Al-Risala April 2008

صلاۃ کلچر

Al-Risala April 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (21 chapters)
  1. الرسالہ - April 2008
  2. صلاۃ کلچر
  3. سفارش نہیں، استحقاق
  4. دو طرفہ معاملہ
  5. اولاد پرستی کا فتنہ
  6. دعوت اور انگریزی
  7. جدالِ احسن کیا ہے
  8. قومی فخر نہیں
  9. دیوارِ قہقہہ
  10. جنت اور انسان
  11. ابدی صحرا
  12. دورِ امن کا آغاز
  13. موت کا شعور
  14. اعلیٰ ذوق
  15. کامیاب زندگی کا راز
  16. ڈِگری اور انگریزی
  17. حیوانِ کاسِب نہ بنیے
  18. عُذر نہیں
  19. سادگی کا اصول
  20. سوال وجواب
  21. خبرنامہ اسلامی مرکز— 183

صلاۃ کلچر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بین العبد والکُفرترک الصلوۃ ( صحیح مسلم، کتاب الایمان)۔ یعنی نماز کسی آدمی کے اسلام کی پہچان ہے، اور کسی آدمی کا اسلام سے نکل جانا یہ ہے کہ وہ نماز کی عبادت ترک کردے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دین میں نماز کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔پنج وقتہ نماز دراصل اعترافِ خداوندی کی عملی صورت ہے۔ نمازکے تمام اَجزا بندے کی طرف سے اپنے رب کے اعتراف کو ممثّل (symbolize) کرتے ہیں۔ اِس اعتبار سے نماز عبادتِ الٰہی کی کامل صورت ہے۔ نماز میں وہ تمام اجزا مکمل طورپر پائے جاتے ہیں جو عبادت کی نسبت سے انسان سے مطلوب ہیں۔نماز کو رات اور دن کے درمیان پانچ مخصوص اوقات کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے ۔یہ بے حد اہم ہے۔ اِس طرح نماز کو کسی انسان کے لیے اس کے لازمی رُٹین (compulsive routine) میں شامل کردیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حالات کے زیر اثر، انسان بار بار عذر (excuse) لیتا رہے اور وہ نماز جیسی عبادت کی پابندی نہ کرسکے۔original + quote

نماز کی عبادت کے لیے باجماعت نماز کا نظام مقرر کرنا گویا کہ اُس کو ایک مکمل کلچر کا درجہ دے دینا ہے۔ اِس طرح با جماعت نماز اپنے متنوع پہلوؤں کے ساتھ انسان کی پوری زندگی میں شامل ہوجاتی ہے۔ باجماعت نماز کی پابندی کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت کو انسان کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل ہوجاتا ہے۔ انسان کی پوری زندگی کے لیے نماز ایک قسم کے رِگولیٹر (regulator) کی حیثیت حاصل کرلیتی ہے۔ نماز کسی انسان کی زندگی کو خدا رُخی زندگی بنا دیتی ہے۔

نماز ابتدائی طور پر ایک انفرادی عبادت ہے، لیکن جب کچھ لوگ مسجد پہنچ کر وہاں امام کی اقتدا میں با جماعت نماز ادا کرتے ہیں تو نماز اُن کی زندگی کے لیے گویا اجتماعی شیرازہ بن جاتی ہے— اِن متنوع فوائد کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی نماز کو اپنی زندگی میں لازمی طورپر شامل کرلے۔ اگر بالفرض آدمی کو خشوع کی نماز حاصل نہ ہو، تب بھی اس کے لیے نماز کی ادائیگی ضروری ہے۔ کیوں کہ نماز یاددہانی کے لیے ہے(طٰہٰ: 14 ) اور یاددہانی کا فائدہ پھر بھی آدمی کو حاصل ہوجاتا ہے۔original + quote