Al-Risala April 2003

معاشی کامیابی کا اصول

Al-Risala April 2003 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. الرسالہ - April 2003
  2. موت کے قریب
  3. گمراہ نہ ہونا
  4. معاشی کامیابی کا اصول
  5. گھرایک تربیت گاہ
  6. ایمان کے ذائقے
  7. اسوۂ رسول
  8. اخلاص کی اہمیت
  9. دعا عبادت ہے
  10. ایمان کی شاخیں
  11. خدا کا تجربہ
  12. تعبیر کا مسئلہ
  13. سب سے زیادہ خطرناک
  14. اعتدال کا طریقہ
  15. طلبہ کے نام
  16. کامیاب زندگی کا اصول
  17. سوال وجواب
  18. ایک اخباری انٹرویو
  19. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۷

معاشی کامیابی کا اصول

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذا سبب اللہ لأحدکم رزقا من وجہٍ فلا یدعہ حتی یتغیر لہ أو یتنکر لہ (مسند احمد)۔ یعنی جب اللہ تم میں سے کسی کے لیے رزق کا ایک ذریعہ پیدا کرے تو وہ اُس کو نہ چھوڑے، یہاں تک کہ اُس میں تغیر آجائے یا وہ اُس کے لیے بہتر نہ رہے۔جب کوئی شخص ایک معاشی کام کررہا ہو اور اُس کے ذریعہ اُس کا رزق مل رہا ہو تو اُس کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ کسی معقول سبب کے بغیر اُس کو چھوڑ دے۔ مثلاً اُس کو اپنے صاحب معاملہ سے کوئی شکایت پیدا ہوجائے یا صاحب معاملہ کے کسی سلوک سے اُس کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو یہ معاشی تعلق توڑنے کے لیے کافی سبب نہیں۔ اس طرح لگے ہوئے ذریعۂ رزق کو چھوڑنا اُس کے لیے درست نہ ہوگا۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ منفی ردّ عمل کے تحت کوئی فیصلہ نہ لے۔ بلکہ تحمل کی روش اختیار کرے۔ کیوں کہ ایسے اسباب فطری ہیں اور وہ ہمیشہ پیش آتے ہیں۔original + quote

البتہ اگر حالات میں ایسی کوئی تبدیلی آجائے جو آدمی کے لیے کوئی حقیقی مسئلہ پیدا کردے یا ایسی کوئی صورت پیدا ہوجائے جس میںاُس کے کام کی معاشی افادیت غیر تسلّی بخش ہو جائے تو ایسی صورت میں آدمی نیا فیصلہ لینے کا حق رکھتا ہے۔ گویا معاشی ذریعہ کو بدلنا واقعی معنوں میں کسی حقیقی عذر کی بنا پر ہونا چاہئے۔اس قسم کا فیصلہ محض وقتی جذبہ کے تحت نہیں کیا جاسکتا۔ جذباتی فیصلہ کسی بھی معاملہ میں درست نہیں، خواہ وہ معاشی معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ۔

ایک معاشی کام کو چھوڑنا صرف اُس وقت درست ہے جب کہ آدمی کو دوسرا بہتر معاشی کام مل گیا ہو۔ اگر وہ اپنے موجودہ کام سے مطمئن نہیں ہے تو اُس کو اپنے موجودہ کام پر باقی رہتے ہوئے نیا کام ڈھونڈھنا چاہئے۔ اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ دوسرا بہتر کام حاصل کیے بغیر وہ اپنے پہلے کام کوچھوڑ دے۔ اس کو چاہئے کہ وہ نا پسندیدگی کے باوجود اس وقت تک اپنے پہلے کام پر قائم رہے جب تک کہ اُس کو دوسرا زیادہ بہتر کام نہ مل جائے۔