Al-Risala September 2017

قتل گاہ یا صحت گاہ

Al-Risala September 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - September 2017
  2. آدم کی سنت
  3. سائنس قرآن کی تفسیر
  4. اللہ کی رؤیت
  5. اسفل سافلین
  6. اجتماعی صبر
  7. قرآن کا مقصد ِنزول
  8. اللہ سے امید
  9. شخصیتِ انسانی
  10. اسلامی حکومت
  11. موت کا ظاہرہ
  12. جنت کا سماج
  13. مادی کائنات، انسانی تاریخ
  14. مشن کی اہمیت
  15. قبولیت میں تاخیر
  16. اللہ کی مدد
  17. مصیبت کا مثبت پہلو
  18. نا انصافی کا مسئلہ
  19. قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ
  20. عمومی تائید کا دور
  21. پیغمبر اسلام کا مشن
  22. قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
  23. قتل گاہ یا صحت گاہ
  24. انجام کو دیکھ کر
  25. ایکٹنگ، اَن فولڈنگ
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز — 253

قتل گاہ یا صحت گاہ

بیسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں جدید طرز کی تعلیم کے ادارے قائم ہوئے۔ یہ برٹش رول کا زمانہ تھا۔ تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کا مذہبی طبقہ عمومی طور پر انگریزی تعلیم کا مخالف بن گیا۔ ایک عالم نے یونیورسٹی کے بارے میں لکھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے قتل گاہ ہے۔ ایک اور عالم نے جدید طرز کی تعلیم گاہوں پر ایک کتاب لکھی، جس کا ٹائٹل تھا: ردۃ و لا ابابکر لہا (ایک ارتداد ہے، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ابوبکر نہیں) ۔ ایک مشہور شاعر نے انگریزی تعلیم گاہوں کے بارے میں یہ شعر لکھا:original + quote

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اس قسم کی منفی بات صرف زمانے سے بے خبری کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی تعلیم گاہیں ہمارے نوجوانوں کے اندر سے توہم پرستی کا ذہن ختم کررہی تھیں، اور ان کو سادہ ذہن (clean slate)بنارہی تھیں۔ مگر ہمارے رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا، اور غیر ضروری طور پر بےجا مخالفت شروع کردی۔

اس وقت کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ عصری اسلوب (modern idiom) میں اسلام پر کتابیں تیار کی جائیں، اور ان کتابوں کو مسلم نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید تعلیم ایک موقع (opportunity) کی حیثیت رکھتی تھی، مگر ہمارے رہنما اس کو موقع کی حیثیت سے دیکھنے میں ناکام رہے۔ اس بنا پر وہ ان کو استعمال کرنے سے بھی محروم رہے۔

اس معاملے کا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ ان علماء کو ماننے والوں کی بعد کی نسلیں ڈبل اسٹینڈرڈ بن گئیں۔ چناں چہ آج یہ حال ہے کہ یہ مسلمان اپنے علماء اور رہنماؤں کے مفروضہ کارناموں پر لفظی قصیدے پڑھتے ہیں، لیکن عملاً اپنے بچوں کو انھیں تعلیم گاہوں میں تعلیم دلاکر فخر محسوس کرتے ہیں۔ منافقت کلچر کا اتنا بڑا واقعہ شاید پوری مسلم تاریخ میں کبھی پیش نہیں آٰیا۔