Al-Risala April 2003

ایمان کی شاخیں

Al-Risala April 2003 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. الرسالہ - April 2003
  2. موت کے قریب
  3. گمراہ نہ ہونا
  4. معاشی کامیابی کا اصول
  5. گھرایک تربیت گاہ
  6. ایمان کے ذائقے
  7. اسوۂ رسول
  8. اخلاص کی اہمیت
  9. دعا عبادت ہے
  10. ایمان کی شاخیں
  11. خدا کا تجربہ
  12. تعبیر کا مسئلہ
  13. سب سے زیادہ خطرناک
  14. اعتدال کا طریقہ
  15. طلبہ کے نام
  16. کامیاب زندگی کا اصول
  17. سوال وجواب
  18. ایک اخباری انٹرویو
  19. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۷

ایمان کی شاخیں

عن ابی ہریرۃ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الایمان بضعٌ وسبعون شعبۃ۔ فافضلہا قولُ لا الٰہ الا اللہ و ادناہا اماطۃ الاذیٰ عن الطریق والحیاء شعبۃ من الایمان (متفق علیہ)۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے۔ اوراس کا ادنیٰ درجہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کوہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔original + quote

اس حدیث کو کچھ لوگوں نے حسابی معنٰی میں لے لیا اور گنتی کے لحاظ سے اس کی تشریح کرنے لگے۔ مثلاً ابو عبد اللہ الحلیمی (م۴۰۳ھ) جو بخارا میں شوافع کے امام تھے، انہوں نے المنہاج فی شعب الایمان کے نام سے ایک مفصل کتاب اس حدیث کی تشریح میں لکھی ہے۔ انہوں نے ایمان کے ۷۷ شعبے شمار کئے ہیں اور اسی نسبت سے کتاب میں ۷۷ باب قائم کئے ہیں۔ اسی طرح حافظ ابو بکر البیہقی (م ۳۵۸ھ) کی کتاب اس موضوع پر بہت مشہور ہے جس کا نام ’الجامع المصنف فی شعب الایمان‘ ہے۔ حافظ ابن حجر نے قلبی اعمال، لسانی اعمال اور بدنی اعمال کی تقسیم کرکے اس کی ۶۹ شاخیں شمار کی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔original + quote

مگراس حدیث کی شماریاتی تشریح درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑے درخت کی شاخوں کی گنتی نہیں کی جاسکتی، اسی طرح ایمان کی شاخوں کی بھی کوئی گنتی نہیں۔ ایمان کا آغاز اللہ کی معرفت سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان پر اللہ رب العالمین کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تو گویا اس کی روحانی زمین میں ایک ربّانی بیج بودیا جاتا ہے۔ یہ بیج بڑھتاہے، وہ شاخیں نکالتا ہے۔ آدمی کی سوچ سے لے کر اس کے قول و فعل تک ہر چیز میں اس کا رنگ شامل ہوجاتا ہے۔original + quote

حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی شاخوں سے مراد ایمان کے مظاہر (manifestations) ہیں۔ ایمان جب کسی آدمی کے قلب و دماغ میں شامل ہوجاتا ہے تو اس کی ہر ادا میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان گنت حد تک پہنچ جاتا ہے۔