Khandaani zindagi

گھر بہتر انسان بنانے کا کارخانہ

Khandaani zindagi — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (43 chapters)
  1. گھر کا ماحول
  2. ہر حال میں خیر
  3. ذریعۂ سکون
  4. عورت معاونِ حیات
  5. سب سے بڑی نعمت
  6. ایک حدیث
  7. قوّامیت یا باسزم
  8. صنفِ مساوات
  9. ایک شادی یا کئی شادی
  10. زوجین کے درمیان کامل مطابقت
  11. Intellectual partner.
  12. Conditioning ko todna.
  13. باہمی اعتماد
  14. مشن کے بغیر
  15. بے مقصد زندگی
  16. سادگی ایک اصولِ حیات
  17. جذباتیت بمقابلہ انانیت
  18. فطرت سے تعاون
  19. فارمولا آف تھرٹی سیکنڈ
  20. آرٹ آف فیلیر مینجمنٹ
  21. لائف مینجمنٹ
  22. انتظار کی پالیسی
  23. گھر بہتر انسان بنانے کا کارخانہ
  24. تعلیم اور خواتین
  25. سورت یا سیرت
  26. لو میرج ناکام کیوں
  27. سختی یا عزم
  28. چھوٹی بات کو بڑی بات نہ بنائیے
  29. عدم مداخلت کی پالیسی
  30. ایک دانشمند خاتون
  31. میکے کے تصور میں جینا
  32. غیر فطری تمنا
  33. میکے اور سسرال کا فرق
  34. ایک مشاہدہ
  35. ماؤں کا غلط رول
  36. بچوں کی دینی تربیت
  37. لاٹ پیار کا نقصان
  38. ماں باپ کا رول
  39. ایک واقعہ
  40. برابری میں نکاح
  41. جوائنٹ فیملی
  42. ساس بہو کا مسئلہ
  43. عورت کا عظیم کردار

ماں کی حیثیت سے عورت کا رول اگلی نسل کی تیاری ہے۔ انسان کی نسل ایک رواں دریا کی مانند ہے، جس میں ہر وقت پرانا پانی بہہ کر چلا جاتا ہے، اور نیا پانی اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی قافلے کا ہے۔

یہاں بھی مسلسل ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسل جاتی رہتی ہے، اور نئی نسل اس کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ ماں کا کام اسی نئی نسل کی تیاری ہے۔ ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر بار اگلی نسل کے لیے بہتر انسان بنا کر بھیجے۔ بہتر انسان کون ہے؟

بہتر انسان وہ ہے جس کے اندر زندگی کا حوصلہ ہو، جو منفی سوچ سے بلند ہو اور مثبت سوچ کا حامل ہو، جو اپنے ذہن کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ تعمیری بنیادوں پر زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے، جو اپنے سماج کے لیے کوئی نیا پرابلم پیدا نہ کرے، جو اپنے سماج کا دینے والا ممبر، یعنی گیور ممبر ہو، نہ کہ صرف لینے والا ممبر، یعنی ٹیکر ممبر۔ اس معاملے میں ماں کو کیا کرنا چاہیے، اس کو ہم چند مثالوں کے ذریعے واضح کریں گے۔ ان مثالوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو پختگی، یعنی میچورٹی، کہا جاتا ہے۔ وہ ناپختگی، یعنی ام میچورٹی، کا ذہن دے کر اپنی اولاد کو سماج میں نہ بھیجے۔

مثلاً عام ذہن یہ ہے کہ جو آدمی دولت مند گھر میں پیدا ہو، اس کو خوش قسمت سمجھا جاتا ہے، اور جو آدمی غریب گھر میں پیدا ہو، اس کو بدقسمت انسان کہا جاتا ہے۔ یہاں ماں کا رول یہ ہے کہ اگر اس کا بچہ غریب گھر میں پیدا ہوا ہے تو وہ اس کو بتائے کہ غریب ہونا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ ایسی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو زندگی کا یہ فلسفہ بتائے کہ دولت مند بچے کے پاس اگر دولت ہوتی ہے تو غریب بچے کے پاس ایک اور زیادہ بڑی دولت موجود ہے، اور وہ ہے بڑھا ہوا محرک، یعنی انسنٹو۔ یہ محرک اس کی زندگی کی طاقت بن کر اس کا ساتھ دیتا ہے۔

If a rich person is born with a silver spoon in his mouth, the poor person is born with an incentive spoon in his mouth. ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو بتائے کہ ہر امیر بچے کے باپ اور دادا غریب ہی تھے، پھر وہ محنت کر کے امیر بنے۔ اسی طرح تم بھی محنت کر کے سب کچھ حاصل کر سکتے ہو۔ اسی طرح ایک اور فکری گمراہی ہے۔

ماں کو چاہیے کہ اس گمراہی سے وہ اپنے بچے کو باہر نکالے۔ وہ یہ کہ عام طور پر انسانی طبقات کو محروم اور غیر محروم، یعنی haves and have-nots، میں تقسیم کیا جاتا ہے، مگر یہ ایک غلط ڈائیکاٹمی، یعنی رانگ ڈائیکاٹمی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ایک شخص محروم طبقے کا فرد ہوتا ہے، لیکن بعد میں وہ ایک غیر محروم طبقے کا فرد بن جاتا ہے۔ مثلاً سی وی رمن، جی ڈی برلا، آب رائے، دھیرو بھائی امبانی، ڈاکٹر عبدالکلام وغیرہ۔

اس قسم کے ہزاروں لوگ ہیں جو اپنے بچپن میں بظاہر محروم طبقے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن بعد کو وہ غیر محروم طبقے کے اعلیٰ فرد بن گئے۔ اس لیے اس دنیا میں صحیح ڈائیکاٹمی محروم اور غیر محروم کی نہیں ہے، بلکہ امکانی غیر محروم اور واقعی غیر محروم، یعنی potential haves and actual haves، کی ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز حوصلہ اور مثبت شعور ہے۔ ہر پچھلی نسل کا فرض ہے کہ وہ اگلی نسل کو باحوصلہ اور باشعور بنا کر زندگی کے میدان میں داخل کرے۔ p. 32