Al-Risala April 2008

اولاد پرستی کا فتنہ

Al-Risala April 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (21 chapters)
  1. الرسالہ - April 2008
  2. صلاۃ کلچر
  3. سفارش نہیں، استحقاق
  4. دو طرفہ معاملہ
  5. اولاد پرستی کا فتنہ
  6. دعوت اور انگریزی
  7. جدالِ احسن کیا ہے
  8. قومی فخر نہیں
  9. دیوارِ قہقہہ
  10. جنت اور انسان
  11. ابدی صحرا
  12. دورِ امن کا آغاز
  13. موت کا شعور
  14. اعلیٰ ذوق
  15. کامیاب زندگی کا راز
  16. ڈِگری اور انگریزی
  17. حیوانِ کاسِب نہ بنیے
  18. عُذر نہیں
  19. سادگی کا اصول
  20. سوال وجواب
  21. خبرنامہ اسلامی مرکز— 183

اولاد پرستی کا فتنہ

ایک حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹے میں وہ شخص ہے جو دوسرے کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو کھودے (أذہب آخرتہ بدنیا غیرہ، ابن ماجہ، کتاب الفتن)۔ یہ حدیث موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ اُن لوگوں پر چسپاں (apply) ہوتی ہے جو صاحبِ اولاد ہیں۔ موجودہ زمانے میں صاحبِ اولاد لوگوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک کے لیے اس کی اولاد اُس کا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بنی ہوئی ہے۔ ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مصروف ہے، اور خود اپنی آخرت کی خاطر کوئی حقیقی کام کرنے کے لیے آدمی کے پاس وقت ہی نہیں۔original + quote

موجودہ زمانے میں ہر آدمی اِس حقیقت کو بھول گیا ہے کہ اس کی اولاد اُس کے لیے صرف امتحان کا پرچہ (الأنفال: 28 ) ہے۔ اولاد اس کو اِس لیے نہیں ملی ہے کہ وہ بس اپنی اولاد کو خوش کرتا رہے، وہ اپنی اولاد کی دنیوی کامیابی کے لیے اپنی ساری توانائی لگادے۔original + quote

موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ہیں جو بظاہر مذہبی وضع قطع بنائے رہتے ہیں اور رسمی معنوں میں صوم و صلاۃ کی پابندی بھی کرتے ہیں، لیکن عملاً وہ اپنا سارا وقت اور اپنی بہترین صلاحیت صرف دنیا کمانے میں لگائے رہتے ہیں، صرف اِس لیے کہ جب وہ مریں تو اپنی اولاد کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ سامانِ دنیا چھوڑ کر جائیں۔

مگر ایسے لوگ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ خدا کو دینے کے لیے اُن کے پاس صرف کچھ ظاہری رسوم ہیں اور جہاں تک حقیقی زندگی کا تعلق ہے، اس کو انھوں نے صرف اپنی اولاد کے لیے وقف کررکھا ہے۔ یہ خدا پرستی نہیں ہے، بلکہ وہ حدیث کے الفاظ میں اولاد پرستی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اولاد پرستی کا طریقہ کسی کو خدا پرستی کا کریڈٹ نہیں دے سکتا۔ خدا پرستی، زندگی کا ضمیمہ (appendix) نہیں، حقیقی خدا پرستی وہ ہے جو انسان کی پوری زندگی کا اِحاطہ کیے ہوئے ہو۔original + quote