Al-Risala April 2003

تعبیر کا مسئلہ

Al-Risala April 2003 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. الرسالہ - April 2003
  2. موت کے قریب
  3. گمراہ نہ ہونا
  4. معاشی کامیابی کا اصول
  5. گھرایک تربیت گاہ
  6. ایمان کے ذائقے
  7. اسوۂ رسول
  8. اخلاص کی اہمیت
  9. دعا عبادت ہے
  10. ایمان کی شاخیں
  11. خدا کا تجربہ
  12. تعبیر کا مسئلہ
  13. سب سے زیادہ خطرناک
  14. اعتدال کا طریقہ
  15. طلبہ کے نام
  16. کامیاب زندگی کا اصول
  17. سوال وجواب
  18. ایک اخباری انٹرویو
  19. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۷

تعبیر کا مسئلہ

مسند امام احمد میںایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو ایک روشن راستہ پر چھوڑا ہے۔ اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح ہے۔ اس سے کوئی شخص کج روی میں مبتلا نہیں ہوگا، مگر صرف وہ جو ہلاک ہونے والا ہے (لقد ترکتُکم علی المحجّۃ البیضاء لیلہا کنہارہا لا یزیغ عنہا الا ہالک)۔hadith

اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا دین اتنا زیادہ واضح ہے کہ اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی طرح روشن ہیں۔ اس کے باوجود پھر بھی یہ امکان باقی ہے کہ آدمی اس سے بھٹک جائے، وہ دین کے نام پر بے دینی میں پڑ جائے۔ ایسا حادثہ اس کے ساتھ پیش آئے گا ، جو ہالک ہو۔ یعنی وہ ہلاکت خیز نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔اصل یہ ہے کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی زیادہ واضح ہو، اس میں تعبیر کی گنجائش بہر حال باقی رہے گی۔ یہ موجودہ امتحانی حالت کا تقاضا ہے۔ متن میں اس طرح تعبیر کا امکان ہونا اس کے اندر زیغ اور بھٹکاؤ کا امکان پیدا کردیتاہے۔

قرآن میں نہایت واضح لفظوں میں ہے کہ اللہ احد، مگر کچھ لوگوں نے اس کو وحدت ذ۱ت کے معنٰی میں لینے کے بجائے وحدت وجود کے معنٰی میں لے لیا۔ قرآن میں انفرادی نجات کا تصور ہے، مگر کچھ لوگوں نے اس کو گروہی نجات کے ہم معنٰی بنادیا۔ قرآن میں دشمن کو دوست بنانے پر زور دیا گیا ہے، مگر قرآن ہی سے دشمنکو مارو کا نظریہ برآمد کر لیا گیا۔ قرآن کے مطابق، رسول کو رحمت کا دین دیا گیا ہے، مگر خود ساختہ تعبیر کے ذریعہ اس کو جنگ کا دین بنا دیا گیا۔ قرآن میں زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کا حکم ہے، مگر تشریح کرنے والوں نے کہا کہ زیادتی پر چپ رہنا غیرت اسلامی کے خلاف ہے، وغیرہ۔quoted source

اسلام بلا شبہہ ایک روشن دین ہے۔ مگر انسان کا ذہن روشن نہیں ہوتا۔ انسان اپنے غیر روشن ذہن کی بنا پر اسلام کو اس کی اصل صورت میں دیکھ نہیں پاتا۔ وہ اپنے ناقص ذہن کے تحت اسلام کی ناقص تشریح کرنے لگتاہے۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت کے گڑھے میں جاگرتا ہے۔