Al-Risala June 2014

لائف سپورٹ سسٹم

Al-Risala June 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - June 2014
  2. سیئات، حسنات
  3. لائف سپورٹ سسٹم
  4. توبۂ نصوح
  5. آزادی کا غلط استعمال
  6. انجامِ آخرت
  7. متشابہ جنت، حقیقی جنت
  8. زمین کی حفاظت
  9. نقل وحرکت
  10. انسان، ٹکنالوجی
  11. حقیقت پسندانہ مزاج
  12. سب کچھ خدا کا عطیہ
  13. قرآن کا پیغام
  14. کائنات کا سائنسی مطالعہ
  15. مسلم تاریخ کا احیا
  16. مردوزن کی مساوات
  17. تخلیق ِ انسانی کا مقصد
  18. دہشت گردی کا مسئلہ
  19. ردِ ّ عمل کی سیاست
  20. پیغمبرانہ ماڈل
  21. شخصیت کی پہچان
  22. اپنی تاریخ سے کٹنا
  23. انتخابِ اول، انتخابِ ثانی
  24. ترقی کا زینہ
  25. فخر اور نفرت

لائف سپورٹ سسٹم

قرآن کی سورہ الاعراف کی ایک آیت یہ ہے : وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ ۭقَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (7:10) یعنی ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو-original + quote

’معایش‘ کا لفظ ’معیشة‘ کی جمع ہے- قرآن کی اِس آیت میں معایش سے مراد اسبابِ معیشت ہیں، یعنی کھانا اور پینا اور دوسری وہ تمام چیزیں جن پر انسانی زندگی کا مدار ہو- مفسر القرطبی نے معایش کی وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے: ما یُتعیَّش بہ من الطعم والمشرب وماتکون بہ الحیاة (تفسیر القرطبی: 7/167)original + quote

اسباب معیشت سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے-ایسے اسباب جو انسان جیسی مخلوق کی بقا کے لیے ضروری ہیں، وہ صرف سیارہ زمین پر پائے جاتے ہیں- وسیع کائنات میں کسی دوسرے مقام پر یہ اسباب ِ حیات موجود نہیں-

لائف سپورٹ سسٹم انسان کے لیے ایک استثنائی عطیہ ہے، ایسا عطیہ جو ساری کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں- لائف سپورٹ سسٹم میں بے شمار آئٹم ہیں- ان میں سے کوئی بھی آئٹم انسان خود سے پیدا نہیں کرسکتا- یہ پورا نظام اللہ کی طرف سے انسان کے لیے یک طرفہ عطیہ کی حیثیت رکھتا ہے- یہ عطیہ اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان سے اس کے بارے میں یقیناً سوال کیا جائےکہ اس نے اِس عطیے کا حق ادا کیا یا نہیں-

یہی مطلب ہے قرآن کی اِس آیت کا: ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (102:8) یعنی پھر اُس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں یقیناً پوچھا جائے گا:original + quote

Then on the Day you shall be questioned about the favours.