Al-Risala September 2017

آدم کی سنت

Al-Risala September 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - September 2017
  2. آدم کی سنت
  3. سائنس قرآن کی تفسیر
  4. اللہ کی رؤیت
  5. اسفل سافلین
  6. اجتماعی صبر
  7. قرآن کا مقصد ِنزول
  8. اللہ سے امید
  9. شخصیتِ انسانی
  10. اسلامی حکومت
  11. موت کا ظاہرہ
  12. جنت کا سماج
  13. مادی کائنات، انسانی تاریخ
  14. مشن کی اہمیت
  15. قبولیت میں تاخیر
  16. اللہ کی مدد
  17. مصیبت کا مثبت پہلو
  18. نا انصافی کا مسئلہ
  19. قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ
  20. عمومی تائید کا دور
  21. پیغمبر اسلام کا مشن
  22. قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
  23. قتل گاہ یا صحت گاہ
  24. انجام کو دیکھ کر
  25. ایکٹنگ، اَن فولڈنگ
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز — 253

آدم کی سنت

آدم اور ابلیس کا قصہ قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے۔ قرآن میں اللہ رب العالمین کی زبان سے کہا گیاہے کہ آدم کو جنت سے نکالنے والا ابلیس تھا (الاعراف 27:)۔ دوسری طرف قرآن کی کئی آیتوں میں آدم کا کردار بتایا گیا ہے۔ اس معلوم حقیقت کے باوجود کہ ابلیس نے آدم کو بہکا کر جنت سے نکالا۔ آدم نے کبھی ایک بار بھی یہ نہیں کیا کہ وہ ابلیس کو دشمن بتاکر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرے، اس کے خلاف بددعا ئیںکرے۔ اس کے برعکس آدم نے جو کیا وہ صرف توبہ تھی۔ انھوں نے اللہ سے یہ دعا کی:رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ (7:23)۔یعنی اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔original + quote

قرآن کے اس بیان سے ایک مسئلہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اگر کوئی ثابت شدہ دشمن موجود ہو، کسی نے سازش کرکے نقصان پہنچایا ہو، تب بھی انسان کو دوسرے کے خلاف شکایت یا احتجاج نہیں کرنا ہے، بلکہ یہ سوچنا ہے کہ میں اس کی سازش کا شکار کیوں بنا۔ ایسے موقع پر دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے، اپنی اس غلطی کو دریافت کرنا چاہیے کہ اس کے بھٹکنے کا سبب کیا تھا۔

اس طرح کے معاملے میں دوسرے کو برا بتانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آدمی اپنی غلطی کو مانے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی کمزوری کو دریافت کرے گا، اور اس طرح اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی اصلاح کرکے آئندہ اپنے آپ کو نقصان سے بچائے۔دوسرے کے خلاف شکایت کرنا، باعتبار نتیجہ اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے، اس کے برعکس اگر آدمی اپنی غلطی کو مانے تو اس کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنی کمزوری کو شعوری طور پر جانے اور اس کی اصلاح کے ذریعہ اپنے کو درست کرلے۔ کسی کو دشمن بتاکر اس کے خلاف ہنگامہ کرنا کوئی کام ہی نہیں۔ کام صرف یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کو مانے، اوراس کی اصلاح کرے۔