← back to shukr · Al-Risala August 2015

مدعو فرینڈلی روش

Al-Risala August 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - August 2015
  2. معرفت کا رزق
  3. جنت کی دنیا
  4. کائناتی عبادت
  5. تدبر کی اہمیت
  6. موت کے بعد
  7. پیغمبر کی حیثیت
  8. نتیجہ ایک اشارۂ ربانی
  9. فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن
  10. شرحِ صدر کیا ہے
  11. تربیت کا ٹکنکل طریقہ
  12. صبر واعراض کا اصول
  13. توحید اور عدل
  14. زمین میں خلافت
  15. ٹیم کی تربیت
  16. دعوت کی ذمے داری
  17. فطرت کا ایک قانون
  18. مدعو فرینڈلی روش
  19. فکر کی تشکیل
  20. اسلام اور دورِ جدید
  21. متبادل کو جانیے
  22. زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں
  23. خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

مدعو فرینڈلی روش

قرآن میں دعوت الی اللہ کے کام کو تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تجارت کا یہ معاملہ داعی اور مدعو کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ نہایت بامعنی ہے۔ تجارت کا اصول یہ ہے کہ تاجر اپنے گاہک کے ساتھ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) روش اختیار کرے۔ ٹھیک یہی اصول کامیاب دعوت الی اللہ کا بھی ہے۔ حقیقی داعی وہ ہے جو اپنے مدعو کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کرے۔دعوت صرف اعلان (announcement) نہیں ہے۔ دعوت ایک خیر خواہانہ عمل کا نام ہے۔ دعوت کی کامیابی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے لئے یک طرفہ طور پر خیرخواہ ہو۔ وہ شکایت کے اسباب کے باوجود کامل طور پر بے شکایت ہوجائے۔

دعوت الی اللہ اہل ایمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ دعوت الی اللہ گویا خاتم النبیین کی جانشینی ہے۔دعوت الی اللہ کا کا م کیے بغیر کسی مومن کے لیے پیغمبر کا امتی ہونا مشتبہ ہوجاتا ہے۔دعوت الی اللہ کا مطلب پیغمبر کی غیر موجودگی میں پیغمبر کی ذمہ داری کو نیابتاً ادا کرنا ہے۔ یہ بعد کی انسانی نسلوں کے لیے پیغمبرانہ ذمے داری کی ادائیگی ہے۔یہ گویا پیغمبر کے بعد پیغمبر کی جانشینی ہے۔

پیغمبر نے دعوت کا کام کامل نصح (خیرخواہی) کے ساتھ انجام دیا۔ یہی بعد کے زمانے کے داعیوں کو کرنا ہے۔ دعوت کا کام درست طور پر اسی وقت انجام دیا جاسکتا ہے، جب کہ داعی کے اندر مدعو کے لیے خیرخواہی کی اسپرٹ پائی جاتی ہو۔ داعی کے اندر اگر مدعو کے لیے خیرخواہی موجود نہ ہو تو وہ مدعو کی نظر میں ایک پروفیشن بن جائے گا۔ اور پروفیشن کے طور پر کیا ہوا کام کبھی مدعو کے لیے موثر (effective) نہیں ہوسکتا۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ داعی کامل طور پر بے شکایت ہو۔ اس کے دل میں مدعو کے لیے منفی جذبات نہ پائے جاتے ہوں۔ مدعو کی طرف سے اگر کوئی تکلیف یا دل آزاری کا معاملہ پیش آئے تب بھی داعی کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کے لیے اپنی خیرخواہی کو برقرار رکھے۔ داعی کو اپنے دعوتی عمل کا اجر اللہ سے لینا ہے نہ کہ انسان سے۔ داعی کے اندر اگر یہ ذہن موجود ہو تو مدعو کے بارے میں اس کی خیرخواہی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔