Al-Risala September 2014

زندگی اور موت

Al-Risala September 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - September 2014
  2. خدا کا اشارہ پڑھئے
  3. معرفت اور عبادت
  4. سکینہ کیا ہے
  5. دورِ زوال کا ایک ظاہرہ
  6. دلیل، الزام تراشی
  7. توکل کی حقیقت
  8. شاکلۂ انسانی کا مسئلہ
  9. آبا پرستی
  10. اسٹریٹ دعوة یا دعوة اکسپلوزن
  11. وحدت، تنوع
  12. الاخوان المسلمون
  13. کائنات کی توجیہ
  14. کائنات کی وسعت
  15. زندگی اور موت
  16. سبق کی اہمیت
  17. آخرت سے غفلت کیوں؟
  18. عقیدہ آخرت کی طاقت
  19. علم ومعرفت کا حریص
  20. منصوبۂ خداوندی
  21. جانچنے کا معیار
  22. خیر ِ امت یا زوال یافتہ امت
  23. ذاتی عقل، علمی عقل
  24. انسانی وجود کی با معنی توجیہ
  25. مسلم فلسفہ، مسلم الہیات
  26. زندگی کی حقیقت
  27. علمی طرزِ استدلال
  28. علم کی دوقسمیں
  29. سوال وجواب

زندگی اور موت

گوپی ناتھ منڈے انڈیا کے مشہور لیڈر تھے- انڈیا کی نئی حکومت میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے اُن کا تقرر ہوچکا تھا- 4 جون 2014 کو وہ نئی دہلی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے تھے، مگر اُس سے صرف ایک دن پہلے 3 جون کو نئی دہلی میں روڈ ایکسیڈنٹ کے ایک واقعے میں ان کی وفات ہوگئی- بوقت وفات ان کی عمر 64 سال تھی-

یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں- ہر آدمی جو اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بڑی پوزیشن حاصل کرلے، اُس کو بہر حال اِس دنیا میں جینے کا محدود وقت ملتاہے- علامتی طورپر اس کو ’’64 سال‘‘ کہہ سکتے ہیں- مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھی شخص شعوری طورپر اِس حقیقت کو نہیں جانتا-

گوپی ناتھ منڈے کے ساتھ جس دن مذکورہ واقعہ پیش آیا، اس وقت وہ ایک وکٹری ریلی (victory rally) میں شرکت کے لیے جارہے تھے، لیکن شرکت سے پہلے ان کی زندگی کا آخری لمحہ آگیا- یہی معاملہ اِس دنیا میں ہر شخص کا ہے- ہر آدمی بطور خود کسی ’’وکٹری ریلی‘‘ میں شرکت کے لیے سفرکررہا ہے، لیکن اپنی مطلوب منزل پر پہنچنے سے پہلے اس کا آخری وقت آجاتاہے- وہ اپنی فتح کا جشن منائے بغیر اچانک آخرت کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے، ایسی حالت میں جب کہ اس نے آخرت کی دنیا کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی-

اعدادوشمار کے مطابق، ہر دن ساری دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مر جاتے ہیں- ہر مرنے والا اپنے پیچھے ایک خاموش پیغام چھوڑ جاتا ہے- ہر مرنے والا اپنے بعد جینے والوں کو یہ خاموش پیغام دیتا ہے— اے جینے والو، موت کی تیاری کرو- اے دنیا کی تعمیر کرنے والو، آخرت کی تعمیر کی کوشش کرو- اے بے خبری میںجینے والو، اپنے آپ کو باخبر جینے والا بناؤ- اے دنیا میں اپنی حیثیت تلاش کرنے والو، آخرت کی جنت کے لیے اپنے آپ کو مستحق بناؤ-یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے- جو لوگ اِس سے باخبر ہوں ، وہی علم والے ہیں اور جو لوگ اس سے باخبر نہ ہوں، اُن کا علم سے کوئی تعلق نہیں-unverified