Al-Risala Unknown 2017

توبہ کی نفسیات

Al-Risala Unknown 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (30 chapters)
  1. الرسالہ - Unknown 2017
  2. توبہ کی نفسیات
  3. عافیت کی دعا
  4. رسول سے تعلق
  5. گفتگو کے اصول
  6. عدم اطمینان
  7. اختلاط کی اہمیت
  8. غضب، رحمت
  9. تزکیہ کیا ہے
  10. شرک کیا ہے
  11. عقل سے محرومی
  12. اصلاح اور محاسبہ
  13. دعا، قبولیتِ دعا
  14. فروغ وسائل انسانی
  15. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  16. قابل عمل طریقِ کار
  17. انگریزی کاایک مثل ہے:
  18. عہد اسلام
  19. قتل کی سزا
  20. حضرت عائشہ کا نکاح
  21. دجالیت کیا ہے
  22. تاجر کا معاملہ
  23. دین میں غلو
  24. فقہ الاقلیات
  25. عورت کی تخلیق
  26. غلطی کا اعتراف
  27. تجربہ کی دنیا
  28. دیباچہ
  29. سوال و جواب
  30. خبرنامہ اسلامی مرکز — 250

توبہ کی نفسیات

انسان کی نفسیات میں اس کے خالق نے ایک خصوصیت رکھی ہے، جس کو عام طور پر ندامت (repentance) کہا جاتا ہے۔ یہ خصوصیت ایک سچے مومن کے اندر مزید اضافہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ خصوصیت انسان کے لیے ایک عجیب رحمت ہے۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:فَأُولَئِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ (25:70)۔یعنی اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا:original + quote

Allah will change their evil deeds into good deeds

یہ معاملہ جو اہل ایمان کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ صرف ’’برائی‘‘ کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ اس شدید ندامت کی بنا پر ہوتا ہے، جو برائی کرنے کے بعد ان کے اندر پیدا ہوئی ہو۔ ندامت (repentance) کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر اس بات کا شدید جذبہ پیدا کرتی ہے کہ آدمی اپنی اصلاح کرے، اور برائی کے بعد مزید شدت کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرے۔ ندامت کے ذریعہ پیش آنے والایہی مثبت جذبہ ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق برائی کو بھلائی میں تبدیل کردیتا ہے۔

برائی کی ایک صورت وہ ہے جب کہ کوئی آدمی جب برائی کرنے کے بعد اسی پر قائم ہوجائے ۔ ایسے آدمی کی برائی اس کو اور زیادہ برا بنا دیتی ہے۔ لیکن جس آدمی کا یہ حال ہو کہ برائی کرنے کے بعد اس کے اندر انٹراسپکشن (introspection) پیدا ہو ۔ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اب مجھے دوبارہ برائی نہیں کرنا ہے، بلکہ اس کے برعکس ،مجھے بھلائی کے راستے پر مزید اضافہ کے ساتھ چلنا ہے۔ تو ایسے آدمی کے لیے اس کی برائی برعکس طور پر بھلائی کا محرک بن جاتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ بھلائی کے راستے پر چلنے لگتا ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک سچے مومن کی برائی کو بھلائی میں بدل دیتی ہے۔