Al-Risala August 2008

دو آیتیں

Al-Risala August 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - August 2008
  2. اضافۂ ایمان
  3. ذکر ِ کثیر
  4. قرآن کا توسیعی مفہوم
  5. دو آیتیں
  6. شکر سے اضافہ
  7. یہ بھی شرک ہے
  8. سنّت کیا ہے
  9. دعا ایک عبادت
  10. فہمِ دین کے لیے تدبّر ضروری
  11. اسلام کیا ہے
  12. ربّانی معیار، اَخلاقی معیار
  13. سوچئے، سوچئے، سوچئے
  14. اسلام کا مستقبل
  15. درمیانی شخص کا رول
  16. جدید الحاد— ایک تجزیہ
  17. یہ اخلاقی بحران کیوں
  18. مہارت کا زمانہ
  19. بھولنا ایک مثبت عمل
  20. زیادہ عمر ،زیادہ عقل
  21. خوش نما فریب
  22. ایک خط
  23. سوال وجواب
  24. خبرنامہ اسلامی مرکز— 187

دو آیتیں

قرآن کی سورہ نمبر 42 کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو‘‘( الشوریٰ : 13)۔original + quote

قرآن کی سورہ نمبر 5 میں مختلف پیغمبروں کی امتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ (المائدہ: 48)۔original + quote

قرآن کی ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ انسان کے لیے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے اس کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جس کو ’الدین‘ کہا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو ’شریعت‘ اور ’منہاج‘ کا نام دیا گیا ہے۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ’الدین‘ سے مراد خدا کی ہدایت کا وہ حصہ ہے جو حضرت نوح سے لے کر پیغمبر اسلام تک سب کو یکساں طورپر دیا گیا ہے۔ یہ خدا کی ہدایت کا ابدی حصہ ہے۔ اس حصۂ ہدایت میں نہ پہلے کبھی کوئی تبدیلی ہوئی اور نہ آئندہ اس میں کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ مگر خدائی ہدایت نامے کا دوسرا حصہ جس کو شریعت کہا گیا ہے، وہ جیسا کہ قرآن سے واضح ہے، ہر نبی کی امت کو مختلف صورت میں دیاگیا ہے۔ گویا کہ ’الدین‘ کے برعکس ’شریعت‘ تبدیلی کا موضوع ہے۔

تعلیمات کے درمیان اِس تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے دین کا جو ابدی پیغام ہے، وہ ہرزمانے میں یکساں رہا ہے۔ لیکن اِس پیغام کو جب عملی طورپر وقت کی صورتِ حال پر منطبق کیا جائے تو یہ ’شریعت‘ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اور شریعت کے معاملے میں ہمیشہ حالات کا اعتبار کیا جائے گا۔ اِسی حکمت کی بنا پر مختلف شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے۔ چوں کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی شریعت اپنی پوری تفصیل کے ساتھ دوامی نہیں ہوسکتی، وہ ہمیشہ اجتہاد کا موضوع بنی رہے گی۔ اِس اجتہاد میں پچھلے نبیوں کا عمل ایک رہ نما نمونے کی حیثیت رکھتا ہے (الأنعام: 90 ) ۔original + quote