Al-Risala December 2014

غلو کیا ہے

Al-Risala December 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (35 chapters)
  1. الرسالہ - December 2014
  2. استثنائی دنیا
  3. دورِمعرفت
  4. پیغمبر کا رول
  5. انسان کی تخلیق کس لیے
  6. ایک حدیث ِ رسول
  7. اصحابِ رسول کا نمونہ
  8. فطرت کا عطیہ
  9. آلاء اللہ کا مطلب
  10. ایک آزمائش
  11. دعوت کی توسیع
  12. ہدایت اور ضلالت
  13. ایک انسانی کمزوری
  14. خدا کی سنت
  15. دو ذمّے داری
  16. فریکونسی کا مسئلہ
  17. پیغمبر کا اُسوہ
  18. الرسالہ مشن کا دوسرا دور
  19. امت ِ مسلمہ کا کیس
  20. غلو کیا ہے
  21. حیاتِ انسانی کی توجیہہ
  22. ترتیبِ قرآن
  23. پیغمبر متّبعِ قرآن
  24. غلبہ، اہلِ حق کے لیے
  25. تنقید یا الزام تراشی
  26. آخر میں قبر
  27. دینی نہیں بلکہ قومی
  28. زندگی المیہ کیوں
  29. ٹماٹر یا لال بیگن
  30. دعوتی اسپرٹ
  31. شکایت کا نقصان
  32. وقت کا سرمایہ
  33. اسپرٹ آف اسلام
  34. سوال وجواب
  35. خبر نامہ اسلامی مرکز— 230

غلو کیا ہے

غلو کا لفظی مطلب ہے انتہاپسندی(extremism) ،یعنی کسی حکم شرعی میں مطلوب حد سے تجاوز کرنا- حد سے تجاوز کرنے کی یہ سوچ کب پیدا ہوتی ہے- یہ دراصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا نتیجہ ہوتا ہے، یعنی جس چیز پر جتنا زور دینا چاہئے، اس پر اس سے زیادہ زور دینا -مثلاً اسلام میں سیاست کا مقام صرف جزئی یا اضافی ہے، مگر اس کو اتنا بڑھانا کہ سیاست ہی کی بنیاد پر پورے دین کی تعبیر وتشریح کی جائے، یہ حد سے تجاوز کرنا ہے اور اس تجاوز کو غلو کہا جائے گا-

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئےایک صاحب نے کہا کہ آپ دعوت اور متعلقات دعوت پر اتنا زور دیتے ہیں، وہ بھی غلو کی تعریف میں آتا ہے- میں نے کہا کہ ہر گز نہیں- دعوت الی اللہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی اہم ترین سنت ہے- حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کی بعثت ہی اس کے لئے ہوئی- مگر موجودہ زمانے میں یہ ہوا کہ مدعو قوموں کو مسلمانوں نے اپنا رقیب یا حریف (rival) سمجھ لیا- اس بنا پر ان کے اندر دعوت کا محرک (incentive)ختم ہوگیا- اس لئے ہم اس سنت نبوی کو زندہ کرنے کے لئے اس پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں- اس کو ایمفیسس (emphasis) کہاجائے گا، نہ کہ شفٹ آف ایمفیسس(shift of emphasis) -original + quote

غلو کبھی اصل دین میں نہیں ہوتا، غلو جب بھی ہوتا ہے، وہ ظواہر دین میں ہوتا ہے- اصل دین میں شدتِ بیان ہمیشہ مطلوب ہوتی ہے- اصل دین میں یہ شدتِ بیان خود قرآنی اسلوب ہے، اور یہی اسلوب ہم کو احادیث میں ملتا ہے-

اصل دین میں شدتِ بیان کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے آدمی کے اندر روحِ دین زندہ ہوتی ہے، اور روحِ دین کے زندہ ہونے سے دین کے تمام پہلو اپنے آپ زندہ ہوجاتے ہیں- روح دین میں شدت کا طریقہ ہی مطلوب طریقہ ہے، البتہ جو ظواہر دین ہیں، ان میں شدت کے بجائے نرمی کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے- اسی فرق کو جاننے کا نام حکمتِ دین ہے-