Al-Risala April 2008

موت کا شعور

Al-Risala April 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (21 chapters)
  1. الرسالہ - April 2008
  2. صلاۃ کلچر
  3. سفارش نہیں، استحقاق
  4. دو طرفہ معاملہ
  5. اولاد پرستی کا فتنہ
  6. دعوت اور انگریزی
  7. جدالِ احسن کیا ہے
  8. قومی فخر نہیں
  9. دیوارِ قہقہہ
  10. جنت اور انسان
  11. ابدی صحرا
  12. دورِ امن کا آغاز
  13. موت کا شعور
  14. اعلیٰ ذوق
  15. کامیاب زندگی کا راز
  16. ڈِگری اور انگریزی
  17. حیوانِ کاسِب نہ بنیے
  18. عُذر نہیں
  19. سادگی کا اصول
  20. سوال وجواب
  21. خبرنامہ اسلامی مرکز— 183

موت کا شعور

لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا محدود مدت کے بعد مرجاتاہے۔ اِس کے باوجود یہ نہایت عجیب بات ہے کہ کوئی شخص خود اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ وہ دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر خود اپنی موت کے بارے میں وہ غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ڈی این اے (DNA) کی دریافت اِس سوال کا جواب ہے۔ یہ ایک نئی سائنس ہے۔ اِس پر دنیا کے بڑے بڑے دماغوں نے کام کیا ہے۔ اِس میں انڈیا کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ہرگوبند کھورانا (85سال) کانام بھی شامل ہے۔ اِس جدید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر انسان کے جسم میں تقریباً ایک سو ٹریلین سیل (living cells) ہوتے ہیں۔ ہر سیل کے نیوکلیس میں ایک ناقابلِ مشاہدہ ڈی این اے موجود رہتا ہے۔ ڈی این اے کے اندر انسانی شخصیت کے بارے میں تمام چھوٹی بڑی معلومات کوڈ کی صورت میں موجود رہتی ہیں۔ یہ معلومات اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اگر اُن کو ڈی کوڈ (decode) کیا جائے، تو وہ برٹانکا جیسی ضخیم انسائکلو پیڈیا کے ایک ملین سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوں گی:

One human DNA molecule contains enough information to fill a million-page encyclopaedia.

ڈی این اے کے اندر انسانی شخصیت کے بارے میں تمام معلومات درج ہوتی ہیں، مگراِس فہرست میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ موت ہے۔ ڈی این اے کی طویل فہرست موت کے تصور سے خالی ہے۔ موت کا تصور انسانی شخصیت (human consciousness) میں موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، لیکن وہ خود اپنی موت کے بارے میں سوچ نہیں پاتا۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ موت کسی شخص کے اوپر ڈی این اے کی پروگریمنگ کے تحت نہیں آتی، بلکہ وہ براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت آتی ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے اندر اینٹی پروگریمنگ سوچ پیدا کرے۔ وہ خدائی فیصلے کی نسبت سے موت کے معاملے کو دریافت کرلے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔