Al-Risala August 2008

اسلام کا مستقبل

Al-Risala August 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - August 2008
  2. اضافۂ ایمان
  3. ذکر ِ کثیر
  4. قرآن کا توسیعی مفہوم
  5. دو آیتیں
  6. شکر سے اضافہ
  7. یہ بھی شرک ہے
  8. سنّت کیا ہے
  9. دعا ایک عبادت
  10. فہمِ دین کے لیے تدبّر ضروری
  11. اسلام کیا ہے
  12. ربّانی معیار، اَخلاقی معیار
  13. سوچئے، سوچئے، سوچئے
  14. اسلام کا مستقبل
  15. درمیانی شخص کا رول
  16. جدید الحاد— ایک تجزیہ
  17. یہ اخلاقی بحران کیوں
  18. مہارت کا زمانہ
  19. بھولنا ایک مثبت عمل
  20. زیادہ عمر ،زیادہ عقل
  21. خوش نما فریب
  22. ایک خط
  23. سوال وجواب
  24. خبرنامہ اسلامی مرکز— 187

اسلام کا مستقبل

مسلم اخباروں اور مسلم جرائد میں آج کل کثرت سے ایسے مضامین چھپتے ہیں، جن کا عنوان اِس قسم کا ہوتا ہے— مستقبل اسلام کا ہے، وغیرہ۔ اِس قسم کی سوچ ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ اسلام کے غلبہ کے لیے کسی مستقبل کے انتظار کی ضرورت نہیں۔ اسلام آج بھی پوری طرح غالب اور قائم ہے۔

اسلام کے غلبہ سے مراد اس کا فکری غلبہ (اظہار) ہے، یعنی دلائل وبراہین کے ذریعے اسلام کی حقانیت کا ثابت شدہ رہنا۔ اِس اعتبار سے، اسلام ابدی طورپر ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ قسم کی باتیں صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کو، اسلام کے غلبہ کے ہم معنیٰ سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔original + quote

اسلام اصلاً ایک آئڈیا لوجی (ideology) کا نام ہے۔ جب دلائل کی تائید اسلام کے حق میں ہو، تو اسلام کو غالب سمجھا جائے گا۔ دلائل کی یہ تائید پہلے بھی اسلام کے حق میں تھی، اور اب سائنسی حقائق کے ظہور کے بعد مزید اضافے کے ساتھ دلائل کی یہ تائید اسلام کو حاصل ہوچکی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اب مسئلہ اسلام کے غلبہ کا نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کا فکری غلبہ تو اپنے آپ ہر حال میں قائم ہے۔ اب جو سوال ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ مسلمانوں کی اپنی ذمے داری کا ہے۔ اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ ایک طرف، اسلام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور دوسری طرف، وقت کے حالات کا پوری طرح اندازہ لگائیں اور پھرجدید ذہن کے مطابق، اسلام کی تعلیمات کو مدلل انداز میں پیش کریں۔ اِس عمل کا نام دعوتِ اسلام ہے۔

فکری غلبہ، اسلام کی اپنی ایک صفت ہے، لیکن اسلام کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانا، یہ مسلمانوں کے کرنے کا کام ہے۔ مسلمان اگر اپنی اِس ذمے داری کو انجام نہ دیں، تو اِس قسم کی باتوں کا کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں۔ اسلام کے ’’مستقبل‘‘ کا انحصار حال میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنے پر ہے، نہ کہ اس کے بارے میں مذکورہ قسم کا پُر فخر اعلان کرنے پر۔