Al-Risala August 2008

دعا ایک عبادت

Al-Risala August 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - August 2008
  2. اضافۂ ایمان
  3. ذکر ِ کثیر
  4. قرآن کا توسیعی مفہوم
  5. دو آیتیں
  6. شکر سے اضافہ
  7. یہ بھی شرک ہے
  8. سنّت کیا ہے
  9. دعا ایک عبادت
  10. فہمِ دین کے لیے تدبّر ضروری
  11. اسلام کیا ہے
  12. ربّانی معیار، اَخلاقی معیار
  13. سوچئے، سوچئے، سوچئے
  14. اسلام کا مستقبل
  15. درمیانی شخص کا رول
  16. جدید الحاد— ایک تجزیہ
  17. یہ اخلاقی بحران کیوں
  18. مہارت کا زمانہ
  19. بھولنا ایک مثبت عمل
  20. زیادہ عمر ،زیادہ عقل
  21. خوش نما فریب
  22. ایک خط
  23. سوال وجواب
  24. خبرنامہ اسلامی مرکز— 187

دعا ایک عبادت

میں نے 1982 میں حج کیا۔ اس سفر میں ایک عرب پروفیسربھی میرے ساتھ تھے۔ہم دونوں جدہ ائر پورٹ پر اترے اور پھر وہاں سے روانہ ہوکر مکہ پہنچے۔ مکہ پہنچ کر میرے عرب ساتھی کو اچانک معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہینڈ بیگ جدہ میںائر پورٹ پر چھوڑ آئے ہیں جس میں اُن کے بیس ہزار ریال تھے۔ اس کے بعد وہ مجھ کو مکہ میں چھوڑ کر دوبارہ جدہ کے لیے روانہ ہوگئے تاکہ وہاں اپنا کھویا ہوا ہینڈ بیگ تلاش کریں۔ ان کے جانے کے بعد میںنے دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو میری زبان سے یہ الفاظ نکلے— خدایا، تو اس کو ہمارے لیے سبق بنادے، تو اس کو ہمارے لیے نقصان نہ بنا۔

آدمی کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ وہ غلطی یا نقصان سے بچے، لیکن جب نقصان ہوجائے تو دوسری چیز جس سے آدمی کو بچنا چاہیے، وہ ہونے والے واقعہ پر غم اور افسوس ہے۔ جب ایک غلطی ہوجائے تو وہ گویاکمان سے نکلا ہوا ایک تیر ہے جو واپس نہیں آتا۔ ایسی غلطی کے لیے افسوس نہیں کرنا ہے، بلکہ اللہ سے دعا کرنا ہے کہ وہ اس کے بُرے انجام سے آدمی کو بچائے۔

غلطی نہ کرنا اچھا ہے، مگر غلطی کرنا بھی اس وقت اچھا بن جاتا ہے جب کہ غلطی کا احساس آدمی کو اللہ کی طرف متوجہ کردے۔ وہ اپنے رب سے دعائیں کرنے لگے۔ ایسی غلطی آدمی کے لیے عبادت کا سبب بن جاتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دعا ایک عبادت ہے: (الدعاء ہوالعبادۃ)۔original + quote

نقصان کے بعد اس پر غم کرنا گویا کھوئے ہوئے میں جینا ہے۔ اور نقصان کے بعد اللہ کی طرف رجوع ہوجانا گویا نقصان کے بعد اس کی بہتر تلافی کا طالب بننا ہے۔ اور بلا شبہہ اللہ یہ اختیاررکھتا ہے کہ وہ آدمی کے نقصان کو دوبارہ عظیم تر فائدے میں تبدیل کردے۔

ہر نقصان کے دو پہلو ہیں۔ ایک، نقصان اوردوسرے، سبق۔ اگر کوئی نقصان ہوجائے، تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس سے سبق لے۔ اِس طرح نقصان، فائدے میںتبدیل ہوجائے گا۔