Al-Risala Unknown 2017

تاجر کا معاملہ

Al-Risala Unknown 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (30 chapters)
  1. الرسالہ - Unknown 2017
  2. توبہ کی نفسیات
  3. عافیت کی دعا
  4. رسول سے تعلق
  5. گفتگو کے اصول
  6. عدم اطمینان
  7. اختلاط کی اہمیت
  8. غضب، رحمت
  9. تزکیہ کیا ہے
  10. شرک کیا ہے
  11. عقل سے محرومی
  12. اصلاح اور محاسبہ
  13. دعا، قبولیتِ دعا
  14. فروغ وسائل انسانی
  15. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  16. قابل عمل طریقِ کار
  17. انگریزی کاایک مثل ہے:
  18. عہد اسلام
  19. قتل کی سزا
  20. حضرت عائشہ کا نکاح
  21. دجالیت کیا ہے
  22. تاجر کا معاملہ
  23. دین میں غلو
  24. فقہ الاقلیات
  25. عورت کی تخلیق
  26. غلطی کا اعتراف
  27. تجربہ کی دنیا
  28. دیباچہ
  29. سوال و جواب
  30. خبرنامہ اسلامی مرکز — 250

تاجر کا معاملہ

تاجر کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے:عن عبد اللہ بن أبی نہیک قال: لقینی سعد بن أبی وقاص فی السوق فقال:اتجار کسبة اتجار کسبة سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول:لیس منا من لم یتغن بالقرآن(مسند الحمیدی، حدیث نمبر77)۔ یعنی عبداللہ ابن ابی نہیک کہتے ہیں کہ سعد ابن ابی وقاص بازار میں ان سے ملے۔انھوں نے کہا: تم لوگ بہت کمائی کرنے والے تاجر بن گیے ہو، تم لوگ بہت کمائی کرنے والے تاجر بن گیے ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کو قرآن غنی نہ بنادے۔unverified

اس حدیث کا یہ مطلب یہ نہیں کہ قرآن کے بعد مومن کو تجارت ترک کردینا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے صحابہ تجارت کرتے تھے۔ مثلا عثمان ابن عفان اور عبد الرحمن ابن عوف ، وغیرہ۔ امام الغزالی نے لکھا ہے: وکان أصحاب رسول اللہ یتجرون فی البر والبحر (احیاء علوم الدین، 2/63)۔ یعنی رسول اللہ کےاصحاب خشکی اور تری میں تجارت کرتے تھے۔original + quote

یہ حدیث نفس ِتجارت کی نسبت سے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ان تاجروں کی نسبت سے ہے، جو تجارت کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہوجائیں کہ وہی ان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بن جائے۔ تجارت ہی ان کی دلچسپیوں کا واحد مرکز ہو۔ جو اپنی صلاحیتوں کو تمام تر تجارت میں لگا دے۔

تجارت یا کوئی اور معاشی ذریعہ برائے ضرورت ہوتا ہے، نہ کہ برائے مقصد۔ جو شخص تجارت کو ایک ذریعہ کے طور پر اپنائے، اسی کے ساتھ وہ دین کی ذمہ داریوں کو بھی ادا کرے تو وہ بلاشبہ ایک صحیح تاجر ہے۔ اس حدیث میں اس انسان کا ذکر ہےجو تجارت میں اتنا زیادہ مشغول ہو جائےکہ دینی کام میں اس کی رغبت باقی نہ رہے۔یعنی یہ حدیث نفی تجارت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ طریق تجارت کےبارے میں ہے۔مومن کو چاہیے کہ وہ دلچسپی کے درجے میں قرآن کو لے، اور ضرورت کے درجے میں معاشی سرگرمی کو۔unverified