Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سائنس قرآن کی تفسیر
سائنس کسی کی شخصی تصنیف نہیں۔ بلکہ سائنس اسی نیچر (nature) کا مطالعہ ہے، جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیات (signs) کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس طرح ارض القرآن قرآن کی تاریخی تفسیر ہے، اسی طرح سائنس جزئی طور پرقرآن کی طبیعیاتی تفسیر ہے۔ قرآن اور سائنس کے موضوع پر متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان میں سے ایک کتاب یہ ہے:
The Bible, the Quran, and Science by Dr. Maurice Bucaille (1976)other source
قرآن میں بہت سے ایسے حوالے آئے ہیں، جو قرآن اور سائنس اور دونوں کا مشترک موضوع ہیں۔ مثلاً کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔ قرآن میں اس کا حوالہ مختصر طور پر ان الفاظ میں آیا ہے: أوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ (21:30) ۔ سائنس میں اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اسی مطالعے کا ایک حصہ وہ ہے جس کو دی بگ بینگ تھیری (The Big Bang theory) کہاجاتا ہے۔original + quote
اسی طرح سائنس نے بہت ساری چیزیں دریافت کی ہیں، جو بالواسطہ طور پر قرآن کے لیے کار آمد ہیں۔ مثلاً پیغمبر موسیٰ کے ہم عصر فرعون (Merneptah) کی لاش مصر کے ایک اہرام میں دریافت ہوئی تو یہ سوال تھا کہ اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جائے۔ یہاں یہ بات سائنس کے دریافت کردہ ایک طریقہ کار کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے اپلیکیشن (application)کے ذریعہ معلوم ہوئی۔
علم سائنس کا یہ پہلو خود قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ(41:53) ۔ مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔original + quote