Place
Hyderabad
Former Hindu-majority princely state in India, ruled by a Muslim Nizam
Mentioned in 191 book passages
and 41 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/hyderabad
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…The condition of the Palestinians could, in consequence, have been much better than that of the Jews. However, owing to the unrealistic approach of the Muslim leaders, the Palestinians lost their all and had to face death and destruction.
Exactly the same has happened in the case of Jammu and Kashmir because of the utter ineptitude of the leaders of Kashmir and Pakistan.
On this score, the record of the injudiciousness of Muslim leaders is a very long one. I will allude to just one aspect of this here. In 1947, when India was partitioned, Pakistani leaders adopted a completely unrealistic stance and staked…
…good character within the limited circle of the house will translate into exhibiting good character within the wider circle of society. Good training within the home enables individuals to become better human beings in a broader context.
There is a story of a family from Hyderabad. It was a religious family in the traditional sense. However, religion was not the topic of discussion in their home. All of their discussions centred around complaints, as is the case in most homes. Then, a senior religious cleric advised the head of the family to initiate the process of home-schooling in his family so that the complaining mindset could be changed on positive lines. Homeschooling is the practice of educating children at home on informal lines. I advised him to learn English with his wife and children and read books on positive thinking.
They assiduously followed this method. He described his situation to me over the phone a few days later. He said everyone’s life in his house had become meaningful. Everyone in the family, parents and children, was beginning to understand…
Unwise Method
A BASIC PRINCIPLE of success in life is that, in controversial matters, one should willingly accept whatever is available to one at the very outset. If we fail to do so in the initial stage in a bid to get more than what we are being offered, we only prolong the conflict. Then the conflict is bound to become more complicated. Consequently, we will lose even whatever was available to us in the first instance.
Let me cite an example to clarify this point. In 1917, the British drew up a plan, known as the Balfour Declaration, to partition Palestine. This division was clearly in favour of the Arabs. By the terms of this scheme, less than half of…
20جنوری1986
ایک اخبار میں آزادی سے پہلےکی ایک رپورٹ پڑھی کہ 1945 میں جنرل شاہ نواز خان (1914-1983)، کرنل پریم سہگل (1917-1992)،اور کرنل گربخش سنگھ ڈھلوں (1914-2006) گرفتار ہوئے تھے۔ان پر برطانوی راج کے خلاف بغاوت کا الزام تھا۔اس کے بعد مقدمہ چلا جس میں وہ رہا ہو گئے۔لال قلعہ سے رہائی کے بعد صبح سویرے وہ لاہور اسٹیشن پہنچے۔یہ 1946 کا واقعہ ہے۔اس روز لاہور اسٹیشن پر اتنی زبردست بھیڑ تھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔لاہور اسٹیشن کی طرف جانے والی تمام سڑکیں ان لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں جو سہگل ، ڈھلوں اور شاہ نواز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔جب گاڑی پلیٹ فارم پر رکی تو عوام نے نعرہ لگایا
لال قلعہ سے آئی آواز سہگل ڈھلوں شاہ نواز
…کے مسلم لیڈر ملک کے اندر اور ملک کے باہر صرف ایک ہی بات کرنا جانتے ہیں اور وہ تعصب اور امتیاز ہے۔وہ تصویر کے دوسرے رخ کا مطلق ذکر نہیں کرتے۔قرآن کے الفاظ میں یہ لوگ مطففین ہیں اور خدا کے قانون میں مطففین کے لیے ہلاکت ہے، نہ کہ نجات۔
اس سفر میں حیدرآباد میں ایک تجربہ گزرا جس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ تھے اس دنیا میں آدمی کو مستقبل کی خاطر ماضی کو بھولنا پڑتا ہے۔یہاں آدمی کو سبھی کچھ چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ دوبارہ پاسکے۔یہاں رکنا پڑتا ہے تاکہ از سر نو آگے بڑھنے کا راستہ کھلے۔یہاں دینا پڑتا ہے تاکہ دوبارہ اضافہ کے ساتھ مل سکے۔یہاں چپ رہنا پڑتا ہے تاکہ آدمی کوبولنے کے لیے الفاظ مل سکیں۔یہ دنیا کھو کر پانے کی جگہ ہے۔یہاں دے کر لیا جاتا ہے۔
اس سفر میں میرا ایک اورتاثر یہ ہے یہ ممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر بلا استحقاق قبضہ کر لیں مگر یہ ناممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر اپنے بلا استحقاق قبضہ کو باقی رکھ سکیں۔
…رسول ابی بن کعب (وفات 30 ھ) نے فرمایا کہ رشوت عقل مند کو بیوقوف بناتی ہے، اور حکیم کی آنکھ کو اندھا کردیتی ہے (قَالَ قَتَادَةُ:قَالَ کَعْبٌ:الرِّشْوَةُ تُسَفِّہُ الْحَلِیمَ، وَتُعْمِی عَیْنَ الْحَکِیمِ( المغنی لابن قدامہ، جلد 10، صفحہ69۔
رشوت ایک ایسا مال ہے، جو آدمی حق کے بغیر لیتا ہے، اور جب آدمی واقعی حق کے بغیر کوئی چیز لے تو عین اسی وقت وہ اپنے آپ کو نیچے گرالیتا ہے۔ وہ اعلیٰ اخلاق کی سطح پر رہ کر کام نہیں کرسکتا۔ اونچا کام کرنے والے کے اندر اونچا ذہن پرورش پاتا ہے، اور پست کام کرنے والے کے اندر پست ذہن پیدا ہوتا ہے۔ رشوت بہ ظاہر ایک مالی معاملہ ہے، مگر آدمی جب اس میں پڑجاتا ہے تو اس کی عقل و بصیرت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی ہے۔ اخلاقی گراوٹ کا فعل کرتے ہی وہ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری حیثیت سے بھی گرالیتا ہے۔
آدمی اپنے کپڑے صاف رکھنے کے لیے اس کو گندگی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی عقل و بصیرت کو صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو برے اخلاق سے بچائے۔ برے اخلاق میں ملوث ہونے کے بعد وہ اپنی عقل کو صحیح حالت میں باقی…
ایک تجربہ
آج دسمبر 2019 کی 3 تاریخ ہے۔ اس وقت میں نظام الدین ویسٹ میں ایک پارک میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا ہوں۔ دھوپ نکلی ہوئی ہے، اور موسم نہایت خوشگوار ہے۔ یہاں پارک میں بیٹھ کر میں نے مولانا عبد السلام عمری (حیدر آباد) سے موبائل پر گفتگو کی۔گفتگو کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں نے پہلی بار حیدر آباد کا سفر غالباً 1948 میں کیا تھا۔ اس وقت میں ٹرین کا سفر کرکے حیدر آباد پہنچا تھا۔ اس زمانے میں دلی سے حیدر آباد کا کمیونی کیشن بہت محدود معنوں میں ہوسکتا تھا۔ اب اللہ کے فضل سے کمپوٹر ایج آچکا ہے، اور یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بہ آسانی رابطہ قائم کیا جاسکے۔
1925 میں جب میں پیدا ہوا، اس وقت دنیا میں برٹش ایمپائر موجود تھا۔ یہ ایک پولٹکل ایمپائر تھا۔ اس وقت ایمپائر قائم کرنے کی صرف ایک صورت تھی، اور وہ یہ کہ صاحبِ ایمپائر کے پاس فوج کی طاقت موجود ہو۔ مگر آج فوج کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج کی دنیا…
قول بلیغ
حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002)میںہندوؤں کی ایک مجلس میںمیں نے اسلامی تعلیمات کا تعارف پیش کیا۔ لوگوں نے بہت غور سے سُنا۔ آخر میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے لیے سہج سوئکاریہ ہو جائے۔ یعنی اسلام کو ماننا اُن کے لیے آسان ہوجائے۔
مذہب کی ضرورت
حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002)میںایک تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ لوگ خدا اور روحانیت کی بات کرتے ہیں، لیکن آج کا ایک انسان جس کے پاس پیسہ ہے اور جس کو مادّی سہولتیں حاصل ہیں وہ کہتا ہے کہ ہم کو خدا اور روحانیت کی کیا ضرورت ۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ ہم کو اس کے بغیر ملا ہوا ہے۔ پھر کیوں خدا اور روحانیت جیسی چیزوں میںاپنے دماغ کو الجھائیں۔
میںنے کہا کہ آپ کو جوچیز ملی ہوئی ہے وہ کیا ہے۔ وہ صرف وہ چیزیں ہیں جو آپ کے جسم کو آرام دے سکیں۔ مگر یہ تو زندگی کی حیوانی سطح ہے۔ کوئی بھی حیوان اس قسم کی زندگی حاصل کرسکتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ دماغ رکھتا ہے۔ جسم تو صرف…
اکرامِ مسلم، اکرامِ انسانیت
حیدرآباد کے اس سفر میں ایک صاحب نے ملاقات کی اور کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاںگہری خیر خواہی ہووہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔
میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میںاپنے بیٹے کی خدمت کس طرح کروں۔ کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا کروں۔ ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ اُنہیں…
جدید دنیا میں دعوتی امکانات
حیدرآباد کے اس سفر میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے اُنہیں انگریزی میں چھپا ہوا ایک انویٹیشن دکھایا۔ اس میں مجھے تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ دعوت نامہ دی انلا\ئٹینمنٹ فاؤنڈیشن (The Enlightenment Foundation) کی طرف سے تھا۔
اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ میںکون ہوں( Who Am I) میںنے کہا کہ اس طرح کے ادارے بڑی تعداد میں تقریباً ہر شہر میں قائم ہیں۔اس میں شرکت کرنے والوں کو پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر سے زیر بحث موضوع پر بولے، اور اپنے علم کے مطابق،…
سیلف پروگرامر:
26اکتوبر تا 6 نومبر کو کولکاتا میں سی پی ایس کی ایک دعوہ میٹ ہوئی۔
اس میں کولکاتا ٹیم کے علاوہ تامل ناڈو سے حافظ سید اقبال احمد عمری، حیدر آباد سے
حافظ فیاض الدین عمری ، جمشید پور سے ایاز احمد اور سلیم اختر وغیرہ شریک ہوئے۔ نیز
آخری دو دنوں کے لیےسی پی ایس انٹرنیشنل، دہلی کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم بھی شریک
ہوئیں۔ اس دعوہ میٹ کے تحت ایک اہم کام یہ ہوا کہ نارتھ ایسٹ میں دعوتی مواقع کا جائزہ
لینے کے لیے ان لوگو ں نے آسام کا دورہ کیا اور مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ
مغربی بنگال کے مختلف مدارس ، اسلامی آرگنائزیشن اورنان مسلم تنظیم کے لوگوں سے ملاقاتیں
ہوئیں۔ نیز کولکاتا یونیورسٹی میں منعقدہ سمینار میں لوگوں کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم
کیا۔ اس سمینار کا ذکر آگے آرہا ہے۔
خبر نامہ اسلامی مرکز— 235
-1 12 مارچ 2015 کو پیس سنٹر کیرالہ کی جانب سے آئی ایس ایم کی صوبائی مہم کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابیں تقسیم کی گئیں-
-2 سیماندھرا کے کوسٹل شہر وشاکھا پٹنم میں 10-19 اپریل 2015 کے درمیان ایک بک فیئر لگاتھا۔ اس بک فیئر میںحیدرآباد سی پی ایس کی ٹیم نے اپنا بک اسٹال لگایا۔بڑی تعداد میں لوگوں نے اس اسٹال کو وزٹ کیا، جس میں ایک بڑی تعدا د کالج کے طلبہ کی…
خبر نامہ اسلامی مرکز— 233
1- سویڈش ریسرچ اسکالر مسٹر متھیاس (Mattias Dahlkvist) نے صدر اسلامی مرکز کا مفصل انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا، اسلام کی سیاسی تعبیر، اور موجودہ مسلمان ۔ یہ انٹرویو دسمبر 2015کی 6اور 9 تاریخ کو ہوا۔ مسٹر متھیاس سویڈن کی امیاس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں، اور اس سے پہلے بھی صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لے چکے ہیں۔
2- ملک کے مختلف حصوں میں بک فیرلگے، مثلا الٰہ آباد، کولکاتا، چنئی، حیدرآباد، بنگلور، دہلی وغیرہ۔ ان تمام بک فئر میںسی پی ایس کے علاقائی چیپٹرس نےاپنا اسٹال لگایا تھا۔ مسلم اور نان مسلم دونوں قارئین کا رسپانس بہت ہی اچھا رہا۔ ٹی وی چینل،…
دعوت کی توسیع
کسی مشن کے دو دور ہوتے ہیں— استحکام (consolidation) اور توسیع (expansion) - الرسالہ کا دعوتی مشن اللہ کے فضل سے استحکام کے دور سے گزر کر اب توسیع کے دور میں داخل ہوگیاہے- نہ صرف انڈیا میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بار بار اس کی مثالیں سامنے آرہی ہیں-
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 13 اکتوبر 2014 کی صبح کو ممبئی سے محبوب بھائی (Mob: 9619163993) کا ٹیلیفون آیا- ممبئی میں پہلے شہر میں دعوتی کام شروع ہوا، اس کے بعد ممبئی کی ٹیم نے مہاراشٹر اسٹیٹ کے دوسرے مقامات کے لئے دعوتی سفر شروع کیا- یہ…
…تاجروں کے لئے منعقد کی گئی تھی ۔ سی پی ایس دہلی کی ایک ٹیم نے اس نمائش میں شرکت کرنے والے 150 سے زیادہ پاکستانی تاجروں کے درمیان قرآن کا ترجمہ اور دوسرے دعوتی لٹریچر تقسیم کیے۔ تمام پاکستانی مہمانوں نے اسے حیرت اور خوشی کے ساتھ قبول کیا۔
6- مشہور بدھسٹ رہنما ایچ ایچ دلائی لامہ کی جانب سے21-22 ستمبر 2014 کو نئی دہلی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی، جس کا عنوان تھا: Diverse Spiritual Traditions in India۔ اس پروگرام میں صدراسلامی مرکز نے شرکت کی اور Inter-Religious Understanding and Human Values کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر سے پہلےایک مخصوص میٹنگ ہوئی جس میں ملک کے الگ الگ علاقوں سے آئے ہوئےمختلف مذہبی رہنماؤں نے اس پر بات چیت کی کہ مذہبی افہام و تفہیم اور رواداری کو کس طرح بڑھاوا دیا جائے۔
7- ای ٹی وی اردو چینل کی ایک ٹیم 23ستمبر 2014 کو اسلامی مرکز، دہلی کے آفس میں آئی،انھوں نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا، حج۔ انٹر ویو کے بعد نامہ نگارمسٹر شاہ نواز کو صدر اسلامی مرکز کی کچھ کتابیں بطور تحفہ…
…میں پیداہوئے ہوں اور پھر وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کریں اور مطالعہ کے بعد اسلام قبول کرلیں- اِس دوسری قسم میں بھی بہت سے افراد پائے جاتے ہیں- مثلاً ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے، وغیرہ-ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے کا مختصر تعارف در ج ذیل ہے:
Chattopadhyay, Nishikanta (1852-1910) research scholar and the first Bengali to obtain a PhD degree (1882) from a European university, was born in July 1852 in the village of Pashchimpara in Vikrampur, Dhaka. Nishikanta passed the FA from Presidency College. He then went to Germany to study German, Sanskrit, linguistics, history and philosophy at Leipgiz University. But he was expelled from there for being an atheist. He proceeded to Switzerland and completed his doctoral studies at the University of Zurich. He returned to India in 1883 and subsequently taught at different colleges in Hyderabad, Mysore and Muzaffarpur. Towards the end of his life, he embraced Islam.
(http://www.banglapedia.org)
…پورے صفحہ (12) پر مشتمل اشتہار دیاگیا- اشتہار کے آخر میں کالج کے انتظامیہ کی طرف سے ایک نوٹ حسب ذیل الفاظ میں شامل کیاگیا تھا — 25 اکتوبر 2012 تک دعوتی کام کرنے والے حضرات کالج سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کرسکتے ہیں-
6- سہارن پور کے جے وی جین ڈگری کالج میں 21 اکتوبر 2012کو نوراتری کے موقع پر ہندی روزنامہ ’’دینک جاگرن‘‘ کی طرف سے ایک بڑا پروگرام کیاگیا- اِس پروگرام میں تقریباً 5 ہزار لوگوں نے شرکت کی- اِس پروگرام میں مقامی لوگوں کے علاوہ، اطرف کے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنما موجود تھے- سہارن پور کے ساتھیوں نے یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی بروشر دئے- لوگوں نے اس کو شوق سے لیا-
7- نیشنل بک ٹرسٹ (NBT) کی طرف سے 17-21 اکتوبر 2012 کو علی گڑھ میںایک بک فیر ہوا- یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر لوگوں کی طرف سے قرآن کے ترجمے (اردو، انگریزی) کی اتنے بڑے پیمانے پر ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے…
…تاکہ فلاح پاسکوں- بس ارادہ کرلیا ہے اور دعوت کا کام شروع کردیا ہے- میری آپ سے گزارش ہے کہ میرے حق میں اللہ سے دعا کریں کہ میںدعوت الی اللہ کے اِس مشن میں ثابت قدم رہوں اور کامیاب ہوجاؤں- (محمد اقبال سوہل، پرلوت، ضلع رام بَن، جموں وکشمیر)
— • I attended two days Kashmir Dawah Meet held in New Delhi. Infact, I experienced anda learnt a lot from da’ees of islam. The lectures of Maulana Wahiduddin Khan and the tips given and experiences shared especially with Dawah Field Team, CPS (DFT) boosted me a lot and gave enthusiasm to work for dawah in future. Infact, this annual conference is of great importance for da’ees of the mission. (M Ismail Bhat, Kashmir)
— • The entire Kashmir Dawah meet was such an inspiration that I feel I am re-born with a renewed understanding of my purpose in life. I was listening to the whole program. Everyone spoke from their heart for it reached our hearts. This is…
دعوت اور حکمت
حیدرآباد کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ الرسالہ کے دعوتی مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ وہاں الرسالہ مطبوعات کے ذریعے دعوتی کام کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک دین دار مسلمان سے اِس سلسلے میں ان کی بات ہوتی تھی۔ مذکورہ مسلمان، الرسالہ مطبوعات کے سخت خلاف تھے۔ انھوںنے اِس مسئلے پر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچا۔ اِس کے بعد ایک بات ان کی سمجھ میں آئی۔ وہ مذکورہ دین دار مسلمان سے ملے اور ان سے کہا کہ یہاں کچھ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ وہ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کے لیے آپ کوئی ایسی کتاب بتائے جو جدید اسلوب میں لکھی گئی ہو اور وہ ان کے ذہن کو مطمئن کرے۔ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے ایسی کسی کتاب کا علم نہیں۔ پھر انھوںنے اُن کو الرسالہ مطبوعات میں سے ’’اسلام اور عصر حاضر‘‘ مطالعے کے لیے دی۔ اِس کتاب کو پڑھ کر مذکورہ دین دار مسلمان بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اِس ادارے کی اور کتابیں ہمیں پڑھنے کے لیے دیجئے۔
اِسی طرح کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ الرسالہ مشن کے مذکورہ ممبر ایک مسلم لائبریری میں گئے۔ وہاں انھوں نے لائبریری کے ذمے دار سے کہا کہ آپ دوسرے اداروں کی کتابیں اپنے یہاں رکھتے ہیں، آپ کو چاہیے کہ آپ الرسالہ مطبوعات کو بھی اپنے یہاں…
ایک تجربہ
آج دسمبر 2019 کی 3 تاریخ ہے۔ اس وقت میں نظام الدین ویسٹ میں ایک پارک میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا ہوں۔ دھوپ نکلی ہوئی ہے، اور موسم نہایت خوشگوار ہے۔ یہاں پارک میں بیٹھ کر میں نے مولانا عبد السلام عمری (حیدر آباد) سے موبائل پر گفتگو کی۔گفتگو کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں نے پہلی بار حیدر آباد کا سفر غالباً 1948 میں کیا تھا۔ اس وقت میں ٹرین کا سفر کرکے حیدر آباد پہنچا تھا۔ اس زمانے میں دلی سے حیدر آباد کا کمیونی کیشن بہت محدود معنوں میں ہوسکتا تھا۔ اب اللہ کے فضل سے کمپوٹر ایج آچکا ہے، اور یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بہ آسانی رابطہ قائم کیا جاسکے۔
1925 میں جب میں پیدا ہوا، اس وقت دنیا میں برٹش ایمپائر موجود تھا۔ یہ ایک پولٹکل ایمپائر تھا۔ اس وقت ایمپائر قائم کرنے کی صرف ایک صورت تھی، اور وہ یہ کہ صاحبِ ایمپائر کے پاس فوج کی طاقت موجود ہو۔ مگر آج فوج کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج کی دنیا…
سوال وجواب
میں ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہوں۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوںاورروزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن یہ تراویح جو ہر سال پڑھی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری، الرسالہ، حیدر آباد)
تراویح کوئی رسم نہیں ہے۔تراویح دراصل، قرآن کا اجتماعی مطالعہ (collective study) ہے۔ تراویح کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے اور اس کا اجتماعی مطالعہ کیا جائے۔تراویح کی بہترین صورت یہ ہے کہ کسی دن قرآن کا جو…
…کچھ والا‘‘ سمجھ رہا تھا، مگر موت کے بعد اچانک وہ ’’بے کچھ والا‘‘ بن جاتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو موت سے پہلے، خود سے فریب کے اس پردے کو پھاڑ دے، ورنہ موت اس پردے کو پھاڑے گی، لیکن موت کی طرف سے پردے کا پھاڑا جانا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
ثانیہ مرزا (21 سال) ٹینس کی مشہور کھلاڑی ہیں۔ ان کا وطن حیدرآباد ہے۔ ان کی برتھ ڈے پر ان کی ماں نسیمہ نے حیدر آباد کے ایک لگزری ہوٹل میں شان دار پارٹی دی۔ اِس کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (16 نومبر2007) میں اِس عنوان سے چھپی ہے:
Surprise party brings in Sania’s 21st birthday.
زندگی کا مقصد
۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کو شام کی فلائٹ سے میں حیدر آباد سے دہلی آرہا تھا۔ میرے ساتھ سی۔پی۔ایس ٹیم کے کئی اور افراد شامل تھے۔ اِس جہاز میں ایک خاتون نیہا بٹوارا (Neha Batwara) بھی سفر کررہی تھیں۔ ہماری ٹیم کے لوگ جہاز کے اندر مسافروں کے درمیان دعوہ ورک کررہے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مز نیہا سے بھی بات کی اور انھیں دعوتی پمفلٹ دیے۔ یہ خاتون دہلی ائر پورٹ پر اُتر کر اپنے وطن اَلور چلی گئیں۔ بعد کو حیدرآباد سے ان کا ایک خط مورخہ ۲۸ مارچ بذریعے ای میل موصول ہوا۔ وہ خط حسب ذیل تھا:
Respected Maulana!
ایک خط
محترمہ صوفیہ حیدر السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۲۳ جنوری ۲۰۰۵ ملا۔ آپ کے حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کی مدد فرمائے اور آپ کے کل کوآپ کے آج سے بہتر بنائے۔
ایک مرد ِمومن
حیدر آباد سے جناب واسم احمد خاں ایڈوکیٹ نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ ۱۰ ستمبر ۲۰۰۴ کو ۷۴ سال کی عمر میں انتقال کرگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کی وفات ایک سچے انسان کی وفات ہے۔ میرے ذاتی تجربہ کے مطابق، وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کا ایک نمونہ تھے۔ وہ ان نادر انسانوں میں سے تھے جن کے بارے میں محفوظ طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس نے ان کو دیکھا اس نے گویا ایک جنتی انسان کو زمین پر چلتے پھرتے دیکھ لیا۔
ڈاکٹر عزیز احمد خاں مرحوم میں جو اعلیٰ صفات پائی جاتی تھیں ان میں سے ایک صفت وہ ہے جس کا ذاتی طورپر مجھے تجربہ ہوا۔وہ صفت ہے، صاحب حق کی حمایت۔ دنیا میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو کسی حق کو اشو بنا کر اس کے نام پر جھنڈا اٹھاتے ہیں۔ میرے نزدیک…
…میں محنت کے بجائے رعایت کا مزاج پیدا ہوگیا۔ وہ چاہنے لگے کہ حکومت انھیں روزگار دے۔ حکومت انھیں سستا سامان دے۔ کام کئے بغیر انھیں اچھی تنخواہ ملے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا سماج فرض شناس سماج نہ بن سکا، وہ بس حقوق شناس سماج بن کر رہ گیا۔
ہمارے ملک کے عوام کا یہ مزاج ترقی کے راستہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ حکومت اگر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کرے تو عوام اس کو اپنے خلاف ایک سازش سمجھ لیتے ہیں۔ کیوںکہ انھیں نظر آتا ہے کہ جب ایسا کیا جائے گا تو ان کے لئے سرکاری ملازمت کے مواقع کم ہوجائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو محنت پر بھروسہ کرنا چاہئے نہ کہ سرکاری ملازمتوں پر۔ اس کے سوا ترقی کی کوئی اور صورت نہیں۔
پچھلے سالوں میں ناگپور اور حیدرآباد میں شہری ترقی کا کام بہت زیادہ ہوا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ طرز کا جمہوری نظام اس قسم کی ترقی کے لئے ایک غیر ضروری رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر ترقیاتی عمل میں ایسا ہوتا ہے کہ کم…
…کی بھی تباہی ۔ دنیا کی تباہی اس لیے کہ اس قسم کی کہانیاں آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی تباہی اس لیے کہ آدمی اس جھوٹے بھرم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ حقیقی عمل کے بغیر سستے اعمال کرکے وہ جنت حاصل کرسکتا ہے۔
۱۸۔ ایک مجلس میں میں نے قرآن کی دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اُس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے اور اُن میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اُس کی موت کے بعد۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھو (الحدید۱۶۔۱۷)
اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمت مسلمہ پُر اسرار طورپر قساوت میں مبتلا ہونے سے محفوظ کردی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قساوت کا تعلق فطرت کے قانون سے ہے اور وہ ہر امت کے ساتھ بعد کی نسلوں میں ڈی جنریشن(de-generation) کے نتیجہ میں پیش آتا ہے۔…
…سے بھی محروم ہوجاتا ہے کہ اس کو اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ ہو۔ لذیذ کھانا گہرے ایمانی احساس کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جولوگ لذیذ کھانے سے اوپر نہ اٹھ سکیں وہ ایک قسم کے خوش پوش حیوان ہیں، انہیں کبھی بلند انسانیت کا تجربہ نہیںہوسکتا۔
اسی طرح لباس اور تیوہار اور تقریبات اور شادی بیاہ اور سماجی رسوم اور خاندانی رواج میں اور بچوں کی ناز برداری میں تقریباً ہر مسلمان اتنا زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے جو بلا شبہہ اسراف اور تبذیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اسراف و تبذیر میں مبتلا ہونے والوں کو قرآن میںشیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ یہ بے حد خطرناک بات ہے۔ ایسے لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب کہ آخرت میںان کے بارے میں اعلان کیا جائے کہ یہ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔ ان کو اس مقام پر لے جاؤ جس کو شیطانوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
۲۵۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میںایک برائی بہت عام ہے۔ وہ کسی ایک حدیث کو لے لیں گے اور اس کو مطلق اور عمومی بنا کر اس کے معاملہ میںآخری حد تک پہنچ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم فلاں حدیث پر عمل کررہے ہیں۔ حالانکہ…
…بتانے کی ضرورت ہے کہ تم خود اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرو کہ تم خود اپنی صلاحیت کے بل پر کھڑے ہوسکو۔ تم خود اپنی صلاحیت کے بل پر اپنی جگہ بناؤ۔ تم اپنی اعلیٰ کار کر دگی کے ذریعہ ملک کی ضرورت بن جاؤ اور پھر ہر مسئلہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔
احمد آباد کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ میں نے اپنے تجربہ سے سمجھا ہے کہ مسلمانوں میںاعتراف کا مادّہ نہیں۔ مسلمان خود غلطی کرکے حالات کو بگاڑتے ہیں اور پھر جب اُس کا برا نتیجہ سامنے آتا ہے تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ میرے نزدیک غلطی پر پردہ ڈالنا غلطی پر ایک اور غلطی کا اضافہ ہے۔ غلطی کو مان لینا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی دوبارہ وہ غلطی نہیں کرے گا۔ چونکہ مسلمان اپنی غلطی نہیں مانتے اس لیے وہ بار بار اُسی غلطی کو دہراتے رہتے ہیں۔
احمد آباد کی سڑکوں اور اُس کے مختلف علاقوں سے گذرتے ہوئے میںنے ایک صاحب سے کہا کہ احمد آباد میں شہری ترقی زیادہ نہیں ہوئی۔ حالاں کہ احمد آباد ایک دولت مند شہر مانا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں پولیٹکل لیڈر زیادہ تر منفی ذہن کے…
…کے اعتبار سے بالکل غیر معیاری ہوتی ہیں۔ میرا ایک معروف اسلوب تحریر ہے۔ ان مخالفین کے اندر اگر جنرل ڈائر کے بقدر بھی علمی اور ادبی ذوق ہوتا تو وہ ان عبارتوں کو دیکھ کر فوراً ہی اُسے رد کردیتے اور کہتے کہ یہ تو صاحب الرسالہ کی زبان ہی نہیں۔
ہمارے یہاں ایک صاحب پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ میںنے مولانا وحید الدین کو ٹی وی میں دیکھا۔ ایک شخص نے اُن سے ایک سوال کیا تو وہ ہنس پڑے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہنسنا ایک غیر سنجیدہ حرکت ہے۔ آپ ایک دینی مشن چلارہے ہیں اور دینی مشن ایک سنجیدہ مشن ہوتا ہے، اس لحاظ سے ہنسنا آپ کے شایانِ شان نہیں۔ (ایک قاری الرسالہ، سہارنپور)
مجھے یاد نہیں کہ میںکب اور کس موقع پر کسی کے سوال پر ہنس پڑا تھا۔ تاہم اگر کسی اُلٹے سوال پر مجھے ہنسی آگئی ہو تو یہ کوئی غلط یا ناجائز بات نہیں۔ خواہ مخواہ قہقہہ لگانا بلا شبہہ ایک غیر سنجیدہ حرکت ہے اور اللہ کے فضل سے مجھے اس قسم کی…
ایک اخباری انٹرویو
س۔ ابھی آپ کا حیدر آباد کس سلسلہ میں آنا ہوا، اس کے بارے میں مختصر طورپر کچھ بتائیں۔
ج۔ آندھرا پردیش کی ایک تنظیم وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی کی طرف سے حیدر آباد میںتھنکرس میٹ کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع انڈیانائزیشن آف ایجوکیشن تھا۔ اس کو مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی اور آر ایس ایس کے چیف، کے ایس…
…شدت پسند تنظیموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ جیسے آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بحرنگ دل، شیوسینا اور سیمی، وغیرہ۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ ان کی وجہ سے ملکی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اور مستقبل میں حالات اور سنگین ہوسکتے ہیں۔
ج۔ انتہا پسند یا شدت پسند تنظیموں سے یقینا ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مگر میں ان نقصانات کو ناقابل تلافی نہیں سمجھتا۔ کوئی تنظیم خواہ وہ کتنی ہی طاقتور ہو وہ فطرت کے اس قانون سے باہر نہیں جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ولو لا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض۔میرا یقین ہے اور ۱۹۴۷ سے لے کر اب تک کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ہر شدت پسند لہر ایک حد تک ہی چلی۔ ایک حد کے بعد اس کو فطرت کے قانون دفع نے روک دیا۔ یہ قانون ابدی ہے اور وہ ہمیشہ جاری رہے گا۔
س۔ مسلمانوں سے بار بار یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ قرآن سے بعض آیتوں کونکال دیا جائے۔ اس کا مسلمانوں کی طرف سے کیا معقول جواب ہونا چاہئے۔
…ابدی ہیں۔ آج کل اسلامی جہاد کے نام پر مختلف مقامات پر جو کچھ ہورہا ہے وہ اسلام نہیں ہے۔ وہ اسلام کا خود ساختہ انٹرپریٹیشن ہے۔ اسلام مکمل طورپرپر امن طریقِ کار کی حمایت کرتا ہے۔ متشددانہ طریقِ کار کی اسلام میںکسی بھی حال میں گنجائش نہیں۔
۱۳ انڈین سنٹر فار فیلانتھرا پی کے تحت ۲ دسمبر ۲۰۰۲ کو انڈیا ھیبیٹٹ سنٹر نئی دہلی میںایک سیمینار ہوا۔اس کا موضوع Religion and Social Development تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور حسب ذیل موضوع پر اس میں ایک تقریر کی:
Role of Islam in Social Development
حیدر آبادکا سفر
حیدرآباد میں۷۔۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers’ Meet) کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے۔پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میںشرکت کی۔ ۷دسمبر کی صبح کو میں حیدر آباد پہنچا اور ۱۱دسمبر ۲۰۰۲ کو میری واپسی ہوئی۔
دہلی سے حیدر آباد کے لیے یہ سفر ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو انڈین ایر لائنزکے ذریعہ ہوا۔ ایر پورٹ پر کوئی خاص قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ سفر کے دوران یہ احساس ہوا کہ انڈین ایر لائنز میں پچھلے ایک سال کے اندر کئی چیزوں میں بہتری آئی…
…طرف سے کیا گیا تھا۔ اس فاؤنڈیشن کے پریزیڈنٹ مسٹر باہری بی۔آر ملہوترا (Bahri B.R. Malhotra) ہیں ۔ دعوت نامہ مورخہ ۴ دسمبر ۲۰۰۲ کے علاوہ اُن کے کئی ٹیلیفون بھی آئے۔ مگر میںخواہش کے باوجود اُ س میں شرکت نہ کرسکا (Tel.: 91-20-6111485) ۔
اس انٹرنیشنل سیمینار کی جو مختصر رپورٹ ٹائمس آف انڈیا (۷دسمبر) میں یونیورسل ہارمنی کے عنوان سے چھپی ہے اُس کو یہاں صفحہ کے نیچے نقل کیا جارہا ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وسیع پیمانہ پر انٹر نیشنل سیمینار کا اہتمام کرنے کے باوجود، مقررین پیس اور ہارمنی کا کوئی قابل عمل فارمولا پیش نہ کرسکے۔ رپورٹ کے مطابق، صدر جمہوریہ نے اپنے خطبہ میں کہا کہ مذہب کو روحانیت کا درجہ دینا چاہئے، اسی سے عالمی اتحاد پیدا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر یہ کوئی واضح بات نہیں۔ صدر صاحب غالباً مذہب کو کلچر یا رسومات کے مجموعہ کے معنیٰ میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ مذہب اپنی اصل کے اعتبار سے روحانیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی اسلام کی روح بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں نے رسوم و ظواہر کا اہتمام اتنا زیادہ کیا کہ مذہب کی اصل روح اوجھل ہو کر رہ گئی۔
انڈین ایر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد پہنچا۔ ابھی ہم جہاز کے اندر ہی تھے کہ میرے پاس کے ایک مسافر کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ اُنہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فلائٹ حیدر آباد پہنچ چکی ہے۔ میںنے…
…ہے یا سنتا ہے یا تجربہ کرتا ہے وہ سب اُس کے مومنانہ ذہن کی وجہ سے اُس کے لیے معرفتِ حق میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اسی مومنانہ صفت کو قرآن میں توسّم کہا گیا ہے۔ یہاں سلطان محمود صاحب، احمد سعید صاحب اور ضیاء الدین نیّر صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔
ہوٹل میںقیام کے دوران بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ اُن میں سے ایک قابلِ ذکر نام آرایس ایس کے چیف کے ایس سدرشن کا ہے۔ ۷دسمبر کو کھانے کی میز پر اُن سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میںنے کہا کہ الیکشن کی سیاست سے واضح ہوچکا ہے کہ ’’سنگھ پریوار‘‘ کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مرکز میں مطلق اکثریت کے ساتھ آسکے۔ آپ حضرات کا یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا کہ ہندو لوگ بڑی تعداد میں آپ کو ووٹ دیں گے اور اس طرح آپ پارلیمنٹ میںاکثریت حاصل کرلیں گے۔ آپ کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ مسلمان آپ کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ خود ہندوؤں کے اندر ذات کی بنیاد پر سیاسی تفریق اتنی بڑھ چکی ہے کہ خود ہندوؤں کی اکثریت آپ کے ساتھ نہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ ہیں جو آپ کے کلچرل نیشنلزم کو ہندو ٹیررزم کے ہم معنٰی بتاتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ مرکزی حکومت پر کس طرح قبضہ کریں گے اوراپنے سیاسی ایجنڈا کو کس طرح نافذ کریں گے جب کہ مرکزی اقتدار پر قبضہ کیے بغیر آپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کا نفاذ ممکن نہیں۔
سُدرشن جی نے میری بات کے وزن کو تسلیم کیا اور کہا کہ اب ہم اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔ ہم نے ریجنل بنیاد پر بہت سے کام شروع کردیے ہیں اور اس میں ہمیں کامیابی کی پوری اُمید ہے۔ غالباً ان حضرات کا یہ خیال ہے کہ علاقائی سطح پر کام کرکے لوگوں…
…کا مقصد صرف یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں جو مشترک اخلاقی تعلیمات موجود ہیں اُن کو اسکول کے نصاب میں داخل کیا جائے۔ یہ کام سیکولر انداز میں ہونا چاہئے، نہ کہ مذہبی انداز میں۔ فیصلہ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ سیکولرزم ہمارے دستور کی بنیاد ہے:
Secularism is the basic structure of the Indian constitution. (p. 52)
ایک تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ لوگ خدا اور روحانیت کی بات کرتے ہیں لیکن آج کا ایک انسان جس کے پاس پیسہ ہے اور جس کو مادّی سہولتیں حاصل ہیں وہ کہتا ہے کہ ہم کو خدا اور روحانیت کی کیا ضرورت ۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ…
…کو صحیح شکل میںرپورٹ نہیں کرتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے لارڈ ٹی۔بی میکالے(وفات ۱۸۵۹) نے غیر منقسم ہندستان میں انگریزی تعلیم کے بارے میں اپنا مشہور خاکہ پیش کیا جس کو اُس وقت کی برطانی حکومت نے منظور کرکے اُسے ملک میں جاری کیا۔
لارڈ میکالے کے اس خاکہ کے بارے میںاپنی نوجوانی کی عمر میں میںصرف یہ جانتا تھا کہ اُس کا مقصد ایک ایسی قوم بنانا ہے جو پیدائش کے اعتبار سے انڈین اور خیالات کے اعتبار سے انگلش ہو۔ اُس وقت کے لیڈر یہی بات لکھتے اور بولتے تھے۔ مگر بعد کو جب میں پختگی کی عمر کو پہنچا تو میںنے یہ سوچنا شروع کیا کہ انگریزی تعلیم کا یہی وہ نظام تھا جس سے ملک کے تمام اعلیٰ افراد پیدا ہوئے—سوامی وویکا نند، آروندو، ٹیگور، ڈاکٹر رمن، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، جے پرکاش نرائن، راجیندر پرشاد، رادھا کرشنن، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر ذاکر حسین، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس آزادی کے بعد ہماری قومی حکومت نے جو تعلیمی نظام ملک میں رائج کیا اُس سے مذکورہ قسم کی شاید کوئی ایک بھی اعلیٰ شخصیت پیدا نہ ہوسکی۔
اس کے بعد جب میں نے اس معاملہ کا ازسرِ نو مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ لارڈ میکالے کی ایک تقریر کے ایک جملہ کو لے کر مذکورہ بات پھیلائی گئی۔ جب کہ انگریزی تعلیم کے منصوبہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ ملک کے نوجوانوں کو جدید علوم اور جدید معیار کے…
…میں ہونے والی میری تقریر کی رپورٹ مختلف اخبارات میں چھپی ۔ حیدرآباد کے اُردو روزنامہ منصف (۱۲ دسمبر ۲۰۰۲) میں یہ رپورٹ اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی— ’’ مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ ایک شام‘‘۔ اس رپورٹ کا کچھ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’عید کے دوسرے دن، ادارہ ادبیاتِ اردو کے ایک صاحبعبدالنعیم نے دعوت نامہ پیش کیاکہ مولانا وحید الدین خاں کا لکچر ہے اور آپ کا چلنا ضروری ہے۔ یہ وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی آندھرا پردیش کی جانب سے مختلف مذاہب کے مفکرین کا سیمینار تھا جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ترقی تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی پہنچے تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سرمئی اجالے میں وسیع سبزہ زار پر اسٹیج وکرسیوں کا انتظام تھا۔ تیز روشنی میں سیکورٹی کا غیر معمولی اہتمام کیاگیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل مرلی منوہر جوشی اور آر ایس ایس کے سَر سنچالک سدرشن جی بھی تشریف لارہے ہیں۔ جب ہم پہنچے تھے تو اسٹیج پر تین چار حضرات موجود تھے اور سیمینار کے پہلے مقرر ڈاکٹرڈیوڈ فرالے (David Frawlay) انگریزی میںویدک نالج دے رہے تھے۔ اُنہوں نے ہندو دھرم کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور تالیوں کی گونج میں اپنی کرسی پر دوبارہ بیٹھ گئے۔ دوسرے مقرر مولانا وحید الدین خاں تھے جنہوں نے ناسازی ٔ مزاج کی بنا پر مختصر خطاب کیا لیکن لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔
مولانا وحید الدین خاں نے انگریزی میں بولتے ہوئے بتایا کہ ہندستان بہتر کیوں ہے۔ مذہبی آزادی اور روحانی ماحول کی وجہ سے ہندستان، ساری دنیا میں اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔ یہ صوفیوں اور سَنتوں کا ملک رہا ہے۔ موجودہ حالات کی روشنی میں اُنہوں نے…
…بھی کرتے ہوں تو وہ اس لٹریچر کو استعمال کریں اور خود لکھنے اور بولنے کے بجائے اُس کی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کے لئے دیں۔ مگر بدقسمتی سے ان لوگوں نے تیسری صورت کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔
کچھ مسلم نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ دعوت کاکام آدمی کو فطرت کے راستہ پرلے آنا ہے۔ اس کا مقصد کنڈیشننگ کو ختم کرکے انسان کو اپنی فطرت پرقائم کرنا ہے، مسلم وغیرمسلم دونوں کا مسئلہ یہی ہے:
Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims.
…پسند ریاست چاہئے۔ مغربی نیوز ایجنسی کی اس رپورٹ میں بظاہر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اسلام دور قدیم کا ایک مذہب تھا، دور جدید میں اب وہ ایک غیر متعلق چیز بن کر رہ گیا ہے، حتیٰ کہ خود مسلمانوں کی نئی نسلیں اب اس قدیم نظام سے بیزار ہورہی ہیں۔
اس اخباری رپورٹ کو لے کر ایک صاحب نے کہا کہ مغربی نیوز ایجنسیاں اسی طرح اسلام کو بدنام کرتی رہتی ہیں۔ وہ اسلام کو ایک فرسودہ نظام ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ اسلام کے مقابلہ میں جدید مغربی نظام زیادہ بہتر ہے۔ میںنے کہا کہ اس نامطلوب صورت حال کی ذمہ داری خود مسلم لیڈروں پر ہے، نہ کہ مغربی میڈیا پر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں یہ ہوا کہ وہاں کے انتہا پسند (radical) رہنما اسلامی نظام قائم کر نے کے شوق میں اچانک سخت تبدیلیاں نافذ کرنے لگے۔ جب کہ یہ کام صرف تدریجی طورپر انجام دیا جاسکتا ہے۔ صحیح البخاری میںحضرت…
…ہے کہ وہاں ایک قسم کا صحافت کلچر وجود میںآچکا ہے۔ یہ بات شاید کسی اور ہندستانی شہر میں موجود نہیں۔ یہاں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ مثلاً رہنمائے دکن، سیاست، منصف، عوام، وغیرہ۔ حیدر آباد میں قیام کے دوران ان اخبارات کا مطالعہ جاری رہا۔
روزنامہ عوام کے شمارہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ کے آخری صفحہپر حیدر آباد کی ایک دردناک خبر پڑھنے کو ملی۔ اس خبر کاعنوان یہ تھا:بیٹے کو عید کے کپڑے دلانے سے محروم والد کی خود سوزی۔ یہ خبر یہاں نقل کی جاتی ہے:
’’حیدر آباد۔ ۹دسمبر (عوام نیوز) عیش وعشرت اور شادی بیاہ کے موقعوں پر لاکھوں روپیوں کا اسراف کرنے والوں کے اس شہر میں ایک ایسا خاندان بھی موجود ہے جوعید الفطر کے موقع پر اپنے اکلوتے فرزند کے لیے نئے کپڑے خرید نہ سکا اور اُس سے دل برداشتہ…
…انڈیا کے بانی اور ایڈیٹر کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لیے اب ہم اس میدان سے ہٹ رہے ہیں۔ اس کے برعکس اُنہوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ ہمارا مقصدپورا ہوچکا ہے اس لیے اب ہم اپنا آخری ایڈیٹوریل لکھ رہے ہیں۔
۹ دسمبر کو جب کہ میں مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے گیسٹ ہاؤس میںمقیم تھا، دو تعلیم یافتہ مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ بیٹھتے ہی اُن میں سے ایک شخص نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ آج کے اخبار میں یہ خبر چھپی ہے کہ امریکہ ایک مہینہ کے بعد عراق پر حملہ کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ عراق پر امریکہ کا حملہ تو ایک مہینہ کے بعد ہوگا مگر ہر ایک شخص کے اوپر شیطان نے تو آج ہی حملہ کررکھا ہے۔ پھر اس بڑے حملہ کے خلاف آپ جیسے لوگ کیا کررہے ہیں۔
عام طورپر یہ حال ہے کہ لوگ خبر کے نام پر اسی طرح کی خبروں کو جانتے ہیں۔ جب بھی چند آدمی کسی مجلس میں اکٹھا ہوں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی اس قسم کی کوئی خبر بیان کرتا ہے اور دوسرے لوگ اُس کو مان کرفوراً اُس پر رائے زنی شروع کردیتے ہیں اور…
…صاف ہوگئی تو میںنے دیکھا کہ تین کاریں آئیں اور تیزی سے گذرتی ہوئی آگے چلی گئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ سابق حیدرآباد کے نواب کی سواری تھی۔ وہ روزانہ اسی طرح اپنی رہائش گاہ سے کسی مقام پر جاتے تھے اور ہر دن سڑک اُن کے لئے خالی کردی جاتی تھی۔
میں نے کہا کہ ۱۹۴۳ میں حیدر آباد میں صرف چند کاریں تھیں اور یہ کاریں صرف نواب یا کسی بڑے جاگیر دار کے پاس تھیں۔ آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں کاریں موجودہیں۔ لوگ پہلے سے زیادہ اچھے مکانات میں رہتے ہیں۔ مسجد اور مدرسے اور اسلامی ادارے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ آج امام اور مدرّس کے جیب میں بھی موبائل ٹیلی فون ہوتا ہے جو گذشتہ دور میں نواب کے پاس بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج کے مسلمان پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ دھوم کے ساتھ شادی وغیرہ کی تقریب مناتے ہیں۔ آج پہلے سے زیادہ تعدادمیں یہاں کے لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، وغیرہ۔
ایسی حالت میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے لیے شکایت اور احتجاج کی بولی بولنا گناہ ہے۔ اُن پر فرض ہے کہ وہ یا تو شکر کی بولی بولیں یا چپ رہیں۔ (من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً اولیصمت)۔
What is the future of my mission
میں نے مذکورہ معتقد کو وہ کاغذ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ آشرم میں چلتا ہوں۔ میں اُن سے زبانی طورپر کچھ سوال نہیں کروں گا۔ وہ خود سے جان کر میرے اس سوال کا جواب دیں۔ ہم دونوں وہاں پہنچ کر مجمع میں بیٹھ گئے۔ سائی بابا اپنے راؤنڈ پر نکلے۔ وہ چلتے ہوئے میرے پاس پہنچے۔ وہ چند سیکنڈ کے لیے میرے پاس ٹھہرے اور پھر کچھ بولے بغیر آگے بڑھ گئے۔ میں نے مذکورہ معتقد سے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ سائی باباخود سے میرے سوال کا جواب دے دیں گے۔ مگر اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مذکورہ معتقد لاجواب ہو کر خاموش رہے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں سماجی اصلاح کی تحریکیں کثرت سے اُٹھائی گئیں مگر اُن کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔میںنے کہا کہ میرے تجربہ کے مطابق، تحریکیں اُٹھانے والے بطور پروفیشن تحریک اُٹھاتے ہیں، نہ کہ بطور…
…کہ کوئی بڑا عالم اور رہنما اٹھے جو جہاد کی پُر امن تعبیر پیش کرکے مسلمانوں کو ریورس کورس پر ڈال سکے۔ یعنی پُر تشدد طریقِ کار کے بجائے پُر امن طریقِ کار۔مگر ہزار سال کے دوران ایساکوئی رہنما پیدا نہ ہوسکا۔ چنانچہ قومی رُخ بھی بدلا نہ جاسکا۔
۱۰ دسمبر کی شام کو یہاں کے المعہد العالی الاسلامی کو دیکھا اور اُس کے بانی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر کئی لوگ میرے ساتھ تھے—ڈاکٹر شیزان صاحب، عمر عابدین صاحب، عبد الرؤف صاحب، عبد الغفار صاحب، وغیرہ۔
یہ ادارہ ۱۴۲۰ھ میں قائم کیا گیا۔ اس میں مدارس دینیہ کے فارغین کو داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اُس کے تعارف نامہ میں یہ بتایا گیا ہے: مختلف علوم اسلامی میں افراد کار کی تیاری، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت، علماء کو انگریزی زبان اور جدید علوم…
…کر جائے تو وہ صرف ایک کھیل کو وقتی طورپر کھوئے گا، لیکن آخرت کا مسافر اگر غلطی کرے تو وہ ابدی جنت کو کھو دے گا۔ اس سنگینی کا تقاضا ہے کہ کھیل کے کیپٹن کے مقابلہ میںآخرت کا مسافر مزید اضافہ کے ساتھ یہ کہے کہ میںغلطی کا تحمل نہیں کرسکتا۔
ایک اور بات میںنے یہ کہی کہ سچائی کے مشن میںاپنا واجبی حصہ ادا کرنے کے لیے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی کا سینہ شکایتوں سے خالی ہو۔ عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سچائی کا ارادہ لے کر کچھ لوگوں کے ساتھ سفر شروع کرتا ہے۔ ا س کے بعد شکایتوں کا عذر لے کر وہ قافلہ سے الگ ہوجاتا ہے۔ یہ مزاج بے حد خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا معاملہ ہویا آخرت کا معاملہ، کامیابی کا واحد فارمولا یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس ایک اچھا عذر ہو تب بھی تم اُس کو استعمال نہ کرو:
If you have a good excuse, don't use it.
…کہ موجودہ زمانہ کے پڑھے لکھے لوگ عام طورپراس حکمت سے بے بہرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باتوں کو واضح انداز میں سمجھ نہیںپاتے۔ وہ خود بھی کنفیوژن میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے تحریر و تقریر کے ذریعہ دوسروں کو بھی کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔
۱۱ دسمبر کی صبح کو حبیب بھائی کے گھر سے ایر پورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ اُن کے گھر سے ایر پورٹ بہت قریب ہے۔ ساتھیوں سے رخصت ہو کر ایر پورٹ کے اندر داخل ہوا ۔ حیدر آباد سے دہلی کے لیے واپسی دوبارہ انڈین ایر لائنز کی فلائٹ سے ـتھی۔ جہاز ٹھیک اپنے وقت پر حیدر آباد سے روانہ ہوا۔
حیدر آباد اوردہلی کے درمیان سفر کرتے ہوئے کچھ اخبارات دیکھے۔ انڈین ایکسپریس کے بمبئی ایڈیشن (۱۱ دسمبر، ۲۰۰۲) میں صفحہ ۶ پر ایک مضمون تھا۔ مضمون نگار کا نام مسٹر عندلیب اختر چھپا ہوا تھا۔ عنوان کے الفاظ یہ تھے:
…تاکہ تبلیغ کاکوئی آدمی مل جائے جس سے میںتبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میںنے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہوسکی۔ میںنے ان کو ٹیلیفون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری ظاہر کی۔ اس کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:
(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)
اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ میںانہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:
…کی داخلی اصلاح، مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانا، مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا، مسلمانوں کو جدید اقتصادیات میں آگے بڑھانا، جدید وسائل کی مدد سے دعوت وتبلیغ کا کام کرنا، مسائل کو نظر انداز کرکے مواقع کو استعمال کرنا، وغیرہ۔
آپ کے تعمیری انداز اور پلس طریقِ تعلقات اور دنیاوی اور دینی انداز عمل سے غیر متفق ہونے کا سوال ہی نہیں۔ لیکن ہم تجربہ حاصل کررہے ہیں کہ پریکٹکل لائف میں خیالات کی صحت مندی کام دینے سے قاصر ہے۔ لوگ، بالخصوص دیگر اور الگ الگ مذاہب کے لوگ اب بالکل ہی بے حس ہوگئے ہیں، وہ دوسروں کی پرابلم کو یا اوروں کی مصیبتوں کو سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے ۔ انجام کیا ہوگا (عدنان کریمی، حیدر آباد)
موجودہ زمانہ کے مسلمان اور اُن کے رہنما ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ نماز روزہ کے مسائل اور حج کے آداب جیسے معاملات میں تو اسلام سے رہنمائی لینے کے لیے تیار ہیں۔ مگر جہاں تک اُن کے ملّی اور قومی مسائل کی بات ہے تو وہ ان معاملات میںاپنی…
…آئے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ سلطان محمد غوری نے قنّوج کے مقام پر اُنہیں شکست دی تھی۔ راٹھور راجپوتوں کے تعلقات مغل سے بہت اچھے تھے۔ جودھ پور قدیم زمانہ میں دہلی۔گجرات کی تجارتی شاہراہ پر قائم تھا اس لیے اُس کو کافی خوشحالی حاصل ہوئی۔
۱۹۴۷ میں جب ریاست کا زمانہ ختم ہوا، اُس وقت مہاراجہ جودھ پور کے پاس کئی بڑے بڑے محل تھے۔ ان لوگوں نے ریاستی اقتدار سے محرومی پر شکایت اور احتجاج میںوقت ضائع نہیں کیا۔ اُنہوں نے نئی تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے نئے حالات میں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے کئی محل کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کردیا۔ مثلاً ان کا ایک محل ۳۴۷ کمروں پر مشتمل تھا۔ اُس کو نئی شکل دے کر ۹۸ کمروں کا ایک ہوٹل بنادیا گیا۔
جودھ پور سے مسلم قیادت کی ایک انوکھی داستان وابستہ ہے۔ ۱۹۴۶ میں جب یہ فیصلہ ہوگیا کہ برصغیر ہند کی تقسیم ہوگی اور یہاں انڈیا اور پاکستان دو الگ الگ ملک بنیں گے تو مسٹر محمد علی جناح جودھ پور آئے اور موجودہ مہاراجہ کے والد سے ملاقات کی۔…
…اور اچانک ان کے کمپیوٹر نے ’’عالمی لائبریری‘‘ سے لے کر جودھ پور کے بارے میں ٹائپ شدہ ۱۳ صفحات کا ایک پورا معلوماتی دفتر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس میں جودھ پور کی تاریخ، اس کا جغرافیہ، اور اس سے متعلق دوسری معلومات تفصیل کے ساتھ موجود تھیں۔
انٹر نیٹ کے ذریعہ جودھ پور کے بارے میں جو معلومات مجھے حاصل ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ موجودہ شہر ۱۴۵۹ ء میں مارواڑ کی راجدھانی کے طورپر بنایا گیا۔ اُس کے بانی راؤ جودھا تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ رام کی ذرّیت ہیں:
The former capital of Marwar state, was founded in 1459 by Rao Jodha who claimed descendant of Lord Ram.
…کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جودھ پور کے مقابلہ میں حیدر آباد بہت بڑی ریاست تھی۔ جودھ پور گویا ایک شہر تھا اور حیدر آباد ایک پورا ملک۔ مگر جودھ پور آج بھی اپنی شان وشوکت کے ساتھ باقی ہے اور حیدر آباد کی ریاستی حیثیت ختم ہوگئی۔
دونوں میں اس فرق کا سب سے بڑا سبب قیادت کا فرق ہے۔ حیدرآباد میںقاسم رضوی جیسا غیر حقیقت پسند لیڈر پیداہوا جس نے قوم کوایک ناقابل حصول نشانہ پر کھڑا کر دیا، یعنی آزاد ریاست ۔ دوسری طرف جودھ پور کے مہاراجہ نے حقیقت پسندی کا انداز اختیار کیا۔ انہوں نے ممکن کے دائرہ میں اپنے مستقبل کی نئی منصوبہ بندی کی اور وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ۱۹۴۷ میں نئی دہلی نے ریاست حیدرآباد کو داخلی اٹانومی کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ ’’آزادحیدرآباد‘‘ کا خیال چھوڑ دے۔ ریاست حیدرآباد کے ذمہ داروں نے اگر اس پیش کش کو قبول کر لیاہوتا تو یقینا آج اُس کی حیثیت جودھ پور سے بہت زیادہ بہتر ہوتی۔
۱۲ مئی ۲۰۰۲ء کی صبح کو جودھ پور سے واپسی ہوئی۔ واپسی کے اس سفر میںدوآدمیوں کا ساتھ رہاــــــــبابو لال شرما اور نیتن لمے۔ ان لوگوں سے راستہ میں مختلف قسم کی باتیں ہوئیں۔ بابو لال شرما کا تعلق گاندھی پیس فاؤنڈیشن سے ہے۔ اور نیتن لِمے کا…
خطوط
برادر محترم محمد مسیح الدین فاروقی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۳۰ مارچ ۲۰۰۲ء تحفہ کے پارسل کے ساتھ ملا، جزاکم اللہ۔ مجھے فاروقی منجن کے مقامی ڈیلر کا پتہ مطلوب تھا۔ میںنے آرڈینری پوسٹ کارڈ پر اپنے رفیق کار برادرم ندیم احمد سنابلی سے معمولی انداز میں ایک خط لکھوا کر بھیج دیا تھا۔ ایسا…
…کو دور کرنے کا ایک انداز تھا۔ یہ در اصل ایک اخلاقی کلمہ ہوتا تھا، نہ کہ تعریف طعام کا کلمہ۔ اس راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے اس کو پسندیدہ کھانے کے ساتھ جوڑ دیا اور خود اپنے غیر مطلوب شوقِ طعام کے لئے اس کو ایک شرعی جواز بنا لیا۔
مولانا شمس الدین ندوی نے مجلس میںایک سوال کیا کہ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، عام طورپر اس کے دو اسباب ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معمولاً کم کھانا پسند کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پیٹ کے تین حصے کرو۔ ایک حصہ کھانے کے لئے، ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ خالی۔دوسرا سبب یہ ہے کہ مدینہ میں ہجرت کے بعد آبادی میںاچانک اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں کھانے کی چیزوں کی قلت ہوگئی تھی۔ اس بنا پروہاں کی آبادی کے لئے عمومی طورپر قلتِ خوراک کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ دوسروں کی طرح رسول اللہ اور مہاجرین بھی اس مسئلہ سے دوچار ہوئے۔
مولانا اختر قاسمی نے فرمایا کہ الرسالہ کا یہ پیغام ہے کہ مسلمانوں کے اندر داعیانہ ذہن پیدا ہو۔ اب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندستان کی مسلم جماعتوں کے ذمہ دار بھی الرسالہ کی زبان ہی میں بات کرنے لگے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو کیوں نہ ہم دعوت…
فتحِ مبین کا راز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو …
…the initial stage in a bid to get more than what we are being offered, we only prolong the conflict. Then the conflict is bound to become more complicated. Consequently, we will lose even whatever was available to us in the first instance.
Let me cite an example to clarify this point. In 1917, the British drew up a plan, known as the Balfour Declaration, to partition Palestine. This division was clearly in favour of the Arabs. By the terms of this scheme, less than half of the land was to be given to the Jews and more than half to the Arabs, inclusive of the entire city of Jerusalem. However, the Muslim leaders of that time refused to accept this plan. If they had adopted a pragmatic and realistic approach and accepted whatever was being offered to them at the time, they could have then devoted all their energies and resources to constructive purposes. The condition of the Palestinians could, in consequence, have been much better than that of the Jews. However, owing to the unrealistic approach of the Muslim leaders, the Palestinians lost their all and had to face death and destruction.
Exactly the same has happened in the case of Jammu and Kashmir because of the utter ineptitude of the leaders of Kashmir and Pakistan.
21جنوری1986
20جنوری 1986 کی صبح کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر439 کے ذریعے دہلی سے حیدرآباد گیا اور 21 جنوری کی شام کوفلائٹ نمبر539 سے واپسی ہوئی۔دہلی سے حیدرآباد جاتے ہوئے جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے۔اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ کہا— کیپٹن مصطفیٰ جہاز کے پائلٹ ہیں
Captain Mustafa is in command
…صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کا ذہن بنایا اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان کیا (مسند احمد، حدیث نمبر 8620)۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں پہلے اس کے موافق ذہنی فضا بنانی پڑے گی۔ محض قانون کے زور پر لوگوں کو شراب نوشی سے روکا نہیں جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ مگر یہ طریقہ ہم کو اسلاف کے یہاں نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک قانون ہی کے زور پر شراب کو روکا جاتا رہا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ پہلے ذہنی فضا بنائی جائے اس کے بعد شراب پر پابندی لگائی جائے۔
میںنے کہا پچھلے زمانے پر موجودہ زمانہ کو قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ پچھلا زمانہ وہ ہے، جب کہ اسلامی روایات کا تسلسل برابر جاری تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں اسلامی روایات کا تسلسل یکسر ٹوٹ گیا ہے۔ اب دوبارہ وہی ضرورت پیش آگئی ہے، جو رسول…
…دنیا میں جب بظاہر اس کے قدم رک جاتے ہیں تو وہ اپنے اندر ہی اندر مارچ کرنے لگتا ہے۔ خارجی تدبیروں سے جب وہ منقطع ہوجاتا ہے تو اس کا رشتہ قوت کے اس لازوال سرچشمے سے جڑ جاتا ہے جو کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے خارجی تدبیروں کا محتاج نہیں۔
قاسم رضوی (1902-1970) ’’آزاد حیدر آباد‘‘ کے علم بردار تھے۔ وہ بہت زور وشور کے ساتھ آزاد حیدر آباد کی تحریک چلا رہے تھے۔کسی ہندوسیاست داں نے ان سے کہا کہ آپ حیدرآباد کو آزاد حیدر آباد کیسے بنائیں گے جب کہ آپ چاروں طرف انڈین یونین سے گھرے ہوئے ہیں۔ قاسم رضوی نے جواب دیا:
’’ہم نہیں گھرے ہوئے ہیں، تم گھرے ہوئے ہو‘‘
19 جون 1984
حبیب بھائی (حیدر آباد ) نے تجارت سے متعلق بہت سے دلچسپ واقعات بتائے ۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا۔
مشہورصنعت کارمسٹر برلا کی جوٹ مل میں ایک افسر تھے ۔ ان کا نام مسٹرگپتا تھا۔ ایک روز مسٹر برلا نے ان کا معائنہ کیا اور ان کے کام کے بارے میں پوچھا ۔ انھوں نے اپنی محنت کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ میں نہایت محنت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام…
یکم جولائی 1984
مغل حکمراں جہاں گیر کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی بیوی (نور جہاں) سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک بار ملکہ نے بادشاہ سے محبوبانہ شکایت کی ۔ یہ معاملہ ایک اسلامی اور دینی معاملہ تھا۔ بادشاہ نے صفائی کے ساتھ کہا :
جاناں ، جہاں بتو دادم نہ کہ ایمان
…ہیں اور آجکل نیو یارک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنا پتہ لکھوایا اور کہا کہ انگریزی الرسالہ ان کے نام جاری کر دیا جائے اور انگریزی کتابیں انھیں روانہ کر دی جائیں ۔ ان کے ذریعہ وہ وہاں کے غیر مسلم صاحبان میں اسلام کی دعوت پہنچانا چاہتے ہیں۔
آج دن میں عبدالغفور صاحب (موجودہ ایم پی ، سابق چیف منسٹر بہار) کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں الرسالہ پابندی سے پڑھتا ہوں اور آپ کے یہاں کی تمام کتابیں قیمت دے کر خریدنا چاہتا ہوں میرے یہاں سب کتابیں بھجوا دی جائیں ٹیلیفون (3017739)
اس طرح ہر روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا مشن خدا کے فضل سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اور وسیع پیمانہ پرلوگوں کو متاثر کررہاہے۔64 سال کی عمرکو پہنچ کر اب میری صحت کافی کمزور ہوگئی ہے ۔ تاہم امید ہے کہ انشاء اللہ…
…رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عرب کے بے شمار لوگوں نے آپ پرطعن کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ایسا کرتے تو اسلام کی تاریخ ہی نہ بنتی کیوں کہ یہی لوگ تھے جو بعد کو مومن ہو کر اسلام کی طاقت کا ذریعہ بنے۔
ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد (61/5) میں اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قدیم عرب میں ایسے لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی عدالت پرقدح کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اس کا حق حاصل تھا۔ آپ کو آزادی تھی کہ خواہ ایسے شخص کو سزا دیں یا اسے چھوڑ دیں ۔ مگر آپ کی امت آپ کے حق کی وصولی کو ترک نہیں کر سکتی (عربی۔ ص۔ 49)
ابن قیم کی یہ توجیہہ نہایت کمزور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قسم توجیہہ کو شریعت میں معتبرمان لیا جائے تو شریعت کا سارا نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔
آسکر وائلڈ Oscar Wilde) ) نے کہا کہ عدم قناعت ترقی کا پہلا زینہ ہے، ایک فرد کے لئے بھی اور ایک قوم کے لئے بھی :
Discontent is the first step in the progress of a man or nation.
آدمی کے اندر ہر قسم کی صلاحیتیں پیدائشی طور پرموجود ہیں مگرعام حالت میں وہ سوئی ہوئی رہتی ہیں۔ جب کوئی ٹھیس لگتی ہے یا کوئی محرومی پیش آتی ہے تو اس کے نتیجے میں آدمی کے اندر عدم قناعت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی سوئی ہوئی طاقتیں…
حدیث کی کتابوں میں دوا علاج کے بارہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں عام طور پر باعتبارسند زیادہ قوی نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ عرب کے اقوال ان میں شامل ہوگئے ہوں۔ تاہم ان میں بڑی حکمت کی باتیں ہیں ۔
مثلا ایک روایت میں ہے کہ : المعدة بيت الداء ( معدہ یماریوں کا گھر ہے)
یہ ایک حقیقت ہے کہ بیشتر بیماریوں کا سرچشمہ معدہ ہوتا ہے ۔ اگرخوراک کے بارہ میں کامل احتیاط برتی جائےاور پرخوری سے پرہیز کیا جائے تو آدمی بیشتر بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔
…دفعات ۱۷۱ اور ۱۷۲ کے مطابق اگر کوئی مردیا خاتون کچھ زرعی جائداد چھوڑ کر فوت ہو جائے ، اور اگر ان کے وارثین میں بیٹے بھی ہوں تو کل جائداد بطور تر کہ صرف بیٹوں اور یتیم پوتوں کو ملتی ہے۔ شادی شدہ یا غیرشادی شدہ بیٹیوں کو کچھ نہیں ملتا۔’’
یہ قانون ہند ومسلمان دونوں پرنافذ ہے۔ یہ شریعت کے قانون وراثت میں کھلی ہوئی مداخلت ہے ۔ مگر پچھلے ۴۰ سال کے اندر کسی بے ریش یا باریش لیڈرنے اس کے خلاف کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی۔ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصؒہ اس کے مقابلہ میں بہت معمولی تھا۔ جب کہ مذکور قانون کا معاملہ اس سے بہت زیادہ سنگین ہے۔
اس معاملہ میں نام نہاد لیڈروں کی خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی جاسکتی تھی۔ مگر مذکورہ قانون کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع نہیں کی جا سکی۔ یہ حال ہے ان لیڈروں کا جوشاہ بانو بیگم کی…
…فراموش کر دی ہیں اور عام انسانوں کی فلاح سے زیادہ شخصی اور جماعتی مفادات کی فکر کی جاتی ہے (لوگوں کو) صحیح راستہ پر لانے کے لئے وہ پچھلے کئی برس سے پیام انسانیت کی تحریک چلارہے ہیں جس کاسیاست سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔( صفحہ 2 )
مولانا ابوالحسن علی ندوی کا اپنے بارہ میں یہ بیان ادھورا ہے۔ انہیں کہنا چاہئے کہ جن لوگوں سے مجھے شکایت نہ پیدا ہوئی ہے ، ان کے لئے میں اخلاقی ہوں ۔ مگر جن سے میری شکایت پیدا ہو جائے ان کے لئے میں سیاسی لیڈروں کی طرح ہو جاتا ہوں۔
اس کی زندہ مثال میری ذات ہے۔ میں نے مولانا موصوف پر خالص علمی انداز کی تنقید کی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مجھ سے برہم ہو گئے۔ میری باتوں کا انھوں نے علمی جواب تو نہیں دیا۔البتہ انتہائی بے بنیا دطور پر میرے اوپر' کذب بیانی' کا الزام لگایا (…
…ملانے کی کوشش کی۔ مگر کوئی ریاست تیار نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ تنہا انگریزوں سے لڑ گئے۔4 مئی 1799 کو سرنگاپٹنم میں انگریز کی گولی نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ ٹیپو کا یہ قول بہت مشہور ہے : شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسال کی زندگی سے بہتر ہے۔"
اس جملہ میں بہادری ضرور ہے ، مگر اس میں دانش مندی نہیں۔ اگر یہ کوئی مطلق اصول ہوتو رسول اور اصحاب رسول کو مکہ میں شیرکی طرح لڑکر شہید ہو جانا چاہئے تھانہ کہ وہ ایک ایسی روش اختیار کریں جس نے اغیار کو موقع دیا کہ وہ اس کو'' فرار " سے تعبیر کریں۔
جنوبی ہند میں حیدرہ آباد کے نظام نے ٹیپو سلطان کے برعکس طریقہ اختیارکیا ن۔ تیجہ یہ ہوا کہ وقتی مصالحت کی بنا پر انھیں یہ موقع ملا کہ وہ قیام ریاست 1768سے لے کر 1956 تک ہندستان کے اندر اور ہندستان کے باہرمسلمانوں اور اسلامی اداروں کی…
14 اکتوبر 1989
محمد ہاشم قاسمی صاحب حیدرآباد ، جنھوں نے ہمارے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے راقم الحروف کو بد نام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ حال میں انھوں نے ایک ہینڈپل چھاپ کر تقسیم کیا ہے۔ اس میں میرے متعلق بہت سی جھوٹی اور بے بنیاد باتیں کہی گئی ہیں ۔
ایک صاحب اس ہینڈ بل کو پڑھنے کے بعد مجھ سے ملے۔ انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دینا چاہئے۔ میں نے پوچھا کہ یہ آپ نے کیسے جا نا۔ انھوں نے کہا کہ دیکھئے ، اس ہینڈبل میں یہی لکھا ہو اہے۔ میں نے…
27 اکتوبر 1990
ایک صاحب نے ہندستانی حکومت کے تعصب کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ دہلی میں پار یونیورسٹیاں ہیں۔ اور چاروں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس وقت مسلمان ہیں۔ دتی یونیورسٹی کے پروفیسرونس رضا ، جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ایم ایس اگوائی، جامعہ میر میں ڈاکٹر ظہور قائم۔ ہمدرد یونیورسٹی میں پروفیسر رشید الظفر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے جو چیز سب سے زیادہ اٹھالی گئی ہے، وہ شکر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو چیر انھیں کی ہوئی ہے ، اس پر وہ شکر نہیں کرتے۔ اور جو چیز نہیں کی ، اس ر فریاد کرتے ہیں۔ شکر کرنے پر خدا کی نعمتوں میں اضافہ کیا جا تا ہے۔ اور ناشکری کرنے پر خدا کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔
28 اکتوبر 1990
یکم دسمبر 1989
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا : دعوت فخر کا اظہار نہیں، دعوت تواضع کا اظہار ہے۔ اس کا پیغام روشنائی سے تحریر نہیں کیا جاتا بلکہ آنسوں سے لکھا جاتا ہے۔ دعوت وہ پیغام ہے جو نفرت کی زبان میں نہیں دیا جاتا ، بلکہ محبت کی زبان میں دیا جا تا ہے ۔ وہ نعروں کے ذریعہ نہیں بلکہ دعاوں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ دعوت ایک ربانی عمل ہے نہ کہ کسی قسم کا قومی عمل۔
2 دسمبر 1989
…مسلمانوں اور عیسائیوں میں لڑائی شروع ہوگئی ۔ روسی حکومت نے اس کو دبانے کی کوشش کی تو وہ لوگ خود حکومت سے لڑ گئے۔ آجکل اخبارات میں روزانہ اس کی خبریں آرہی ہیں۔ یہی صورتحال اکثر مقامات پر ہے مگر یہ اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کا طریقہ نہیں۔
اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بچھڑے ہوئے طبقات میں علم اور شعور پیدا کیا جائے۔ دوسروں سے لڑ کر کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔
27 جنوری 1990
یکم فروری 1990
ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے اس نقطہ نظر کی حمایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر شتم کرنے والاعلی الاطلاق طور پر قابل قتل ہے۔
اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کے سامنے یہ سوال آیا کہ عرب کے بہت سے لوگ جو مسلمہ طورپرشتم اور ایذارسانی کے مجرم تھے، اس کے با وجو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قتل نہیں کرایا۔ مثلا عبد اللہ بن ابی کو ۔ ابن تیمیہ نے اس کی جو توجیہ کی…
…ہو۔ دیکھتے نہیں کہ خنزیر نے میری چادرگندی کر دی ۔ ان کے غصہ پر پولیس والا بھی غصہ ہوگیا۔ اس نے کہا : ہم یہاں کیا سور کی رکھوالی کے لئے کھڑے ہیں۔ اب دونوں طرف سے تیزی بڑھی۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے ایک پولیس کو پکڑ کر اتنا مارا کہ وہ مرگیا۔
اس کے بعد پولیس والے آپے سے باہر ہوگئے اور انھوں نے ہندوؤں کو ساتھ لے کر مراد آباد کو بھون ڈالا۔ اقبال صاحب نے کہا کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی کے ایگو (انا) کو ٹچ ( مس ) نہ کرے ورنہ اس کا ایگور سپرا یگو بن جائے گا اور اس کے بعد اگلامرحلہ بر یک ڈاؤن ہے۔
4 مارچ 1990
۳۰ 30 مئی 1990
دارالعلوم دیوبند کے ایک طالب علم عبیداللہ احمدد حیدر آبادی (20 سال) ملاقات کے لئے آئے۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر آپ زندگی میں بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو محنت کیجئے۔ محنت کے بغیریہاں کوئی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ اس دنیا کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے ۔ کم محنت کم ترقی، زیادہ محنت زیادہ ترقی۔
31 مئی 1990
…انورعبا س امرو ہہ ( یو پی) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ہمدرد طبی کالج سے بی یو ایم ایس (BUMS) کا کورس کیا اور اس کے بعد اپنے وطن امرو ہہ میں مطلب شروع کیا۔ ان کے کلنک کے سامنے بورڈ پر ڈاکٹر انورعباس، بی ئو ایم ایس لکھا ہوا تھا۔
شروع میں ان کا مطب چل نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے بھائی نے یہ کیا کہ مطلب کے سامنے ایک بینر لگا دیا۔ اس پر موٹے حرفوں میں لکھا ہوا تھا ” ڈاکٹر دہلی والے " اس کے بعد ان کا مطب تیزی سے چل پڑا۔ وہ شہر میں" دہلی والے ڈاکٹر" کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کے یہاں مریضوں کی بھیڑ لگنے لگی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام پسند بولی کا مطلب کیا ہے۔ آجکل کی دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی عام پسند کی بولی بولنا جاتا ہو۔ آجکل کے تمام مقبول لیڈر اسی تدبیر کو اختیار کر کے مقبول بنے ہوئے…
…وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں کو تیل کی پریشانی ہورہی ہے ۔ ہم پیش کش کر رہے ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک ہمارے یہاں سے جس قسم کا اور جتنا تیل چاہیں ، مفت لے جائیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ خو دا پناٹینکر لے کر آئیں ۔ اور اپنے ٹینکر میں تیل لے جائیں۔
اگلے دن واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ترجمان نے بجا طور پر کہا کہ صدام حسین کی ایک چال (timnnick )ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انھیں ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دینانہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ،امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں ۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جاسکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔
اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور امریکا ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد…
23 ستمبر 1990
پاکستان کے روز نامہ نوائے وقت (23 ستمبر1990) میں مسٹر محمدعلی جناح کی ایک تقریر کا اقتباس نقل کیا گیا ہے۔ یہ تقریر انھوں نے 1939 میں عربک کالج دہلی میں کی تھی ۔ اقتباس یہ ہے، تمام دشواریوں کے باوجود مجھے یقین ہے کہ مسلمان کسی دوسرے فرقہ کی بہ نسبت بہتر سیاسی دماغ رکھتے ہیں۔ سیاسی شعور مسلمانوں کے خون میں ملا ہوا ہے، وہ ان کی رگوں اور شریانوں میں دوڑ رہا ہے۔ اور اسلام کی تاریخی عظمت ان کے سینوں میں دھڑک رہی ہے۔"
مسٹر جناح کی یہ بات ایک تبدیلی کے ساتھ صحیح ہے ۔ مسلمانوں کے اندر" سیاسی شعور " تو موجود نہیں، البتہ حکومت پسندی ضرور ان میں مبالغہ آمیز حد تک موجو دہے۔ اورمسلمانوں کا یہی بگڑا ہوا مزاج موجودہ زمانہ میں ان کی تمام مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔
…عوام کی ایک بھیڑ اس کے گرد جمع ہوگئی ۔ پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ سے اجودھیا تک دس ہزار کیلومیٹر کی رتھ یا ترا کی تو سارے راستہ میں ہندوؤں کی طرف سے انھیں زبردست استقبال ملا۔مگر اس بھیڑ کی وجہ سے وہ غلط فہمی میں نہیں پڑے۔
انگریزی ہفت روزہ انڈیاٹوڈے کے نمائندہ سے لال کرشن اڈوانی کی بات چیت ہوئی۔ انڈیاٹوڈے کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ تاہم مسٹر اڈوانی ہندوں کے پرجوش استقبال کی اپنی پارٹی کی مقبولیت کے ہم معنی نہیں سمجھتے ۔ انھوں نے کہاکہ میں اس دھوکہ میں نہیں ہوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ یہ استقبال تمام تر رام بھکتی کی وجہ سے ہے:
Advani, however, does not see the enthusiastic response as an indication of his or his party's popularity. "I am under no illusion that the popularity of the BJP is on the upswing. The response is all because of Ram Bhakti," he said.
…نومبر ۱۹۹۰ میں چھپا ہے ۔ اس میں موصوف لکھتے ہیں ۔ عرب کی سرزمین وہ سرزمین ہے جس پر کائنات کے محسن اعظم ، دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل حضرت محمد کی بعثت مبارکہ ہوئی تھی ، اور اقبال نے یہ کہ کر ذرا بھی مبالغہ سے کام نہیں لیا کہ :
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
قرآن میں اللہ تعالی کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہـــ ان الله يمسك السماوات والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسكهما من احدمن بعده (فاطر 41) یعنی بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے…
8 دسمبر 1990
مولانایوسف بھوپالی ندوی نے بتایا کہ ندوہ کے طلبہ ندوہ کے طالب علم ہونے پر فخر کرتے ہیں ۔ اور وہ دیو بند والوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ میں نے مثال پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ ندوہ کے طلبہ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں اور دیوبند کے طلبہ عربی نہیں جانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں ندوہ کا طالب علم انا اتوضا کہتا ہے ، وہاں دیوبند کا طالب علم أنا الفعل الوضوء کہے گا۔ جہاں ندوہ کا طالب علم انا اصلی کہتا ہے وہاں وہ انا اقرأ الصلاۃ کہیں گے۔ جہاں ندوہ کا طالب علم انا اصوم کہتا ہے وہاں وہ انا اضع الصوم کہیں گے۔ جہاں ندوہ کا طالب علم انا أحج کہتا ہے وہاں وہ انا الفعل الحج کہیں گے۔ وغیرہ
میں نے کہا کہ یہ بات خلاف واقعہ بھی ہے اور اس کے ساتھ مومن کی تحقیر بھی۔ ندوہ کے طالب علموں نے شاید عربی ادب کو پڑھامگر انھوں نے اس حدیث کو نہیں پڑھا کہ کفیٰ بالمرء اثما ان يحقر أخاه المسلم ( آدمی کے گنہ گار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ…
-1 12 مارچ 2015 کو پیس سنٹر کیرالہ کی جانب سے آئی ایس ایم کی صوبائی مہم کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابیں تقسیم کی گئیں-
-2 سیماندھرا کے کوسٹل شہر وشاکھا پٹنم میں 10-19 اپریل 2015 کے درمیان ایک بک فیئر لگاتھا۔ اس بک فیئر میںحیدرآباد سی پی ایس کی ٹیم نے اپنا بک اسٹال لگایا۔بڑی تعداد میں لوگوں نے اس اسٹال کو وزٹ کیا، جس میں ایک بڑی تعدا د کالج کے طلبہ کی تھی۔ تقریبا تمام لوگوںنے سب سے پہلے ترجمۂ قرآن کی مانگ کی ، اور بہت ہی خوشی اورشکریہ کے ساتھ اس کو حاصل کیا۔
-3 سی پی ایس دہلی کی خواتین ٹیم کی ممبران ڈاکٹر نجمہ صدیقی اور ڈاکٹر مسلمہ صدیقی وغیرہ نے خواتین کا ایک اجتماع منعقد کیا- یہ اجتماع صدر اسلامی مرکز کے ویڈیو لکچر سے شروع ہوا- اس کے بعد لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کا سیشنہوا- یہ…
…لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا، اسلام کی سیاسی تعبیر، اور موجودہ مسلمان ۔ یہ انٹرویو دسمبر 2015کی 6اور 9 تاریخ کو ہوا۔ مسٹر متھیاس سویڈن کی امیاس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں، اور اس سے پہلے بھی صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لے چکے ہیں۔
2- ملک کے مختلف حصوں میں بک فیرلگے، مثلا الٰہ آباد، کولکاتا، چنئی، حیدرآباد، بنگلور، دہلی وغیرہ۔ ان تمام بک فئر میںسی پی ایس کے علاقائی چیپٹرس نےاپنا اسٹال لگایا تھا۔ مسلم اور نان مسلم دونوں قارئین کا رسپانس بہت ہی اچھا رہا۔ ٹی وی چینل، مثلاً زی سلام، ای ٹی وی اردو، دور درشن، وغیرہ نے اسٹال پر آکر انٹرویو لیا۔ ایک وزیٹر نے یہ کہا کہ میں بہت دنوں سے قرآن کی تلاش میں تھا، ایک نے کہا کہ میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں، ایک نے کہا کہ سب کو قرآن پڑھنا چاہئے، وغیرہ۔
3- سینٹر فار پیس بنگلور نے26-28دسمبر 2014 کو ایک ورکشاپ منعقد کیا تھا۔ جس میں بنگلورکے سی پی ایس مشن کے تحت کام کرنے والے داعیوں نے حصہ لیا۔ اس ورکشاپ کا موضوع تھا، Peace and Positivity۔تمام شریک ہونے والوں نے اس کو اپنے لیے فائدہ مند…
…کے دو دور ہوتے ہیں— استحکام (consolidation) اور توسیع (expansion) - الرسالہ کا دعوتی مشن اللہ کے فضل سے استحکام کے دور سے گزر کر اب توسیع کے دور میں داخل ہوگیاہے- نہ صرف انڈیا میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بار بار اس کی مثالیں سامنے آرہی ہیں-
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 13 اکتوبر 2014 کی صبح کو ممبئی سے محبوب بھائی (Mob: 9619163993) کا ٹیلیفون آیا- ممبئی میں پہلے شہر میں دعوتی کام شروع ہوا، اس کے بعد ممبئی کی ٹیم نے مہاراشٹر اسٹیٹ کے دوسرے مقامات کے لئے دعوتی سفر شروع کیا- یہ منصوبہ کامیاب رہا- اب ممبئی کی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دعوتی توسیع کے اس کام کو ملکی سطح پر چلائیں گے- اس نئے پروگرام کے تحت ممبئی کی ٹیم جلد ہی کلکتہ جانے والی ہے- اس خبر پر مجھے بہت خوشی ہوئی، اور میں نے ان کے لئے دعائیں کیں- خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام پروگرام وہ لوگ کسی مرکزی ہدایت کے بغیر کررہے ہیں- یہ کسی مشن کے زندہ مشن ہونے کا ثبوت ہے-
میں نے محبوب بھائی سے کہا کہ آپ لوگ اسی طرح دعوتی توسیع کے میدان میں آگے بڑھئے، اِن شاء اللہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جب کہ آپ لوگ عالمی (global) سطح پر دعوت کا یہ کام انجام دیں گے- میں نے کہا کہ حیدرآباد میں ہمارے ایک ساتھی بابو بھائی…
Exactly the same has happened in the case of Jammu and Kashmir because of the utter ineptitude of the leaders of Kashmir and Pakistan.
On this score, the record of the injudiciousness of Muslim leaders is a very long one. I will allude to just one aspect of this here. In 1947, when India was partitioned, Pakistani leaders adopted a completely unrealistic stance and staked their claim to two Hindu-majority Indian princely states: Junagadh and Hyderabad. Had the Pakistani leaders adopted a sensible and pragmatic approach and not demanded that Junagadh and Hyderabad—which were far from the Pakistani borders and deep inside Indian territory—should accede to Pakistan, the issue of Kashmir would never have become so serious as it did. The issue of Kashmir could then have very easily been solved in favour of Pakistan. But the two-pronged thrust of the Pakistani leaders resulted in Pakistan getting neither Junagadh nor Hyderabad, and, at the same time, they also failed to acquire Kashmir.
Let me cite some facts to reinforce my point. Chaudhry Muhammad Ali was the Prime Minister of Pakistan in the period 1955-1957. Prior to this, he had been a senior minister in the cabinet of Prime Minister Liaqat Ali Khan. In his…
…اللہ کے زمانےمیں تھی۔ اب ہمیں دوبارہ اسلامی روایات قائم کرنی پڑیں گی، اس کے بعد ہی قانون کا نفاذ مفید ہوسکتا ہے۔ کیوںکہ قانون ہمیشہ روایات کے اورپر نافذ ہوتاہے، اورموجودہ زمانے میں شراب بندی کے قانون کے لیے روایات کا زور موجود نہیں ہے۔
رشوت بالاتفاق حرام ہے۔ قتادہ (وفات 118ھ)نے کہا کہ صحابی رسول ابی بن کعب (وفات 30 ھ) نے فرمایا کہ رشوت عقل مند کو بیوقوف بناتی ہے، اور حکیم کی آنکھ کو اندھا کردیتی ہے (قَالَ قَتَادَةُ:قَالَ کَعْبٌ:الرِّشْوَةُ تُسَفِّہُ الْحَلِیمَ، وَتُعْمِی عَیْنَ الْحَکِیمِ( المغنی لابن قدامہ، جلد 10، صفحہ69۔
رشوت ایک ایسا مال ہے، جو آدمی حق کے بغیر لیتا ہے، اور جب آدمی واقعی حق کے بغیر کوئی چیز لے تو عین اسی وقت وہ اپنے آپ کو نیچے گرالیتا ہے۔ وہ اعلیٰ اخلاق کی سطح پر رہ کر کام نہیں کرسکتا۔ اونچا کام کرنے والے کے اندر اونچا ذہن پرورش پاتا…
…اس نئے پروگرام کے تحت ممبئی کی ٹیم جلد ہی کلکتہ جانے والی ہے- اس خبر پر مجھے بہت خوشی ہوئی، اور میں نے ان کے لئے دعائیں کیں- خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام پروگرام وہ لوگ کسی مرکزی ہدایت کے بغیر کررہے ہیں- یہ کسی مشن کے زندہ مشن ہونے کا ثبوت ہے-
میں نے محبوب بھائی سے کہا کہ آپ لوگ اسی طرح دعوتی توسیع کے میدان میں آگے بڑھئے، اِن شاء اللہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جب کہ آپ لوگ عالمی (global) سطح پر دعوت کا یہ کام انجام دیں گے- میں نے کہا کہ حیدرآباد میں ہمارے ایک ساتھی بابو بھائی (وفات: 1987) تھے، الرسالہ مشن سے ان کو نہایت گہرا تعلق تھا- وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے کہ دعوت کا منصوبہ آپ لوگ بنائیے، پیسہ مجھ سے لے جائیے- میں نے کہا کہ یہی بات بے شمار گنا زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ رب العالمین کے لئے درست ہے- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ داعیانِ حق کی مدد کرتا ہے-
قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ولینصرن اللہ من ینصرہ (الحج: 40) اور بے شک اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے-قرآن کی اس آیت میں اللہ کی جس نصرت کا ذکر ہے، اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے- دعوت الی اللہ، اللہ رب العالمین کا سب سے زیادہ…
… اکتوبر 2012 کو علی گڑھ میںایک بک فیر ہوا- یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر لوگوں کی طرف سے قرآن کے ترجمے (اردو، انگریزی) کی اتنے بڑے پیمانے پر ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ علی گڑھ بک اسٹال پر اس کو بھجوایا گیا-
8- • Hyderbad hosted one International convention on Biodiversity (CBD) that was marked by the visit of prime minister Manmohan Singh and several other scholars, academician from world over. This convention was held from 1st till 19th Oct, 2012 and is known as 11th Conference of Parties Convention on Biological Diversity. Hyderabad dawah team took this as an opportunity to reach out to people for Dawah work. We prepared one page document to be distributed in the Fair with the help of internet and Maulana's Book. We went into the Exhibition Hall and distributed it along with. The reality of Life, The Creation Plan of God , & The Quran. They welcomed us warmly. (Hyderabad Dawah team)
9- • Maulana Wahiduddin Khan participated in the World Economic Forum on India 2012, held in Gurgaon, from 6 to 8 November. He shared his views on‘The New Collaborative Space: Future Scenarios for Civil Society, Business and Government…
…experiences shared especially with Dawah Field Team, CPS (DFT) boosted me a lot and gave enthusiasm to work for dawah in future. Infact, this annual conference is of great importance for da’ees of the mission. (M Ismail Bhat, Kashmir)
— • The entire Kashmir Dawah meet was such an inspiration that I feel I am re-born with a renewed understanding of my purpose in life. I was listening to the whole program. Everyone spoke from their heart for it reached our hearts. This is a sure sign of speaking from the heart. (Fathima Sarah, Centre for peace Bangalore)
25- مسٹر جگ پال سنگھ (ایم ایل اے، سہارن پور) کے یہاں 6 دسمبر 2012 کو اور ڈاکٹر آر پی شرما کے یہاں 7 دسمبر 2012 کو ان کے بیٹے کے شادی کی تقریب تھی- اِس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کو قرآن کا ترجمہ دیاگیا- مسٹر پنّا لال (لیڈر آر ایس…
…نیشنل بک فیر ہوا- اِس میں سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے اپنے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے کافی لوگوں نے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ترجمہ حاصل کیا- دعوتی اعتبار سے یہ اسٹال بہت کامیاب ثابت ہوا-
32- نئی دہلی کے ایک پلے گروپ (Pierrot's Troupe) کی طرف سے 16 دسمبر 2012 کی شام کو شری رام سنٹر (نئی دہلی) کے آڈیٹوریم میں ایک پلے شو (لال قلعے کا آخری مشاعرہ) ہوا-دعوہ فیلڈ ٹیم کے ممبران نے یہاں حاضرین کے علاوہ، گروپ ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید عالم اور ان کے ساتھیوں خاص طورپر مسٹر ٹام آلٹر (Tom Alter) سے ملاقات کی اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا- گروپ کے ذمے داروں نے کہا کہ ہم کو تعجب ہے کہ آپ نے اس موقع کو اتنے اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا- انھوں نے کہا کہ آئندہ جب کہیں ہمارا پلے ہوگا، ہم آپ کو انفارم کردیں گے- آپ وہاں آئیں اور لوگوں کو قرآن کا پیغام پہنچائیں- اس میں آپ کو ہمارا پورا تعاون حاصل رہے گا-
33- نئی دہلی کے نہرو پارک (چانیکہ پوری) میں 23 دسمبر 2012 کو ایک پروگرام ہوا- یہ پروگرام مشہور میوزیشن پنڈت روی شنکر (وفات: 11 دسمبر 2012) کےلیے ٹری بیوٹ (tribute)کے طورپر کیاگیا- اِس میں مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ…
تعلیم کا شوق
برادرم عبد المحیط خاں کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ وہ تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ خود انھوں نے نہایت محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ پہلے انھوں نے ایک گھریلو استاد ماسٹر صدیق صاحب سے گاؤں (بڈھیریا) پر تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوںنے اعظم گڑھ سے ہائی اسکول پاس کیا۔ اِس کے بعد ان کی بقیہ تعلیم ہندو یونی ورسٹی (بنارس) میں ہوئی۔ تعلیم کے زمانے میں شروع سے آخر تک ظہیر الاسلام مرحوم اُن کے ساتھی تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ظہیر الاسلام صاحب نے علی گڑھ مسلم یونی ور سٹی میں سروس حاصل کرلی تھی۔ علی گڑھ میں 1988 میں ان کا انتقال ہوا۔
برادرم عبد المحیط خاں تعلیم کے سلسلے میں طلبا کی مدد کرتے رہتے تھے۔ سروس کے زمانے میں وہ طلبا کو الگ سے پڑھایا کرتے تھے۔ رٹائرمنٹ کے بعد انھوںنے طلبا کو میتھمیٹکس پڑھانے کے لیے اپنے گھر پر ایک مستقل سلسلہ شروع کیا تھا۔ اِس سے بہت سے طلبا…
Respected Maulana!
I am Neha, working in an MNC for some people, it cannot be better than to get a job in top MNC just after graduation. But believe me, I am in search of a more purposeful life. That's why I am writing to you.
I met Priya Malik, Khalid Ansari and Sadia Khan on a flight to Delhi and could apparently see the difference your guidance has made to their lives.
محترمہ صوفیہ حیدر السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۲۳ جنوری ۲۰۰۵ ملا۔ آپ کے حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کی مدد فرمائے اور آپ کے کل کوآپ کے آج سے بہتر بنائے۔
زندگی ایک امتحان ہے۔ زندگی ہر ایک کے لیے وہی ہے جو کسی دوسرے کے لیے ہے۔ زندگی کو خوشگوار بنانے کا راز یہ نہیں ہے کہ ناخوشگواریوں کا خاتمہ ہوجائے۔ بلکہ اس کا راز یہ ہے کہ آدمی ناخوشگواریوں میں جینا سیکھ لے۔ وہ منفی تجربات کو مثبت سبق میں…
…مثال ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر یہ مزاج اتنا عام ہوگیا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ یہ طریقہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں سنجیدہ اور مدلل اختلاف یقینا جائز ہے مگر استہزاء اورتنابز بالالقاب یقینی طور پر اسلام میں جائز نہیں۔
مہاراشٹر کے سفر کے دوران ۲۷ نومبر ۲۰۰۳ کو میں ناگپور پہنچا تھا۔ ۲۹ نومبر کو دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ اس دوران کئی قیمتی قسم کے سبق آموز تجربے ہوئے۔ ان تجربات کی تفصیل اس سفرنامہ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ تاہم کچھ باتیں مختصر طور پر یہاں درج ہیں۔
عبدالسلام اکبانی صاحب کے ساتھ ناگپور شہر کے مختلف حصے بذریعہ کار گھوم کر دیکھے۔ میں نے اس سے پہلے بھی ناگپور دیکھا ہے مگر موجودہ مشاہدہ میں اندازہ ہوا کہ پچھلے چند سالوں میں ناگپور میں شہری اعتبار سے بہت سی ترقیاں ہوئی ہیں۔ وہاں کی سڑکیں…
…عربی زبان میں ہوتی تھی۔ اس لیے جب ان کا مجموعہ کتابی شکل میں مرتب ہو کر پھیلا تو لوگ اس کو سچ مُچ حدیث کی طرح مقدس سمجھنے لگے۔ یہ فرضی قسم کی مقدس کہانیاں مسلم دنیا میں پھیل گئیں اور پھر وہ ترجمہ ہو کر ہندستان جیسے ملکوں میں بھی پہنچ گئیں۔
اس قسم کی پُر اسرار اور پُر عجوبہ کہانیاں سراسر بے اصل ہیں۔ وہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑتی ہیں۔ وہ مسلمانوں سے صحیح دینی اسپرٹ ختم کر دینے والی ہیں۔ ان انوکھی کہانیوں میں دنیا کی بھی تباہی ہے اور آخرت کی بھی تباہی ۔ دنیا کی تباہی اس لیے کہ اس قسم کی کہانیاں آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی تباہی اس لیے کہ آدمی اس جھوٹے بھرم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ حقیقی عمل کے بغیر سستے اعمال کرکے وہ جنت حاصل کرسکتا ہے۔
۱۸۔ ایک مجلس میں میں نے قرآن کی دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اُس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو…
…کا تصور اسلام کی آفاقی روح کے خلاف ہے۔ اسلام کی اصل روح ’’انسانیت پنا‘‘ ہے نہ کہ ’’امت پنا‘‘۔ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کا مزاج دعوت کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک یہ مزاج نہ بدلے، حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔
۲۴۔ ایک مجلس میں میںنے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک دینی صفت بالکل اُٹھ گئی ہے اور وہ سادگی ہے۔ حالاں کہ سادگی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کو ایمان کا ایک جزء بتایا گیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ: ہم کو تکلف سے منع کیا گیا ہے (نہیناعن التکلف) ہر معاملہ میں سادگی کا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے اور تکلف کا طریقہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میںیہ بیماری اتنی عام ہے کہ ہر ملک میں اس کا منظر دکھائی دیتا ہے۔
کھانا صحت کے لیے ہے۔ صحت بخش کھانا وہی ہے جو سادہ کھانا ہو۔ مگر مسلمانوں نے ساری دنیا میں کھانے کو لذت کی چیز سمجھ لیا ہے۔ ہر مسلمان کی کمائی کا سب سے بڑا حصہ اس پر خرچ ہوتا ہے کہ کھانے کو زیادہ سے زیادہ لذیذ بنایا جائے۔ یہ لذیذ کھانا…
…ہر جماعت اور ہر تنظیم سے ہے۔ اس کا سبب ان کی اعتدال پسندی ہے۔ اپنے متحمل مزاج کی بنا پر وہ طبقہ کے درمیان مقبول ہیں۔ وہ ایک مغربی مفکر کے ایک قول کی ایک معیاری مثال ہیں۔ میرے اندر اتنا زیادہ وسعت ہے کہ تمام تضادات کو اپنے اندر سمو سکوں:
I am large enough to contain all these contradictions.
یہی وسعت نظری اور اعتدال پسندی اتحاد اور اتفاق کی اصل ضمانت ہے۔
…غلطی کو مان لیں۔ میرے نزدیک غلطی پر پردہ ڈالنا غلطی پر ایک اور غلطی کا اضافہ ہے۔ غلطی کو مان لینا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی دوبارہ وہ غلطی نہیں کرے گا۔ چونکہ مسلمان اپنی غلطی نہیں مانتے اس لیے وہ بار بار اُسی غلطی کو دہراتے رہتے ہیں۔
احمد آباد کی سڑکوں اور اُس کے مختلف علاقوں سے گذرتے ہوئے میںنے ایک صاحب سے کہا کہ احمد آباد میں شہری ترقی زیادہ نہیں ہوئی۔ حالاں کہ احمد آباد ایک دولت مند شہر مانا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں پولیٹکل لیڈر زیادہ تر منفی ذہن کے ہوئے، مثبت ذہن کا کوئی لیڈر یہاں نہیں اُبھرا۔ جیسا کہ حیدر آباد میںچندرا بابو نائیڈو کی مثال میں نظر آتاہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مثال کے طورپر احمد آباد کے سیاسی لوگ اتنے بے شعور تھے کہ اُنہوں نے پچھلے فساد کے موقع پر یہاں کے بہت سے ہوٹل جلا دیے۔ جب کہ چندرا بابو نائیڈو نے ان لوگوں کو آندھرا پردیش میں بلا کر وہاں جگہ دی تا کہ وہاں ٹورزم کو ترقی ہو۔
احمد آباد میںکچھ مسلمانوں نے فساد کے حوالہ سے بربادی کی کہانی بیان کی اور کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ فساد کے بعد کافی نئی تعمیرات ہوئی ہیں۔ میں نے کہا کہ مشہور قصّہ کے مطابق، میز پر شیشہ کا ایک گلاس رکھا ہوا تھا۔ اس میں آدھا گلاس پانی تھا۔…
…خط کے مضمون کے مطابق، محمد علی جوہر نے امیر کابل کو لکھا تھا کہ تم اپنی فوج کو لے کر ہندستان پر حملہ کردو، اندر سے ہم بغاوت کردیں گے۔ اس دو طرفہ دباؤ کے نتیجہ میں انگریز ہندستان کو چھوڑ نے پر مجبور ہوجائیں گے اور ہندستان آزاد ہوجائے گا۔
یہ خط وائسرائے ہند کی جس کونسل میں برائے غور پیش کیاگیا اُس کا ایک ممبر مشہور ’’ظالم‘‘ جنرل ڈائر تھا۔ جنرل ڈائر نے مذکورہ بظاہر غدارانہ خط کو پڑھا تو اس نے صرف اسلوبِ تحریر کی بنیاد پر یہ کہہ کر اُس کو رد کر دیا کہ یہ محمد علی کی زبان ہی نہیں۔
میرے مخالفین اکثر اس طرح کی باتیں میری طرف منسوب کرتے ہیں جو اپنے اسلوب کے اعتبار سے بالکل غیر معیاری ہوتی ہیں۔ میرا ایک معروف اسلوب تحریر ہے۔ ان مخالفین کے اندر اگر جنرل ڈائر کے بقدر بھی علمی اور ادبی ذوق ہوتا تو وہ ان عبارتوں کو دیکھ کر…
س۔ ابھی آپ کا حیدر آباد کس سلسلہ میں آنا ہوا، اس کے بارے میں مختصر طورپر کچھ بتائیں۔
ج۔ آندھرا پردیش کی ایک تنظیم وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی کی طرف سے حیدر آباد میںتھنکرس میٹ کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع انڈیانائزیشن آف ایجوکیشن تھا۔ اس کو مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی اور آر ایس ایس کے چیف، کے ایس سدرشن نے خطاب کیا۔ اس سیمینار میں مجھے بھی خطاب کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ میں نے ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کو اس میں ایک تقریر کی ۔ چونکہ وہاں ماحول انگریزی کا تھا اس لئے میںنے بھی انگریزی میں خطاب کیا۔
س۔ کانفرنس کا موضوع بہت اہم اور نازک تھا ،اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
…آیا ۔ جہاں تک برادران وطن کا تعلق ہے، اُن کو مسلمانوں نے ہی ہندو نام دیا تھا جس کو برادران وطن نے پسند کرتے ہوئے اختیار کرلیا۔ اب اسلامی نقطۂ نظر سے برادران وطن ہمارے نزدیک بھی اسی طرح ہندو ہیں جس طرح وہ خود اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں۔
س۔ جلد ہی دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہونے والا ہے، اُن کے لیے کوئی پیغام۔
ج۔ دینی مدارس کے بارے میں ماہنامہ الرسالہ میں ایک پورا نمبر شائع ہوچکا ہے۔ یہ طویل مضمون میری تازہ کتاب دین وشریعت میںشامل ہے۔ میرے نزدیک مدرسہ یا تعلیمی ادارہ کے دو مقاصد ہیں۔ ایک مسلم نسلوں کو مسلسل دینی شعور فراہم کرتے رہنا۔ یہ کام…
…سینٹر فار فیلان تھراپی (Indian Centre for Philanthropy) میں ۳ دسمبر ۲۰۰۲ کو ایک پروگرام ہوا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور ریلیجیس چیریٹی(Religious Charity) کے موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔
۱۵ حیدر آباد میں ۷۔۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers' Meet) کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔ اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے ۔پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ۷ دسمبر کی صبح کو وہ حیدر آباد پہنچے اور ۱۱ دسمبر ۲۰۰۲ کو واپسی ہوئی۔ اس موقع پر سیمینار کے علاوہ مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ سیمینار کا موضوع انڈیا نائزیشن آف ایجوکیشن (Indianization of Education) تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارے سماج میں جو بگاڑ آیا ہے اس کا حل انڈیانائزیشن نہیں ہے بلکہ اسپریچولائیزیشن (spiritualization) ہے۔ وسیع کوشش کے ذریعہ لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہے۔ لوگوں کے اندر اخلاقی اور روحانی انقلاب لانا ہے۔ اس کے بعد ہی ہمارے سماجی حالات درست ہوں گے۔
۱۶ آؤٹ لُک میگزین (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر رنجیت بھوشن نے ۱۹ دسمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پالیٹکس میں آئیڈیل نہیں چلتا، پالیٹکس میں ہمیشہ پرکٹکل چلتا ہے۔ مسلمانوں کی…
…کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے۔پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میںشرکت کی۔ ۷دسمبر کی صبح کو میں حیدر آباد پہنچا اور ۱۱دسمبر ۲۰۰۲ کو میری واپسی ہوئی۔
دہلی سے حیدر آباد کے لیے یہ سفر ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو انڈین ایر لائنزکے ذریعہ ہوا۔ ایر پورٹ پر کوئی خاص قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ سفر کے دوران یہ احساس ہوا کہ انڈین ایر لائنز میں پچھلے ایک سال کے اندر کئی چیزوں میں بہتری آئی ہے۔ مثلاً پہلے کے مقابلہ میں اب جہاز وقت پرروانہ ہونے لگے ہیں۔ اسی طرح کئی اور چیزوں میں پہلے کے مقابلہ میں فرق نظر آیا۔ یہ فرق یا تو ہوائی پرواز میں کامپٹیشن کی وجہ سے ہو یا وہ موجودہ نوجوان وزیر ہوابازی کا کارنامہ ہو۔
دہلی سے حیدرآباد کے لیے دو گھنٹے کا سفر تھا۔ اس دوران مختلف اخبارات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ دہلی اور حیدر آباد کے سفر کے دوران انڈین ایر لائنز کا فلائٹ میگزین سواگت دیکھا۔ یہ اُس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ تھا۔ اس میں مختلف سفری دلچسپی کے…
…کلچر یا رسومات کے مجموعہ کے معنیٰ میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ مذہب اپنی اصل کے اعتبار سے روحانیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی اسلام کی روح بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں نے رسوم و ظواہر کا اہتمام اتنا زیادہ کیا کہ مذہب کی اصل روح اوجھل ہو کر رہ گئی۔
انڈین ایر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد پہنچا۔ ابھی ہم جہاز کے اندر ہی تھے کہ میرے پاس کے ایک مسافر کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ اُنہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فلائٹ حیدر آباد پہنچ چکی ہے۔ میںنے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن کی ترقی نے اُس چیز کو گویا ایک عینی مشاہدہ بنا دیا ہے جس کو پہلے زمانے میں صرف غیبی ایمان کے طورپر ماننا پڑتا تھا۔ یعنی فاصلہ کے باوجود دوشخصوں کے درمیان رابطہ قائم ہونا۔ میرا اپنا حال یہ ہے کہ جب میں ایک شخص کو موبائل ٹیلی فون کے ذریعہ دور کے ایک شخص سے بات کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس حقیقت کاایک امکانی مظاہرہ کیا جارہا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان وحی یا الہام کے ذریعہ کس طرح ربط قائم ہوتا ہے۔
Peace can only come from reverence for all life... Religions must graduate to spirituality to bring about universal harmony.(APJ Abdul Kalam, President of India) Reverence to all life begins with reverence to oneself... we need to first…
…کے فکری مستویٰ پر پیش نہیں کررہی ہیں اس لیے عوامی طبقہ کے کچھ لوگ تو ضرور اُن کے گرد اکٹھا ہو رہے ہیں مگر اعلیٰ طبقہ کے لوگ اُنہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک اعلیٰ طبقہ کے لوگ متوجہ نہ ہوں اسلام کی نئی تاریخ بنائی نہیں جاسکتی۔
حیدر آباد ایر پورٹ سے روانہ ہو کر سب سے پہلے منوہر ہوٹل پہنچا۔ یہاں الرسالہ کے کئی قارئین اکٹھا ہوگئے۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اس مجلس میں میںنے جو باتیں کہیںاُن میں سے ایک یہ تھی کہ معرفت کس طرح آدمی کوایک نیا انسان بنادیتی ہے۔ میںنے کہا کہ ایک انگریزی شاعر نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں سب سے عجیب چیز یہ دیکھی کہ مِس ٹی جو کچھ کھاتی ہے وہ مِس ٹی بن جاتا ہے:
What ever miss T eats turns into miss T.
…جے پرکاش نرائن، راجیندر پرشاد، رادھا کرشنن، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر ذاکر حسین، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس آزادی کے بعد ہماری قومی حکومت نے جو تعلیمی نظام ملک میں رائج کیا اُس سے مذکورہ قسم کی شاید کوئی ایک بھی اعلیٰ شخصیت پیدا نہ ہوسکی۔
اس کے بعد جب میں نے اس معاملہ کا ازسرِ نو مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ لارڈ میکالے کی ایک تقریر کے ایک جملہ کو لے کر مذکورہ بات پھیلائی گئی۔ جب کہ انگریزی تعلیم کے منصوبہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ ملک کے نوجوانوں کو جدید علوم اور جدید معیار کے مطابق، تعلیم یافتہ بنایا جائے اور ماڈرن ایجوکیشن کو ملک میں عام کیا جائے۔
وائس آف امریکہ کے ایک نشریہ میں ایک بار میں نے سُنا کہ امریکہ میں ہندستان کے لوگ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں زیادہ کامیاب کیوں ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ وہ انگریزی زبان بہت اچھی جانتے ہیں:
…ہوا جہاں سے‘‘ پرعقیدہ رکھتا ہوں۔ ہندستان ایک ایسا ملک ہے جو روحانی طورپر ساری دنیا کی قیادت کرے، تشدد کے ذریعہ نہیں بلکہ امن و یکجہتی کے ذریعہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندستان ہمیشہ سپر پاور رہا ہے، روحانی طورپرنہ کہ سیاسی طور پر ‘‘۔ (صفحہ ۴)
میری تقریر کے بعد سدرشن جی کی تقریر تھی۔ میری طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ چنانچہ میںاُن کی تقریر کے درمیان ہی اُٹھ گیا۔ اسٹیج سے اُتر کر میں نیچے پہنچا تھا کہ سدرشن جی اپنی تقریر کوروک کر آئے اور مجھے رخصت کیا۔
حیدر آباد سے ایک انگریزی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام بھارتیہ پرجنا (Bharatiya Pragana) ہے۔ اس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۵۸ پرایک رپورٹ درج تھی۔ حیدر آباد میں ۱۸ نومبر ۲۰۰۲ کو کنورژن پر ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی جس…
…اگر بالفرض ایسا کوئی طریقہ ہو جو فکری عمل کو مستقل طورپر روک کر تناؤ کو دور کرسکے تووہ انسان کو باشعور انسان کی سطح سے اُتار کر بے شعور انیمل کی سطح پر لانا ہوگا۔ یہ ڈی ہیومینائزنگ (de-humanising) ہوگا، نہ کہ ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) ۔
میں نے کہا کہ ذہنی تناؤ کوئی برائی نہیں۔ وہ ذہنی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں تمام بڑے بڑے کام اُنہی لوگوں نے کیے ہیں جو ذہنی تناؤ کا شکار ہوئے۔ وہ لوگ جن کی پوری زندگی سکون و عافیت میں گذری اُنہوں نے کبھی کوئی تخلیقی کام نہیںکیا۔ کسی پُر سکون ذہن نے کبھی کوئی سائنسی دریافت نہیںکی۔ کسی پُرعافیت آدمی نے کبھی کوئی تخلیقی کتاب نہیں لکھی۔
ایک مجلس میںمیں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ حال میں دہلی کے شری پال جین (Tel.: 2248920, 2215617) مجھ سے ملنے کے لئے میرے آفس میں آئے۔ وہ اپائنٹمنٹ کے بغیر اچانک آگئے تھے۔ اس وقت میںایک ضروری کام میں مصروف تھا۔ مجبوراً کام چھوڑکر اُن سے…
…مسلمان تقریباً تین سو سال سے مسلّح جہادکررہے ہیں۔ مگر نتیجہ یک طرفہ طورپر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسلّح جہاد کو یک طرفہ طورپر اور مکمّل طور پر بند کردیا جائے اور ساری کوشش پُرامن عمل میںلگادی جائے۔
۹ دسمبر کی صبح ہوئی تو کئی ساتھی بالکل سویرے ہی مدینہ ایجوکیشن سینٹر آگئے۔ مثلاً عبدالغفار صاحب، عبد الرؤف صاحب، معین بھائی، وغیرہ۔ مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے اوپر کی چھت پر باجماعت نماز کا انتظام ہے۔ یہاں ہم لوگوں نے دوسرے طلبہ کے ساتھ با جماعت فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے کہا کہ پنج وقتہ نماز اصلاً اللہ کی عبادت ہے مگر اسی کے ساتھ وہ کتاب موقوت ہے۔ نماز کا یہ نظام ہمارے اوقاتِ کار کو منظم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے کام کو پانچ وقتوں میں تقسیم کریں اور ہر کام ایک نماز اور دوسری نماز کے درمیان انجام دیں تو یہ بہت مفید ہوگا۔ اس طرح پانچ وقت کی نماز ہمارے لیے ٹائم مینیجمنٹ کا ایک فطری ذریعہ بن جائے گی۔
ایک مسلم نوجوان نے اپنی ڈائری پیش کی اور کچھ نصیحت لکھنے کے لیے کہا۔ میںنے ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دیے کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک تجربہ ہے اور ہرتجربہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ:
…اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے چند نام یہ ہیں: مولانا فیروز عادل قاسمی صاحب، حافظ و قاری اعجاز عادل صاحب، مفتی احتشام صاحب، خالد بھائی، حمزہ بھائی، انور خاں صاحب، مفتی اشرف علی قاسمی ، وغیرہ۔
ایک بار میں ایک صاحب کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کی کار میں اسٹیریو سسٹم لگا ہواتھا۔ وہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سے میوزک سنتے رہتے ہیں۔ میںنے ان سے کہا کہ اگر آپ ایک کسٹمر سے ایک بڑے سودے کے لئے سنجیدہ گفتگومیںمشغول ہوں اور عین اسی وقت کوئی شخص آپ کی میز پرایک ٹیپ ریکارڈر لا کر رکھ دے اور پوری آواز کے ساتھ اس پر میوزک بجانے لگے۔ ایسے وقت میں آپ کا احساس کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کو میںایک غیر مطلوب مداخلت (unwanted distraction) سمجھوں گا اور فوراً اس کو بند کردوں گا۔
میںنے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے جب آپ اپنا میوزک ریکارڈر بجاتے ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑی غیر مطلوب مداخلت ہوتی ہے۔ اس قسم کی چیز آپ کے اندر تفکیری عمل (thinking process) کو رخ سے بے رخ کردیتی ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے آپ کو اعلیٰ تفکیری عمل…
انگریزی زبان کے ایک مسلم ہفت روزہ (۱۶ دسمبر ۲۰۰۲) میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اُس کو لکھنے والے ایک حیدر آبادی مسلمان تھے۔ اُنہوں نے اپنی پوری رپورٹ منفی انداز میں لکھی تھی۔ اُس کی چند سطریں یہ تھیں:
Andhra Pradesh may be progressing under the able leadership of chief minister Chandrababu Naidu, but the state of Muslims there is as bad as in other parts of the country.... At the time of Independence of the country, the ratio of Muslims in government jobs was about 30 per cent, which has now dropped to mere two per cent.
یہ بلا شبہہ ایک غلط رپورٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیدر آباد میں مسلمانوں کی حالت ہر اعتبار سے ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر ہے۔ حتیٰ کہ خود مضمون نگار اگر اپنا جائزہ لیں تو یقینا وہ پائیں گے کہ ۱۹۴۷ میںاُن کے خاندان کی جو اقتصادی حالت…
…صحیفہ مدینہ میں ہمارے وجود اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اس لیے ہم کو حق ملنا چاہئے کہ ہم مدینہ میں داخل ہو کر دوبارہ وہاں اپنی بستیاں بنائیںاور دوسرے لوگوں کے ساتھ وہاں رہیں تومسلمان کبھی اس قسم کے مطالبہ کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات قدیم تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت کے حقائق کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت یا صحیفۂ مدینہ کی مذکورہ دفعہ اب یہود کے لیے ایک غیر متعلق چیز بن چکی ہے۔ آج کے یہود ان قدیم الفاظ کا حوالہ دے کر اپنے لیے کچھ نہیں پاسکتے۔ ٹھیک اسی طرح اقوام متحدہ کے قدیم رزولیوشن کا حوالہ پاکستان کے لیڈروں کے لیے سراسر غیر مفید ہے۔ خود اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کہہ چکے ہیں کہ یہ قدیم رزولیوشن اب اپنا ریلیونس (relevence) کھو چکا ہے۔ ایسی حالت میں پاکستانی لیڈروں کو جاننا چاہئے کہ اقوام متحدہ کے رزولیوشن کے بیس سال بعد ہونے والا شملہ ایگریمنٹ (۱۹۷۲) اس معاملہ میں پچھلی کاغذی دستاویزات کو منسوخ کرچکا ہے۔ اب اُن کے پاس قابلِ حوالہ چیز شملہ ایگریمنٹ ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کا رژولیوشن۔
ایک اخبار میںایران کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اس میں بتایاگیا تھا کہ آج کل ایران کے نوجوانوں میں ایک نیا ذہن اُبھر رہا ہے۔ وہ مانگ کر رہے ہیں کہ ہم کو مذہبی ریاست نہیں چاہئے بلکہ ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔ مغربی نیوز ایجنسی کی اس…
…بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس فلیٹ میں ٹیلی فون بھی موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ٹیلی فون بھی ایک مسلمان تاجر نے اپنی طرف سے اُن کے یہاں لگوایا ہے۔ مسلمان تاجروں میں اہلِ دین کی خدمت کا یہ مزاج اگر ہر جگہ پیدا ہوجائے تو وہ بہت زیادہ مفید ہوگا۔
مولانا اسحق کمال قادری کے اندر تقریر کا اچھا ملکہ ہے۔ وہ ٹکراؤ کے بغیر کام کرنے کا اچھا سلیقہ رکھتے ہیں۔ وہ تنقید بھی کرتے ہیں تو اُن کی تنقید بھی ایسے خوبصورت انداز میں ہوتی ہے کہ کوئی اُس کو بُرا نہیں مانتا۔ اُنہوں نے ایک رنگین تولیہ مجھے تحفہ میں پیش کیا۔ میں نے اُسی وقت یہ تولیہ اُن کے چھوٹے بچے کو اوڑھا دی اور اُس کو دعائیں دیں۔
حیدر آباد میںکئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ اُردو اخبارات کے لحاظ سے غالباً صرف حیدر آباد کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں ایک قسم کا صحافت کلچر وجود میںآچکا ہے۔ یہ بات شاید کسی اور ہندستانی شہر میں موجود نہیں۔ یہاں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔…
…یہ ممکن ہے کہ ماضی کے کھنڈر پر مستقبل کا نیا محل تعمیر کیا جائے۔ حیدر آباد کے اس سفر میں مجھے اس تعلیمی ادارہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اُس کی مرکزی بلڈنگ کے اوپر قائم شدہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق بھی خدا کے فضل سے حاصل ہوئی۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ اخباری رپورٹر عام طورپر غلط رپورٹ کرتے ہیں۔ مگر اُن کی غلط رپورٹنگ کسی کے خلاف دشمنی کی بنا پر نہیںہوتی بلکہ یہی اُن کا مزاج ہے۔ اُن لوگوں پر فارسی کا یہ شعر صادق آتا ہے:
نیش عقرب نہ از پئے کین است مقتضائے طبیعتش این است
…زنی شروع کردیتے ہیں اور پھر پوری مجلس اسی قسم کی اخباری باتوں کا چرچا بن کر رہ جاتی ہے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس قسم کی بے فائدہ باتوں کو چھیڑے تو فوراً وہ گفتگو کو مثبت اور تعمیری رُخ پر موڑ دے۔ اسی کا نام تزکیہ اورتربیت ہے۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے اندر اسلامی سوچ موجود نہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ اپنے بارہ میں سوچیں مگر آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک دوسروں کے بارہ میں تقریر کررہا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ داخلی تعمیر پر زور دیا جائے۔ مگر مسلمان خارجی تخریب کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کیا جائے۔ مگر مسلمان دوسروں کو دشمن قرار دے کر اُن کو بُرا بھلا کہنے میں مشغول ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ اسپرٹ پر زور دیا جائے۔ مگر آج کل کے مسلمان ظواہر کی دھوم مچائے ہوئے ہیں۔ اسلام کے نزدیک پہلا بنیادی کام تعلیم یا شعوری بیداری ہے۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت اقراء اُتری۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر جگہ سیاست کا ہنگامہ کھڑا کیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔
۹دسمبر کی شام کو مسجد عثمان غنی میںتقریر تھی۔ اس تقریر کے لیے مجھے جو موضوع دیا گیا وہ یہ تھا کہ حیدر آباد کے مسلمان موجودہ حالات میںکیا کریں۔ میں نے اپنی تقریر شروع کی تو میں نے کہا کہ حیدرآباد کے مسلمان یہ کریں کہ وہ خدا کا شکر ادا…
…نہیں ہوتی۔ دوسرے مذہبوں میں ایسے علماء کثرت سے موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں میںایسے علماء کی شدید کمی ہے جو انگریزی زبان میں درست طورپر اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔ اگر المعہد اس ضرورت کو پورا کرے تو بلا شبہہ یہ اُس کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔
المعہد کے کچھ طالب علموں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ آج ہی سے انگریزی بولنا شروع کردیجئے۔ میں نے افریقہ کے ایک تاجر کی مثال دی۔ انہوں نے تجارتی ضرورت کے تحت انگریزی بولنا شروع کیا۔ ابتدا میں اُن کی انگریزی بہت غلط ہوتی تھی مگر بعد کو وہ صحیح انگریزی بولنے لگے۔ ابتدائی دور میں اُنہوں نے اس سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجائے:
I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English.
…کے موسم میں میںاے۔ سی استعمال نہیں کرتا۔اب وہ سردی کے موسم میںہمارے یہاں آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں ہیٹر لگا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آپ تو اے ۔سی استعمال نہیں کرتے۔پھر آپ ہیٹر کیوں استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔
میںنے کہا کہ میرے بھائی، آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہ کرسکے۔ اے۔سی آرام کے لیے ہوتا ہے اور ہیٹر ایک ضرورت کی چیز ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ گرمی کا موسم مجھے بیمار نہیں کرتا۔ اے ۔سی لگانے سے جسمانی آرام تو ملتا ہے مگر اس کا تعلق بیماری سے نہیں۔ اس کے برعکس میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ اگر مجھے سردی لگ جائے تو میں بیمار ہوجاتا ہوں۔ زکام، کھانسی، بخار کی وجہ سے ہفتوں کے لیے کام کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سخت سردی میں میں ہیٹر کا استعمال کرتا ہوں۔ آپ آرام اور ضرورت میں فرق نہ کرسکے۔ اس لیے آپ کو یہ شبہہ لاحق ہوا۔
یہ حکمت (wisdom) کی بات ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانے۔ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے پڑھے لکھے لوگ عام طورپراس حکمت سے بے بہرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باتوں کو واضح انداز میں سمجھ نہیںپاتے۔ وہ خود بھی…
…تو ہماری بنیاد کو ڈھارہا ہے۔ دوسرے ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور ہے۔ اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہٖ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار میں شائع ہوا۔
میرا یہ مضمون نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس کے انٹرنیٹ ایڈیشن میںموجود ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرکے ہندستان ٹائمس کے شمارہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ میں اُس کو دیکھ سکتا ہے۔ اس اخبار کا انٹر نیٹ نمبر یہ ہے :www.hindustantimes.com
دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد نو بجے میں دہلی پہنچ گیا۔ حیدر آباد میں موسم بالکل معتدل تھا جب کہ دہلی میں عین اُسی دن سردی کا موسم تھا۔ زمین کے اوپر موسم کا یہ فرق زمین کے مخصوص جھکاؤ (tilt) سے پیدا ہوتا ہے۔یہ جھکاؤ ایک انتہائی غیر معمولی…
…کے مطابق، ساری دنیا دار الانسان ہے، نہ کہ دار الکفار۔ مائناریٹی کمیشن کے ڈائیلاگ (۱۴ جولائی) کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے بارہ میں یہ نہ کہئے کہ وہاںملی نمائندے نہیں تھے بلکہ یہ کہئے کہ وہاں ملی دادا نہیں تھے۔
۱۳۔ حیدر آباد سے مولانا سید اکبر الدین قاسمی اپنے خط مورخہ ۲۵ جولائی ۲۰۰۲ میں لکھتے ہیں: یکساں سول کوڈ آپ کا مؤقر کتابچہ جو اس موضوع پر ہزاروں کتابوں پر بھاری ہے وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حالیہ اجلاس (حیدرآباد) کے موقع پر شرکاء اجلاس میںتحفۃً تقسیم کیا گیا۔ اس کو بہت پسند کیا گیا۔ میرٹھ کے سفر نامہ میں مسلم انٹلیکچول فورم کا آپ نے تذکرہ فرمایا تھا، اسی نہج پر یہاں کام کرنے کے لیے یہ فورم قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
۱۴۔ ۱۸ اگست ۲۰۰۲ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب (اسپیکر ہال) میںایک گوسٹھی ہوئی۔ اس کا انتظام سار بدیشک آرے پرتی ندھی سبھا نے کیا تھا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور قومی ایکتا کے موضوع پر ایک تقریر کی۔
…لازیدنکم۔ (اگر تم شکر کروگے تو تم کو اور زیادہ دیا جائے گا) یعنی آپ ڈپٹی جنرل مینیجر ہونے پر شکر کیجئے تو آپ کو جنرل مینیجر کا عہدہ بھی مل جائے گا۔ گویا اللہ کے قانون میں نہ ملے ہوئے کو پانے کا راز یہ ہے کہ ملے ہوئے پرشکر ادا کیا جائے۔
اس تعلیم کے دو فائدے ہیں۔ ایک تویہ کہ آپ کے دل کا بوجھ اتر جاتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اس نصیحت کو ماننے کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کو بلا روک اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار آپ کے حق میں نکلتا ہے۔
جودھ پور کی مہاراجہ فیملی راٹھور راجپوت سے تعلق رکھتی ہے۔ راٹھور راجپوت اس علاقہ میں ۱۲۱۱ء میں آئے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ سلطان محمد غوری نے قنّوج کے مقام پر اُنہیں شکست دی تھی۔ راٹھور راجپوتوں کے تعلقات مغل سے بہت اچھے تھے۔ جودھ پور…
انٹر نیٹ کے ذریعہ جودھ پور کے بارے میں جو معلومات مجھے حاصل ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ موجودہ شہر ۱۴۵۹ ء میں مارواڑ کی راجدھانی کے طورپر بنایا گیا۔ اُس کے بانی راؤ جودھا تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ رام کی ذرّیت ہیں:
The former capital of Marwar state, was founded in 1459 by Rao Jodha who claimed descendant of Lord Ram.
انسانی دماغ بھی زیادہ پیچیدہ قسم کا ایک زندہ کمپیوٹر ہے۔ اس کا تجربہ بھی مجھے اسی سفر کے دوران پیش آیا۔ میںنے جودھ پور کا سفر کیا تو میرے ذہن میں یہ نہ تھا کہ مجھے اس کا سفر نامہ لکھنا ہے۔ سفر نامہ کے لیے میرا طریقہ یہ ہے کہ یا تو سفر کے…
برادر محترم محمد مسیح الدین فاروقی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۳۰ مارچ ۲۰۰۲ء تحفہ کے پارسل کے ساتھ ملا، جزاکم اللہ۔ مجھے فاروقی منجن کے مقامی ڈیلر کا پتہ مطلوب تھا۔ میںنے آرڈینری پوسٹ کارڈ پر اپنے رفیق کار برادرم ندیم احمد سنابلی سے معمولی انداز میں ایک خط لکھوا کر بھیج دیا تھا۔ ایسا میںنے اس لیے کیا تھا تاکہ میری آئیڈینٹیٹی مخفی رہے۔ مگر یہ اتقوافراسۃ المؤمن فإنہ ینظربنور اللہ کا معاملہ بن گیا۔ آپ نے حیرت انگیز طورپر اس کو پہچان لیا اور تحفہ کی صورت میںمطلوب اشیاء کا ایک پارسل روانہ فرما دیا۔
اصل یہ ہے کہ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، مجھے بھی دانت کی شکایت تھی۔ میں پابندی کے ساتھ سفر وحضر میں مسواک کرتا رہا ہوں۔ اسی طرح ملک کے اندر اور ملک کے باہر بننے والے ٹوتھ پیسٹ بھی استعمال کئے۔ مگر اس کے باوجود دانت میں وہی مسئلے پیدا ہوگئے…
…کشمیر میں مسلم اکثریت تھی مگر حکمراں ہندو تھا۔ اب یہ سوال تھا کہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدر آباد کے نواب نے اپنا رسمی الحاق پاکستان سے کرلیا اس کے برعکس کشمیر کے راجہ نے ہندستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دئے۔
اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی لیڈر شپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی۔ اُس نے پاکستانی لیڈروں سے کہا کہ تم حیدر آباد سے اپنا دعویٰ واپس لے لو اورہم کشمیر سے اپنا دعویٰ واپس لے لیں۔ اس طرح یہ نزاع ختم ہوجائے گی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستہ پر اپنا سفر شروع کردیں گے۔
ہندستانی لیڈروں کی اس پیش کش کی تائید میں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجود تھی: وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا (الأنفال ۶۱) یعنی اگر فریقِ ثانی صلح کی پیش کش کرے تو تم فوراً اس پیشکش کو قبول کرلو۔ مگر پاکستان کے لیڈر جو سلطانی ماڈل سے مسحور کن…
…کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو (give and take) کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اپنے مخالفین کے اس مطالبہ کو مانا کہ وہ مکہ میں داخلہ کے بارے میں اپنے حق کوچھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں مخالفین اس پر راضی ہوئے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف اپنی جنگی کارروائی کو ترک کر کے انہیں امن کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لئے ہے جو احساس شکست کے بغیر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہوں۔ اس دنیا میں پانا صرف اس انسان کے لئے مقدر ہے جو دوسروں کو دینے کے لئے راضی ہو جائے۔ اس دنیا…
25مئی1985
قاسم رضوی (1902-1970) ’’آزاد حیدر آباد‘‘ کے علم بردار تھے۔ وہ بہت زور وشور کے ساتھ آزاد حیدر آباد کی تحریک چلا رہے تھے۔کسی ہندوسیاست داں نے ان سے کہا کہ آپ حیدرآباد کو آزاد حیدر آباد کیسے بنائیں گے جب کہ آپ چاروں طرف انڈین یونین سے گھرے ہوئے ہیں۔ قاسم رضوی نے جواب دیا
’’ہم نہیں گھرے ہوئے ہیں، تم گھرے ہوئے ہو‘‘
…تھا۔ موجودہ زمانہ میں بیرونی سفر کےلیے بہت سے قانونی تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بظاہر وقت پر سفر کرنا انتہائی دشوار تھا۔ مگر اس نے رات دن ایک کرکے سارا کام پورا کرلیا اور ٹھیک تاریخ پر وہ ہوائی جہاز پر بیٹھ کر مطلوبہ ملک کو پرواز کررہا تھا۔
دوسری طرف اسی قسم کا موقع ایک اور شخص کےلیے پیدا ہوا۔ وہ شہر سے دور دیہات میں تھا، اس نے اپنے ایک رشتہ دار کو جو شہر میں رہتے تھے ، خط لکھا کہ میرے لیے شہر میں آنا مشکل ہے۔ آپ میرا یہ کام کرا دیجئے اور اس سلسلہ میں جو پیسہ خرچ ہوگا۔ وہ سب میرے ذمہ ہوگا۔ رشتہ دار نے جواب دیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا۔ مذکورہ شخص ان کے اطمینان پر رہ گیا۔ اس کے پاس پورے دو مہینے کا وقت تھا مگر اس کا کوئی کام نہیں ہوااور وہ باہر نہ جاسکا۔ آخر میں مذکورہ رشتہ دار کا پیغام ملاکہ فلاں وجہ پیش آگئی اس وجہ سے میں تمہارا کام نہکرسکا۔ یہ زبانی پیغام تاخیر سے اس وقت پہنچا جب کہ وقت گزر چکا تھا۔
پہلے شخص نے اپنا کام سمجھ کر دلچسپی لی تو اس نے کم وقت کے باوجود کام کو پورا کرلیا۔ دوسرے شخص نے اپنے کام کی طرح دل چسپی نہیں لی اس لیے معمولی باتیں اس کےلیے عذر بن گئیں اور زیادہ وقت کے باوجود وہ کام کو انجام نہ دے سکا۔
احساس امانت کا فقدان
پروفیسر مسعود الحسن(پاکستان) کی ایک انگریزی کتاب ڈاکٹر سَر محمد اقبال کے بارے میں ہے۔ اس کا نام ہے— حیات اقبال (Life of Iqbal)۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ سَرمحمد اقبال14جنوری1929ء کو بذریعہ ٹرین حیدر آباد پہنچے۔ وہاں ریلوے اسٹیشن پر ان کو شاہانہ استقبال دیا گیا۔ پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے طالب علموں نے اقبال کے اس شعر کو گاکر انہیں خراج تحسین پیش کیا
چین و عرب ہمارا ہندستان ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
…توجيهات اگرچه خالص علمى اعتبار سے مفروضات كى حيثيت ركھتى هيں، مگر عملاً عصر حاضر كے ذهن پر اِنھيں كا غلبه هے۔ نظريه ارتقا كا بانى چارلس ڈارون (Charles Robert Darwin) تھا۔ ڈارون 1809 ميں برطانيه ميں پيدا هوا اور 1882 ميں اس كا انتقال هوا۔
2۔ دوسرا نظرياتى ستون وه هے جس كو اصولِ تعليل (principle of causation)كها جاتا هے۔ يهى مبنى بر اسباب فكر (causation-based thinking)هے جس كے تحت تمام طبيعى واقعات كى توجيهه كى جاتى هے۔ اِس نظريے كا بانى آئزك نيوٹن (Isaak Newton) تھا۔ نيوٹن 1642 ميں انگلينڈ ميں پيداهوا اور 1727 ميں اس كى وفات هوئي۔ طبيعى واقعات كى توجيهه نيچرل اسباب (natural causes) سے كرنا سائنسى دنيا ميں عام طور پر رائج هوگيا اور عملاً وه ابھى تك رائج هے، اگرچه بعد كى سائنسى تحقيقات اِس توجيهه كو غير علمى ثابت كرچكى هيں۔
3۔ تيسرا نظرياتى ستون وه هے جس ميں انسانى شخصيت كى توجيهه خواهش كى بنياد پر كى جاتى هے، يعنى مبنى بر خواهش فكر (desire-based thinking) ۔ اِس نظريے كے مطابق، انسان كے اندر جو خواهش هے، وهى اس كى شخصيت كى تشكيل كرتى هے۔ گويا انسان كو اپنى…
Respected Maulana!
I am Neha, working in an MNC for some people, it cannot be better than to get a job in top MNC just after graduation. But believe me, I am in search of a more purposeful life. That's why I am writing to you.
I met Priya Malik, Khalid Ansari and Sadia Khan on a flight to Delhi and could apparently see the difference your guidance has made to their lives.
…ہوئی۔ اس میں 26مسلم ملکوں کے اعلیٰ ذمہ دار شریک ہو ئے۔ انھوں نے بلااعلان مذکورہ بیان کی تصحیح کی اور متفقہ طور پر اس کے بالکل بر عکس بیان دیا۔ انھوں نے آیت اللہ خمینی کے فتوے کو کلی طور پر رد کر دیا۔ (ملا حظہ ہو ،زیر نظر کتاب، صفحہ 46)
3۔مسلم دنیا کی مشہور شخصیت اور سعودی عالم دکتور عبداللہ عمر نُصَیف نے ابتدا میں وہی بات کہی جو آیت اللہ خمینی کی حمایت میں عام علماء کہہ رہے تھے۔ یعنی یہ کہ سلمان رشدی اپنی مذکورہ کتاب کی وجہ سے قابلِ قتل ہے۔ (ملاحظہ ہو زیرِ نظر کتاب ، صفحہ 43)۔ مگر بعد کو انھیں اس انتہا پسندانہ نظریہ سے رجوع کرنا پڑا۔ دکتور عبداللہ عمرنصیف 1993کے آغاز میں روم(اٹلی) گئے۔ وہاں انھوں نے مسیحی پیشوا پوپ جان پال دوم سے ملاقات کی۔ روم میں انھوں نے ایک عالمی ایجنسی ورلڈ نیوز لنک (World News Link) کو ایک انٹر ویو دیا۔ انگریزی رپورٹ کے مطابق، اس کا ایک سوال و جواب یہ تھا
Q. What is your opinion on the death penalty imposed on the British author Salman Rushdie by Iran's religious leaders?
تربیتِ شعور
مسٹر خالد جمال ملاقات کے لیے آئے۔ وہ حیدرآباد میں رہتے ہیں ۔اس وقت وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کارپوریٹ کمیونی کیشنز کے منیجر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میری ابتدائی تعلیم کلکتہ کے ایک اردو اسکول میں ہوئی۔ میرے باپ بھی معمولی حیثیت کے آدمی تھے۔ بظاہر میرے لیے کسی بڑی ترقی کے مواقع نہیں تھے۔ مگر میں اپنی طالب علمی کے زمانہ سے ہی الرسالہ پڑھتا تھا۔ اس سے میرے اندر ایک نئی سوچ اور نئی ہمت پیدا ہورہی تھی۔ پھر میں نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایج آف کمیونی کیشن ہے۔ اس کو پڑھ کر میرے اندر یہ عزم جاگاکہ مجھے کمیونی کیشن کا کورس کرنا چاہیے۔ چنانچہ اردو اسکول سے فراغت کے بعد میں نے کمیونی کیشن کی اسٹڈی شروع کردی۔ یہاں تک کہ آج میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کمیونی کیشن کے شعبہ کا منیجرہوں۔
اکثر لوگ اردو اسکول اور عربی مدرسہ کے خلاف لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قوم کوناکارہ بناتا ہے۔ مگر مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ یہ رائے درست نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ اردو اسکول یا عربی کے ساتھ ’’الرسالہ‘‘ جیسے کسی انفارمل تربیتی…
…طرز تعلیم موجودہ طرز تعلیم سے بہتر تھا۔ مولانانے بھی تقریر کی۔ انہوں نے موافقت کا پہلو اختیار کیا۔ یہ تقریر اتنی موثر ہوئی کہ طالب علموں نے عموماً مقرر کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ سید محمود نے بھی ان کے حق میں رائے دی۔ (حیات شبلی، صفحہ 160)
اسی طرح ایک بار یونین میں یہ بحث تھی کہ جمہوری طرز حکومت بہتر ہے یا شخصی۔ جلسہ میں سرسیدبھی موجود تھے۔ مولانا نے جمہوری طرز حکومت کی تائید کی اور اس موضوع پر ایسی مدلل تقریر کی کہ تمام طالب علموں نے ان کی موافقت میں رائے دی (حیات شبلی، صفحہ 161)۔ یہ بات آج کچھ عجیب نہیں معلوم ہوگی لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ 1892ء میں پیش آیا تھا تو مولانا کی تقریری صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے۔ مولانا شبلی کی یہی سب خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے وہ علی گڑھ کی فضا پر چھا گئے۔
شبلی کا علی گڑھ جانا محض ایک معمولی واقعہ نہ تھا۔ بلکہ یہ جدید و قدیم کا اتصال تھا۔ شبلی گویا قدیم کے ایک قابل اعتماد نمائندے تھے اور علی گڑھ اپنے وقت میں جدید کی نمایاں ترین علامت تھا۔ اس اتحاد و اتصال سے دونوں کو زبردست فائدے ہوئے۔
…داری پیدا ہو۔ لیکن یہ چیزان کو نہ قسطنطنیہ میں ملی، نہ شام میں اور نہ مصر میں۔ سفرنامہ میں لکھتے ہیں— ’’اس سفر میں جس چیز کا تصور میری تمام مسرتوں اور خوشیوں کو برباد کر دیتا تھا وہ اسی قدیم تعلیم کی ابتری تھی‘‘۔ (سفر نامہ روم و مصر وشام)
مولانا شبلی کے اس تجربہ اور مطالعہ نے انھیں ایک نئے تعلیمی تصور تک پہنچایا۔ یہ کہ ایسی درس گاہیں قائم کی جائیں جہاں جدید و قدیم دونوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔ مولاناسید سلیمان ندوی آگے چل کر لکھتے ہیں
’’مولانا شبلی کا یہی احساس تھا جو ندوۃ العلما کے قیام کے بعد دار العلوم ندوۃ العلما کے نظام و دستور العمل کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس نے دارالعلوم کا یہ مرقع (مسودہ)، جس کو سیاح روم و شام نے اپنے قلم سے کھینچا ہے، دیکھا ہے۔ اس کو نظر آئے گا…
…چنانچہ مولانا کاکا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیاگیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اِس طرح میرے لیے ممکن ہوگیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کرسکوں۔
ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے— مولانا کاکا سعید احمد عمری (معتمد عمومی جامعہ)، مولاناکاکا انیس احمد عمری، مولاناڈاکٹر عبد اللہ جولم عمری مدنی، مولانا ابو البیان حماد عمری ، وغیرہ۔اِن حضرات سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ان کے ذریعے جامعہ دارالسلام کے بارے میں کئی معلومات حاصل ہوئیں۔
میں نے کہا کہ جامعہ دارالسلام کے بانی جناب کاکا عمر (وفات1928) واقعی معنوں میں ایک صاحبِ بصیرت انسان (man of vision) تھے۔ وہ اگرچہ ایک تاجر تھے، لیکن انہوں نے جدید دور کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے مطابق، جامعہ دار السلام کی…
He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32)
سیرتِ رسول کے اِس پہلو کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس کی وضاحت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بہت سے واقعات بیان کیے۔
پروگرام کے بعدحاضرین کو سوال وجواب کا وقت دیاگیا، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ چنانچہ جلسے کے اختتام کا اعلان کردیاگیا۔ مولانا کاکا سعید احمد عمری نے اِس خطاب کے بارے میں کہا کہ یہ سیرتِ رسول کے موضوع پر سب سے اچھا خطاب تھا۔ کاکا صاحب نے…
صبر کا مہینہ
حضرت سلمان فارسی کی ایک روایت حدیث کی کتابوںمیں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ— شعبان کے مہینے کے آخری دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطاب فرمایا۔ یہ ایک تفصیلی حدیث ہے۔ اس کے کچھ حصے یہ ہیں
يا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَك، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ…
ایک صاحب جو محامی (وکیل) ہیں اور یہاں کھانے میں شریک تھے ، انہوں نے ایک گفتگو کے درمیان بڑے درد کے ساتھ کہا النَّاسُ كُلُّهُمْ يَا أَخِي مُتَعَطِّشُونَ إِلَى الإِسْلَامِ (میرے بھائی، آج تمام لوگ اسلام کے پیاسے ہیں)۔
16 مارچ( بروز جمعہ) ڈاکٹر احمد تو تونجی کو ٹیلی فون کیا گیا اور میری ریاض میں آمد کا ذکر کیا گیا۔ جمعہ کی نماز ہم لوگوں نے مسجد سلیمانیہ میں ادا کی۔ ایک عرب با صرار اپنے ساتھ وہاں لے گئے تھے۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹے تو دکتور احمد تو تونجی یہاں موجود تھے۔ مجھ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔وہ ایک خوبصورت قسم کا بند پیکٹ اپنے ساتھ لائے تھے۔شیخ احمد تو تونجی نے کہا کہ یہ آپ کے لیے ہے۔ میں نے کھولا تو اس کے اندر دو ایسی کتابیں تھیں جو عین میرا مطلوب تھیں۔ ایک قرآن کا جیبی نسخہ جو بائبل پیپر پر چھاپا گیا تھا۔ دوسرا حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف کاندھلوی) کی جلدیں دمشق کی چھپی ہوئی۔ مجھے قرآن کے مذکورہ نسخہ کی عرصہ سے تلاش تھی۔ اسی طرح حیات الصحابہ کا دمشق میں چھپا ہوا نسخہ بھی، جو میں بہت چاہتا تھا۔ الحمد للہ کہ آج ڈاکٹر تو تونجی کے ذریعہ دونوں چیزیں مجھے مل گئیں۔
دکتور احمد تو تو نجی آج ہی بیرون (افریقہ) جارہے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دکتورطہٰ جابر العلوائی کو مقرر کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ مجھ سے ملتے رہیں اور میری جو بھی ضرورت ہو اس میں میری معاونت فرمائیں۔
المعہد العالی الاسلامی
حیدر آباد کے سفر میں 10 دسمبر 2002کی شام کو یہاں کے المعہد العالی الاسلامی کو دیکھا اور اُس کے بانی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر کئی لوگ میرے ساتھ تھے — ڈاکٹر شیزان صاحب، عمر عابدین صاحب، عبد الرؤف صاحب، عبد الغفار صاحب، وغیرہ۔ یہ ادارہ 1420ھ میں قائم کیا گیا۔ اس میں مدارس دینیہ کے فارغین کو داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اُس کے تعارف نامہ میں یہ بتایا گیا ہے مختلف علوم اسلامی میں افراد کار کی تیاری، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت، علما کو انگریزی زبان اور جدید علوم سے با خبر کرنا، تحقیق وتالیف۔
یہ ادارہ ایک پہاڑی کے اوپر قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بالکل پُرسکون ماحول ہے۔ فضائی کثافت بھی یہاں تقریباً موجود نہیں ۔ تعلیم وتحقیق کے لیے یہ ادارہ اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے بہت موزوں ہے۔ اس ادارہ کی جو چیزیں میں نے دیکھیں اُن میں سے ایک…
ہر قسم کے مواقع
26 فروری 1988ء کی صبح کو دہلی کے تمام اخبارات کے پہلے صفحہ کی نمایاں سرخی یہ تھی: ہندوستان کے پہلے میزائل کا کامیاب تجربہ۔ 25 فروری کو پارلیمنٹ میں تالیوں کی گونج کے درمیان وزیراعظم راجیو گاندھی نے اعلان کیا کہ ہندوستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل (پرتھوی) تیار کر لیا ہے اور اس کا کامیاب تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔ یہ میزائل مکمل طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔ وہ خالص دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا رینج 250 کلومیٹر ہے۔ اس طرح اب ہندوستان ان چار ملکوں (امریکہ، روس، فرانس، چین) میں شامل ہو گیا ہے جو خشکی پر مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس میزائل کے بارے میں جو خبریں آئی ہیں، ان میں سے ا یک خبر ہندوستان ٹائمس (26 فروری 1988ء) کے مطابق یہ ہے کہ پرتھوی میزائل حیدر آباد کے دفاعی تحقیقی ادارہ (DRDO) کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ یہ کام سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انجام دیا…
دشمن میں دوست
ڈاکٹر سید عبداللطیف(1891-1971)کرنول(دکن) میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے انگریزی ترجمۂ قرآن اور دوسری خدمات کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ وہ مقامی ہائی سکول میں اپنے والد کی اطلاع کے بغیر داخل ہوگئے تھے۔ والد کو انگریز اور انگریزی تعلیم سے سخت نفرت تھی۔ ان کو معلوم ہوا تو غصہ ہوگئے اور درشت لہجے میں پوچھا کہ انگریزی پڑھ کر کیا کرے گا۔ دبلے پتلے، پست قامت لڑکے نے جواب دیا: انگریزی پڑھ کر قرآن کا ترجمہ انگریزی زبان میں کروں گا۔1915ء میں انہوں نے بی اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔1920ء میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔1922ء میں ان کے لیے نیا تعلیمی موقع پیدا ہوا، جب کہ جامعہ عثمانیہ کے چار استادوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجنا طے پایا، اور ان کے لیے ریاست کی طرف سے 30 ہزار روپے کا بلاسودی قرض منظور کیا گیا۔ ان میں سے ایک سید عبداللطیف بھی تھے۔
لندن پہنچ کر وہ وہاں بی اے (آنرز) میں داخلہ لینا چاہتے تھے۔ مگر کنگس کالج کے صدر شعبۂ انگریزی اور دوسری انگریز اساتذہ آپ کی صلاحیت سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ آپ کو بی اے اور ایم اے سے مستثنیٰ کرتے ہوئے براہ راست پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت…
…جب اس کی انا کو ٹھیس لگے۔ جب فریق ثانی کی کسی بات پر اس کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کا سابقہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس سے اس کی اَن بَن ہوگئی ہو، تو اس وقت شریف آدمی بھی غیر شریف بن جاتا ہے۔ صحیح دماغ کا انسان بھی پاگل پن پر اتر آتا ہے۔
ایک بار حیدر آباد سے محبوب نگر جاتے ہوئے خود میرے ساتھ ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ہماری گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک ایک بیل سڑک پر آگیا۔ جو صاحب کار کو چلا رہے تھے انہوں نے یہ نہیں کیا کہ بیل کے خلاف احتجاج کریں یا بدستور اپنی گاڑی دواڑتے رہیں۔ انہوں نے فوراً بریک لگا کرگاڑی کو روکا، اور ایک لمحہ رک کر اندازہ کیا کہ بیل کدھر جا رہا ہے۔ بیل نے جب سڑک کے آدھے سے زیادہ حصہ پار کر لیا، اور یہ واضح ہوگیا کہ وہ مشرق کی طرف جا رہا ہے تو انہوں نے اپنی گاڑی مغرب کی طرف گھمائی اور بیل کے کنارے کی طرف سے راستہ نکال کر آگے کے لیے روانہ ہوگئے— زندگی کے مسائل ہمیشہ یک طرفہ کارروائی کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ جو لوگ دوطرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کرنا چاہیں، موجودہ دنیا میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں کہ وہ بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں اور اسی حال میں دنیا سے چلے جائیں۔
16مئی2011
حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے میں نے ہر کام چھوڑدیا ہے اور صرف کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے پایا کہ علما اور مفسرین کی رایوں کے درمیان بہت زیادہ تضادملتا ہے۔اس حالت میں صحیح رائے تک کیسے پہنچا جائے۔
میں نے کہا کہ تضاد ایک اضافی لفظ ہے۔ رایوں میں اختلاف یقیناً پایا جاتا ہے، لیکن اس کو تضاد کہنا درست نہیں۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مطالعے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آپ ایک اتفاقی رائے تک پہنچ جائیں۔ اتفاقی رائے ایک خارجی لفظ ہے۔ مطالعے کا…
فتح مبین کا راز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لیے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو …
غیر حکیمانہ طریقہ
موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ جب کسی سے کسی مسئلہ میں نزاع پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میںیہ کیا جائے کہ جو کچھ مل رہا ہے اس کو رضامندی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ اگر پہلے مرحلہ میں ایسا نہیں کیا گیا اور زیادہ حاصل کرنے کی خاطر مسئلہ کے تصفیہ کو لمبا کیا گیا تو مسئلہ اور پیچیدہ ہو جائے گا، اور پہلے مرحلہ میں جو کچھ مل رہا تھا اس کا ملنا بھی ناممکن ہوجائے گا۔
اس کی ایک مثال فلسطین کا موجودہ مسئلہ ہے۔ 1917 کا واقعہ ہے۔ برٹش امپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا۔ یہ عام طورپر بالفور ڈیکلریشن کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تقسیم واضح طور پر عربوں کے حق میں تھی۔ اس تقسیم میں فلسطین کا ایک تہائی سے…
…سنگین نہ بنتا۔ اس کا فیصلہ نہایت آسانی کے ساتھ پاکستان کے حق میں ہو جاتا۔ مگر پاکستانی قائدین کی دو طرفہ دوڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی ان کے حصہ میں نہ آیا۔ یہاں میں اس سلسلے میں خود پاکستان کے دو حوالے نقل کروں گا۔
اس سلسلہ میں پہلا حوالہ چودھری محمد علی کا ہے۔ وہ 1955-56 میں پاکستان کے پرائم منسٹر تھے۔ اس سے پہلے وہ لیاقت علی خاں کی حکومت میں منسٹر کی حیثیت سے شریک تھے۔ پاکستان کے حالات پر ان کی ایک ضخیم انگریزی کتاب چھپی ہے جس کا نام ایمرجنس آف پاکستان (Emergence of Pakistan) ہے۔
اس کتاب میں وہ بتاتے ہیں کہ تقسیم کے بعد جو نا گڑھ کے مسلم نواب نے پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق کرلیا جب کہ جوناگڑھ میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ انڈیا نے اس الحاق کو نہیں مانا اور پولیس ایکشن کے ذریعہ ریاست جونا گڑھ کو انڈین یونین میں…
زندگی کا اسیٹج
حیدرآباد کا واقعہ ہے 21ستمبر 1981کو مسٹر بی کے راماریڈی(90سال)اوران کی 80سالہ بیوی پھولا بائی رات کے وقت اپنے گھر واقع بنجارہ ہلز میں سو رہے تھے۔ان کے علاوہ ان کے گھر میں ا س وقت صرف ان کا ملازم رامیا(50سال )تھا۔رامیا نے عین نیند کی حالت میں کلہاڑی سے بوڑھے میاں بیوی پر حملہ کیا اورنہایت بے دردی کے ساتھ دونوں کو مار ڈالا۔اس کے بعد رامیا نے بکس سے تقریباً ایک لاکھ روپے کے ہیرے اور زیورات نکالے اوررات کی تاریکی میں گھر سے باہر نکل گیا۔
راستہ چلتے ہوئے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچاجہان پولیس کے دو آدمی رات کی ڈیوٹی میں پہرہ دے رہے تھے۔ان کو شبہ ہو اچنانچہ انھوں نے رامیا کو پکڑ لیا۔پوچھ گچھ اور ڈرانے دھمکانے کے بعد اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا اورچرایا ہوا مال پولیس کے حوالے…
تشکیل جدید کیا ہے
’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو نئے فکری اور عملی مسائل پیدا ہوئے ہیں ، ان کا ایسا جواب فراہم کیا جائے جس میں ایک طرف اسلام کے روح اور مزاج کی مکمل رعایت شامل ہو، دوسری طرف وہ جدید تقاضوں کو پوری طرح سمیٹے ہوئے ہو۔
فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے موضوع پر موجودہ زمانہ میں بہت کچھ لکھا اور بولا گیا ہے۔ غالباً اس موضوع پر سب سے پہلے لکھنے والے اور اس کی طرف توجہ دلانے والے سیدجمال الدین افغانی (1838-1897ء) تھے۔ اسی طرح شیخ محمد عبدہ (مصر) سرسید احمد خان،…
…میں پیدا ہوا، اور۱۷۸۲ء میں اس کی وفات ہوئی۔ حیدر علی ،میسور اسٹیٹ کا حکمراں تھا۔ اس اسٹیٹ میں دوسرے علاقوں کے ساتھ بنگلور شامل تھا۔حیدر علی فوجی معاملات کا زبردست ماہر تھا۔ اس نے اپنی خصوصی لیاقت کے ذریعے ۱۷۴۹ء میں میسور اسٹیٹ قائم کیا۔
حیدر علی کے زمانے میں انڈیا میں برٹش رول ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا۔ مختلف طاقتیں اپنی سیاسی قسمت کے لیے زور آزمائی کررہی تھیں۔ چناں چہ حیدر علی کو اپنے دورِ حکومت میں مختلف طاقتوں سے جنگ کرنی پڑی— نظام حیدر آباد ، مراٹھا، فرانسیسی، انگریز وغیرہ۔ ان جنگوں میں تقریباً پچاس ہزار آدمی مارے گیے۔ آخر میں حیدر علی نے محسوس کیا کہ اس کو جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹے ٹیپو سے یہ التماس کیا کہ تم انگریزوں سے صلح کرلینا
In his dying words to Tippu that Hyder implored him to make peace with the british. (V/235)
…خدا سے انسان کے تعلق کو بتانا ہے نہ کہ کسی عمارتی ڈھانچے سے اس کے تعلق کو بیان کرنا۔ مسجد کی اہمیت یہی ہے کہ وہ خداکی یاد کی علامت ہے۔ مسجد معروف معنوں میں کوئی مقدس عمارتی ڈھانچہ نہیں۔ وہ اللہ میں جینے کی تربیت حاصل کرنے کا مرکز ہے۔
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ قدیم زمانے میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ترقیاں کیں۔ وہ علوم اور فنون میں ساری دنیا کے امام بن گیے۔ پھر انھوں نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی علمی پستی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ مسلم دشمنوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم اعلیٰ ترقی کے درجے تک پہنچیں۔ اس لیے وہ ہر پہلو سے ہم کو نیچے دھکیلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
میںنے کہا کہ دشمنی اور رقابت ایک عمومی حالت ہے۔ وہ ہر دور میں باقی رہتی ہے۔ قدیم زمانے میں جب مسلمانوں نے ترقی کی، تب بھی ان کے دشمن موجود تھے اور دشمنوں کی دشمنانہ کارروائیوں کے باوجود انھوں نے ترقیاتی کام کیا۔ اسی طرح آج بھی مسلمانوں کو…
…گیا۔ چنانچہ الیکشن میں یہ ہوا کہ شہر کے لوگوں نے تو حکمراں پارٹی کو ووٹ دیا لیکن گاؤں کے لوگوں کی اکثریت نے اپنے ووٹ کو حکمراں پارٹی کے خلاف استعمال کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکمراں پارٹی ہار گئی۔ اور نتیجۃً ترقی کا ہوتا ہوا عمل رُک گیا۔
میں نے کہا کہ حقیقی ترقیاتی عمل کے لیے دو چیزیں ناگُزیر طور پر ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اَربابِ کار کو یہ معلوم ہو کہ ترقی کا عمل ہمیشہ ایک ابتدائی مقام سے شروع ہوتا ہے۔ پورے پورے سماج کو بیک وقت اچانک ترقی یافتہ نہیں بنایاجاسکتا۔ یہ کوئی ایکسپلائٹیشن کی بات نہیں ہے، یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ جو لوگ اِس اصول کو نہ جانیں وہ اپنے خود ساختہ نظریے کے تحت، صرف تخریب کاری کریں گے، وہ کسی حقیقی تعمیر کو وجود میں نہیں لاسکتے۔
دوسری ذمّے داری اُن لوگوں کی ہے جن کو موجودہ سیاسی اصطلاح میں حزبِ مخالف (opposition group) کہاجاتا ہے۔ اِن لوگوں کو سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ملک کے مفاد کے لیے اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور ترقی کے عمل میں غیر ضروری…
…پرواز کی حالت میں رہتی ہے۔ مگر زمین میں کبھی اِس طرح کی جنبش نہیں ہوتی۔ وہ کروڑوں سال سے بالکل ہموار انداز میں حرکت کررہی ہے۔ مگر انسان اِس عظیم نعمت کا احساس نہیں کرتا۔ وہ انعام سے فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن وہ مُنعم کا اعتراف نہیں کرتا۔
انسان کی اِس بے خبر ی کو توڑنے کے لیے زمین پر بھونچال آتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی بھونچال انسان کی یاد ہانی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ جب بھونچال آتے ہیں تو وہ وقتی طور پر آہ وواویلا کرتا ہے اور پھر پہلے کی طرح ہوجاتا ہے۔ قیامت کا بڑا بھونچال اس لیے آئے گا کہ وہ آخری طور پر انسان کی بے خبری کو توڑ دے، اگرچہ اُس وقت بے خبری کا یہ ٹوٹنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
۹ مارچ ۲۰۰۶ کی دوپہر کو ہمارا جہاز ٹھیک وقت پر حیدرآباد ائر پورٹ پر پہنچا۔ یہاں حبیب بھائی، احمد بھائی، مولانا عبد الرؤف قاسمی وغیرہ کئی لوگ ائر پورٹ پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر حبیب بھائی کی رہائش گاہ (جُبلی ہل) پہنچا۔ یہاں شہر…
…میں وہی حالت قائم ہوگئی ہے جس کو میںنے جبری امن سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ہندستان میں دونوں فریقوں کی طرف سے امن کی حالت قائم ہوگئی ہے۔ یہ حالت ہم کو موقع دیتی ہے کہ ہم سکون کے ساتھ اپنے تعمیری منصوبے کو بروئے کار لاسکیں۔
پروگرام کے سلسلے میں اکثر میںنے لوگوں کو اپنی ایک کمزوری بتائی ہے۔ لیکن لوگ اس کا دھیان نہیں رکھ پاتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ میں کار سِک (car sick) ہوں۔ کار خواہ کتنی ہی اچھی ہو لیکن جب میںکار میں سفر کرتا ہوں تو بہت جلد میرے سر میں چکّر شروع ہوجاتا ہے۔ حتی کہ میں معتدل انداز میں بولنے کے قابل نہیں رہتا۔ میںنے بار بار لوگوں کو یہ بات بتائی ہے۔ لیکن چوں کہ دوسرے لوگوں کایہ مسئلہ نہیں، اس لیے وہ میری اِس کمزوری کو سمجھ نہیں پاتے اور ایسی جگہ پروگرام رکھ دیتے ہیں جہاں مجھے قیام گاہ سے دور جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر عام طورپر کار کے ذریعے ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد میرے سر میں چکر شروع ہوجاتا ہے، اور انشراح ختم ہوجاتا ہے۔میرے ذوق کی بات یہ ہے کہ پروگرام کسی ایک جگہ ہو مجھ کو اِدھر اُدھر جانا نہ پڑے۔ میری قام گاہ اور اجتماع گاہ دونوں ایک ہو۔ میںاپنے حالات اور اپنے مزاج کی وجہ سے اسی طریقے کو زیادہ درست سمجھتا ہوں۔
حیدرآباد یونیورسٹی کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ واپس روانہ ہوئے۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد نشست ہوئی تو بہت سے لوگ یہاں جمع ہوگیے۔ مثلاً محمد خورشید اکرم سوز ، ایو ت مال (عمر ۴۱ سال)…
…طرح مختلف مقامات پر لوگ حلقے قائم کرکے دعوت اوراصلاح کا کام کررہے ہیں۔ مثلاً حیدرآباد، بنگلور، کالی کٹ، بمبئی، ناگپور، میرٹھ، سہارن پور، وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی کام کا فطری طریقہ ہے۔ اِسی طرح کام زیادہ نتیجہ خیز طورپر آگے بڑھتا ہے۔
حیدر آباد کے زمانۂ قیام میں۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کی شام کو جناب حسن الدین احمد صاحب (آئی۔اے۔ایس) میری قیام گاہ پر تشریف لائے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ ان کی ایک کتاب (طُلوعِ فکر) زیرِ طبع ہے۔ اِس کتاب کے ایک ٹائپ شدہ باب کی کاپی انھوں نے مجھے دی۔ یہ دراصل ان کا ایک خطبۂ صدارت تھا۔ حیدر آباد میں ۵جون ۱۹۸۸ کو اسلامی مرکز دہلی کی برانچ کے افتتاح کے طور پر ایک جلسہ ہوا تھا۔ اِس جلسے کے صدر جناب حسن الدین احمد صاحب تھے۔ اِس موقع پر میں نے اسلامی مرکز کے مقاصد پر ایک تفصیلی تقریر کی تھی۔ جناب حسن الدین احمد صاحب نے آٹھ صفحے کا ایک خطبۂ صدارت پیش کیا۔ اِس میں انھوں نے راقم الحروف کی علمی اور دعوتی خدمات کا مکمل اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
’’آج مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ عوامی طرزِ عمل یہ ثابت کررہا ہے کہ مولانا بلند پایہ شخصیت کے حامل ہیں۔ مخالفت برائے مخالفت کرنے والے اُن پر ایسے الزامات عائد کرتے ہیں جن سے وہ بَری ہیں۔ ان کی نیت…
…بنا پر ایسا ہوا ہے کہ بعد کی مسلم نسلوں میں حاکمانہ مزاج آگیا۔ حالاں کہ حاکمانہ دور کی حیثیت ماڈل کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک درمیانی حالت کی ہے۔ مکّی دَور ہی اسلام کا ابدی ماڈل ہے۔ مدنی دَور، مکی دَور کے تابع ہے نہ کہ اس سے آزاد۔
اسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طورپراہلِ علم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام میں اقتدار کی حالت (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، لیکن اسلام میں بے اقتدار کی حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکّی دَور امت کے ذہن سے عملاً حذف ہوگیا ہے۔ اب امت کے ذہن میں صرف مدنی دَور، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں عباسی دَور اور اسپینی دَور اور مغل دَور اور عثمانی دَور موجود ہے۔ اِسی بعد کے سیاسی دَور سے لوگ انسپریشن لیتے ہیں۔ مکّی دَور لوگوں کے ذہن میں زندہ شعور کی حیثیت سے موجود نہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ غلو کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ غلو دراصل دورِ زوال کا ظاہرہ ہے۔ غلو کا تعلق اسپرٹ سے نہیں ہے بلکہ ظواہر سے ہے۔ جب اسپرٹ ختم ہوجائے اور دین صرف ظواہر کی سطح پر باقی رہے، اُس وقت ایساہوتا ہے کہ لوگ…
…کیا جائے جس کو سن کر فوراً اصل مفہوم واضح ہوجائے۔ آپ کو اِس معاملے میں شک ہو تو آپ یہ دیکھیے کہ کیا وہ لوگ جو رفیقِ حیات کے لفظ سے واقف ہیں کیا وہ اِس بات کو جانتے تھے کہ رفیقِ حیات کا مطلب اپنی شریکِ زندگی کو انٹلکچول پارٹنر بنانا ہے۔
۱۰ مارچ ۲۰۰۶ کو جامعہ دار الفرقان کے پروگرام سے فارغ ہو کر ہم لوگ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے ایک قریبی مسجد میں گیے۔ ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو وہاں خطبے سے پہلے کی تقریر ہورہی تھی۔ امام صاحب لاؤڈسپیکر پر اِس قدر زور زور سے بول رہے تھے جیسے کہ کسی دشمن نے حیدرآباد پر حملہ کردیا ہے اور وہ لوگوں کو اس کی خبر دے رہے ہیں۔ اکثر علماء اِس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ پُر جوش انداز میں تقریر کی جائے گی اتنا ہی زیادہ اصلاح کا کام مؤثر ہوسکے گا۔ یہ لوگ شاید اقبال کے اِس شاعرانہ تخیّل سے متاثر ہو کر ایساکررہے ہیں
نوا را تلخ تر می زن، چو ذوقِ نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چو محمل را گراں بینی
…چاہیے۔ دعوت کا محرک دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی ہے۔ جو لوگ مذکورہ قسم کی شرطیں لگاتے ہیں ان کے دل انسانوں کی خیر خواہی سے بالکل خالی ہیں۔ اگر ان کے اندر انسانوں کے لیے خیر خواہی موجود ہوتو وہ کبھی اِس قسم کی بے بنیاد بات نہیں کہیں گے۔
مولانا محمد ذکوان ندوی نے بتایا کہ انھوں نے ۱۰مارچ ۲۰۰۶ کو حیدرآبادکی ایک قدیم جامع مسجد میںجمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ مسجد بہت بڑی تھی۔ مسجد کے اندر جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے جس پرلکھا ہوا تھا— براہِ کرم مسجد میں اپنا موبائل فون بند کردیں۔
انھوں نے بتایا کہ خطبے سے پہلے کی تقریر میں امام صاحب نے کہا کہ مسجد میںبڑے بڑے بورڈ پر لکھ کر یہ لگایا گیا ہے کہ لوگ مسجد میں اپنا موبائل بند رکھیں پھر بھی لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ دراصل یہود و نصاریٰ کی سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ…
…جسے مشرقی دنیا یا تیسری دنیا کہا جاتا ہے اس میں بسنے والوں کے مزاج سے قانون اور ضابطے کی پابندی، جسے ڈسپلن کہا جاتا ہے، عرصے سے مفقود ہے۔ بدقسمتی سے اپنے دورِ انحطاط میں ہم مسلمانوں کا حال بھی اِس پہلو سے کچھ مختلف نہیں رہا‘‘۔ (صفحہ ۲۸)
پہلے اقتباس کے مطابق، مسلمان خارجی ظلم کا شکار ہیں۔ اِس کے برعکس دوسرے اقتباس کے مطابق، مسلمان اپنی داخلی اور مزاجی کمزوریوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان کیوں ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ خود بھی ذہنی انتشار میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی وہ ذہنی انتشار میں مبتلا کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی ہوسکتا ہے جو کہ عملاً ہو رہا ہے۔
موجودہ حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ داخلی اعتبار سے مسلمانوں کے اندر بے اصولی اور بدنظمی کا جو مزاج بن گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے۔ دوسروں کو ظالم قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کسی بھی درجے میں مسئلے کا حل نہیں ۔
…میں انھوںنے کہا کہ اِس پورے پروگرام کا خلاصہ یہی واقعہ تھا جو گویا ہمارے الرسالہ مشن کا پریکٹکل نمونہ ہے۔ الرسالہ مشن کا خاص پہلو یہ ہے کہ منفی واقعے کو مثبت پہلو میں تبدیل کیا جائے۔ یہ واقعہ اِس اعتبار سے اِس حقیقت کا ایک عملی نمونہ تھا۔
حیدرآباد کے پروگرام کے بارے میں حبیب بھائی نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ہر اعتبار سے نہایت کامیاب تھا۔انھوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے یہ پروگرام کیاگیا تھا وہ مقصد پورا ہوا۔ خاص طورپر مجھے ذاتی اعتبار سے اِس بات کی خوشی ہے کہ میرے بیٹے اور بہوجو اس سے پہلے اسلام سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے اب انھوںنے باقاعدہ نماز شروع کردی ہے۔ اور وہ انگریزی کتابیں مطالعے کے لیے لے گیے ہیں۔
حیدر آباد کے روزنامہ اخبار ’’مُنصف‘‘ (۱۱مارچ ۲۰۰۶) میں ایک خبر اِس عنوان کے تحت تھی ’’برطانوی باشندوں میںاسلام سے واقفیت کا رُجحان‘‘۔ یہ خبر اسلامی دعوت کے امکان کو بتاتی ہے۔ منصف سے لے کر اِس خبر کو یہاں نقل کیا جاتا ہے
…میں مسلمانوں کے منفی جذبات ختم ہوں گے اور دونوں کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہوجائے گی جو دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے۔ مسلمانوں کے اوپر سب سے بڑا فرض دعوت الی اللہ ہے۔ مگر مسلمانوں کے منفی ذہن کی بنا پر یہ کام عملاً تقریباً رُک گیا ہے۔
۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کی سہ پہر کو ہم لوگ ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ حیدرآباد کے ائر پورٹ پر پہنچے تو یہاں کافی بھیڑ نظر آئی۔ حیدرآباد کے لیے میرا پہلا ہوائی سفر جنوری ۱۹۸۳ میںہوا تھا۔ اس وقت کے مقابلے میں آج حیدرآباد ائر پورٹ پر بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ پچھلے برسوں میں حیدرآباد نے کاروباری اعتبارسے بہت زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔ اِس بنا پر یہاں ہوائی جہاز کی آمدورفت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لیکن جس نسبت سے ہوائی سفر بڑھا ہے اُس نسبت سے ایر پورٹ کی توسیع نہیں ہوئی ہے۔معلوم ہوا کہ حکومت ایک نیا ہوائی اڈّہ بنانا چاہتی ہے۔ جو بہت بڑا ہوگا اور وہ انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔
واپسی کا یہ سفر ایر دکن کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ جہاز میں مطالعے کے لیے ویکلی اخبار تہلکہ(Tehelka) کا شمارہ ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اخبار میں ایک رپورٹ اِس عنوان کے تحت چھپی تھی— قتل کی آزادیFreedom to Kill ۔
…اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر کے پروگرام میں شریک ہوں، تو بڑے دُکھے دل سے کہا کہ میں اُس انگلستان کی سرزمین پر قدم رکھنا پسند نہیں کرتا جس نے میرے آزاد ملک کو بھارت کی غلامی میں دے دیا۔ وہ کبھی برطانیہ نہ آئے‘‘ ۔(ماہ نامہ میثاق، لاہور، مئی ۲۰۰۳)
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے احساسات جو حیدر آباد کے بارے میں تھے وہی ۱۹۴۷ کے بعد تمام مسلم قائدین کے احساسات تھے۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ کے بعد حیدرآباد کے مسلمانوں نے غیر معمولی ترقی کی، ایسی ترقی جو انھیں سابق دولتِ آصفیہ کے زمانے میں بھی حاصل نہ تھی۔میں نے حیدرآباد کو ۱۹۴۷ سے پہلے بھی دیکھا تھا، اور آج کے حیدر آباد کو بھی میں نے کئی بار بار دیکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج حیدرآباد کے مسلمانوں نے اتنی زیادہ ترقی کی ہے جس کا تصور بھی ۱۹۴۷ سے پہلے کے مسلمان نہیں کرسکتے تھے۔
آج آپ حیدرآباد کے جس حصے میں جائیں وہاں آپ کو مسلمانوں کی شان دار دکانیں اور بڑے بڑے نو تعمیر رہائشی مکانات نظر آئیں گے۔ مسجدیں اور مدرسے اور مسلم ادارے اپنی شان دار بلڈنگوں کے ساتھ بتارہے ہوں گے کہ نیے حیدرآباد میںمسلمانوں کو غیر…
ایم فیکٹر، کیو فیکٹر
دہلی کے ایک مسلم نوجوان ایک انگریزی میگزین میں کام کرتے تھے۔ اِس میگزین کے مالکان سب ہندو تھے۔ چند سال کے بعد منتظمین کی طرف سے مذکورہ مسلم نوجوان سے کہاگیا کہ آپ استعفی دے دیں۔ چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو اُن کو برخاست کردیا جائے گا۔ اِس لیے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔
اِس کے بعد مذکورہ مسلم نوجوان سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ میرے ساتھی کہتے ہیں کہ اِس کا سبب ایم فیکٹر (M-factor) ہے۔ میںنے کہا کہ ہر گز نہیں، اِس کا سبب صرف کیو فیکٹر(Q-factor)ہے، یعنی مسلم فیکٹر نہیں، بلکہ کوالٹی فیکٹر۔ میں نے کہا…
مسئلے کا یقینی حل
حیدرآباد کے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ ایک صاحب سے ان کی پارٹنر شپ تھی۔کچھ عرصہ بعد دونوں کے درمیان شکایتیں پیدا ہوئیں۔ ایسا محسوس ہوا کہ یہ پارٹنر شپ اب چل نہیں سکتی۔ مذکورہ مسلم تاجر نے اپنے پارٹنر سے کہا کہ میری رائے ہے کہ اب یہ پارٹنر شپ ختم کردی جائے ۔ آپ الگ اپنا کام کریں اور میں الگ اپنا کام کروں۔پارٹنر نے پوچھا کہ اُس کا طریقہ کیا ہوگا۔ مسلم تاجر نے کہا کہ اِس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ اِس معاملے کا پورا اختیار میںآپ کو دیتا ہوں۔ میری طرف سے کوئی شرط نہیںہے۔ آپ جس طرح چاہیں، کاروبار کو دونوں کے درمیان تقسیم کردیں۔ جو چاہیں آپ لے لیں، اور جو چاہیں مجھ کو دے دیں۔پارٹنر نے کہا کہ میں فوری طورپر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ مجھ کو د و دن سوچنے کا موقع دیجیے۔ اس کے بعد میں آپ کو اپنی رائے بتاؤں گا۔ دو دن کے بعد پارٹنر نے مذکورہ تاجر سے ملاقات کی۔ اُس نے کہا کہ غور کرنے کے بعد میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ سے اچھا کوئی اور شریکِ تجارت مجھے نہیں مل سکتا۔ اِس لیے میںاپنے اختلاف کو یک طرفہ طورپر ختم کرتاہوں۔ میں آپ کو پورا حق دیتا ہوں کہ آپ جس طرح چاہیں، کاروبار کو چلائیں۔ ہماری اور آپ کی پارٹنر شپ اِسی طرح باقی رہے گی اور جہاں تک اختیار کا تعلق ہے، آپ کو ہر قسم کے فیصلے کا اختیار حاصل رہے گا۔
مذکورہ مسلم تاجر ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اِس واقعے کو کئی سال ہوچکے ہیں اور ہماری پارٹنر شپ نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔ ہم دونوں کے درمیان نہ کوئی شکایت ہے اور نہ کوئی بد گمانی۔ اِس فیصلے کے بعد کاروبار…
…فی الأہل والمال (أبو داؤد، کتاب الجہاد) مگر پولینڈ کے سفر میں میری زبان سے ایک نئی دعاء نکلی۔ میںنے ایک پائنٹ آف ریفرنس کو لے کر دعا کی۔ کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے ایک ممبر ہیں ۔ اُن کانام ڈاکٹر لونارڈ و(Leonardo Palombi) ہے۔
کمیونٹی کے پچھلے سالوں کے ایک پروگرام میں ان کا ٹیلی فون آیا تو میںنے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر آسکتا ہوں، اور وہ ہے — ائر پورٹ سے ائر پورٹ تک آپ کی موجودگی
Your availibility from airport to airport
جواب
دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 27میں بتایا گیا ہے کہ دابہ کلام کرے گا (النمل 82) جیسا کہ معلوم ہے، کمیونکیشن ایک غیر ذی روح چیز ہے۔ اس کے اندر اپنے آپ کلام کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ عالمی کمیونیکیشن کے زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا جو جدید کمیونکیشن کے ذرائع کو استعمال کرکے آیاتِ الٰہی کو لوگوں تک پہنچائے گا۔ ایسی حالت میں دابہ کے رول کو ادا کرنے کے لیے انسان اور کمیونکیشن دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ گویا کہ انسان اور کمیونکیشن دونوں ایک ہی رول کے دو پہلو ہیں، یعنی اعلانِ حق کے رول کو ادا کرنے والا ایک انسان ہوگا، اور اِس کام کے لیے وہ جس ذریعے کو استعمال کرے گا، وہ جدید کمیونکیشن کا ذریعہ ہوگا، واللہ أعلم بالصواب۔
خبرنامہ اسلامی مرکز — 203
Al-Quran Mission
Quran Distribution Centres have started being formed
After the launch of the Al-Quran Mission dayees from India and all over the world have set up Quran Distribution Centres in their own areas. Their aim to spread the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan in English and Hindi and other…
…کے بعد جامعہ دارالسلام پہنچے۔ یہاں ہمارا قیام جامعہ کی لائبریری (مکتبہ عمر) کی جدید عمارت میںتھا۔ یہ ایک وسیع دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں کتب خانہ، ریڈنگ روم، لیکچر ہال اور کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا قیام اِسی مکتبہ کے ایک کمرے میںتھا۔
عمر آباد میں کاکا فیملی کا ایک کافی بڑا فارم ہاؤس ہے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ کے ذمے داران میرے قیام کا انتظام اِسی فارم ہاؤس میں کررہے تھے۔ لیکن کاکا انیس احمد عمری نے اِس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح میں طلبا اور اساتذہ سے دور ہوجاؤں گا اور زیادہ ملاقاتیں اور انٹریکشن نہ ہوسکے گا۔ چناں چہ کاکا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیاگیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اِس طرح میرے لیے ممکن ہوگیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کرسکوں۔
ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے—مولانا کاکا سعید احمد عمری (معتمد عمومی جامعہ)، مولاناکاکا انیس احمد عمری، مولاناڈاکٹر عبد اللہ جولم ، مولانا ابو البیان حماد عمری ، وغیرہ ۔اِن حضرات…
…تھی۔ مسجد کی دیواروں پر اُس قسم کی کوئی چیز موجود نہ تھی جو اکثر مسجدوں میں ہوتی ہے اور نمازیوں کے لیے ڈسٹریکشن کا کام کرتی ہے۔ یہ مسجد مکمل طورپر سادہ اور مکمل طورپر پر سکون تھی۔ طلبا کے اندر نہایت سنجیدگی اور ڈسپلن دکھائی دے رہا تھا۔
نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ لائبریری میںاپنی قیام گاہ پر آگئے۔ یہاں لائبریری کے باہری ہال میں کئی دوسرے مقامات کے لوگ اکھٹا تھے۔ مثلاً وانیمباڑی (تمل ناڈو)، بنگلور، حیدرآباد،وغیرہ۔ اِن لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات میںنے وقت کے بارے میں کہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمارے پروگرام میں شرکت کے لئے آئے، لیکن وہ یہاں دیر میں پہنچے۔ میںنے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے — یا تو وقت پر آنا، یا پھر نہ آنا۔ اِس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میںنے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ وہ معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ طریقہ بالکل لا حاصل ہے۔ میںنے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اتقوا فراسۃَ المؤمن، فإنہ ینظر بنور اللہ…
سوال
میں برسہا برس سے ماہ نامہ’’الرسالہ‘‘ خرید کر اپنی اوّلین فرصت میں اس کو پڑھتا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل الرسالہ میں شائع شدہ آپ کی ایک تحریر نے مجھے اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا ’’کسی مسئلہ کو حل نہ کرنا بھی ایک حل ہے۔ ‘‘ یہ کیا معمّہ ہے۔ خاکسار اس کی وضاحت کے لیے درخواست گزار ہے ۔ (ایم عبد الحکیم، حیدرآباد)
جواب
…اسٹال تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں اسٹال پر آئے اور صدر اسلامی مرکز کا ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن حاصل کیا۔ مقامی اخبارات نے اس کی خبریں شائع کیں۔ ہندی اخبار ’’پریوار ٹوڈے‘‘ (6 اگست 2010 ) نے صدر اسلامی مرکزکے کام کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا
ekSykuk oghnqيhu [kku iqLrdksa ds ek/;e ls fiNys ipkl o"kZ ls 'kkfUr vkSj HkkbZpkjs dk lans'k ns jgs gSaA
2 - اگست- ستمبر 2010 (رمضان 1431 ہجری) میں جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ یہ سفر 20 اگست 2010 کو شروع ہوا اور 5 ستمبر 2010 کو ختم ہوا۔ آندھرا پردیش کے حیدرآباد ، محبوب نگر، کریم نگر اور ریاست کرناٹک کے شہر گل برگہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہمارے…
21جنوری1986
20جنوری 1986 کی صبح کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر439 کے ذریعے دہلی سے حیدرآباد گیا اور 21 جنوری کی شام کوفلائٹ نمبر539 سے واپسی ہوئی۔دہلی سے حیدرآباد جاتے ہوئے جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے۔اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ کہا— کیپٹن مصطفیٰ جہاز کے پائلٹ ہیں
Captain Mustafa is in command
8 جنوری 1989
مولانا اکبرالدین قاسمی (حیدرآباد)آئے۔ انھوں نے بتایا کہ 29 دسمبر 1988 حیدر آباد میں " پیام انسانیت" کا اجتماع تھا جس میں مولانا ابو الحسن علی ندوی نے خطاب کیا۔ اس کے بعد یکم جنوری 1989 کو محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پر وہ مرکز اسلامی (حمایت نگر حیدرآباد) گئے۔ وہاں مولانا موصوف کے ساتھیوں سمیت تقریبا 20 آدمی تھے۔ ان سے گفتگو کے انداز میں انھوں نے خطاب کیا اور مسلمانوں کو قرآن فہمی کا مشورہ دیا ۔ 2 جنوری 1989 کو حیدر آباد کے اخبار سیاست میں مولانا کے اس پروگرام کی خبر مختصر طور پر شائع ہوئی۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی (عرف علی میاں) اور ان کے سب ساتھیوں کواچھی طرح معلوم ہے کہ مرکز اسلامی (حمایت نگر ، حیدر آباد) اسلامی مرکز دہلی کی ملکیت ہے اور محمد ہاشم قاسمی نے خیانت اور غصب کا معاملہ کر کے اس پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس کے باوجود…
5مارچ 1989
رابطة العالم الاسلامی (سعودی عرب) کی طرف سے ایک ہفتہ وار اخبار "اخبار العالم الاسلامی" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ 21 فروری 1989 میں روسی مسلمانوں کے بارہ میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بلاد مسلمین پر روسی استعمار کا آغاز 450 سال پہلے ہوا جب کہ ایفان سوم( IVAN III )نے 1552 میں قازان کی مسلم حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد 1917 میں وہاں اشتراکی انقلاب آیا۔
اس پوری مدت میں روس کے علاقہ میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہرقسم کا ظلم کیا جاتا رہا ہے اور ان کی اسلامی حیثیت اور شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود روسی علاقہ کے مسلمان ابھی تک 95 فیصد سے زیادہ اپنے دین اور اپنے عقیدہ…
2۔ جمعہ کے دن عام تعطیل کی جائے
3۔ ریستوران وبار رمضان کے مہینہ میں بند رکھی جائیں۔
4۔ عورتیں پردے میں رہ کر باہر نکلیں ۔
…ترکی میں برسراقتدار آنے کے بعد ترکی کومغربی تہذیب میں ڈھالنا شروع کیا۔ اس سلسلہ میں اس نے نہایت احمقانہ اقدامات کئے۔ مثلا 1942 میں مصطفی کمال پاشا نے ایک حکم جاری کیا جس کی رو سے ترک لڑکیوں کے لئے سر پر اوڑھنی رکھنا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
55 سال بعد 1980 میں ترکی کے اعلی تعلیمی بورڈ نے خاموشی کے ساتھ ایک نیا اعلان جاری کیا۔ اس کے مطابق ترک لڑکیوں کے لئے سر کھولنا لازم نہ رہا۔ اب لڑکیوں کو یہ اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنے سرپر اوڑھنی رکھ سکتی ہیں ـــــــ جدید مسلم قیادت پہلے سو برس سے اسی قسم کے احمقانہ اقدامات میں مصروف ہے۔ کمال اتا ترک نے اس حماقت کو بھونڈے انداز سے کیا۔ اور دوسرے لوگ اس قسم کی حماقت کو زیادہ سلیقہ کے ساتھ کر رہے ہیں ۔
5 جون 1989
…مداخلت ہے ۔ مگر پچھلے ۴۰ سال کے اندر کسی بے ریش یا باریش لیڈرنے اس کے خلاف کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی۔ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصؒہ اس کے مقابلہ میں بہت معمولی تھا۔ جب کہ مذکور قانون کا معاملہ اس سے بہت زیادہ سنگین ہے۔
اس معاملہ میں نام نہاد لیڈروں کی خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی جاسکتی تھی۔ مگر مذکورہ قانون کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع نہیں کی جا سکی۔ یہ حال ہے ان لیڈروں کا جوشاہ بانو بیگم کی تحریک سے وقت کہتے تھے کہ ہم شریعت کے معاملہ میں ادنی مداخلت برداشت نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام لیڈراور رہنما ملت کو بھٹکانے والے ہیں نہ کہ ملت کو راہ دکھانے والے۔
23 اگست 1989
…پر خالص علمی انداز کی تنقید کی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مجھ سے برہم ہو گئے۔ میری باتوں کا انھوں نے علمی جواب تو نہیں دیا۔البتہ انتہائی بے بنیا دطور پر میرے اوپر' کذب بیانی' کا الزام لگایا ( ماہنامہ الفیصل، حیدر آباد ، دسمبر 1986، صفحہ 23)
محمد ہاشم قاسمی صاحب (حیدر آباد) نے ہمارے خلاف کھلے طور پر غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے۔ اور اس کے بعدمسلسل میرے خلاف جھوٹی الزام تراشی کی مہم چلارہے ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کا حلقة 'بغض معاویہ' کی نفسیات کے تحت محمد ہاشم قاسمی صاحب کا سرپرست بن گیا۔ عام پذیرائی کے علاوہ خود مولانا ابوالحسن علی ندوی نے حیدر آباد کی اس عمارت کی خیرمقدمی تقریب میں شرکت کی جویقینی طور پر مغصوبہ ہے ( تعمیرحیات لکھنو ، 10 مارچ 1989 ، صفحہ ،4) مولانا موصوف کے رفیق خاص ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی اس مغصوبہ عمارت کے ایک 'استقبالیہ' میں شریک ہوئے۔ وہاں 'پر تکلف عصرانہ' تناول کیا اور محمد ہاشم کی تعریف کی (تعمیرحیات ، 10 مئی 1989 صفحه 9 ) وغیرہ ۔
5 ستمبر 1989
عبد الواحد صاحب نے مزید بتایا کہ بنگلہ دیش 1971 میں بنا۔ اس وقت تو میں بچہ تھا۔مگرہمارے بڑے بتاتے ہیں کہ پاکستانی دور میں ہم زیادہ اچھے تھے۔ میں نے کہا کہ ایسے لوگ کتنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ستر فیصد ۔
برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو حقیقی معنوںمیں کچھ نہیں دیا۔ وہ بنگلہ دیش میں بھی برباد ہیں، ہندستان میں اور پاکستان میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر جگہ بربادی کی نوعیت الگ الگ ہے۔
24 اکتوبر 1990
2 دسمبر 1989
جب میں پیدا ہوا تو روس میں اشتراکی انقلاب( 1917 ) پرتقریبا آٹھ سال گزر چکے تھے۔ اس کے بعد اشتراکی روس کے بارہ میں جو کچھ پڑھا ، اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ روس میں مذہب کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ روس میں مذہبی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دعوت دین کا کام اب صرف آزاد دنیا میں ہو سکے گا۔ کمیونسٹ دنیامیں دعوت دین کے کام کی کوئی صورت نہیں۔
مگراللہ تعالی کے قانون دفع (البقرہ 251 ) نے کام کیا۔ اشتراکی انقلاب کے 70 سال بعد حالات بدلنا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ اکتوبر 1989 میں لوگوں نے دیکھا کہ برلن وال ٹوٹ رہی ہے ۔ اب یکم دسمبر۱۹۸۹ کوٹیلیویژن دیکھنے والوں نے ساری دنیا میں یہ…
25 جنوری 1990
آج میں نے اپنے لڑکے ثانی اثنین کو اپنے کمرہ میں بلایا۔ میں نے کہا کہ میری صحت اب بہت کمزور ہوگئی ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ میری زندگی کے کتنے دن اور باقی ہیں۔ میں نے کئی بار سوچا کہ میں اپنے بعد کے لئے تم کوکی نصیحت یا ہدایت لکھ دوں ۔ اس سلسلہ میں کئی کاغذ تھے۔ مگر لکھ کر انھیں پھاڑ تار ہا۔ کوئی نصیحت یا وصیت نامہ مجھے کافی نظر نہیں آیا ۔
میری زندگی کا تجربہ یہ ہے کہ حالات اتنے غیرمتوقع طور پر بدلتے ہیں کہ پیشگی طور پر کوئی شخص ان کو جان نہیں سکتا اور ان کے بارہ میں کوئی صحیح نصیحت کر سکتا۔ اس لئے اب میں اپنے بعد کے لئے تمہیں کوئی مشورہ دے رہا ہوں اور نہ کوئی وصیت۔ صرف ایک…
ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے اس نقطہ نظر کی حمایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر شتم کرنے والاعلی الاطلاق طور پر قابل قتل ہے۔
اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کے سامنے یہ سوال آیا کہ عرب کے بہت سے لوگ جو مسلمہ طورپرشتم اور ایذارسانی کے مجرم تھے، اس کے با وجو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قتل نہیں کرایا۔ مثلا عبد اللہ بن ابی کو ۔ ابن تیمیہ نے اس کی جو توجیہ کی ہے وہ نہایت عجیب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو یہ فرمایا کہ عبداللہ بن ابی کو ہم اس لئے قتل نہیں کر رہے ہیں کہ لوگ یہ کہ کر ہم کو بدنام کریں گے کہ محمداپنے ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ مگرابن تیمیہ نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کو اس لئے قتل نہیں کیاکہ اسلام اسوقت کمزور تھا۔ (صفحہ 175)
دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ نے اپنے قول کے مطابق عبداللہ بن ابی کو بر بنائے اصول قتل نہیں کیا۔ مگر ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو بربنائے ضعف قتل نہیں کیا۔ استغفراللہ۔
…سے واپس آتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں اسلام کا ظاہری ڈھانچہ تو باقی رہا مگر اسلام کی اصل اسپرٹ کم ہوگئی۔ میں نے مثال دیتے ہوئے چند باتوں کا ذکرکیاــــــ مثلا مکہ اسپرٹ ،حدیبیہ اسپرٹ ،افعل ولاحرج اسپرٹ ،حسن اسپرٹ ۔
مکہ اسپرٹ سے مراد ہے یک طرفہ صبر کرتے ہوئے دعوت دینا ۔حدیبیہ اسپرٹ سے مرادہے مشکلات کو چھوڑ کرمواقع کو استعمال (Avail) کرنا۔ اصل ولاحرج اسپرٹ یہ ہے کہ جزئیاتی مسائل کے اختلاف کو توسع کے خانہ میں ڈالتے ہوئے اصل دین پر تو جہ صرف کرنا۔ حسن اسپرٹ یہ ہے کہ باہمی اختلاف اگر دو طرفہ بنیاد پر حل نہ ہورہا ہو تو یک طرفہ دست برداری کے ذریعہ اختلاف کو ختم کر دیا۔
5 مارچ 1990
29 مئی 1990
ٹائمس آف انڈیا (26مئی1990) میں بمبئی کے مسٹر ہنکشور کا خط چھپا ہے۔ انھوں نے پر فخرانداز میں لکھا ہے :
If democracy has succeeded at all in any Muslim-dominated country in the world, it has only been for a short while in Pakistan and Bangladesh. Thanks to the influence of India's example... The Muslim League, which fought for Pakistan,…
…- ۱۸۷۵) کے زمانہ میں ایک بار جامعہ الازہر(قاہرہ ) کے امیر شیخ مصطفی المراغی ہندستان آئے ۔ ان کی ملاقات مفتی کفایت اللہ صاحب سے ہوئی ۔ ان کو دیکھ کر شیخ مراغی نے کہا : ينبلج العلم والوقارمن جسینہ (ان کی پیشانی سے علم اور وقار جھلک رہاہے)
سید جمال الدین افغانی کی ملاقات پہلی بار امیر شکیب ارسلان (۱۹۴۶-۱۸۷۹) ہوئی تو وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے ۔ انھوں نے کہا : انا هنئ ارض الاسلام التي انبتتك (میں اسلام کی اس سرزمین کو مبارک با ددتیا ہوں جس نے تم کو جنم دیا ۔)
مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵- ۱۸۸۷ )جس زمانہ میں علی گڑھ میں ایم اے کے طالب علم تھے ،خواجہ کمال الدین وہاں آئے ۔ ایک موقع پر انھوں نے یونین ہال میں مولانا سہیل کی تقریرسنی۔ اس سے اتناخوش ہوئے کہ انھوں نے کہا : اگر تمہارے جیسا آدمی مجھے کام…
12 ستمبر 1990
ڈاکٹر انورعبا س امرو ہہ ( یو پی) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے ہمدرد طبی کالج سے بی یو ایم ایس (BUMS) کا کورس کیا اور اس کے بعد اپنے وطن امرو ہہ میں مطلب شروع کیا۔ ان کے کلنک کے سامنے بورڈ پر ڈاکٹر انورعباس، بی ئو ایم ایس لکھا ہوا تھا۔
شروع میں ان کا مطب چل نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد ان کے بھائی نے یہ کیا کہ مطلب کے سامنے ایک بینر لگا دیا۔ اس پر موٹے حرفوں میں لکھا ہوا تھا ” ڈاکٹر دہلی والے " اس کے بعد ان کا مطب تیزی سے چل پڑا۔ وہ شہر میں" دہلی والے ڈاکٹر" کے نام سے مشہور…
…ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دینانہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ،امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں ۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جاسکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔
اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور امریکا ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ صدام حسین کا اصل مقصد یہ تھا کہ مفت تیل کی پیش کش ہے وہ تیسری دنیا کے لوگوں کے درمیان خوش نام ہو جائیں اور کویت کے مسئلہ کو اسرائیل کے مسئلہ سے جوڑ کرعربوں اورفلسطینیوں کی حمایت حاصل کر لیں ۔ اور اس مقصد میں وہ کم ازکم وقتی طور پر کامیاب ہو گئے۔
15 ستمبر 1990
26 ستمبر 1990
جمیعۃ الدعوۃ الاسلامیہ کے تحت ہونے والی چو تھی موتمر عام کے سلسلہ میں میں طرابلس میں تھا۔ ہندستان سے چند دوسرے حضرات بھی اس موتمر میں شریک تھے۔ حیدرآباد کے مسٹرایم خان نے 26 ستمبر کے اجلاس میں انگریزی میں ایک تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے بابری مسجد کا مسئلہ اٹھایا اور حکومت ہند کو اور ہندؤوں کو کنڈم کیا۔
میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ اسٹیج پر اس کا مظاہرہ ہوکہ کسی ملک کا وفد آپس میں مختلف الرائے ہے۔ اس لئے میں اسٹیج پر خود اپنے ملک کے کسی آدمی کے خلاف بولنا پسند نہیں کرتا۔ مگرا جلاس کے بعد میں مسٹرخان سے ملا۔ اس وقت ان کے ساتھ مسٹر باب…
13 نومبر 1990
" جنگ کی تیاریاں " یا " جنگ کے لیے تیاریاں " دونوں فقرے اردو زبان میں استعمال کئے جاسکتے ہیں، اور دونوں ہی صحیح سمجھے جائیں گے۔ لیکن انگریزی میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ انگریزی میں اس مفہوم کے لئے ؟ preparations of war نہیں کہا جاۓ گا ، بلکہ preparations for war کا جملہ استعمال کیا جائے گا۔
یہ ایک سادہ سی مثال ہے جو اردو اور انگریزی کے فرق کو بتاتی ہے ۔ انگریزی میں ہر چیز کی معیار بندی ہو چکی ہے۔ معیار سے کم درجہ کی زبان وہاں قابل قبول نہیں ہوتی ۔ جبکہ اردو میں اس قسم کی معیار بندی نہیں ہوئی۔ اس لئے اردو میں معیاری زبان اور…
16 نومبر 1990
قومی آواز کے شمارہ16 نومبر میں پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ (۱۸۳۹-۱۸۸۰) پر کے کے کھلر کا مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار نے بتایا ہے کہ رنجیت سنگھ نہایت روشن خیال تھا۔ اس نے پنجاب میں پہلا چھا پہ خانہ قائم کیا۔ راوی ندی میں بھاپ سے چلنے والی مشینی کشتی چلائی ۔ اپنی فوج کو جدیدیورپی انداز سے ٹریننگ دی۔ انھوں نے پنجاب میں انگریزی تعلیم رائج کرنے کی کوشش کی۔ بندوق اور کارتوس کا کارخانہ قائم کیا۔ وغیرہ ۔
رنجیت سنگھ نہایت سادہ مزاج مہاراجہ تھا۔ وہ تخت کے بجائے معمولی نشست پر بیٹھتا تھا۔ اپنی ریاست میں سختی سے ظلم وزیادتی کو بند کر رکھا تھا۔ ہر مذہب کا احترام کرتاتھا۔
…ہال میں ایک سمینار تھا۔ اس کا موضوع تھا :" آزاد ہندستان میں سیکولرزم اور قومی یک جہتی" اس کے آرگنائزر نظر برنی صاحب کی دعوت پر میں بھی اس میں شریک ہو ا۔ چیف گیسٹ کے طور پر حکومت ہند کے ہیلتھ منسٹر جناب شکیل الرحمان صاحب آنے والے تھے۔
میں ہال کے اندر بیٹھا ہواتھا۔ ابھی جلسہ کی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اچانک گیٹ پرشور وغل سنائی دیا۔ چند منٹ کے بعد مسلم نوجوانوں کا ایک غول وحشیانہ انداز میں اندر گھس آیا۔ وہ شکیل الرحمان ہائے ہائے ،شکیل الرحمان مردہ باد ، جیسے نعرے لگارہاتھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ علی گڑھ ، حیدر آباد وغیرہ مقامات پر مسلمانوں کے خلاف جو فسادات ہورہے ہیں اور ایڈمنسٹریشن ان کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے ، ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسٹر شکیل الرحمان کو وزارت کے عہدہ سے استعفا دید نا چاہئے۔ مسٹرشکیل الرحمان نے استعفات نہیں دیا، البتہ جلسہ شروع ہونے سے پہلے منتشرہوگیا۔
میرے نزدیک یہ سراسر بزدلی کا مظاہرہ تھا ۔مسلمان اب ہندوؤں کے خلاف اقدام کی جرات کھو بیٹھے ہیں ۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ کرنے میں مصروف ہیں۔
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Neha Batwara, Software Engg. MIEL
Hyderabad, Ext. 3355, Tel. 040-23308090
یہ خط سادہ طورپر صرف ایک خاتون کا خط نہیں ہے، بلکہ وہ ہر رُوح کی پکار ہے۔ یہ خط گویا ہر عورت اور مرد کے دل کی ترجمانی ہے۔ ہر انسان ایک بامقصد زندگی (purposeful life) کی تلاش میں ہے۔ یہ ہر انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ لیکن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ…
The point where I am lacking is to know the purpose for which I have been sent here. I could not come to your class in Delhi, because my family was against going to some spiritual classes. You understand.
I will be grateful to you for the whole of my life if you could help me in any way. I am currently in Hyderabad.
(Neha Batwara, Software Engg. MIEL, Hyderabad)
The point where I am lacking is to know the purpose for which I have been sent here. I could not come to your class in Delhi, because my family was against going to some spiritual classes. You understand.
I will be grateful to you for the whole of my life if you could help me in any way. I am currently in Hyderabad.
Neha Batwara, Software Engg. MIEL
حیدر آبادکا سفر
حیدرآباد میں۷۔۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers’ Meet) کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے۔پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس…
…اُن کا نام اور پتہ بتانا ممکن نہیں البتہ کسی صاحب کو فی الواقع اس معاملہ میں مزید جانکاری حاصل کرنا ہو تو ہم اس کی درخواست پر اُنہیں ایسے مرد اور عورت کے نام اور ٹیلیفون بتاسکتے ہیں جن سے رابطہ قائم کرکے وہ براہ راست معلومات حاصل کرسکیں۔
حیدر آباد، ۹ دسمبر ۲۰۰۲
انٹرویور: عمر عابدین قاسمی
TRUE JIHAD
THE Quran exhorts believers to “strive for the cause of God as it behoves you to strive for it.” (THE QURAN 22: 78) .This earnest struggle is expressed in Arabic by the word jihad which is derived from the word juhd, which means to strive,…
HIJAB IN THE LIGHT OF THE QURAN
AND HADITH
The present article is based on an authoritative Arabic book titled Hijab al-Mar’ah al-Muslimah fil Kitab was-Sunnah by Muhammad Nasiruddin al-Albani, a famous scholar and traditionist. This writer translated it and initially published it…
…a millionaire”, read the ad in the newspapers. “For further particulars send a self-addressed stamped envelope along with Rs. 1”. Intrigued, I sent off the money and received the following reply: “Start a scheme just like this one.”
(Dilip Rendalkar, Secunderabad)
’’جلد کرورپتی بننے کا طریقہ‘‘ اس عنوان سے میںنے اخبارات میں ایک اشتہار پڑھا۔ اسی کے ساتھ اشتہارمیں یہ درج تھا کہ مزید تفصیلات کے لیے اپنا پتہ لکھے ہوئے لفافہ کے ساتھ ایک روپیہ بھیجیں۔ میرا اشتیاق بڑھا۔ میںنے مطلوبہ رقم بھیج دی۔ اس کے بعد…
…مئی1990 کوحیدرآباد سندھ کا دورہ کیاجو بدترین فساد کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پاکستان کے اخبار وفاق (30 مئی1990) کے صف اول پر ایک نمایاں خبرمیں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسلم بیگ جب حیدر آباد سندھ کی سڑکوں سے گزرے تو وہاں سے شہریوں نے نعرے لگائے :
المدد المدد ، پاک فوج المدد
سندھ کے مسلمان پاکستانی فوج کی مددکس کے خلاف مانگ رہے تھے۔ جواب یہ ہے کہ خود وہاں کے مسلمانوں کے خلاف پاکستانی مسلمانوں کا ایک طبقہ پاکستانی مسلمانوں کے دوسرے طبقہ سے اپنےآپ کو سخت خطرہ میں محسوس کرتا ہے ،اس لئے وہ فوج کی مدد مانگ رہا ہے۔
“One who chooses the way of modesty will be raised up by God.”
HADITH reported by AT-TIRMIZI
So the secret of peaceful living is to sedulously avoid any ego-clash taking place between individuals or groups. This is the only successful formula for establishing a peaceful society on a permanent basis.