Al-Risala september 2009

تبارک اللہ

Al-Risala september 2009 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - september 2009
  2. روزہ: قرآن کا مہینہ
  3. نماز سے مدد
  4. تبارک اللہ
  5. جنت کی دنیا
  6. دعوت اور حفاظت
  7. خوف ِخدا کی پہچان
  8. اہلِ ایمان کی مدد
  9. حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث
  10. گھر کا ماحول
  11. ہاتھی کی دم میں پتنگ
  12. اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز
  13. منطقی علم، فطری شعور
  14. پیغمبرانہ کردار
  15. دعوت کا تقاضا
  16. اسلام دین ِ فطرت
  17. فلسطین کا مسئلہ
  18. دوسرے کے بل پر اقدام
  19. نہیں کہنا سیکھئے
  20. حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی
  21. آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 197

تبارک اللہ

تبارک کا لفظی مطلب ہے— بہت زیادہ برکت والا۔ یہ لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے (وہی کلمۃ لم تستعمل إلاّ للہ وحدہ)۔ تبارک کا لفظ ’برکۃ‘ سے مشتق ہے۔ یہ تفاعل کے وزن پر برکۃ کا مبالغہ ہے۔ برکۃ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس نے اِن الفاظ میں بیان کیے ہیں: الکثرۃ فی کلّ خیر (لسان العرب 10/396 ) یعنی ہر قسم کے خیر کی کثرت۔original + quote

تبارک کا مطلب ہے— ہر پہلو سے اور ہر چیز میںکمالِ خیر کا حامل ہونا۔ مثلاً قرآن میں ہے: فتبارک اللہ أحسن الخالقین (المؤمنون:14 ) اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ہے، اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میںہر چیز اپنے فائنل ماڈل (final model) پر ہے۔ اِس دنیا کا تخلیقی منصوبہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں، اِس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں، کسی پہلو سے اس میں ادنیٰ درجے میںکوئی نقص (defect) موجود نہیں۔original + quote

انسان کو جو جسم دیاگیا ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک بہترین جسم ہے۔ اِس دنیا میں جو لائف سپورٹ سسٹم پایا جاتا ہے، وہ انسان کی تمام ضرورتوں کو آخری حد تک پورا کرنے والا ہے۔ سولر سسٹم اور کہکشائوں کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود پوری طرح خالی از نقص (zero-defect) صفات کا حامل ہے۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی وسیع دنیا اپنے تمام تنوعات کے باوجود ہر پہلو سے کمالِ خیر کے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اللہ اپنی ذات میں خیرِ کامل ہے۔ اُسی سے خیر وبرکت کاتمام فیضان لوگوں تک پہنچتا ہے۔ یہ سب انسان کے لیے ایک عظیم رحمت (blessing) ہے۔ وہ اِس لیے ہے کہ انسان ان کو دیکھ کر خدا کی بے پایاں عظمت وقدرت کا تعارف حاصل کرے۔ وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، اور خدا کے بارے میں اس کے اندر خشیت کے اعلیٰ جذبات پیدا ہوں۔ یہی ایمان ہے، اور خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا اِسی ایمان کی کائناتی تربیت گاہ۔