Al-Risala April 2012

عبادت اور استعانت

Al-Risala April 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - April 2012
  2. عبادت اور استعانت
  3. محبت ایک دو طرفہ معاملہ
  4. قلب، عقل
  5. وحدتِ وجود
  6. عظمتِ خداوندی کی دریافت
  7. امت ِ وسَط: فضیلت یاذمّے داری
  8. مثبت جواب
  9. تاریخ کا سبق
  10. شاتمِ رسول کی سزا
  11. پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش
  12. مذاہب کے درمیان ہم آہنگی
  13. امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کاحل
  14. مسلمانوں کے لیے انتباہ
  15. امت ِ مسلمہ کا المیہ
  16. امن کی وادی
  17. یہ وعدہ خلافی کا معاملہ نہیں
  18. ٹکراؤ سے اعتراف ِ حقیقت تک
  19. دوسری غلطی نہیں
  20. امن اور ترقی
  21. غیر اصولی موقف نہیں
  22. لیڈروں کا دہرا کردار
  23. بحران کے وقت
  24. جسمانی معذوری کے باوجود
  25. ایک عام کمزوری
  26. کامیاب زندگی کا اصول
  27. ’انا‘ کی دیوار
  28. سوال وجواب
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز— 215

عبادت اور استعانت

سورہ الفاتحہ، قرآن کی پہلی سورہ ہے۔اِس میں انسان کی زبان سے اللہ رب العالمین کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں: إیّاک نعبد، وإیّاک نستعین (1: 5) خدایا، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔original + quote

دین کی بنیاد دو چیزوں پر ہے — عبادت، اور استعانت۔ انسان جب اللہ کی عظمت کو دریافت کرتاہے تو اس کا نتیجہ جس شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اس کا نام عبادت الٰہی ہے۔ اِسی طرح انسان جب اپنے عجز کو دریافت کرتاہے تو اس کے نتیجے کے طورپر جو چیز ظاہر ہوتی ہے، اس کا نام استعانت باللہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ دین کا آغاز معرفت (realization) سے ہوتا ہے۔ انسان جب آفاق اور انفس پر غور کرتاہے تو اُس کو ایک عظیم خالق کی دریافت ہوتی ہے۔ خالق کی عظمت کا احساس اُس کے پورے وجود پرچھا جاتا ہے۔ وہ بے اختیار چاہنے لگتاہے کہ وہ اپنے خالق کے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ خود کو سرینڈر (surrender) کر دے، وہ اپنے پورے وجود کو اللہ کے آگے ڈال دے۔ یہ احساس، معرفت کا ایک فطری نتیجہ ہے اور اِسی فطری نتیجے کا نام عبادت ہے۔ عبادت اپنے ظاہر کے اعتبار سے، ایک فارم ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ مومن کے اندر پیداہونے والے داخلی طوفان کا ایک خارجی ظہور ہے۔ عبادت ایک عارف انسان کی طرف سے اپنے رب کا قولی اور عملی اعتراف ہے۔

یہی معاملہ استعانت کا بھی ہے۔ ایک انسان جب اللہ کی عظمتِ کامل کو دریافت کرتا ہے تو اِسی کے ساتھ وہ اپنے عجزِ کامل کو بھی دریافت کرلیتاہے۔ اس کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ دینے والا ہے، اور وہ صرف پانے والا۔ اللہ مُنعم ہے اور وہ محتاجِ انعام۔ یہ احساسِ عجز بار بار ذکر او ردعا کی صورت میں ظاہر ہوتارہتاہے۔ اِسی کا نام استعانت باللہ ہے— معرفت سے انسان کے اندر اعتراف (acknowledgement) کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ اِس اعتراف کے اظہار کی ایک صورت وہ ہے جو اللہ کی نسبت سے ظاہر ہوتی ہے، اِس کا نام عبادت ہے۔ اِس اعتراف کی دوسری صورت وہ ہے جو خود انسان کی نسبت سے ظاہر ہوتی ہے، اِسی کو استعانت باللہ کہا جاتاہے۔