Al-Risala December 2015

امن کی تلاش

Al-Risala December 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - December 2015
  2. ذٰلک الکتاب
  3. قرآن اور انسان
  4. امن کی تلاش
  5. جنت والے
  6. مومن کی صفات
  7. قتل اور زندگی
  8. عقل سے محرومی کا دور
  9. دوہرا انعام
  10. دعوت کے دو پہلو
  11. امت مسلمہ کا فائنل رول
  12. کائنات میں خدا کی گواہی
  13. آزاد کشمیر یا برباد کشمیر
  14. برکت کا مطلب
  15. جنگ، اسلام میں
  16. بڑا اجر
  17. غلطی کا اعتراف
  18. پیغمبر کی نصیحت
  19. اختلاط کی اہمیت
  20. رحمتِ الٰہی سے محرومی
  21. فساد فی الارض
  22. عبادت، دعوت
  23. شیطان کا طریقہ
  24. زد میں آنے سے بچیے
  25. اعتراف، بے اعترافی
  26. زحمت میں رحمت
  27. تیار ذہن
  28. سوال و جواب

امن کی تلاش

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا۔اس وقت قریش کے لوگ شرک کی حمایت میںاپوزیشن کا رول ادا کرنے لگے۔ اس درمیان مختلف قسم کے واقعات پیش آئے۔ آخر کار ہجرت کے چھٹےسال پیغمبر اسلام نے قریش سےقیامِ امن کی بات چیت شروع کی ۔ اس گفت و شنید میں آپ نے جو کچھ کہا، ان میں سے ایک بات یہ تھی: یا ویح قریش، لقد أکلتہم الحرب، ماذا علیہم لو خلوا بینی وبین سائر الناس (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔یعنی افسوس ہے قریش پر، ان کو جنگ کھاگئی، ان کا کیا نقصان ہے، اگر وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔original + quote

اس قول کا پس منظر یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں قبائلی دور تھا۔ اس دور میں قبائل کے درمیان مسلسل لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ اسلام آیا تو قریش کی ضد کی بنا پر دوبارہ لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ عرب کے لوگ اس صورتِ حال سےپریشان تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح عرب میں امن قائم ہوجائے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورتِ حال کا اندازہ کیا اور گفت و شنید کے بعدفریقِ ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مانتے ہوئے ان سے امن سمجھوتہ کر لیا، جومعاہدۂ حدیبیہ کے نام سے مشہورہے۔ امن قائم ہونے کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو موقع ملا کہ وہ آزادانہ طور پر لوگوں کے درمیان توحید کا مشن جاری کرسکیں۔ پیغمبر اسلام نے ایک طرف عرب کے قبائل کے درمیان وفود بھیجے، دوسری طرف عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، ان کو دعوتی خطوط روانہ کیے۔ یہ ایک پرامن دعوتی جدو جہد تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف چند سال کے اندر اسلام پورے عرب میں پھیل گیا۔

یہی صورتِ حال موجودہ زمانے میں پیدا ہوگئی ہے۔ دنیا کے لوگ جنگوں سے اکتاچکے ہیں۔ وہ امن چاہتے ہیں۔ مسلمان اگر اس موقع کو پہچانیں، اور امن قائم کرکےلوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں تو عین ممکن ہے کہ تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرائے۔