Al-Risala september 2009

دوسرے کے بل پر اقدام

Al-Risala september 2009 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - september 2009
  2. روزہ: قرآن کا مہینہ
  3. نماز سے مدد
  4. تبارک اللہ
  5. جنت کی دنیا
  6. دعوت اور حفاظت
  7. خوف ِخدا کی پہچان
  8. اہلِ ایمان کی مدد
  9. حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث
  10. گھر کا ماحول
  11. ہاتھی کی دم میں پتنگ
  12. اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز
  13. منطقی علم، فطری شعور
  14. پیغمبرانہ کردار
  15. دعوت کا تقاضا
  16. اسلام دین ِ فطرت
  17. فلسطین کا مسئلہ
  18. دوسرے کے بل پر اقدام
  19. نہیں کہنا سیکھئے
  20. حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی
  21. آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 197

دوسرے کے بل پر اقدام

ایک شہر کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب کو گھر کی ضرورت تھی۔ چھوٹا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے تھے، لیکن بڑا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہ تھے۔ بینکوں کے شرائط کے مطابق، ان کو ہاؤس لون (house loan) بھی نہیں مل سکتا تھا۔ ان کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ تم کسی مہاجن سے مہاجنی سود پر قرض لے لو، میں جلد ہی مہاجن کا پیسہ ادا کردوں گا۔unverified

مذکورہ صاحب نے مہاجنی سود پر قرض لے کر فلیٹ خرید لیا۔مہاجنی سود کی شرح بینک کی شرح سے بہت زیادہ تھی۔ قرض لیتے ہی وہ سود کے جال میں پھنس گئے۔ ان کے تاجر دوست نے یہ کہہ کر پیسہ دینے سے انکار کردیا کہ میرے کاروبار میں گھاٹا ہوگیا ہے، اِس لیے اب میں تمھاری مدد نہیں کرسکتا۔ مذکورہ صاحب کے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت تھی۔ وہ سخت قسم کے ٹنشن (tension) کا شکار ہوگئے۔دوسرے کے بل پر اقدام کرنے کا یہ طریقہ ہمارے سماج میں بہت عام ہے۔ عوام وخواص دونوں اِس میں مبتلا ہیں۔ مگر اِس قسم کا ہر اقدام بلا شبہہ ایک مہلک اقدام ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے ہر اقدام سے کامل طور پر بچے۔ وہ اپنے کام کی منصوبہ بندی خود اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر کرے، وہ دوسروں کے بھروسے پر کبھی کوئی منصوبہ نہ بنائے۔ دوسرے کے بل پر اقدام ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter-productive) ثابت ہوتاہے۔original + quote

تجربہ بتاتا ہے کہ اِس معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں، حتی کہ سپر پاور کا بھی نہیں۔ جو شخص یا جو ادارہ بھی یہ طریقہ اختیار کرے گا، وہ مزید مسائل کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ آپ خود اپنے وسائل کی بنیاد پر کام کریں۔ اگر آپ کے وسائل کم ہوں تو آپ کو اس میں اپنی محنت کا اضافہ کرنا چاہیے۔ کم وسائل والا شخص اگر دوسرے کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے تو یقینی ہے کہ وہ جلد یا بد یر اُس کے برے نتائج کا شکار ہوجائے گا۔ دوسرے کے بھروسے پر اقدام ایک ایسی چھلانگ ہے جو آپ کو گڑھے کے سوا کہیں اور گرانے والی نہیں۔