی اور چیز کے لیے کبھی نہیں سوچا۔ وہ اکثر ہم لوگوں کو صبر کی تلقین کرتیں، اور اس سلسلے میں ایک دیہاتی شاعر کا یہ شعر ہمیں سناتیں: "صبر بدلے میں دائم بہشت پائیں۔ " اس وقت ہمارے جو خاندانی حالات تھے، وہ مکمل طور پر ہم کو منفی سوچ کی طرف لے جانے والے تھے۔ یہی وہ حالات ہیں جن میں کسی خاندان کے افراد مقدمہ بازیوں میں الجھتے ہیں۔

لوگوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والے لڑائی جھگڑے برپا ہوتے ہیں۔ قیمتی زندگیاں ہلاک ہوتی ہیں۔ لوگ مستقل طور پر تخریبی کارروائیوں کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ والدہ اگر اس وقت ردعمل کا طریقہ اختیار کرتیں تو ان کے بچوں کا جو حال ہوتا وہ یہ کہ وہ منفی ماحول میں پلتے۔

ان کے اندر تخریبی احساسات جنم لیتے۔ ہم میں سے ہر ایک ضد اور انتقام کی نفسیات کا کارخانہ بن کر رہ جاتا۔ مگر والدہ مرحومہ کے ایک طرفہ صبر نے ہماری زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ والدہ کے زیر سایہ ہم سب بھائیوں کے اندر یہ سوچ ابھرنے لگی کہ ہمیں دوسروں سے نہیں لڑنا ہے۔

ہمیں خود اپنی محنت کے بل پر اپنے آپ کو اوپر اٹھانا ہے۔ جو کچھ ہم سے چھینا گیا تھا، اس سے ہماری نظریں ہٹ گئیں۔ ہماری ساری توجہ اس چیز پر لگ گئی جو چھیننے کے بعد بھی ہمارے پاس ابھی تک باقی تھا، یعنی خدا کا دیا ہوا انسانی وجود۔ آج تو میں اس حقیقت کو شعوری طور پر جان رہا ہوں، مگر اس وقت یہ مزاج غیر شعوری طور پر صرف والدہ کی تربیت کے نتیجے میں ہمارے اندر پیدا ہوا تھا۔

چنانچہ ہم تینوں بھائیوں کا معاملہ یہ ہوا کہ ہم لوگ مقام نزاع سے ہٹ گئے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی غیر نزاعی مقام پر اپنے لیے عمل کا میدان تلاش کر لیا۔ ہم تینوں بھائیوں کی راہ اگرچہ الگ الگ بنی، مگر ذہن سب کا ایک تھا۔ یعنی اندرونی بے انصافیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لیے راہ عمل تلاش کرنا۔

انسان سے نہ پا کر خدا سے پانے کا طلبگار بننا۔ ہمارے بڑے بھائی عبدالعزیز خان صاحب اپنی زندگی کے اگلے مرحلے میں تجارت کے راستے پر لگ گئے۔ 1944 میں وہ ہجرت کر کے شہر اعظم گڑھ گئے۔ وہاں انہوں نے تقریباً بلا سرمایہ ایک تجارتی کام کا آغاز کیا۔

وہ برابر شدید جدوجہد کرتے رہے۔ 40 برس بعد اب الہ آباد میں ان کا لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ کے نام سے بجلی کا سامان بنانے کا کارخانہ ہے، اور وہ اس کے چیئرمین ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کے سب سے زیادہ حقیر فرد شمار کیے جاتے تھے۔ آج وہ وسیع خاندان کے سب سے زیادہ معزز فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حتیٰ کہ انہوں نے آبائی جائیداد کی نئی تقسیم کرا کر اپنا پورا حق دوبارہ لے لیا جو اس سے پہلے انہیں نہیں دیا گیا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی عبدالمحیط خان سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم کی طرف گئے۔ لمبی جدوجہد کے بعد انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری لی، اور اب وہ حکومت یو پی کے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے محکمے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ اپنے انتھک عمل، اپنے بے داغ کردار، اور اپنی بااصول زندگی کے نتیجے میں وہ پورے محکمے میں ایک ممتاز شخصیت کے مالک بن گئے ہیں۔

راقم الحروف کی توجہ دینی تعلیم کی طرف ہوئی۔ اولاً میں نے عربی درسگاہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں نے زبردست کوشش سے انگریزی زبان و علوم کو پڑھا۔ اب اللہ کی توفیق سے میں جو کام کر رہا ہوں، اس سے ان سطروں کے قارئین بخوبی واقف ہیں۔

1976 میں ماہ نامہ الرسالہ کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کر رہا ہوں، اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔ الرسالے کی یہ تحریک اب خدا کے فضل سے مسلم دنیا کی ایک طاقتور تحریک بن چکی ہے۔ مجھ کو اکثر اہل علم کی طرف سے زبانی یا تحریری طور پر ایسے تبصرے ملتے رہتے ہیں جن میں اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ دور جدید میں الرسالے کی تحریک پہلی اسلامی تحریک ہے جس نے مسلمانوں کو منفی کارروائیوں سے ہٹا کر مثبت تعمیر کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ ہے تو اس کا کریڈٹ سب سے زیادہ اس مسلم خاتون کو جاتا ہے جس کا نام زیب النساء تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عالم مادی میں اگر کوئی ہے جس کو الرسالے کی تعمیری تحریک کا ابتدائی بانی کہا جا سکے تو وہ یقینا میری والدہ زیب النساء ہیں۔ وہ زیب النساء جو نام نہاد آزادی نسواں کی تحریک سے نہ صرف بہت دور تھیں بلکہ وہ اس کا نام بھی نہیں جانتی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ والدہ محترمہ کے لیے وہ ایک غیر شعوری معاملہ تھا، اور میری ذات میں اللہ تعالی نے اس کو شعوری دریافت تک پہنچایا ہے۔ میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن کر رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں یعنی اسماء نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لیے امادہ ہو گیا۔

شہنشاہ اکبر کی ماں یعنی مریم مکانی نے اکبر کو ملا عبدالنبی کے خلاف کارروائی سے روکا۔ چنانچہ اکبر ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے باز رہا وغیرہ وغیرہ۔ راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہو جاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اکساتی رہتی تو یقینی طور پر میری زندگی کا رخ بالکل دوسرا ہوتا۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔

تاہم اس عالم اسباب میں جو ہستی اس واقعے کا ابتدائی ذریعہ بنی، وہ یقینا ایک خاتون تھی، اور وہ بھی اسلامی اصول کے مطابق ایک خانہ نشین خاتون۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 256۔