Al-Risala December 2015

زد میں آنے سے بچیے

Al-Risala December 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - December 2015
  2. ذٰلک الکتاب
  3. قرآن اور انسان
  4. امن کی تلاش
  5. جنت والے
  6. مومن کی صفات
  7. قتل اور زندگی
  8. عقل سے محرومی کا دور
  9. دوہرا انعام
  10. دعوت کے دو پہلو
  11. امت مسلمہ کا فائنل رول
  12. کائنات میں خدا کی گواہی
  13. آزاد کشمیر یا برباد کشمیر
  14. برکت کا مطلب
  15. جنگ، اسلام میں
  16. بڑا اجر
  17. غلطی کا اعتراف
  18. پیغمبر کی نصیحت
  19. اختلاط کی اہمیت
  20. رحمتِ الٰہی سے محرومی
  21. فساد فی الارض
  22. عبادت، دعوت
  23. شیطان کا طریقہ
  24. زد میں آنے سے بچیے
  25. اعتراف، بے اعترافی
  26. زحمت میں رحمت
  27. تیار ذہن
  28. سوال و جواب

زد میں آنے سے بچیے

اگست 2015 کی 20 تاریخ تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ مَیں دہلی میںاپنے آفس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہاں ایک شیڈ ہےجس میں چھت کا پنکھا (ceiling fan) لگا ہوا ہے۔ اس وقت ایک کبوتر اڑتا ہوا وہاں آیا۔ وہ چلتے ہوئے پنکھے کے ساتھ ٹکرا گیا۔ وہ زخمی ہوکر گرپڑا، اورپھڑپھڑانے لگا، تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مرچکا ہے۔

اس منظر نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ دیا۔ میں سوچنے لگا: کیا یہ پنکھا کبوتر کا دشمن ہے۔کیا اس پنکھے نے ظالمانہ طور پر اس کبوتر کا خون کیا ہے۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ نہیں۔ پنکھے کو معلوم ہی نہیں کہ اس کے چلنے سے کیا حادثہ پیش آیا۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ کبوتر چلتے ہوئے پنکھے کی زد میں آگیا۔ وہ فورا پنکھے سے ٹکرا گیا۔ وہ زخمی ہو کر گرا، اور چند منٹ کے اندر مرگیا۔ مزید سوچتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ اس واقعے میں ہر ایک کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ اپنے آپ کو دوسرے کی زد میں آنے سے بچاؤ۔ اور پھر تمھیں کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

یہ دنیا ایک متحرک دنیا ہے۔ یہاں ہر چیز مسلسل طور پر حرکت میں ہے۔ اسی طرح ہر انسان، اور ہر انسانی گروہ اپنی اپنی دوڑ لگا رہا ہے۔ یہ دوڑ بھاگ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص نادانی کرے، اور جانتے بوجھتے یا بغیر جانے ہوئےلوگوں کے دوڑ کی زد میں آجائے تو وہ اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔ اس لیے نہیں کہ دوسرا اس کو جان بوجھ کر ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی نادانی سے اس کی دوڑ کی زد میں آگیا۔ یہی اس دنیا کا امتحان ہے۔ یہاں کوئی کسی کا دشمن نہیں۔ یہاں کوئی ظالم اور سازشی نہیں۔ آپ اگر دوسروں کے ظلم کو دریافت کرکے اس کے خلاف شکایت کریں تو اس کا ہرگز کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ جو کچھ ہورہا ہے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ فطرت کے قانون کو دریافت کریں، اور اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بنائیں کہ آپ دوسروں کی زد میں آنے سے بچ جائیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔