← back to shukr · Al-Risala August 2015

موت کے بعد

Al-Risala August 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - August 2015
  2. معرفت کا رزق
  3. جنت کی دنیا
  4. کائناتی عبادت
  5. تدبر کی اہمیت
  6. موت کے بعد
  7. پیغمبر کی حیثیت
  8. نتیجہ ایک اشارۂ ربانی
  9. فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن
  10. شرحِ صدر کیا ہے
  11. تربیت کا ٹکنکل طریقہ
  12. صبر واعراض کا اصول
  13. توحید اور عدل
  14. زمین میں خلافت
  15. ٹیم کی تربیت
  16. دعوت کی ذمے داری
  17. فطرت کا ایک قانون
  18. مدعو فرینڈلی روش
  19. فکر کی تشکیل
  20. اسلام اور دورِ جدید
  21. متبادل کو جانیے
  22. زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں
  23. خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

موت کے بعد

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا مات أحدُکم ؛ فقد قامتْ قیامتُہ (کنز العمال: 42123) یعنی جب کسی شخص کی موت آتی ہے تو موت کے بعد ہی اس کی قیامت شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت خاتمۂ حیات نہیں، بلکہ موت ایک دورِ حیات سے نکل کر دوسرے دورِ حیات میں داخلہ ہے۔ایک دور اور دوسرے دور میں کوئی فاصلہ نہیں۔original + quote

حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک تسلسل (continuity) کا نام ہے، موت کا معاملہ صرف منتقلی (transfer) کا ایک معاملہ ہے، یعنی آدمی ایک عالَم سے نکل کر دوسرے عالَم میں پہنچ گیا۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا تعمیرِشخصیت (personality building) کا مقام ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنی شخصیت کی تعمیر کر رہا ہے۔ یہ شخصیت سازی دو طرح کی ہوتی ہے۔مثبت شخصیت یا منفی شخصیت۔ جو لوگ اس دنیا میں مثبت شخصیت بنائیں گے، وہ موت کے فوراً بعد اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائیں گے۔اور جو لوگ اپنے اندر منفی شخصیت بنائیں گے، ان کو موت کے بعد جہنم میں جگہ ملے گی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: إنما القبرُ روضةٌ من ریاضِ الجنةِ أو حفرةٌ من حفرِ النارِ. (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2460)یہ حدیث اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ ایک اور حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إنما ہی أعمالکم تردُّ إلیکم (حلیۃ الاولیاء: 5/125) یعنی یہ ہر انسان کے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔original + quote

انسان اور اس کے عمل کے درمیان کوئی دوری نہیں ہوتی۔ جہاں انسان ہے وہیں اس کے اعمال بھی موجود ہوتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کے اعمال بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن موت کے بعد فورا وہ ظاہر ہوجائیں گے۔ انسان اپنے آپ کو اچانک اپنے اعمال کے درمیان پائے گا۔ اچھا عمل کرنے والا، اپنے آپ کو اچھے اعمال کے درمیان پائے گا، اور برا عمل کرنے والا اپنے آپ کو برے اعمال کے درمیان پائے گا۔