Al-Risala Unknown 2017

عقل سے محرومی

Al-Risala Unknown 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (30 chapters)
  1. الرسالہ - Unknown 2017
  2. توبہ کی نفسیات
  3. عافیت کی دعا
  4. رسول سے تعلق
  5. گفتگو کے اصول
  6. عدم اطمینان
  7. اختلاط کی اہمیت
  8. غضب، رحمت
  9. تزکیہ کیا ہے
  10. شرک کیا ہے
  11. عقل سے محرومی
  12. اصلاح اور محاسبہ
  13. دعا، قبولیتِ دعا
  14. فروغ وسائل انسانی
  15. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  16. قابل عمل طریقِ کار
  17. انگریزی کاایک مثل ہے:
  18. عہد اسلام
  19. قتل کی سزا
  20. حضرت عائشہ کا نکاح
  21. دجالیت کیا ہے
  22. تاجر کا معاملہ
  23. دین میں غلو
  24. فقہ الاقلیات
  25. عورت کی تخلیق
  26. غلطی کا اعتراف
  27. تجربہ کی دنیا
  28. دیباچہ
  29. سوال و جواب
  30. خبرنامہ اسلامی مرکز — 250

عقل سے محرومی

ایک طویل حدیث میں امت مسلمہ کے دورِ زوال کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا: قیامت کے قریب ہرج ہوگا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ہرج سے کیا مراد ہے ؟ آپ نےکہا: قتل۔ کسی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ہم تو اب بھی ایک سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکوں کا قتل نہیں ہے، بلکہ تم میں سے بعض اپنے بعض کو قتل کرے گا، حتی کہ ایک آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچازاد بھائی کو،اور اپنے قرابت دار کو قتل کرے گا۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا، اے اللہ کے رسول اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ نہیں۔ اس زمانہ میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، اور گر د وغبار کی مانند لوگ باقی رہیں گے۔ ان کے پاس عقلیںنہیں ہوں گی۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر 3959)unverified

یہاں عقل چھننےسے مراد عقل کے درست استعمال کے لیے نااہل ہوجانا ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوگا کہ لوگ ناحق طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے اس واقعہ کا ذکر ہے جب کہ امت اپنے دورِ زوال میں پہنچ جائے گی۔ اس کے اندر تقلیدی فکر بہت زیادہ عام ہوچکی ہوگی۔ لوگ اپنے روایتی اکابر کی سوچ سے باہر نکل کر سوچنے کے قابل نہ رہیں گے۔اس بنا پروہ اس صلاحیت سے محروم ہوجائیں گے کہ وہ اپنے زمانے کے بدلے ہوئے حالات کو سمجھیں، اورحالات کے مطابق اسلام کی تعلیمات کی تطبیق نو (reapplication) دریافت کرسکیں۔مثلا زمانے کی تبدیلی کے نتیجے میں جنگ کا دور ختم ہوجائے گا۔ نئے حالات میں ممکن ہوجائے گا کہ پرامن طریقہ کار کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکے، جس کو پچھلے دور میں’’سیف‘‘ کے ذریعہ ممکن سمجھا جاتا تھا۔ مگر اجتہادی بصیرت کے فقدان کی بنا پر وہ اس تبدیلی کو سمجھنے سے محروم رہیں گے، اور اپنے عمل کی پر امن منصوبہ بندی نہ کرسکیں گے۔