← back to shukr · Al-Risala August 2015

نتیجہ ایک اشارۂ ربانی

Al-Risala August 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - August 2015
  2. معرفت کا رزق
  3. جنت کی دنیا
  4. کائناتی عبادت
  5. تدبر کی اہمیت
  6. موت کے بعد
  7. پیغمبر کی حیثیت
  8. نتیجہ ایک اشارۂ ربانی
  9. فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن
  10. شرحِ صدر کیا ہے
  11. تربیت کا ٹکنکل طریقہ
  12. صبر واعراض کا اصول
  13. توحید اور عدل
  14. زمین میں خلافت
  15. ٹیم کی تربیت
  16. دعوت کی ذمے داری
  17. فطرت کا ایک قانون
  18. مدعو فرینڈلی روش
  19. فکر کی تشکیل
  20. اسلام اور دورِ جدید
  21. متبادل کو جانیے
  22. زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں
  23. خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

نتیجہ ایک اشارۂ ربانی

عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ(ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3976)۔یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑدے جس میں کوئی فائدہ نہیں۔original + quote

یہ حدیث رسول ہم کو ایک معیار (criterion) دیتی ہے۔ جس کی کی روشنی میں ہم اپنے عمل کو جانچتے رہیں۔ جو عمل عملا نتیجہ خیز ثابت ہو، اس پر قائم رہیں، اور جو عمل بے نتیجہ ثابت ہو اس کو چھوڑ دیں۔original + quote

اس حدیث کا تعلق عبادت جیسے معاملات سے نہیں ہے۔ بلکہ ان امور سے ہے جو دنیا میں کسی نتیجے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ مثلا دشمن سے قتال کا معاملہ اگر ہمارا کوئی دشمن پایا جائے اور ایسے حالات پیدا ہوں کہ اس کے ساتھ قتال کرنا چاہیے ۔ تب بھی قتال برائے قتال کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ قتال برائے نتیجہ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان سو سال سے زیادہ مدت سے جہاد کے نام پر قتال کررہے ہیں، وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف متشددانہ جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، لیکن جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود اس عمل کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اب مذکورہ حدیث کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ توبۂ جمیع (24:31) پر عمل کریں، اور یک لخت اپنی تمام متشددانہ سرگرمیوں کو ختم کردیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کو نظر آئےگا کہ ان کے کرنے کا اصل کام پرامن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ سرگرمیاں۔original + quote

یہی اس وقت اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ تشدد خواہ جہاد کے نام سے کیا جائے، لیکن وہ تشدد ہے۔ اور عملی اعتبار سے اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ کوئی مطلوب اسلامی عمل نہیں۔ اگر وہ مطلوب اسلامی عمل ہوتا تو اس پر ضرور اللہ کی نصرت نازل ہوتی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ (30:47)۔ یعنی اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں ۔original + quote