Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خلاصہ p. 161
برنہار باونک کا یہ کہنا کہ’’سائنس مذہب کے راستہ پر‘‘ جا رہی ہے، اوپر کی تفصیلات سے واضح ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا دریا دوبارہ وہیں پہنچ گیا جہاں سے اس نے مذہب کو چھوڑا تھا۔ یعنی یہ کہ کائنات اپنی آخری حقیقت کے اعتبار سے ایک غیر مادی واقعہ ہے، نہ کہ صرف بے جان اور بے شعور مادہ کا بے معنی رقص۔ p. 162original + quote
مزید یہ کہ ہماری دنیا میں جو اسباب کام کر رہے ہیں وہ امکانی طور پر بہت سے مختلف اور متضاد نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔ مگر کائناتی نظام حیرت انگیز طور پر یہ کرتا ہے کہ واقعات کے رخ کو غیر موزوں نتائج کی طرف جانے سے روکتا ہے اور اس کو صرف موزوں نتائج کی طرف لے جاتا ہے۔ کائنات کی یہ غایاتی طبیعت (teleological nature) صریح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ عالم واقعات کے پیچھے ایک باشعور ارادہ کام کر رہا ہے۔ اس صورت حال کی کوئی دوسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ p. 162
کائناتی نظام میں عدم تعین، بالفاظ دیگر انتخابیت کا ہونا اور اس کا مسلسل برقرار رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو ہر آن خارج سے’’رہنمائی‘‘ دی جا رہی ہے۔ سر آرتھر اڈنگٹن نے بجا طور پر نشان دہی کی ہے کہ جدید کوانٹم نظریہ کا یہ پہلو بے حد حیرت انگیز ہے۔ کیوں کہ یہ الہام کے مذہبی عقیدہ کی سائنسی تصدیق کر رہا ہےوَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا (41:12)۔ یعنی، اور ہر آسمان میں اس کا حکم بھیج دیا۔ p. 162original + quote