Deeni Taleem

Khuda ki aynak se.

Deeni Taleem — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Fahrist (Deeni Taleem)
  2. Deebacha.
  3. Tauheed.
  4. Sari tareef allah ke liye.
  5. Khuda ke farishtey.
  6. Allah ka rasool.
  7. Khatme nubuvvat.
  8. Qiyamat.
  9. Jab maut aayegi.
  10. Doosri dunya.
  11. Jaisa bona vaisa kaatna.
  12. Jannat kis ke liye.
  13. Sirate mustaqeem.
  14. Islam zindagi ka zamima nahi.
  15. Allah ki ibadat.
  16. Parastish ki qismen.
  17. Momin ke subhosham.
  18. Allah ki raah me qarch.
  19. Islami akhlaq.
  20. Ittehad ki jad tavazo.
  21. Vaaz kaun kare.
  22. Sachchai ka eateraaf.
  23. Insano'n ki teen qismen.
  24. Khuda ka inaam.
  25. Islami zindagi.
  26. Haqeeqat ke mutabiq.
  27. Khuda ki aynak se.
  28. Har muamale me ihtiyat.
  29. Khuda ki khatir beikhtiyar honewale.
  30. Admi ka imtehaan.
  31. Jancha jaraha hai.
  32. Koi dunya kamaraha hai koi aakhirat.
  33. Waqiaat ke darmiyaan.
  34. Inteqaab horaha hai.
  35. Allah vaale.
  36. Kaminapan nahi.
  37. Momin allah me jita hai.
  38. Ghalati karke palatna.
  39. Oopar uthkar sochna.
  40. Apni ghalati ko janiye.
  41. Momin ki daulat.
  42. Maaash ka masala.
  43. Taleem.
  44. Masjid.
  45. Islam aur kufr.
  46. Banda aur khuda ka muamala.
  47. Dua kyun qubul nahi hoti.

خدا کی آئینک سے: اگر آپ صاف شیشے کی آئینک لگائیں تو ہر چیز آپ کو اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دے گی۔ لیکن اگر آپ کی آنکھ پر رنگین شیشے والی عینک ہو تو ہر چیز کا رنگ مصنوعی ہو جائے گا۔ اب ہر چیز آپ کو اس رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دے گی جو کہ آپ کی عینک کا رنگ ہے۔ یہی حال انسانی ذہن کا ہے۔

ہر آدمی جب دوسرے کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو اپنے ذہن کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اگر اس کی عینک کا شیشہ صاف ہے تو ہر چیز اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دے گی، اور اگر اس کی عینک کا شیشہ رنگین ہو تو کوئی چیز خواہ حقیقت میں کیسی ہی ہو، اس کے اپنے دیکھنے میں ویسی ہی دکھائی دے گی جیسا کہ اس کی اپنی عینک کا رنگ ہے۔ آدمی کا ذہن یا تو خدائی ذہن ہوتا ہے یا ذاتی ذہن۔ وہ دوسروں کو یا تو خدا کی آئینک سے دیکھتا ہے یا اپنی ذاتی پسند کی عینک سے۔

یہ دونوں طریقے ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ خدا کی عینک سے دیکھنے والا دوسروں کو حقیقتِ واقعے کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نہ کہ اپنی متاثر نگاہ سے۔ وہ ہر آدمی کو ویسا ہی دیکھتا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔ کیونکہ خدا کے دیکھنے کا طریقہ یہی ہے۔

مگر دوسرے آدمی کا طریقہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ہر آدمی کو اپنے مفاد اور اپنی عصبیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جس آدمی سے اس کی دوستی ہے وہ اس کو اچھی صورت میں دکھائی دیتا ہے، اور جس سے اس کا بگاڑ ہے وہ بری صورت میں۔ جو آدمی اس کے اپنے حلقے کا ہے وہ اگر اس کو سفید نظر آئے تو دوسرے حلقے کا آدمی اس کو کالا نظر آتا ہے۔

مومن وہ ہے جو ہر آدمی کو خدا کی نگاہ سے دیکھے، نہ کہ اپنی ذاتی نگاہ سے۔ جو شخص چیزوں کو خدا کی نظر سے دیکھنے لگے وہ ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر ایک سے وہی معاملہ کرتا ہے جو بااعتبارِ واقعہ اسے کرنا چاہیے۔ وہ دنیا کے لحاظ سے ایک حقیقت پسند انسان بن جاتا ہے، اور آخرت کے لحاظ سے ایک صالح انسان۔

کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔