Al-Risala September 2017

سائنس قرآن کی تفسیر

Al-Risala September 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - September 2017
  2. آدم کی سنت
  3. سائنس قرآن کی تفسیر
  4. اللہ کی رؤیت
  5. اسفل سافلین
  6. اجتماعی صبر
  7. قرآن کا مقصد ِنزول
  8. اللہ سے امید
  9. شخصیتِ انسانی
  10. اسلامی حکومت
  11. موت کا ظاہرہ
  12. جنت کا سماج
  13. مادی کائنات، انسانی تاریخ
  14. مشن کی اہمیت
  15. قبولیت میں تاخیر
  16. اللہ کی مدد
  17. مصیبت کا مثبت پہلو
  18. نا انصافی کا مسئلہ
  19. قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ
  20. عمومی تائید کا دور
  21. پیغمبر اسلام کا مشن
  22. قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
  23. قتل گاہ یا صحت گاہ
  24. انجام کو دیکھ کر
  25. ایکٹنگ، اَن فولڈنگ
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز — 253

سائنس قرآن کی تفسیر

سائنس کسی کی شخصی تصنیف نہیں۔ بلکہ سائنس اسی نیچر (nature) کا مطالعہ ہے، جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیات (signs) کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس طرح ارض القرآن قرآن کی تاریخی تفسیر ہے، اسی طرح سائنس جزئی طور پرقرآن کی طبیعیاتی تفسیر ہے۔ قرآن اور سائنس کے موضوع پر متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان میں سے ایک کتاب یہ ہے:

The Bible, the Quran, and Science by Dr. Maurice Bucaille (1976)other source

قرآن میں بہت سے ایسے حوالے آئے ہیں، جو قرآن اور سائنس اور دونوں کا مشترک موضوع ہیں۔ مثلاً کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔ قرآن میں اس کا حوالہ مختصر طور پر ان الفاظ میں آیا ہے: أوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ (21:30) ۔ سائنس میں اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اسی مطالعے کا ایک حصہ وہ ہے جس کو دی بگ بینگ تھیری (The Big Bang theory) کہاجاتا ہے۔original + quote

اسی طرح سائنس نے بہت ساری چیزیں دریافت کی ہیں، جو بالواسطہ طور پر قرآن کے لیے کار آمد ہیں۔ مثلاً پیغمبر موسیٰ کے ہم عصر فرعون (Merneptah) کی لاش مصر کے ایک اہرام میں دریافت ہوئی تو یہ سوال تھا کہ اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جائے۔ یہاں یہ بات سائنس کے دریافت کردہ ایک طریقہ کار کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے اپلیکیشن (application)کے ذریعہ معلوم ہوئی۔

علم سائنس کا یہ پہلو خود قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ(41:53) ۔ مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔original + quote