Deeni Taleem

Allah ki raah me qarch.

Deeni Taleem — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (47 chapters)
  1. Fahrist (Deeni Taleem)
  2. Deebacha.
  3. Tauheed.
  4. Sari tareef allah ke liye.
  5. Khuda ke farishtey.
  6. Allah ka rasool.
  7. Khatme nubuvvat.
  8. Qiyamat.
  9. Jab maut aayegi.
  10. Doosri dunya.
  11. Jaisa bona vaisa kaatna.
  12. Jannat kis ke liye.
  13. Sirate mustaqeem.
  14. Islam zindagi ka zamima nahi.
  15. Allah ki ibadat.
  16. Parastish ki qismen.
  17. Momin ke subhosham.
  18. Allah ki raah me qarch.
  19. Islami akhlaq.
  20. Ittehad ki jad tavazo.
  21. Vaaz kaun kare.
  22. Sachchai ka eateraaf.
  23. Insano'n ki teen qismen.
  24. Khuda ka inaam.
  25. Islami zindagi.
  26. Haqeeqat ke mutabiq.
  27. Khuda ki aynak se.
  28. Har muamale me ihtiyat.
  29. Khuda ki khatir beikhtiyar honewale.
  30. Admi ka imtehaan.
  31. Jancha jaraha hai.
  32. Koi dunya kamaraha hai koi aakhirat.
  33. Waqiaat ke darmiyaan.
  34. Inteqaab horaha hai.
  35. Allah vaale.
  36. Kaminapan nahi.
  37. Momin allah me jita hai.
  38. Ghalati karke palatna.
  39. Oopar uthkar sochna.
  40. Apni ghalati ko janiye.
  41. Momin ki daulat.
  42. Maaash ka masala.
  43. Taleem.
  44. Masjid.
  45. Islam aur kufr.
  46. Banda aur khuda ka muamala.
  47. Dua kyun qubul nahi hoti.

اللہ کی راہ میں خرچ: آدمی کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا دیا ہوا ہے۔ آدمی کی زندگی اور اس کا اثاثہ سب کچھ خدا کی بخشش ہے۔ اس بخشش کا شکر یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ آدمی کو دیا ہے وہ اس کو اللہ کے قدموں میں ڈال دے۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا، اللہ کے لیے اسی حوالگی کی علامت ہے۔

آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے، اسی لیے کماتا ہے کہ خدا نے اس کو ہاتھ اور پاؤں دیے ہیں جن سے وہ عمل کرے۔ اس کو آنکھ اور زبان دی ہے جس سے وہ دیکھے اور بولے۔ اس کو دماغ دیا ہے جس سے وہ سوچے اور منصوبہ بنائے۔ اسی کے ساتھ خدا نے آدمی کو ایک ایسی دنیا میں رکھا جو پوری طرح اس کے تابع ہے۔

دنیا کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ انسان اس کو جس طرح چاہے اپنے کام میں لائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آدمی جسم و دماغ کی تمام طاقتیں رکھتے ہوئے بھی دنیا سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے گا۔ اگر گیہوں کا دانہ فصل کی صورت میں نہ اگے بلکہ پتھر کے ٹکڑے کی طرح زمین میں پڑا رہے، تو انسان کے لیے زمین سے غلہ حاصل کرنا ناممکن ہو جائے۔ فطرت کی طاقتیں اگر اپنا مقررہ عمل ظاہر نہ کریں تو نہ بجلی پیدا ہو اور نہ کوئی سواری حرکت کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان جو کمائی کرتا ہے وہ براہ راست خدا کا احسان ہوتی ہے۔ اس احسان کا بدلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو اللہ کے دین کی راہ میں خرچ کرے۔ وہ اس سے اللہ کے کمزور بندوں کی مدد کرے۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقوں میں لگائے۔

اللہ کی راہ کا خرچ وہ ہے جو صرف اللہ کے لیے ہو، نہ کہ شہرت یا عزت یا بدلہ پانے کے لیے۔ مال کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو دنیا کی مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال وہ ہے جس کو آخرت کی مصیبتوں سے نجات پانے کے لیے دیا جائے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔