Al-Risala september 2009

حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی

Al-Risala september 2009 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - september 2009
  2. روزہ: قرآن کا مہینہ
  3. نماز سے مدد
  4. تبارک اللہ
  5. جنت کی دنیا
  6. دعوت اور حفاظت
  7. خوف ِخدا کی پہچان
  8. اہلِ ایمان کی مدد
  9. حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث
  10. گھر کا ماحول
  11. ہاتھی کی دم میں پتنگ
  12. اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز
  13. منطقی علم، فطری شعور
  14. پیغمبرانہ کردار
  15. دعوت کا تقاضا
  16. اسلام دین ِ فطرت
  17. فلسطین کا مسئلہ
  18. دوسرے کے بل پر اقدام
  19. نہیں کہنا سیکھئے
  20. حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی
  21. آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 197

حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی

حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت کا واقعہ ہے۔ ایک بار حضرت عمر حج کے لیے مکہ گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون کعبہ کا طواف کررہی ہے۔ وہ اتنی معذور تھی کہ بیٹھ کر اور گھسٹ گھسٹ کر چل رہی تھی۔ وہ دوسروں کے لئے مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ حضرت عمر نے اُس کو دیکھ کر کہا: کاش، آپ اپنے گھر پر بیٹھتیں (لو قعدتِ فی بیتک)۔ یہ صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں، اِس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔اصل یہ ہے کہ زندگی کے دو الگ الگ دائرے ہیں— ایک ہے، حیاتِ انفرادی۔ اور دوسرا ہے، حیاتِ اجتماعی۔ انفرادی دائرے میں آدمی کا معاملہ اس کی اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ انفرادی دائرے میںآدمی خواہ جس طرح بھی رہے، اس کا اثر کسی دوسرے انسان تک نہیں پہنچتا۔ وہ اپنی کسی روش سے دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہیں بنتا۔original + quote

مگر حیات ِ اجتماعی کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔ حیاتِ اجتماعی میںایک آدمی دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی ہر روش براہِ راست یا بالواسطہ طورپر دوسروں کو متاثر کرتی ہے۔ وہ خواہ قصداً دوسروں کو تکلیف دینا نہ چاہے، لیکن جب وہ ایک عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے کے طور پر بہر حال ایسا ہوتا ہے کہ اس کے عمل کے اثرات بلا اعلان دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔

ایسی حالت میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انفرادی عمل اور اپنے اجتماعی عمل میں فرق کرے۔ جب وہ اکیلا ہو اور صرف اپنی ذات کی سطح پر کوئی عمل کررہا ہو تو اُس وقت وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھے۔ لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کے درمیان ہو تو وہ اپنے عمل سے پہلے یہ سوچے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوگا۔ اگر اس کا عمل دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والا ہو تو وہ ایسے عمل سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ اپنے عمل کو اِس طرح انجام دے کہ دوسرے لوگ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ موجودہ کمیونکیشن کے زمانے میں یہ احتیاط صرف قریبی پڑوسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دور کے پڑوسی سے بھی ہوگیا ہے۔