Haqeeqat-e-Tauheed

شرک کی بے ثباتی

Haqeeqat-e-Tauheed — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. توحید انسانیت کی منزل
  2. کائنات کا نور
  3. علمِ توحید
  4. فکری انقلاب
  5. توحید کا مفہوم
  6. خوفِ محبت کا مرکز
  7. پیغمبروں کا مشن
  8. دو رکاوٹ
  9. توحید کا آغاز
  10. توحید کا خطاب
  11. توحید اور شرک—
  12. توحید اور شرک کا فرق
  13. Daure science
  14. شرک کی بے ثباتی
  15. اہلِ توحید اور اہلِ شرک
  16. قدیم شرک، جدید شرک
  17. شرکِ خفی، اور جب اکیلے اللہ…
  18. شرکِ خفی کا ظاہرہ
  19. سائنس کے دور میں اسی طرح…

شرک کی بے ثباتی۔ شرک کیا ہے؟ شرک یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ اپنے لیے نہایت برے بدل کا انتخاب کرتا ہے۔

بِإِثْلِ الظَّالِمِينَ بَدَلَ الْكَهَفِ 50۔ یعنی یہ کتنا زیادہ برا بدل ہے ظالموں کے لیے۔ How bad substitute they have chosen سورہ نمبر 18، آیت 50۔ یہ آیت گویا کہ پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے: انسان نے بار بار ایسا کیا ہے کہ اس نے خدا کے سوا کسی اور کو اپنے لیے معبود کا درجہ دیا۔

لیکن ہر بار یہ ثابت ہوا کہ انسان کا انتخاب، یعنی choice، نہایت برا انتخاب تھا۔ ایک اللہ کے سوا کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کو اپنا معبود بنایا جائے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک انسان نیچر کو معبود کا درجہ دیتا رہا۔ چنانچہ دنیا میں عمومی طور پر وہ نظامِ پرستش رائج ہوا جس کو فطرت پرستی، یعنی nature worship، کہا جاتا ہے۔

سورج، چاند، پہاڑ، دریا، سمندر اور دوسری چیزوں کے بارے میں انسان نے یہ فرض کر لیا کہ ان کے اندر الوہیت، یعنی divinity، موجود ہے۔ اس مفروضے کی بنا پر نیچر کی ہر چیز انسان کے لیے قابلِ پرستش بن گئی۔ p. 30